Loading...
Logo
Back to Novel
Nirala Saajan
Episodes
Nirala Saajan

نرالہ ساجن 26

From Nirala Saajan - Episode 26

ھادی اور امبر نکاح کر کے آے تو امبر ڈر رہی تھی کہ اب کیا ہو گا گھر والوں کو کیا جواب دیں گے۔


امبر اور ھادی میں دوستی بڑھنے لگی۔ امبر اکثر ماں سے دبے لفظوں میں کہتی۔ موم مجھے علی بلکل بھی پسند نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے وہ ڈیڈ ہے۔ ڈیڈ تو پھر کھبی ہنس تو لیتے ہیں۔ وہ تو ہنستا بولتا ہی نہیں ہے۔ بچوں کی طرح میرا خیال رکھتا ہے۔ رومینٹک کی تو اے بی سی بھی نہیں جانتا۔ ایسے بزرگ سوبر نما پارٹنر کے ساتھ میں بور لاہف نہیں گزار سکتی ہوں۔ آپ پلیز اس سے میری انگیجمنٹ ختم کر دیں۔ میں ایک منٹ بھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔ ساری زندگی کیسے گزار سکتی ہوں۔ ماں اس کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیتی اور دھیان نہ دیتی۔ جانتی تھی بچی ہے۔ جب شادی ہو گی خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ اس کی ماں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں کھبی کچھ نہ بتایا۔ اور اس بات کو معمولی لیا۔


امبر نے پہل کی اور ھادی سے اپنے دل کی بات کر دی کہ وہ علی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ وہ اس کے آہیڈیل سے بلکل میچ نہیں کرتا۔ اور تم اس پر فٹ آتے ہو اور یہ کہ اس نے اپنی موم کو سب بتا دیا ہے۔ پھر اس نے جھوٹ بولا کہ وہ اس رشتے پر راضی ہیں۔ وہ کافی حیران ہوا وہ تو اسے علی کی امانت سمجھتا تھا اور بھائی کی منگیتر کے ساتھ ایسا تعلق بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے اسے سمجھانا شروع کر دیا کہ علی بھائی خوبیوں میں مجھ سے بہت زیادہ آگے ہیں۔ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہیں۔ مجھ سے زیادہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہیں۔ بہت سوبر گریس فل پرسنیلٹی ہیں۔ موقع کی مناسبت سے بات کرنا، فیصلے کرنا اور دوسروں کو ڈیل کرنا ان کے لیے معمولی بات ہے جبکہ میں سوچتا ہی رہتا ہوں۔ اور انہوں نے تم سے منگنی سے انکار نہیں کیا۔


وہ بولی اس وقت وہ ڈیڈ کے آگے مروت میں آ گئے تھے۔ مجھے فاروقی صاحب کی بیٹی نے بھی بتایا تھا کہ علی کرن کو پسند کرتا ہے وہ تمھیں خوش نہیں رکھے گا۔


ھادی بھی جانتا تھا کہ کافی پہلے صبا ھادی سے لڑ رہی تھی کہ تم اس سے پیار کرتے ہو تو وہ جواب میں چپ ہو گیا تھا تب سے اس نے ان کو نوٹ کرنا شروع کیا تو اسے محسوس ہوتا کہ یہ بات سچ ہے کرن بھی اسے دیکھ کر کھل جاتی۔ تو اس کو یقین ہو گیا۔ پھر کرن کا نکاح ہو گیا تو علی نے ھادی کے خیال کے مطابق کہ اب کرن پرائ ہو چکی ہے۔ دوسرا جاوید صاحب کی آفر قبول کرنے سے ان کی فیملی کو فائدہ مل سکتا تھا اس لیے انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ اور اس کے یقین کے مطابق وہ بےشک کرن کو پسند کرتے ہوں وہ جاوید صاحب سے وعدہ خلافی کھبی نہیں کریں گے اور امبر کواس کے حق سے کھبی محروم نہیں کریں گے۔ اور اس کے حقوق وفراہض پورے کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے۔ اور کرن کو بھی ہمیشہ میری امانت سمجھیں گے مجھے اپنے بھائی پر اندھا اعتماد ہے۔


