Loading...
Logo
Back to Novel
Nirala Saajan
Episodes
Nirala Saajan

نرالہ ساجن 15

From Nirala Saajan - Episode 15

۔علی کے لیے وقت کاٹنا مشکل ہو رہا تھا آخر اس سے نہ رہا گیا اور جہاز سے اترتے ہی ماموں اور چھوٹے بھائی کو سب بتا دیا اور راز میں رکھنے کا بولا۔ وہ دونوں خوش ہوے۔ ماموں نے آ کر علی کے چھوٹے بھائی سے سرگوشی کی دونوں کھسر پھسر کرنے لگے۔ علی کے گھر سے سوا گھنٹے کا راستہ تھا جو وہ چھوٹے بھائی اور ماموں سے فون پر بات کرتے گزار رہا تھا۔ اور مہمانوں کو اس کے انے تک روکنے کی تاکید کر رہا تھا۔ مہمان جانے کے لیے آہستہ آہستہ پر تول رہے تھے کہ ماموں نے کہا کہ ابھی آپ لوگ تشریف رکھیں ابھی آپ کو کچھ اور کھلانا ہے کرن کے والد نے کہا کہ پہلے ہی اور لوڈ ہو چکے ہیں وہ بولا اگر پسند نہ آئے تو مت کھاہیے گا اور جانے سے بھی نہیں روکوں گا بس زرا انتظار کرنا پڑے گا۔ کرن بولی پاپا ماموں اتنے خلوص سے کہہ رہے ہیں اور ویسے بھی اتنا اچھا لگ رہا ہے جانے کا دل نہیں کر رہا۔


امام دین نے پوچھا ارے ایسا کیا ہے جو ان کو مجبور کر رہے ہو وہ بولا لالا جی بس کچھ سرپراہیز ہے آپ بھی خوش ہو جائیں گے۔ کرن کے پاپا نے کہا کہ اب تو سرپراہیز ہے ویسے بھی لالا جی کی کمپنی سے اٹھنے کا دل نہیں کرتا۔ لالا جی مسکراتے ہوئے بولے جی بہت شکریہ۔


صبا نے کرن کو اس کی ماں کو علی کی منگیتر کی تصویریں دیکھاہیں تو کرن کی امی کچھ نہ بولی بس دیکھ کر خاموشی سے واپس کر دیں۔ کرن کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی جس کو اس کی ماں، صبا اور سامنے کھڑی اس کی بہن نے بھی محسوس کیا جبکہ کرن نے جی کھول کر تعریفیں کی اور دعائیں دی۔ اور تھوڑی دیر محویت سے دیکھتی رہی۔ اور ہلکی سی سرد آہ بھر کر موبائل واپس کر دیا۔ اتنے میں باہر شور مچا کہ علی آ گیا کرن زور سے بولی کیا۔ صبا اور کرن کی ماں نے یک دم کرن کو دیکھا۔ کرن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی۔ علی سب سے ملا کرن کی ماں نے بہت پیار کیا اور کرن کے باپ نے گرمجوشی سے گلے لگایا۔ کرن کے بھائی نے بھی قدرے گرمجوشی دکھائی۔ کرن کو دیکھا سلام کیا احوال پوچھا۔ وہ اپنی مسکراہٹ کو خوشی سے دباتے ہوئے بس جواب میں سر ہلاتی رہی۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد کرن کے پاپا نے کہا کہ اب ہمیں چلنا چاہیے علی تھکا ہوا آیا ہے مگر علی نے گرمجوشی سے کہا ابھی بیٹھیں انکل۔ مگر انہوں نے مزید رکنا مناسب نہ جانا۔ اور ازراہ مزاق مسکرا کر کرن کے پاپا نے علی کے ماموں سے کہا ویسے سرپراہیز بہت اچھا تھا مگر ہم اسے کھانا پسند نہیں کریں گے وہ شرما کر مسکراتے ہوئے علی کو دیکھنے لگا۔ علی کی ماں خوشی میں بار بار علی کی بلائیں لے رہی تھی۔ امام دین نے کہا کہ دکھیں۔ آپ برا مت مانیے گا شادی گڈے گڈی کا کھیل نہیں۔ دو خاندانوں کا ملاپ ہے۔ ہم لوگ کیا ہیں کیا زات ہے۔ جدی پشتی کیا پیشہ ہے۔ سب آپ کے سامنے ہے۔ ہمارا رہن سہن آپ کے سامنے ہے۔ آپ بھی جا کر اچھی طرح غور کر لیں۔ جزباتی ہو کر نہ سوچیں اگے کی سوچیں۔ دنیا داری بھی نبھانی ہے۔ ہمیں بھی کچھ وقت سوچنے کا دیں۔ آپ کا آنا سر آنکھوں پر۔ آپ نے ہمیں عزت دی۔ کرن کے پاپا نے کہا کہ لالا جی شکریہ آپ کا کہ آپ نے ہمیں اتنا اچھا وقت دیا بہت مزہ آیا آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ سوچ کر جواب دینا آپ کا حق ہے۔ ہم میں اب مزید سوچنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم نے جہاں ڈن کرنا ہوتا ہے ہم وہیں قدم رکھتے ہیں۔ اپ لوگوں سے مل کر ( ہنستے ہوئے) اب تم مزید سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ باقی قسمت کی بات ہے اگر آپ کی طرف سے ہاں ہو گی تو ہم اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں گے اور اگر خدانخواستہ انکار ہوا تو بدقسمتی۔ مگر آپ سے نہ ناراض ہوں گے نہ تعلق توڑیں گے۔ اچھا لالا جی۔ ہفتے بعد آپ فون کر دیجئے گا ہم انتظار کریں گے۔ اور امام دین سوچتا رہ گیا کہ اتنے امیر لوگ اس گھر میں آہیں گے اور اتنا وقت گھل مل کر گزاریں گے اور اتنی عزت دیں گے وہ اس عزت افزائی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا۔


