Nirala Saajan
Episodes
امام دین سے فاروقی صاحب بہت متاثر تھے وہ اکثر ان کو نوٹ بھی کرتے رہتے۔ کہ کوئی ملازم کام میں سستی کر جاے تو ان کے گھر والے تو اس کی شامت لے آتے اس قدر زلیل کرتے جیسے وہ کوئی گھناونا گناہ کر بھٹا ہے ایک لالہ جی تھے جو لان اگر گندہ ہوتا تو ملازم کو بلاتے سامنے کرسی پر بٹھاتے اور فاروقی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے۔ جناب اس کا نام ادب سے لیکر یہ ہمارے گھر کا فرد ہے۔ بہت اچھے کام کرتا ہے بہت دل سے کرتا ہے میں اس کے کام سے بہت خوش ہوں ابھی دیکھنا آپ یہ لان کو ایسے چمکاے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ جاو اور دیکھو فاروقی صاحب کے سامنے اپنی اور میری لاج رکھنا۔ وہ شرمندہ مسکراہٹ سے اٹھتا اور جوش سے چمکاتا۔ پھر لالہ جی کو بلاتا اور وہ دونوں اس کے کام کو دیکھنے جاتے۔ اور خوب تعریف کرتے۔ کھبی کھبی انعام سے بھی نوازتے۔ لالہ جی کہتے کہ کسی کو بھی تنخواہ کے علاوہ فالتو پیسے ملیں تو اسے بہت خوشی ملتی ہے۔ ویسے بھی انسان کو عار ہی نہیں ہوتا اپنی فیملی کا صدقہ خیرات دینے کا۔ صدقہ کئی بلاوں اور مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ اگر کوئی کسی بڑی مصیبت سے بچتا ہے تو اکثر کہا جاتا ہے کہ کوئی ہاتھ کا دیا کام آیا۔ قیامت کے دن جب سورج سوا نیزے پر ہو گا تو ہر کوئی اپنے صدقے کے ساے میں ہو گا۔ کسی بھی خیرات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے چاہے ایک کھجور یا ایک سکہ ہی دیں وہ قیامت کے دن پہاڑ جتنا بنا ہو گا۔ فاروقی صاحب ان باتوں کو پلے باندھ رہے تھے اور ملازموں اور غریبوں پر مہربان ہوتے جا رہے تھے۔ وہ اپنی فیملی کو ان کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔ ایک دن ان کے بیٹے کا فون ا گیا۔ لالہ جی کا اس نے بہت شکریہ ادا کیا۔ اور بڑے اچھے طریقے سے بات چیت کی۔ اور پوچھا لالہ جی آپ کو کچھ چاہیے تو بتائیں۔
لالہ جی نے بہت شکریہ ادا کیا۔
فاروقی صاحب صبا سے اور اس پوری فیملی سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اور وہ اپنے بیٹے کے لیے رشتے کی تلاش میں تھے۔ ایک دن انہوں نے لالہ جی سے صبا کے رشتے کی بات کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس کا رشتہ دے چکے ہیں جو بہت اچھے لوگ ہیں تو وہ چپ ہو گئے۔
جب رات کو بڑے کمرے میں سب مل کر بیٹھتے اور کھانا کھاتے اور ٹی وی دیکھتے تو اس وقت لالہ جی نے فاروقی صاحب والے پروپوزل کا بتایا اور تو اسی وقت علی نے ایکدم صبا کی طرف دیکھا تو جواب میں اس نے ماہنڈ کرنے والے انداز میں دیکھا تو علی سر جھکا کر انگلیاں مروڑنے لگا۔
علی کے باس نے فون کیا کہ وہ یہاں سے سب واہنڈاپ کر کے پرسوں کی فلاہیٹ سے ا رہے ہیں۔ گھر میں ان کے امد کی تیاریاں شروع ہو گئی۔ ان کے لیے اوپر والا پورشن تیار کروایا گیا۔ باس نے کہا کہ علی میں ا کر تمھارے بھائی کے ساتھ بزنس کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں پر میں نے سب سیل کر دیا ہے۔ پاکستان میں گھر لوں گا اور پاکستان میں ہی بزنس کروں گا۔ اپنے ملک کو فائدہ پہنچاوں گا تاکہ میرے ہم وطنوں کو روزگار میسر آ سکے۔ اور ملک ترقی کر سکے۔ اسی لئے تو ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا کہ اسے ترقی دینے کے لیے ہم حکمرانوں کا منہ دیکھتے ہیں۔ ہر بندہ اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے اور ترقی نہ ہونے پر حکمرانوں کو کوستا ہے بھلا ہم ملک کی ترقی کے لئے کیا کرتے ہیں دوسرے غریبوں کو تو چھوڑو اپنے غریب پڑوسیوں، اپنے ملازموں کے مسائل میں کھبی دلچسپی نہیں لی۔ ان سے کھبی نہیں پوچھا کہ کھانا کھایا ہے یا صرف کام میں ہی لگے ہو۔ بچے اسکول پڑھتے ہیں خرچے کی تنگی تو نہیں۔ بس خود کا پتا ہے کہ ہمارے بچے اچھے مہنگے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ اپنے ملک کے غریب بچے بےشک انپڑھ رہ جاہیں۔ صرف امیروں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے غریبوں کو نہیں۔ یہ ملک صرف ہمارا ہے ان کا نہیں۔ ہر کوئی اگر زیادہ نہ سہی ایک بچے کی پڑھائی کا زمہ ہی لے لے۔ تو قطرہ قطرہ دریا بن جاتا ہے۔ اگر ہمارے پورے ملک کی تعلیم کا معیار بلند ہو گا تو ہماری نسلوں کو بھی فائدہ ملے گا۔ ان کی ترقی و تربیت کے لئے سلجھا ہوا معاشرہ ہو گا۔ علی نے کہا انکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ جب سے منگنی ہوئی تھی اس نے اسے باس بولنے سے منع کر دیا تھا۔
علی نے دوبئی میں اپنے ایک اعتماد والے آدمی کو مدثر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا تھا اور اب اس نے جو معلومات دی تھیں وہ سن کر علی بہت پریشان ہوا اور مشورہ کرنے کے لیے صبا کے پاس چلا گیا۔
علی نے بتایا کہ مدثر نے ادھر شادی کر رکھی ہے۔ اور اسی کے ساتھ رہ رہا ہے۔ علی اور صبا اس بات سے پریشان تھے کہ وہ اب کیا کریں۔ پہلے بھی علی نے ان کو کچھ بتانا چاہا تھا مگر انہوں نے یقین نہیں کیا تھا اب انہوں نے لالہ جی سے اس بات کا تزکرہ کیا اور ان سے کرن کی زندگی تباہ ہونے سے بچانے کے لئے مشورہ مانگا۔ لالہ جی بہت پریشان ہوے اور بولے بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ ویسے بھی اس بچی کی عادت مجھے بہت اچھی لگی۔ میں اب اس معاملے میں دیر نہیں کرنا چاہتا۔ کل مہمان بھی آنے والے ہیں وقت کم ہے اور جا کر بتانا پڑے گی یہ بات فون پر سمجھانے والی نہیں۔ میں تمھاری ماں کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہوں۔ علی نے کہا کہ ان کی جگہ آپ صبا کو لے جاہیں ھادی آپ لوگوں کو چھوڑ آئے گا۔ لالہ جی بولے نہیں ھادی نہیں تم چلو اور اس کے بھائی سے بات کر لینا۔ اور صبا کرن سے بات کر لے گی۔ مگر ہر بندہ ثبوت مانگتا ہے۔ اتنی بڑی بات بغیر ثبوت کے کوئی نہیں مانتا۔ الٹا ماہنڈ کر سکتے ہیں کہ آپ ان کے معاملے میں انٹر فیر کر رہے ہیں۔ مگر کرن کی زندگی بچانے کے لیے ہم کوشش ضرور کریں گے۔ چاہے نتیجہ جو بھی نکلے۔ صبا تم کرن کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔ اور علی تم اس آدمی سے ثبوت بھیجنے کا کہو۔
علی نے اس آدمی سے فوری طور پر ثبوت کا بولا اس نے کہا میں پوری کوشش کروں گا۔لالہ جی نے کہا ہم بات تو جا کر
کرتے ہیں۔ اس کے بعد مہمان آ گئے تو موقع نہیں ملے گا۔
کرن نے جب سنا کہ وہ لوگ آ رہے ہیں تو وہ خوشی سے پاگل ہونے لگی۔ گھر والے سب خوش ہو گئے اور ان کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔ طیب بھی بہت خوش ہوا۔ کرن بھائی سے بولی کہ ان لوگوں نے گھر میں اتنی مزے مزے کی چیزیں بنائی تھیں۔ مگر مجھے تو کچھ خاص بنانا ہی نہیں آتا۔ طیب بولا تم رہنے دو میں بیکری سے لے اتا ہوں۔ صبا کو مکرونی اور فروٹ ٹراہفل بنانا آتا تھا وہ بنانے لگ گئی۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا ابھی وہ کچن میں ہی لگی ہوئی تھی اور سارے گھر کی صفائی ستھرائی اور ڈسٹنگ کے بعد اس نے نہانے کے لیے کپڑے واش روم میں رکھے اور اچانک دو ڈشز بنانے کا خیال آ گیا اور وہ لوگ آ گے۔