امبر اس کو سمجھانے لگی کہ دیکھو ھادی میں اور تم ایج فیلو ہیں۔ ہمارے مزاج بھی آ پس میں ملتے ہیں۔ ہم میں انڈرسٹینڈنگ ہے۔ کرن اور علی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ایج فیلو بھی ہیں۔ دونوں ہم مزاج ہیں تو اس لیے اب ہم خود ہی اس رشتے کو چینج کر کے سب کے حق میں بہتری لا سکتے ہیں۔ علی کے دل کی مراد بھی بھر آئے گی اور کرن بھی خوش ہو جائے گی۔ اگر ہم گھر والوں سے کہیں گے تو وہ کھبی نہیں مانیں گے اور جب ہم نکاح کر لیں گے تو سب کو سمجھ ا جاے گی کہ یہی سب کے حق میں بہتر تھا پلیز مان جاو جلدی۔ورنہ ڈیڈ روز میری شادی کا ٹاپک لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اچانک وہ شادی فکس کر دیں گے اور چار انسان ساری زندگی روتے رہیں گے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمھارا بھائی دکھی زندگی گزارے۔ مجھ میں تو وہ سلیقہ اور خوبیاں بھی نہیں ہیں جو کرن میں موجود ہیں بڑی بہو ہونے کے ناطے کرن ہی اس گھر کو سوٹ کرتی ہے۔ میں تو بھلکڑ ہوں۔ اگر تم بھائی کی بہتری چاہتے ہو تو پلیز جلدی سے مان جاو۔ اگر بڑوں نے شادی کی ڈیٹ فکس کر دی تو پھر ان کو اس بات کے لئے منانا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ وہ اسے اپنی بےعزتی تصور کریں گے اور کھبی نہیں مانیں گے۔


ھادی نیم رضامند ہوتے ہوئے بولا۔ مگر گواہ کہاں سے لائیں گے۔ وہ خوش ہوتے ہوئے تیزی سے بولی اس کی تم فکر نہ کرو وہ فاروقی صاحب کی بیٹی ہے نا وہ سب کر دے گی۔ مگر وہ کیوں کرے گی وہ حیران ہوتے ہوئے بولا۔ وہ سر جھکائے ہوئے قدرے شرمندہ سی بولی۔ دراصل وہ میری دوست ہیں۔ مگر وہ تو تم سے بڑی ہیں۔


وہ بولی وہ کہتی ہیں کہ دوستی میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ تمھاری دوستی کب اور کیسے ہوئی۔ وہ میں سب بعد میں بتاؤں گی پہلے ہم پلان کے مطابق کل نکاح کریں گے۔ میں مسز فاروقی کی بیٹی کو فون کر دوں گی وہ گواہ کا ارینج کر دیں گی انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی اپنے پیار کو پانے کے لئے ان کی ضرورت ہوئی تو وہ ان کو بتاے وہ سب ارینج کر دیں گی۔ اس نے اسے اتنا منایا اتنے پیار سے لبھایا اور روتے ہوئے بولی میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اگر زبردستی میری شادی علی سے کی گئی تو میری موت کے زمہ دار تم ہو گے۔ میں شادی والے دن کچھ کھا کر مر جاوں گی۔ پھر روتے رہنا۔ مجھ جیسی پیار کرنے والی نہیں ملے گی۔ اور تمھارے اور میرے والدین کی بدنامی کا باعث بنے گی۔ اگر ہم نکاح کر لیتے ہیں تو گھر والے دنیا والوں کے سامنے سنبھال لیں گے اور پھر ہم بھی خوشیوں بھری زندگی گزاریں گے اور علی اور کرن کی زندگی میں بھی بہار ا جاے گی۔ اس طرح وہ مجبور ہو گیا۔ اور بھائی کی خوشی کے لیے بھی مان گیا اور اس کے مرنے والی دھمکی سے بھی ڈر گیا۔ جس طرح کی وہ جزباتی تھی اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ ایسے کر گزرے گی۔


