Nirala Saajan
Episodes
صبا سب سے پیار کرنے والی لڑکی تھی اس میں اخلاص کی خوبی تھی۔ وہ اور علی بچپن کے ساتھی تھے صبا کی بہن کی علی کے بھائی سے شادی ہوئی تو پہلا بچہ معزور پیدا ہوا اور جلد ہی مر گیا اس کے بعد دوسرا پیدا ہوا تو کوئی مسئلہ زچگی میں ہوا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ اب دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔ وہ بچہ بھی معزور تھا کچھ عرصے بعد وہ بھی مر گیا تو صبا نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ کزن میرج نہیں کرے گی۔ ڈاکٹرز کزن میرج سے منع کرتے ہیں۔ علی اور صبا کے گھر والے تو دونوں کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر صبا نے سختی سے انکار کر دیا کہ اس کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ علی کو ہمیشہ بھائی ہی سمجھتی رہی ہے اور اس کے ساتھ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ پھر اس نے کافی دلائل سے علی کے لیے اس کے مالک کی بیٹی کے ساتھ رشتے کے لیے سب کو راضی کر لیا۔ علی کو بھی اس نے ہر طرح سے سمجھا لیا۔ علی نے بھی صبا سے کہا کہ اس نے بھی ہمیشہ اسے بہن ہی سمجھا ہے۔ گھر والوں کو بھی علی نے بتا دیا کہ وہ صبا کو ہمیشہ سے بہن تصور کرتا رہا ہے۔ صبا نے علی کو کرن کی ملاقات کا بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اس کے رشتے دار اور ہم پلہ ہیں۔ وہ بہت خوش ہے۔ اور ساس کے ساتھ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس کا نکاح ہو چکا ہے اور اس کا منگیتر بھی دوبئی میں جاب کرتا ہے۔ علی سن کر خاموش ہو گیا اور صبا سے کہا کہ وہ اس کے منگیتر کا اتا پتا بتاے۔ صبا چڑ کر بولی کیا ضرورت ہے اب وہ بھی خوش ہے تمھاری مالک کی بیٹی سے شادی ہونے والی ہے تو وہ نہ مانا سب کے کہنے پر میں شادی کر رہا ہوں نا۔ صبا بولی اس سے مل کر کیابولو گے کہ میں اس کا کون ہوں۔ تو وہ جواب میں بولا۔ میں نے ان لوگوں کا نمک کھایا ہے بہت اچھے اور سادے لوگ ہیں۔ میں اس پر صرف نظر رکھوں گا ملوں گا نہیں۔ مجبور صبا کو کرن کو کال کرنا پڑی۔ تو وہ بہت خوش ہوئی اور ساس کے روہیے کی معافی مانگی تو صبا سرد آہ بھر کر بولی کیا برا منانا ہم لوگ بچپن سے ہی بےعزتی سہنے کے عادی ہوتے ہیں شاید غریبی کا دوسرا نام ہی زلت ہے۔ کرن نے اس سے کھبی حالات نہیں پوچھے وہ سمجھتی تھی کہ یہ بات پوچھ کر اس کی دکھتی رگ کو چھیڑنے والی بات ہے۔ وہ اس کی تعلیم کے بارے میں بھی نہ پوچھتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ شاید وہ انپڑھ ہے تھوڑا بہت پڑھی ہے۔ کرن کو یاد تھا کہ اس کی شادی پر کسی نے اس سے تعلیم پوچھی تو اس نے بتایا تھا کہ بس گزارہ چلا لیتی ہوں۔ صبا نے بہانے سے اس سے منگیتر کی معلومات لے لی تھیں اور فوٹو بھی منگوا لی تھی۔ اور علی کو بھجوا دی اور ساتھ اس کی بات پکی کرنے کے لیے اس کی مالکن کو فون کر دیا جو اس کے فون کی منتظر تھی۔ بہت خوش ہوئی اور ان لوگوں نے بغیر دیر کیے علی کو بتا کر امام دین کو فون کر دیا۔ امام دین صبا کے کہنے پر علی سے رضامندی لے چکا تھا اور مالکن بیٹی کی تصاویر بھی صبا کو بھیجتی رہتی تھی اور لاہیو کال بھی بیٹی کی کروائی تھی صبا سمجھ رہی تھی کہ وہ کس مقصد کے لیے ایسا کر رہی ہیں اور اسی لیے اس نے سب سے بات کروا دی تھی بھولی بھالی کم عمر پیاری سی بچی تھی سب کو اس کی شوخ طبیعت اور اخلاق پسند آیا تھا۔
