Nirala Saajan
Episodes
شکور رضیہ سے رو رو کر معافی مانگ رہا تھا کہ اج اپنی بےعزتی ہوئی ہے تو پتا چلا کہ مار اور بےعزتی سہنا کتنا ازیت ناک عمل ہے۔ جسم کے ساتھ روح پر بھی زخم لگتے ہیں۔ جسم کے تو ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر رو کے نہیں ہوتے۔ وہ اس سے بولا کہ میں بھی کتنا ناشکرہ تھام جو گھر میں ایک شریف اور خدمت گزار بیوی چھوڑ کر دوسری عورت کے پیچھے جاتا تھا۔ اور دوزخ کے رستے پر چل رہا تھا اور اپنی آخرت کو بھولا ہوا تھا اور اس گناہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتا تھا۔ انسان گناہ کرتا جاتا ہے اور وقت گزرتا جاتا ہے اور موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ بعض اوقات تو توبہ کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ اور وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جاتا ہے اور لوگ استغفار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی موت سے سب کو بچائے اور توبہ کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ وہ اس سے ہاتھ جوڑ کر بولا بس ایک بار مجھے معاف کر دو پھر میں کھبی تم سے زیادتی نہیں کروں گا اگر تم مجھے معاف نہیں کرو گی تو اللہ تعالیٰ بھی مجھے معافی نہیں دیں گے۔ رضیہ نے روتے ہوئے کہا کہ میں نے اپ کو معاف کیا آپ بھی مجھ سے کوئی جانے انجانے کوئی بھول ہوئی ہے تو معاف کر دینا۔ اس نے کہا پگلی تو نے کیا گناہ کیے۔ میں اب کام بھی کروں گا اور اپنی محنت کی کمائی تمہیں کھلاوں گا۔ اللہ پاک مجھے معاف کرے۔ رضیہ بولی اچھا بس بہت رو لیے اب بس کریں اور کھانا کھا لیں۔ میں نے بھی نہیں کھایا۔ اتنے میں علی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر آ گیا۔ رضیہ بولی میں کھانا لے آوں پھر دوائی بھی کھانی ہے۔ علی نے دیکھا رجو آپی مطمئن لگ رہی تھی۔ پھر شکور علی سے بھی وعدے کرنے لگَ کہ وہ اب کام کرے گا۔ علی نے تسلی دی۔ شکور کی باتیں سن کر سب نے سکھ کا سانس لیا اور کھانے کے لیے راضی ہو گئے۔
شکور کی اس واقع کے بعد طبیعت خراب رہنے لگی۔ لالہ جی اور تمام گھر والوں سے معافی مانگ لی تھی۔ اس کی طبیعت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ سب گھر والے اس کی طرف سے پریشان رہنے لگے تھے۔ علی اس کی دلجوئی میں کوئی کسر نہ چھوڑتا۔ بیوی خدمت کے ساتھ ساتھ روتی اور اسے تسلیاں دیتی رہتی۔ وہ کہتا اس وقت میری غیرت جاگی ہے جب اب صہت ہی نہیں رہی۔ اب بھائی مجھے خرچہ دیتے ہیں دوائیاں لا کر دیتے ہیں۔ میری ضرورت کا سامان لا کر دیتے ہیں تو مجھے بڑی شرم آتی ہے۔ تمہیں جب وہ پیسے دیتے ہیں کاش میں نے تمھارے لیے کچھ کیا ہوتا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تمھارا کیا بنے گا۔ وہ تسلیاں دیتی۔ اور رونے لگتی۔ وہ اسے کہتا تم ہر وقت پریشان رہتی ہو۔ اپنی کیا حالت بنا لی ہے۔ تم بھی مسز ملک کی طرح بن سنور کر رہا کرو۔ وہ دیکھو نا ہر روز پارلر جاتی ہیں۔
مسز ملک جو شکور کی خیریت دریافت کرنے آئی تو دروازے پر پہنچ کر اس نے ان کی گفتگو سن لی اور رضیہ کو بدلنے کا عہد کر لیا۔
رضیہ کو مسز ملک منا کر سب کے زور دینے پر پارلر لے گئی۔ وہ پارلر میں ہر چیز میں نہ نہ کرتی رہی مگر مسز ملک نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔ پھر اس کو مارکیٹ لے گئی اور اس کے لیے چند جدید ڈریسز بھی خریدے۔ پھر گھر آ کر اسے تیار بھی کروایا۔ وہ شرما کر سامنے نہ آے۔ جب سامنے آئی تو وہ نہایت دلکش اور پرکشش لگ رہی تھی۔ شکور تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ بولا مرد کتنے پاگل ہوتے ہیں جو باہر کشش تلاش کرتے ہیں اگر وہی اپنی بیوی پر توجہ دیں اور اسے سنورنے کی فرصت فراہم کریں تو باہر دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ مسز ملک اپنے اوپر فخر کر رہی تھیں اور اسے سب کو دیکھاتی پھر رہی تھیں۔ اور سب سے تعریفیں وصول کر رہی تھیں۔ اتنے میں ملک صاحب ادھر کسی کام سے آے تو پہچان نہیں پاے وہ سمجھے کوئی مہمان آئی ہے۔ سلام کر کے جانے لگے تو بیوی نے مسکرا کہا ملک صاحب آپ نے شاید پہچانا نہیں یہ اپنی رجو ہے۔ میں اسے ابھی پارلر سے تیار کروا کر لائ ہوں۔ انہوں نے ایک نظر دیکھا اور اچھا ماشاء اللہ کہہ کر تیزی سے چل پڑے۔
اب تو مسز ملک اس کی جان نہ چھوڑتی۔ تھوڑے ہی ٹائم میں اس نے رضیہ کو عادت ڈال دی۔ اب اس میں اعتماد اس وجہ سے بھی بحال ہو چکا تھا کہ شکور اسے ہر وقت ایسا رہنے پر مجبور کرتا اور بھرپور تعریف کرتا۔
مسز فاروقی نے کرن کی ماں سے بھی تعلقات بڑھا لیے تھے اور آنا جانا شروع کر دیا تھا۔
فاروقی صاحب اور لالہ جی کی دوستی اسی طرح قائم تھی۔ بظاہر تو فاروقی صاحب کی فیملی سے بھی اچھے تعلقات استوار ہو چکے تھے۔ علی بھی ڈاکٹر صاحب سب سے نارمل ہو چکا تھا۔ باہر ملتے سلام دعا بھی ہو جاتی۔ اگر کوئی بیمار ہوتا اسی کے کلینک لے کر جاتے۔ ٹیسٹ وغیرہ اسی کے کلینک سے کرواتے۔ لالہ جی جاتے یا ان کے گھر سے کوئی بھی تو ڈاکٹر صاحب بہت پروٹوکول دیتے۔
ان کی بہن جو میکے میں ہی رہتی تھی۔ اس کے سسرال والے امریکی میں مقیم تھے اور وہ ادھر ادھر آتی جاتی رہتی۔ اب وہ روز آتی جاتی۔ بچے اس کے صبا سے خوش ہوتے۔ اس کے بچوں سے سب پیار کرتے۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ سب کچھ بھول بھال گئے ہیں۔
ھادی ابھی بھی دبے لفظوں میں احتجاج کرتا رہتا تھا۔ مگر کوئی اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتا تھا تھا۔
فاروقی صاحب کی بیوی اور بیٹی آج ایک خاص مشن کے تحت کرن کے گھر جانا چاہتی تھیں۔ ادھر کرن ماں کو دبے لفظوں میں انکار کر رہی تھی۔ فون پر ان کو اطلاع ملی کہ آج وہ لوگ آ رہے ہیں اور رات تک رکنے کا پلان ہے۔ وہ پہلے بھی کرن کی ماں کو کرن کے رشتے کے خلاف بدزن کرتی رہتی تھیں۔ آج وہ آہیں اور کافی جال بننے کے بعد کرن کی ماں کو نیم رضامند کر ہی لیا۔ اور اپنے مشن میں کامیاب ہو کر وہ خوشی خوشی چل پڑیں۔
ان کے جانے کے بعد کرن کے بھائی اور پاپا نے کرن کی ماں کو سمجھانے کی کوشش کی تو الٹا وہ انہیں سمجھانے بیٹھ گئی۔ کہ جب ہماری کرن کو ایک اعلیٰ نسل خاندان اسسٹنٹ پروفیسر شاندار کلینک کا اونر اکلوتا صرف ایک نند وہ بھی باہر ملک رہتی ہے۔ دولت کی ریل پیل اچھی سوسائٹی میں گھر اونچا سٹیٹس۔ اوپر سے اتنے قدردان۔ اس رشتے کو ٹھکرانے کا مطلب ہے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنا۔ میں تو اب ایسی بےوقوفی کھبی نہیں کروں گی۔ وہ لوگ تو جلد شادی بھی کرنے کو تیار ہیں۔
کرن کے پاپا نے سمجھایا کہ ویسے تو ایک رشتے کے اوپر دوسرا رشتہ بھیجنا بھی گناہ ہے۔ جبکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ ہم نے ھادی کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہوا ہے۔
کرن کی ماں ایکدم غصے سے بولی دفع کریں اس ھادی کے بچے کو۔ کیا ہے اس رشتے میں معمولی تعلیم اور ایک میراثی خاندان کا شہزادہ۔ اس نے طنزیہ انداز سے ہنستے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر کے گھر میں چار لوگ ہیں اپنی پرائیویسی رکھتے ہیں۔ میراثی کا خاندان دیکھو۔ ہر ایرے غیرے کو پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے گھر جب جس کا دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر چلا جاتا ہے۔ کوئی شعور ہی نہیں ہے ان کو پرائیویسی کا۔ میری بیٹی تو کھپ جاتی اتنے بڑے خاندان میں۔ جہاں کھانا بھی روز گھر میں ہی بنانا پڑتا ہے۔ روٹی بھی گھر میں پکتی ہے۔ اوپر سے وہ ہڈحرام شکور نہ کام نہ کاج دشمن اناج۔ ساری زندگی وہ اور اس کی بیوی بوجھ بنےرہیں گے ساری زندگی بھائی اس کو پالتے ہی رہیں گے۔ کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی کہ کس زات اور کس قوم سے تعلق ہے میراثی قوم ہے جی۔ مزاق بنوانا ہے اپنے خاندان اور دنیا کے سامنے۔