وہ اکثر اپنی کوئی نہ کوئی شاپنگ کے لیے ھادی کے ساتھ باہک پر جاتی رہتی تھی۔ اسے باہک پر جانا اچھا لگتا تھا ایک تو اسے رومینٹک لگتا۔ دوسرے وہ اکیلی اس کے ساتھ جاسکتی تھی۔


اب رات کو اس نے فاروقی صاحب کی بیٹی کو خفیہ فون کیا ھادی سے بھی بات کروائی۔


فاروقی صاحب کی بیٹی نے بھی وہی باتیں سمجھاہیں جو امبر نے اس کو سمجھاہیں تھیں۔ اس نے بھرپور تعاون اور مدد کا وعدہ کیا۔


پلان کے مطابق ان کا نکاح ہو گیا۔ فاروقی صاحب بھی موجود تھے اور تسلی دے رہے تھے کہ وہ لالہ جی کو منا لیں گے۔ لالہ جی مانے تو سمجھو سب مانے۔ ھادی کو فاروقی صاحب کی وجہ سے حوصلہ پیدا ہو گیا اور وہ اس کام کو آسان سمجھتے ہوئے عمل کر بیٹھا۔ فاروقی صاحب کی فیملی تو مبارک باد دے کر چلتی بنی کہ جب ضرورت ہو گی ہمیں بلا لینا۔ اور وہ چلے گئے۔ جبکہ ھادی اور امبر سمجھ رہے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ان کے گھر جاہیں گے اور لالہ جی کو بتانے میں مدد کریں گے مگر وہ کوئی بہت ضروری مصروفیت کا بتا کر کہ ڈاکٹر صاحب کی آج منگنی ہے اور وقت نہیں ہے پھر بھی وقت نکال کر ا گے ہیں


ادی امبر کو کوس رہا تھا کہ تمھیں ہی جلدی تھی نکاح کی۔ اب فاروقی صاحب گولی کرا گے ہیں۔ اب ہم گھر کیسے بتائیں گے اور نہ جانے ان کا کیا ردعمل ہو گا۔


امبر بولی تم تو ویسے ہی ڈر رہے ہو۔ کیا ہو گا سب حیران ہوں گے۔ پھر میرے ڈیڈ خوش ہو کر مجھے گلے لگاہیں گے پھر داماد کی حیثیت سے تمھیں بھی گلے لگا کر تھپکی دیں گے اور لالہ جی سے بولیں گے دیکھا ہم سے تو زیادہ ہمارے بچے عقل مند ہیں انہوں نے درست فیصلہ کیا ہے۔ علی اور کرن تو ہمارے آگے oblige ہوں گے اور شکریہ ادا کریں گے اور سب بہت خوش ہوں گے ڈیڈ اور لالہ جی مٹھائی منگوا کر پوری سوسائٹی میں بانٹیں گے۔ اور پھر ہماری شادی ہو گی اور خوشیاں ہوں گی۔ موم ڈیڈ میری پسند سے شاپنگ کرواہیں گے۔ ہنی مون کے لیے دیکھنا ڈیڈ یورپ کے وزٹ پر بھیجیں گے اور ہم ڈھیر ساری شاپنگ کریں گے۔


ھادی اپنی سوچوں میں کھویا ہوا تھا۔ اسے فاروقی صاحب کی سازش سمجھ ا چکی تھی وہ لوگ آستین کا سانپ تھے۔ وہ دل میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ خاہ مخواہ اس بے وقوف لڑکی کی باتوں میں آ کر اتنا بڑا قدم اتھا لیا۔ وہ سب وہ فاروقی صاحب کی فیملی کی ملی بھگت تھی۔ کیسے نکاح کے بعد وہ خوش خوش ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مَسکرا کر اشارے کر رہے تھے۔ اسی لیے امبر ہر وقت فاروقی صاحب کی بیٹی کے ساتھ بیٹھی ہوتی تھی۔ وہ اس کو junk food لا لا کر دیتی تھی جو امبر کو بہت پسند تھے۔ کیونکہ ان کے گھر میں روز گھر کا کھانا پکتا تھا۔ اسے علی سے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ یہ سب اس نے اپنی خوشی سے زیادہ علی کی خوشی کے لیے کیا تھا کاش وہ بھائی سے مشورہ کر لیتا کہ اس کو ساتھ ملا لیتا۔ اس کی اچھی نیت پر کون اعتبار کرے گا۔ امبر کیا کچھ بولتی رہی اسے کچھ دھیان نہ تھا جب وہ لاگ گھر پہنچے تو قیامت کا منظر تھا اس کا بھائی شکور اس دنیا سے جا چکا تھا۔ نکاح کی تو ہوش ہی نہ رہی۔ وہ دھاڑیں مار مار علی سے لپٹ گیا۔ کرن لوگ بھی آ چکے تھے۔ سب رو رہے تھے۔