امام دین نے بیوی اور صبا کے والدین کو بلا کر راے پوچھی اور کہا کہ صبا کے رشتہ دینے کا حق اس کے والدین کو ہے۔ میں صرف ساتھ دوں گا۔ علی جھٹ غصے سے بولا جب اچھا بھلا کنوارا ڈاکٹر کا رشتہ مل رہا ہے اور ہم مروت میں آ کر اس بے وقوف طلاق یافتہ کو کیوں دیں۔ مانا انکل آنٹی بہت اچھے ہیں۔ کرن شادی ہو چلی جاے گی۔ اور صبا کا گزارہ تو اس بے وقوف انسان سے ہے جو یا تو بیوی کی محبت میں والدین، بہن کو بھول جاتا ہے یا ان کی محبت میں بیوی کو۔ پائیداری نہیں ہے۔ سب رشتوں کو ایک ساتھ نہیں نبھا سکتا۔ میں ہرگز صبا کی زندگی اس کے ساتھ برباد نہیں ہونے دوں گا۔


امام دین نے کہا کہ دیکھو صبا کے لیے تم اچھا سوچتے ہو اس کی فکر کرتے ہو مگر اس کے والدین کو حق ہے اس بات کا فیصلہ کرنے کا۔ ماموں اور مامی بولے لالا جی آپ ہمارے بڑے ہیں آپ کے ہوتے ہوئے ہم کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے۔ آہندہ اگر آپ نے ایسی کچھ بات کی تو ہم ناراض ہو کر ادھر سے چلے جاہیں گے۔ آپ ہمیں پرایا نہ کریں وہ ناراض ہونے لگا آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ علی اٹھ کر پاس گیا اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا آپ زرا ادھر سے جاکر دیکھاہیں۔ میں بھی ساتھ چل پڑوں گا۔


امام دین نے کہا کہ یار کیوں میرے بیٹے کو مجھ سے دور کرنا چاہتا ہے۔ سوری یار۔ اچھا اس معاملے میں نہ تیری نہ میری مرضی۔ اس کا فیصلہ صبا پر چھوڑتے ہیں جو اس کی مرضی۔ علی پھر بولا مگر میں اس کو غلط فیصلہ نہیں کرنے دوں گا۔


امام دین نے کہا کہ چھوڑو یار وقت آے گا تو دیکھا جائے گا۔ پہلے ہی کیوں لڑ رہے ہو۔ مجھے لگتا ہے تم اچانک اسی کام کے لیے اے ہو۔ وہ چپ رہا۔


کرن کی ساس کو پتا چلا کہ وہ طیب کا رشتہ امام دین میراثی کے گھر لینے گئے تھے تو آ کر اس نے کافی واویلا مچایا۔ ادھر نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر اس نے بتایا کہ میرے بیٹے مدثر کو ایک لڑکی پسند تھی وہ ہم سے حیثیت میں تھوڑی سی کم تھی۔ بیٹے نے ترلے کیے مگر میں نہ مانی۔ اخر اس لڑکی کی شادی ہو گئی۔ آپ لوگوں سے بھی اس لیے رشتہ جوڑا تھا کہ ہمارے ہم پلہ تھے۔ کرن کے والدین نے اس کو کوئی جواب نہ دیا تو اس نے دھمکی دی کہ اگر آپ لوگوں نے بات نہ مانی تو دوبارہ اس کا رشتہ ٹوٹ گیا تو دنیا کو کیا جواب دیں گے کہ ہر بار رشتہ ٹوٹنے کی کیا وجہ ہے۔ اپنی بیٹی کے مستقبل کا سوچ لینا۔ توبہ ہے آپ لوگ ان میراثیوں کو رشتہ دار بنانے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ امیر اچھی لڑکیاں مر گئی ہیں کیا۔ صبا شادی میں جب آتی تھی تو میں تو اس سے فالتو بات بھی نہ کرتی تھی۔۔


کرن کے گھر والوں کو طیب کی ماں سوچوں کے سمندر میں چھوڑ کر چل پڑی۔


کرن کی ماں رونے لگی کہ میرے دونوں بچوں کی تقدیر ہی خراب ہے۔ کرن کے پاپا جو خود بھی اندر سے پریشان تھے بیوی کو تسلی دینے لگے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو دیکھنا اس مسئلے کی کوئی نہ کوئی سبیل نکل ہی آئے گی۔ جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books