Nirala Saajan
Episodes
کرن کو بھابھی کا کھسرے کے ساتھ رویہ سخت برا لگا تھا۔ مگر وہ بے بس تھی وہ کیا سارا گھر ہی بےبس تھا۔ جب سے کرن کے پاپا نے بیٹے کو پڑھائی ختم کرنے کے بعد بزنس سونپا تھا وہ اس کے محتاج ہو کر رہ گئے تھے پھر بیمار بھی ہو گئے تھے جس کی وجہ سے بیٹے نے انہیں گھر بٹھا دیا تھا اور اپنی من مانی کرنے لگا تھا۔ اس کی بیوی جو پہلے اس کی سیکرٹری تھی۔ وہ اسے لبھانے میں کامیاب ہو گئ۔ گھر والے اس کی عادات کو پسند نہ کرتے تھے۔ مگر بیٹا اس کی ہر بات مانتا تھا اور گھر والوں سے بھی منواتا تھا کرن کی بھابھی جو چندہ کے نام سے مشہور تھی۔ وہ شوہر کی کمائی لوٹتی اور میکے والوں پر لٹاتی۔
بظاہر کرن کے پاپا بیٹے کے اکاؤنٹ کا حساب کتاب رکھتے اور اکثر اس کی بیوی کی فضول خرچی پر سرزنش کرتے مگر وہ بیوی کی طرفداری کرتا کہ اس کا بھی حق ہے۔ چندہ اچھے کردار کی نہ تھی مگر شوہر سے ایسا پیار جتاتی۔ گھر والوں سے میاں کے آ گے ایسا پیار شو کرتی۔جیسے وہ ان کی بہت ہمدرد ہے۔ کرن کی دو بار منگنی ٹوٹنے پر خاندان بھر میں باتیں بن رہی تھی۔ محلے میں بھی چہ میگوئیاں شروع تھی۔ کرن کے والدین اس بدنامی سے بچنے کے لیے اس کی جلد شادی کر دینا چاہتے تھے۔ رشتے والی جو رشتہ لاتی وہ لوگ یہ سوال ضرور کرتے کہ پہلی دو منگنیاں کیوں ٹوٹی۔ وہ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر واپس نہ آتے۔
چندہ نے اپنے کزن کا رشتہ بتایا جو اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں سیٹل تھا۔ جو بقول چندہ کے کسی شریف گھریلو اور پاکستانی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے پھر وہ اسے اپنے ساتھ امریکہ لے جائے گا۔ اس نے اس رشتے کی تعریف میں زمین آسمان کے کلابے ملا دیے۔
کرن کے بھائی کو باپ نے زمہ داری سونپی کہ اچھی طرح جانچ پرکھ لے۔ اس نے تسلی دی کہ آپ بےفکر رہیں میں سب کچھ دیکھ لوں گا۔ اس کے بعد چندہ نے جلدی ڈالی کہ اس کے بہت سے رشتے آ رہے ہیں یہ نہ ہو کہ ہم دیر کر دیں تو رشتہ ہاتھ سے نکل جائے۔ پہلے ہی ہمیں رشتہ نہیں مل رہا ہے۔ پھر یہ تو اپنے ہیں۔ منگنی والی باتوں کو میں کور کر لوں گی۔ انہیں مجھ پر بھروسہ ہے تو میں نے بھی کرن کی وہ وہ تعریفیں کی ہیں جو وہ چاہتے تھے۔ وہ بہت امیر لوگ ہیں ان کو جہیز کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری کرن کو گھر داری تو آتی نہیں نہ ہی کھانا بنانا آتا ہے بس نخرے دکھانا اور کھانا آتا ہے۔ ان کے گھر کھانا نہیں پکتا۔ کرن نے منہ بنا لیا سوچا کہ بھابھی زلیل کر نے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ وہ پچھتاتے ہوئے سوچنے لگی کاش اس نے ماما کی بات مانی ہوتی جو اکثر اسے سمجھاتی کہ کچھ گھر داری کچھ کھانا پکانا وغیرہ سیکھ لوں پڑھائی ختم ہوتے ہی اکثر لڑکیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں۔ مگر پاپا فیور لیتے اور کہتے آج کل نیٹ پر سب کچھ مل جاتا ہے ادھر سے سیکھ لے گی۔ جب تک یہ پڑھ رہی ہے اسے ڈسٹرب نہ کرو۔ پڑھائی کے بعد سیکھ لے گی۔