لالہ جی کو فاروقی صاحب زوردار طریقے سے تسلیاں دے رہے تھے۔ گھر سے ان کے کھانے پینے کا سامان ا رہا تھا وہ علی کے منع کرنے کے باوجود کھانے کا کفن دفن کا انتظام کر رہے تھے۔ سب ان کی دریا دلی پر واہ واہ کر رہے تھے۔ سوسائٹی والے تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے دوستی کا حق صحیح نبھایا ہے۔ ان کی عورتیں بھی پیش پیش تھیں۔ اور گھر والوں کو خوب دلاسے دے رہی تھیں۔ قرآن خوانی کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ گھر والوں کو اس حادثے کی توقع نہ تھی۔ اچانک ہی اس کا ہارٹ اٹیک ہو گیا تھا۔ رضیہ کی بری حالت تھی۔ مسز ملک اسے بہت سنبھال رہی تھیں۔ اس کو زبردستی کھلاتی پلاتی۔ صبا سے نیند کی گولی لے کر اسے سلا دیتی۔ باقی سب کو بھی تسلیاں دیتی۔ ان کو سمجھاتی۔ ملک جاوید علی کے ماموں، لالہ جی سب سے ہمدردی کا اظہار کرتے۔قل پر علی نے فاروقی صاحب کو پیار بھری سختی سے کچھ نہ کرنے دیا۔ اور ان کا بہت شکریہ ادا کیا وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے تپھکی دیتے چل پڑے۔ ھادی ان کو دیکھ کر پیچ وتاب کھا رہا تھا۔


وقت مرہم ہے۔ چالیسواں ہو چکا تھا۔ فاروقی صاحب نے کہا کہ ہم نے بیٹے کی شادی کرنی تھی آپ کی وجہ سے ہم نے چالیسواں ہونے تک انتظار کیا۔ ورنہ آجکل لوگ قل کے ساتھ تیسرے دن ہی چالیسواں کر دیتے ہیں۔ ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اور ہم نے اس کی شادی دھوم دھام سے کرنی ہے۔ لالہ جی نے موقع پا کر فاروقی صاحب کو گلہ کیا کہ کرن ہمارے ھادی کی منگ تھی۔ آپ کو تو معلوم تھا پھر صبا کی وہ ہونے والی نند ہے۔


اروقی صاحب نے کہا کہ وہ مجبور ہو گئے تھے ایک مجبور والدین کو دیکھ کر۔ جس میں کوئی کمی نہ ہوتے ہوئے منگنی تو منگنی نکاح بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ادھر سے ہمارا شہزادہ ھادی جس نے ساری حدیں پار کر دیں۔ اس نے علی کی منگیتر سے ناجائز تعلق قائم کر لیا۔


لالہ جی بےیقینی والے انداز میں دکھ سے چور لہجے میں بولے۔ آپ کیا فرما رہے ہیں۔


فاروقی صاحب نے کہا جو بھی کہہ رہا ےسچ کہہ رہا ہوں۔ میری بیٹی نے ہم سب سے درخواست کی کہ ان دونوں کا نکاح اپنی نگرانی میں پڑھا کر لالہ جی ان کو معاف کرنے کی درخواست کریں گے۔ ان دونوں نے گھر سے بھاگنے کا پلان بنایا ہوا تھا اور شرط رکھی کہ آپ ہمارا نکاح پڑھوا کر لالہ جی سے معافی دلواہیں گے۔ جس دن نکاح پڑھوا کر آئے اسی دن شکور کی فوتگی ہو گئ۔ اور بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اب ہمارے دل میں بھی سو ارمان ہیں کہ اکلوتے بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کریں۔ اور آپ لوگوں کے تعاون اور شرکت کی اشد ضرورت ہے۔ اور پلیز ھادی اور امبر بیٹی کو معاف کر دینا۔ اور مجھے اور میری فیملی کو بھی معاف کر دینا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے غلط کیا۔