جب علی کے مالک نے بات کی کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہمیشہ کا رشتہ جوڑنا چاہتا ہے تو امام دین نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ میرے لئے تو آپ سے رشتہ جوڑنا خوش قسمتی ہو گا مگر آپ نے شاید دور کی نہیں سوچی۔ ہم جدی پشتی مراثی ہیں۔ اور ہم جیسے امیر بھی ہو جاہیں تو ہمارے پہچان اور پیشے کی چھاپ سات پشتوں تک رہتی ہے اور آپ جیسے خدا نہ کرے غریب بھی ہو جاہیں تو ان کی امیری کی چھاپ سات پشتوں تک رہتی ہے۔ شادی ایک مقدس بندھن ہے جس میں لڑکی کو پورے خاندان کو ساتھ
لے کر چلنا ہوتا ہے خاندان کی خوشی و غمی میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں آپ کے خاندان سے ملنا پڑے گا اور آپ کو ہمارے خاندان سے ملنا جلنا پڑے گا۔ بچی کا ماحول ہمارے ماحول سے فرق ہے۔ وہ نہ جلد گھبرا جاے اور خدانخواستہ اس کی زندگی برباد نہ ہو جائے یا لوگوں کے طعنوں سے پچھتائے نہ۔ مالک مایوس ہوتے ہوئے بولا تو پھر میں آپ کی طرف سے انکار سمجھوں۔ امام دین تیزی سے بولا نہ جناب آپ نے مجھے عزت بخشی ہے میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا آپ کی بچی سے لاہیو بات ہوئی ہے بہت معصوم بچی ہے ہم سب کو پسند آئی ہے میں تو آپ کے بھلے کے لیے کہہ رہا تھا کہ لوگ آپ کو طعنے مار مار کر جینا دوبھر کر دیں گے اور آپ پچھتانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کہ ایک میراثی خاندان سے رشتہ جوڑا ہے۔ اور آپ کے رشتے دار تو ہمیں عزت سے پاس بٹھانا بھی پسند کریں گے نہ میرے بیٹے کو عزت دیں گے ہم تو سب برداشت کر لیں گے کیونکہ ہم غریبوں کی بے عزتی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے۔ ہمیں غریبی کا قصور ہونے پر ہر جگہ زلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان کی عیاشی اور سہولت کے لیے معمولی اجرت پر سردی گرمی میں کھڑے ہو کر محل بناتے ہیں اور جواب میں وہ لوگ بات بھی زلت بھرے لہجے میں کرتے ہیں۔ اور اجرت بھی احسان کی طرح دیتے ہیں جیسے ان کی بےروزگاری پر احسان عظیم کر رہے ہیں۔ ان کے کھانے تو دور ان کے لیے پانی کا انتظام بھی نہیں کرتے۔ وہ بےچارے کسی قریبی ہوٹل سے سستا کھانا لے کر کھاتے ہیں اور قریبی گھروں سے دروازے کھٹکھٹا کر معزرت کرتے پانی کی ٹھنڈی بوتل مانگتے ہیں پھر امام روندھی ہوئی آواز میں بولا میں نے ساری سچائی آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ مالک پرجوش لہجے میں بولا کہ بلکل اس دنیا میں ایسا ہی طبقاتی فرق لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہمیں اس معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرنی ہے۔ اگر سب ہی دنیا کے ڈر سے اس کوشش کو آگے بڑھانے میں ہچکچائیں گے تو ظلم ہوتا رہے گا اور امیر دوزخ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ یہ ان کے حق میں بھی بھلا ہو گا۔ رہی رشتہ داروں کے عزت کرنے کی بات تو ہم سب کو سچائی بتائیں گے معزرت کے ساتھ کہ ہم نے میراثی گھرانے میں رشتہ کیا ہے۔ اگر کسی نے اعتراض کیا تو وہ اپنے گھر خوش اور ہم اپنے۔ جو آپ لوگوں کی عزت نہیں کرے گا ہم بھی اس کی عزت نہیں کریں گے اب آپ بتائیں کیا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شرط ہے یا کچھ لکھوانا ہے۔ تو وہ بھی مجھے منظور ہے۔
امام دین ہنس کر بولا جناب یہ شرطیں تو لڑکی والے رکھتے ہیں اگر آپ پاس ہوتے تو میں آپ کو گلے لگا کر منہ میٹھا کراتا۔ مالک ایکدم خوش ہوتے ہوئے بولا آپ نے ہاں کرنے میں دیر لگا دی۔ میری بیگم تو سانس روکے بیٹھی تھی۔ پھر مالک نے کہا کہ صبا بیٹی نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے اس نے آس لگا دی تھی کہ انشاء اللہ منہ میٹھا ہو گا تو ہم نے اون لائن مٹھائی آرڈر کر دی تھی امید ہے جلد پہنچ جائے گی۔ پھر سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ امام دین نے مالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دوسروں کا غصہ آپ پر نکال دیا۔ وہ بولا اچھا کیا مجھے شعور دیا،ورنہ لاکھ اچھا ہونے کے باوجود کسی غریب کی بےعزتی بھی نہ کریں مگر غریبوں کے مسائل کا احساس نہیں ہوتا کہ جہاں گھر بنانے پر لاکھوں، کروڑوں لگا دیتے ہیں وہاں اپنی آخرت سنوارنے کے لیے غریبوں کی مدد کر دیں۔
مٹھائی آ چکی تھی اور سب خوشی سے جشن منا رہے تھے اور ناچ رہے تھے امام دین نے جوش سے کہا کہ ہم دوسروں کی خوشیوں میں ناچتے ہیں آج تو سب ناچو ہمارے بیٹے کی خوشی ہے۔ اس نے اپنا بجانے کا سازوں سامان نکال لیا اور گانے لگا گھر والے سب تالی بجا رہے تھے اور صبا وڈیو بنا رہی تھی امام دین کی آواز بہت اچھی تھی جب وہ گاتا تو سماع بندھ جاتا۔ کافی دیر وہ خوشی مناتے رہے۔ علی کا چھوٹا بھائی انڈین گانے لگا کر جدید ڈانس کرنے لگا آج صبا نے بھی انڈین گانے پر جوش سے ناچی۔ علی کا چھوٹا بھائی جو کالج داخلے کے بعد اب پینٹ شرٹ ہی پہنتا تھا۔ وہ صبا کی وڈیو بنانے لگا۔ صبا کا باپ ماں علی کی ماں سب ناچ رہے تھے۔ جب محفل تمام ہوئی تو صبا نے کہا آج ہمارے ناچ گانے پر پیسے دیکر ہمیں زلیل کرنے والا کوئی نہ تھا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر دوڑ کر کمرے میں چلی گئی۔ کسی نے اسے ڈسٹرب نہ کیا تھوڑی دیر کے بعد وہ باہر آ کر بولی میں بھی پاگل ہوں جو اس خوشی کے موقع پر گھٹیا لوگوں کے دیے ہوئے غم کو یاد کر کے خوشی خراب کر رہی ہوں۔ اسکے بعد اس نے یہ وڈیو وٹس اییپ کر کے علی اور مالکن کو بھیج دی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.