چندہ کھانا اچھا بنا لیتی تھی گھر داری بھی خوب جانتی تھی۔ اسی زعم میں وہ اپنی بڑائی کرتی رہتی۔ شوہر اس کے کھانے کی تعریفیں کے پل باندھتا اور فخر کرتا۔ وہ اتنی حسین نہ تھی جتنی اس نے فیشن کر کے اپنے آپ کو حسین بنا رکھا تھا۔
چندہ نے کھسرے کو اپنے شوہر کا پرانا ٹراوزر اور ٹی شرٹ دیا۔ کھسرے نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میم میں کسی کے کپڑے نہیں پہنتا۔ وہ بولی یہ مردانہ سوٹ ہے اس لیے انکار کر رہے ہو کیا میں اپنا جوڑا دوں پھر پہنو گے۔ وہ خاموش کھڑا تھا۔ کرن کے لئے ویل چیئر منگوا لی تھی۔ اور وہ اس وقت سامنے بیٹھی بھابھی کی باتوں پر دل میں پیچ و تاب کھا رہی تھی۔ کھسرے نے کہا کہ اس نے بھائی کے لیے سوٹ خریدا تھا وہ پہن لے گا۔ بھابھی نے استفسار کیا کہ اس کے لیے زنانہ سوٹ لیا ہے یا مردانہ۔ وہ آہستہ سے بولا جی وہ ٹھیک ہے شادی شدہ ہے ایک بچہ بھی ہے۔ چندہ بولی اچھا تو تم ساری زندگی کیا کرو گے ناچ گانا ہی کرتے رہو گے کیا۔ کرن نے چلا کر کہا بھابھی ہولڈ یور ٹنگ۔بھابھی بولی۔ کیا تم اب کھسرے کے لئے مجھ سے لڑو گی۔ ویسے بھی اسے کون سی انگلش سمجھ آنی ہے۔ ڈھیٹ پن سے مسکراتے ہوئے بولی۔ یہ میری تعریف کر رہی ہے۔ کرن کے باپ نے اکتاہٹ سے کہا کوئی بات نہیں بیٹا وہ تمھارا بھائی ہے کپڑے لے لو۔ بھابھی پھر مسکرا کر آہستہ سے بولی بھائی کے بہن۔ کھسرے نے غصے سے اس سے کپڑے چھینے اور تیزی سے چل پڑا۔ بھابھی مسکرا کر بولی کیا بات ہے کھسروں کو بھی غصہ آتا ہے۔ کرن غصے سے بولی۔ وہ بھی انسان ہوتے ہیں۔ بھابھی پھر طنزیہ انداز میں بولی کس قسم کے انسان۔ اتنے میں اس کے شوہر نے اسے آواز دی تو وہ جی جانو کہتی چل پڑی۔ کرن کی ماں نے بڑبڑا تے ہوئے کہا کہ اس کو کوئی شرم حیا نہیں سب کے سامنے جانو جانو کرتی رہتی ہے۔ دوسروں کو زلیل کر کے خوش ہوتی ہے۔
کھسرا نہادھو کر جب باہر آیا تو اس کو سب حیرت سے دیکھتے رہ گئے۔ اس کا بغیر میک اپ کے چہرہ۔ ہاتھوں کے ناخن کٹے ہوئے۔ لمبے بال نہانے سے نکھر آے تھے اور اس نے سوکھنے کے لئے کھلے چھوڑ رکھے تھے۔ چندہ نے دیکھا اور حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ واہ بائ تم تو پہچانے ہی نہیں جا رہے ہو۔ اگر بالوں کو بھی مردانہ سٹائل میں کٹوا لو تو بلکل مرد لگ رہے ہو۔ چلو میں نے درزی کو کپڑے دینے جانا ہے رستے میں تمھارے بال بھی کٹوا دیں گے اس نے کہا کہ وہ بال نہیں کٹواے گا چاہے کچھ ہو جائے۔۔
کرن کے باپ نے کہا کہ کرن بیٹا تم بھی ڈاکٹر کے چیک اپ کرا آو۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.