لالہ جی کے آنسو رواں تھے اور وہ فاروقی صاحب سے بولے آپ نے تو ہماری عزت بچائی ہے۔ آپ نے انہیں نہ روکا ہوتا تو ہم رسوا ہو جاتے۔ آپ کا احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔


اتنے میں ملک جاوید صاحب اندر آے اور فاروقی صاحب سے بولے میں نے آپ لوگوں کی گفتگو سن لی ہے۔ لالہ جی بولے آپ کہیں تو میں ابھی اسے گھر سے نکال دوں۔ وہ بولے نہیں ایسا نہیں کرنا اور فاروقی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا آنکھیں غصے سے شعلہ برسا رہی تھیں۔ لالہ جی باہر آئے اور سامنے سے علی ا رہا تھا اس سے ھادی کا پوچھا علی ان کی شکل دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ اتنے میں جاوید صاحب آے۔ اپنی بیٹی اور بیوی کا پوچھا۔ علی کی مامی بولی وہ پارلر گئی ہیں۔ وہ بےچینی سے ٹہلنے لگے۔ لالہ جی زور زور سے ھادی کو آوازیں دینے لگے۔ سارا گھر ان کے شور سے جمع ہو گیا۔ جوں ہی ھادی ایا لالہ جی اس کی درگت بنانی شروع کر دی۔ ساتھ ساتھ اس کو کوستے جاتے۔ چیختے چلاتے اسے کہتے تجھ جیسے بےغیرت کو تو گھر میں ایک منٹ نہیں رکھنا چاہیے۔ جس کو نہ اپنی نہ ہی خاندان کی نہ ہی بھائی کی عزت کا خیال آیا۔ بھائی ہو کر بھائی کے حق پر ڈاکہ ڈالتا ہے بےشرم۔ سب چھڑوانے کی کوشش کر رہے تھے۔


ھادی کچھ کہنے کی کوشش کرتا مگر اس کی سن ہی نہیں رہے تھے لالہ جی۔ ملک صاحب دور کھڑے خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ علی اور اس کے ماموں نے بڑی مشکل سے چھڑوایا۔ لالہ جی کو ماموں نے پانی دیا۔


سب ھادی کے گرد کھڑے تھے حقیقت سب پر آشکار ہو چکی تھی۔ سب حیران تھے۔ اس سے پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا اور ایسا کیوں کیا اس نے روتے ہوئے ساری حقیقت بتا دی۔ سب کو یقین آ گیا کہ یہ فاروقی اور اس کی فیملی کی سازش ہے۔ انہوں نے اپنی بےعزتی کا بدلہ لیا ہے۔ سب ھادی کو سنا رہے تھے کہ آخر ہمیں تو بتا دیتے۔ وہ لوگ فاروقی اور اس کی فیملی کو کوس رہے تھے۔ اب سوچ رہے تھے کہ مسز جاوید کو کیسے بتائیں گے۔ وہ ابھی تک پارلر سے واپس نہیں آئیں تھیں۔ سب گھر والے پریشان تھے۔ ھادی نے اٹھ کر علی سے سوری بولا کہ میری نیت بری نہ تھی میں آپ کی شادی کرن سے کروانا چاہتا تھا۔ ورنہ میں اپنی ہونے والی بھابی کے ساتھ کوئی غلط بات سوچ بھی نہیں سکتا۔ نہ وہ آپ کے ساتھ خوش تھی نہ میں کرن کے ساتھ۔ بس صرف اس لئے۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔ کاش میں گھر والوں کو بتا دیتا تو وہ اس بے وقوف لڑکی کو سمجھا دیتے۔ علی نے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا اور کہا کہ مجھے خود سے بھی بڑھ کر تم پر یقین ہے۔ تم کاش صرف مجھے ہی بتا دیتے تو میں خود ملک صاحب سے بات کر کے اس بات کو سنبھال لیتا۔ واقعی دشمن سے کھبی غافل نہیں رہنا چاہیے۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی وار کر دیتے ہیں۔ممجھے تم پر یقین ہے اب کسی طرح جاوید صاحب کو راضی کرنا ہے۔ اور ساری بات سمجھانی ہے۔ پھر لالہ جی خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ سب نے سوچا اب فاروقی کی فیملی سے دور رہنا ہے اور تعلق ختم کرنا ہے اور محتات رہنا ہے۔