شوہر نے عاجز ا کر کہا بس کر دو بیگم خدا کا خوف کھاو۔ اج کل کی نسل کو تو دادا پردادا کا نام معلوم نہیں تو قومیں اور زاتیں کون دیکھتا ہے۔ اونچی زات کی قوم میں اکثر ظالم اور گھٹیا لوگ رہتے ہیں۔ نہ وہ انسان ہوتے ہیں نہ ان کے اندر انسانیت ہوتی ہے۔
اور یہ جن کو زلت امیز لہجے میں مراثی کہہ کر مزاق اڑا رہی ہو۔ ان لوگوں کے ساتھ رشتہ قائم کرنا خوش قسمتی ہے۔ یہ انسان ہیں اور انسانیت ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر کے دروازے ہمیشہ ہر کسی کے لیے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا دل ان کے گھر کی طرح بڑا ہے۔ خاندان کے ساتھ مل جل کر رہنا ہی زندگی ہے۔ امیر لوگ اکیلے رہ رہ کر ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔ ڈھیروں دوائیاں کھا کر بھی بیمار رہتے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں روپے علاج پر لگاتے ہیں۔ مگر کسی غریب کو دو وقت کا کھانا نہیں کھلا سکتے تاکہ آخرت سنور سکے۔ بس دنیا سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ بیوی نے کہا کہ اس وقت مجھے بیٹی کے رشتے کی مجبوری تھی ویسے بھی کرن ھادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ کرن نے دہاہی دی کہ ماما ھادی چھوٹا ہے اس لئے۔ ورنہ ڈاکٹر لوگ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ ماں نے اسے بری طرح ڈانٹ کر کہا خبردار میں اب اس موقع کو نہیں گنوانا چاہتی۔ تم اگر ھادی سے نہیں کرنا چاہتی تو کون سا رشتہ ملے گا اس سے اچھا۔ کرن کے بھائی نے احتجاج کیا تو اسے وارننگ مل گئی کہ اگر تم نے رکاوٹ ڈالی تو میں صبا سے تمھارا رشتہ ختم کر دوں گی۔ یا کچھ کھا کر مر جاوں گی۔ اس نے سب کو بےبس کر دیا۔
کچھ دن گزرے فاروقی صاحب کے گھر سے مٹھائی ای۔ آجکل فاروقی صاحب بھی کم آنے لگے تھے۔ مٹھائی کا پوچھا تو ملازم نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ لالہ جی اور ان کے گھر والے بہت خوش ہوے۔ فورا لالہ جی نے فاروقی صاحب کو فون کیا تو انہوں نے ڈھٹائی سے بتایا کہا اپنی کرن بیٹی کے ساتھ اس کے بعد بولے زرا میں مصروف ہوں گیسٹ اے ہوئے ہیں مبارک باد دینے۔ اور فون بند کر دیا۔ لالہ جی سکتے کی سی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔سب گھر والے حیران تھے۔ علی بہت پریشان اور اداس ہو گیا۔ ھادی امارہ کو باہک پر اس کی کوئی ضروری لینے لے کر گیا ہوا تھا۔ااسی وقت صبا کی ماں کی چیخ سنائی دی سب ادھر بھاگے۔
امارہ بہت ڈر رہی تھی۔ کہ ان دونوں نے جو نکاح کیا ہے وہ گھر والوں کے سامنے کیسے لاہیں گے گھر پہنچے تو عجب منظر تھا۔
جاری ہے۔ دعاگو راہٹر عابدہ زی شیریں۔
پلیز اسے لاہک شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔
اس قسط کے بعد اگلی قسط لاسٹ ہو گی۔ جو کافی لمبی اور آپ سب کی امید پر انشاء اللہ پوری اترے گی۔ اس کو میں جلد از جلد آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گی۔ باقی آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ اور جلد ہی اس ناول کی آخری پارٹ کا لنک پوسٹ کروں گی۔
دعا کی طالب۔ عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.