طیب علی اور لالہ جی سے بہت گرمجوشی اور ادب و احترام سے ملا۔ کرن کی ماں کو ویسے ہی علی بہت اچھا لگتا تھا وہ اس پر واری جانے لگی۔ علی کو آنے کے بعد پرانا وقت یاد آیا تو اس کا دل بھر آیا۔ وہ لوگ حیران ہو رہے تھے کہ وہ اتنے براڈماہنڈڈ کیسے ہو گئے کہ صبا جس کے رشتے کی بات چل رہی تھی اس کو بھی ساتھ لے آے۔ طیب تو صبا کے آنے سے خوش ہو رہا تھا۔ لالہ جی نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا صبا کو اس کی سہیلی کرن سے ملوانے کے لیے ساتھ لے چلتے ہیں دونوں بچیاں مل کر خوش ہو جائیں گی۔ کرن کے پاپا نے کہا کہ آپ نے تو ہمیں ا کر جو عزت اور خوشی دی ہے اس کے لیے آپ کا بہت تھینکس کرتا ہوں۔ لالہ جی بولے اور آپ لوگوں کو انواہیٹ بھی کرنا تھا نے گھر میں آ نے کے لئے۔ کرن کے والدین نے بہت مبارک باد دی۔ طیب نے بھی دی۔ علی طیب سے فالتو بات نہیں کر رہا تھا جبکہ وہ اس کے آگے بچھا جارہا تھا۔
صبا کرن کے ساتھ چائے بنانے میں ہیلپ کرنے چلی گئی۔ اور دونوں خوشگوار موڈ میں باتیں بھی کر رہی تھیں اور کام بھی کر رہی تھیں۔ پھر کرن نے ماں کا ھادی کے ساتھ شادی والا لطیفہ سنایا تو صبا بظاہر ہنسنے لگی مگر اندر ہی کچھ سوچنے لگی۔ طیب کچن میں آیا اور صبا کی طرف دیکھنے لگا اس نے مڑ کر دیکھا تو علی کچن کے دروازے میں سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ میں کیک اور فروٹ اٹھاے کھڑا تھا جو راستے سے ان لوگوں کے لیے لیے تھے۔ طیب مڑا تو علی کے سنجیدہ اور سپاٹ چہرے کو دیکھ کر کنفیوز ہو گیا جیسے کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ اور علی بہن کی حفاظت کے لیے آیا ہو۔ طیب نے جھٹ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا کہ علی بھائی اس کی کیا ضرورت تھی۔ علی جواب میں خاموش رہا۔ پھر طیب نے کہا علی بھائی آپ بیٹھیں میں ان کی ہیلپ کے لیے آیا تھا۔ علی نے کہا میں بھی ہیلپ کے لیے آیا ہوں تو طیب نے کہا کہ آپ رہنے دیں مگر وہ جواب دیے بغیر کھڑا رہا۔ صبا علی کا موڈ دیکھ کر فوراً علی کو لوازمات کی پلیٹیں پکڑانے لگی۔ علی کو کرن کو دیکھ کر افسوس ہوا۔ ابھی تک اس بندے نے ثبوت نہیں بھیجا تھا۔ لالہ جی نے کہا تھا کہ جب ثبوت ا جاے تو کہہ دینا ڈن۔ پھر میں بات شروع کروں گا مگر ابھی تک ان کو علی کی طرف سے اشارہ نہیں ملا تھا۔
چاے کا دور چل رہا تھا اور کرن اپنی بنائی ہوئی ڈشیں ان لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے فخر سے پیش کر رہی تھی کہ اس نے بنائی ہیں اور سب تعریف کر رہے تھے۔ اور وہ خوش ہو رہی تھی۔ علی اور طیب ڈرائنگ روم میں دور اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے کہ علی نے اس سے انٹرویو والے انداز میں سوال وجواب شروع کر دیے۔ طیب نے جب بزنس کی باتیں اس سے شروع کی تو علی کافی حیران ہوا۔ وہ تو ایسا بزنس مین تھا جو بزنس کے داو پیچ خوب جانتا تھا وہ تو چھپا رستم نکلا پھر علی بھی کھل کر اس سے باتیں کرنے لگا۔ حتکہ ان دونوں نے آپس میں بزنس ڈیل بھی کر لی۔ لالہ جی نے اب جانے کی اجازت مانگی اور بغیر اس بات کا راز کھولے بغیر ہی آ گئے۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.