امبر اور اس کی ماں فاروقی کی بیٹی کے ساتھ پارلر گئی تھیں۔ وہ واپس آئیں تو ہنگامہ سرد پڑ چکا تھا۔


مبر جوں ہی آئی اور آ کر باپ کے گلے لگ کر بولی ڈیڈ دیکھیں میں نے بالوں کی نیو کٹنگ کرائی ہے کیسی لگ رہی ہوں۔ اس نے اسے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا۔ وہ حیران ہوتی دور جا کر گری۔ بیوی کے ہاتھ سے پرس گر گیا اور وہ ساکت رہ گئی۔ پھر اس گری ہوئی کو جھک کر مارنے لگا لاتوں مکوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ علی ماموں اور ھادی بھی ا گیا۔ ھادی چیخ کر بولا چھوڑ دیں اس کا قصور نہیں ہے۔ مگر اس نے ھادی کی بھی پٹائی شروع کر دی۔ لالہ جی دور کھڑے افسوس کر رہے تھے۔ علی نے ھادی کو نہ بچایا جبکہ ماموں آگے ہو کر بچاتا رہا۔ اتنے میں علی کی ماں ا کر روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی۔ تو اس نے شرمندہ ہو کر چھوڑ دیا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر بولا بی بی جی میں اپنی بیٹی کے اس عمل سے آپ لوگوں سے سخت شرمندہ ہوں۔ پھر وہ بیوی کی طرف بڑھا اور اسے ایک زوردار تھپڑ رسید کرتے ہوئے بولا تمہیں ہر وقت فیشن کی پڑی رہتی ہے۔ بیٹی کی تربیت کا ہوش نہیں۔ کہ جس گھر میں بیٹی کا رشتہ کیا ہے اس گھر کے طور طریقے اور گھر داری سکھاوں۔ نہ ساری زندگی خود گھرداری کی طرف توجہ دی نہ بیٹی کو سکھائی۔ جیسی خود فیشن کی دلدادہ گھومنے پھرنے اور شاپنگ کی شوقین۔ پارلر سے بن سنور کر آیا اور کھانا آرڈر کر دیا۔ وہ رونے لگی تو امبر ماں کے پاس آئی اور گلے لگانے لگی ماں نے اس کا ہاتھ جھٹکا دفع ہو جاو میری نظروں سے۔ آج تمھاری وجہ سے میرے شوہر نے مجھے ڈانٹا اور ہاتھ اٹھایا۔


مبر نے ھادی کو دیکھ کر کہا ھادی پلیز سب کو بتا دو تم مجھے پسند کرتے ہو اور علی کرن کو۔ اتنے میں جاوید صاحب ا کر ھادی کو مارنے لگے۔ امبر چیختی ہوئی آگے بڑھی تو باپ نے اسے دھکا دیا اور اگے بڑھ گیا۔


گھر کا ماحول کشیدہ رہنے لگا تھا ہر کوئی خاموش اور اداس رہتا۔ ھادی کی شوخیاں ختم ہو گئی تھی وہ علی کی طرح سنجیدہ رہنے لگا تھا۔ لالہ جی، جاوید صاحب اور ان کی بیوی ھادی سے بات نہ کرتے۔ وہ اب امبر سے بات چیت تو کیا اس کی طرف دیکھتا بھی نہ تھا۔ صبا نے علی سے کہا تھا کہ سب کچھ وقت پر چھوڑ دو۔ نادانی میں غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ صبا سب کو سنبھال رہی تھی۔ مسز جاوید بیمار رہنے لگی تھی۔ صبا ان کا علاج کر رہی تھی۔ اس کی ماں روتی کہ میری بیٹی جوانی میں بیوہ ہو گئ اس کا کیا ہو گا علی بہت تسلی دیتا۔ ماں بیٹے کی موت پر روتی رہتی۔


لالہ جی اور جاوید صاحب اکٹھے بیٹھتے۔ لالہ جی بار بار بیٹے کی غلطی کی معزرت کرتے تو جاوید صاحب کہتے میری بیٹی کا قصور ہے وہ آپ کی بہو بننے کے لائق نہ تھی۔ ھادی سن کر شرمندہ ہوتا کہ ان کی نادانی سے ان کے والدین دنیا سے شرمندہ ہو رہے ہیں


جاوید صاحب نے کہا کہ رضیہ بی بی کی شادی کر دیں ابھی وہ جوان ہیں اور اکیلے کیسے اتنی لمبی زندگی گزاریں گے


لالہ جی بولے بلکل ٹھیک کہا آپ نے۔ میرا اس بات کی طرف دھیان ہی نہ تھا۔ بس عدت ختم ہو تو میں صبا، ھادی اور علی کی رضیہ سے کر دوں گا۔ جاوید صاحب چونکے رضیہ سے۔ ہاں رضیہ سے انھوں نے وثوق سے جواب دیا۔


گھر میں لالہ جی نے فیصلہ دے دیا کہ علی اور رضیہ کی شادی طے ہو گی ہے۔ سب سن کر ششد رہ گئے۔ علی بولا رضیہ بھابی کو بھابی نہیں ہمیشہ ماں کا درجہ دیتا رہا ہوں۔ میں کیسے کر سکتا ہوں۔ ادھر رضیہ نے رو رو کر دہائی دی کہ وہ اسے ہمیشہ سے چھوٹا بھائی نہیں بیٹا سمجھتی ہے۔ وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتی۔ اس نے ماں باپ سے التجا کی۔ مگر لالہ جی کے فیصلے کے آگے کوئی دم نہیں مار سکتا تھا۔ انہوں نے شادی کی تیاریوں کا حکم دے دیا۔


رضیہ کے والدین کی تو جیسے دلی مراد بھر آئ تھی۔ وہ تو صب کی علی سے کرنا چاہتے تھے مگر صبا نے صاف منع کر دیا تھا کہ اس کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ اسے بھائی سمجھتی ہے۔ کیونکہ علی میں جو خوبیاں تھیں وہ کسی اور میں نہ تھیں وہ سگریٹ تک نہیں تھا پیتا۔ رعب دار اور ہینڈسم تھا۔ سمجھدار اور بڑوں کی عزت کرنے والا،سب کی زمہ داری اٹھانے والا۔ بھلا ایسا داماد کون نہ چاہے گا۔


جاوید صاحب آجکل اپنا گھر ڈھونڈ رہے تھے اور اسی سوسائٹی میں واکنگ ڈسٹنٹ پر ان کو خوبصورت اور اچھا گھر مل گیا۔ جو لالہ جی کے گھر سے چھوٹا تھا۔ مگر وہ کہتے ہماری شارٹ فیملی کے لیے کافی ہے۔ وہ بیٹی کو نیے گھر سے رخصت کرناچاہتے تھے


ھادی نے سموکنگ شروع کر دی تھی سب گھر والوں کو پتا چل چکا تھا۔ زیادہ تر کمرے میں رہتا لیٹا رہتا۔ اپنے آپ کو مجرم تصور کرتا۔ اس نے تو علی اور کرن کو ملانا چاہا تھا۔ مگر ادھر تو معاملہ ہی اور ہو گیا تھا علی اور رضیہ کی شادی اف۔ اس نے کرن کی شادی ڈاکٹر سے رکوانے کے لیے ڈاکٹر کے کلینک بھی گیا تھا کہ کرن اور علی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔


جب ڈاکٹر نے سنا تو بولا مجھے پتا ہے کوئی نئی بات بتاو اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کرن اور صبا دونوں ایسی لڑکیاں ہیں جو جس کی قسمت میں ہوں گی وہ خوش قسمت ہو گا۔ کیونکہ یہ دونوں رشتوں کی اہمیت کو سمجھتی ہیں۔ جو ان کا شوہر ہو گا چاہے وہ پہلے کتنا ہی ناپسندیدہ ہو مگر شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد ان کے لیے جینا مرنا صرف شوہر کے لیے ہو گا پہلے اس فضول زات پات کے چکر میں صبا جیسے ہیرے کو میں نے کھو دیا۔ میرے گھر والوں کو لاکھ تلاش کے باوجود صبا جیسی لڑکی نہ مل سکی۔ اسے تو ہم لوگ نہ پا سکتے ہیں مگر اب کرن کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔ شکر ہے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ویسے تم سناؤ تم نے بھی تو کافی اونچا ہاتھ مارا ہے واہ لڑکی چلو ان میچور ہے۔ تب ہی علی جیسے خوبیوں کے مجسمے کو چھوڑ کر تمھارے ساتھ اپنی قسمت پھوڑ لی۔ ھادی بولا الحمدللہ مجھے اس کا بھائی ہونے پے فخر ہے۔ ہاں آپ کرن کی قسمت پھوڑ نے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہاں اس کی تو پھوٹے گی میری سنور جائے گی۔


ھادی نے روتے ہوئے منت کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے میرا اور امبر کا نکاح کروا کر انتقام پورا کر لیا ہے۔


وہ قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے بولا ویسے اس کے بعد ڈرامہ بڑا زبردست لگا ہمارے گھر تک آوازیں آ رہی تھیں۔ ھادی نے کہا کہ آپ مجھے مار لیں جتنا چاہے مگر میرے بھائی کی خوشیاں لٹا دیں۔ میں ساری دولت بھی دینے کو تیار ہوں۔ وہ بولا کاکے ہم جسمانی مار نہیں مارتے عقل کی مار مارتے ہیں۔ تم شریف لوگ بہت جلد ہماری میٹھی باتوں میں آ کر اعتبار کر لیتے ہو۔ لالہ جی جیسے سیانے بندے جاوید صاحب جیسے شریف لوگ کیسے میرے ڈیڈ کی باتوں میں آ گئے ہیں اور oblige رہتے ہیں۔ مانتا ہوں تم لوگوں کے پاس کافی دولت کی ریل پیل ہے۔ تو دولت کی آفر کسی غریب کو کرنا۔ مجھ پر اثر نہیں ہونے والا۔ جاو اپنا اور میرا وقت برباد نہ کرو ابھی میں نے شادی کی شاپنگ کے لیے بھی جانا ہے۔ ہاں ایک شرط پر تمھاری بات مانی جا سکتی ہے۔ ھادی جلدی سے بولا جلدی بتاو۔ وہ بولا کہ مجھے ابھی بھی صبا پسند ہے کرن کی جگہ صبا سے شادی کروا دو تو۔ ھادی خاموشی سے چلا گیا۔


علی نے کرن کو پہلی بار فون کیا تو وہ کافی حیران ہوئی۔ اس نے پوچھا خیریت ہے نا۔ تو وہ بولا دیکھو زیادہ باتیں نہیں آتی مگر اج میں بتانا چاہتا ہوں کہ بس مجھے تمھاری فکر رہتی ہے وہ خوشی سے مسکرانے لگی۔ وہ بولا پلیز میری بات کا ماہنڈ نہ کرنا۔ تم ڈاکٹر سے شادی نہ کرو وہ اچھا انسان نہیں ہے اس کے نرسوں سے بھی افیر تھے۔ وہ بولی تو اس سے شادی نہ کروں تو کس سے کروں۔ آپ کی بھی تو رجو آپی سے شادی طے ہو گی ہے۔ آپ روک سکتے ہیں تو میں کیسے روکوں۔ ماما نے نیند کی چند گولیاں نگل لی تھیں بڑی مشکل سے مرتے مرتے بچی ہیں۔ وہ روتے ہوئے بولی میری قسمت ہی ایسی ہے۔ ماما میری شادی ڈاکٹر سے ہی کروا کر دم لیں گی۔ پاپا، بھائی سب سمجھا سمجھا کر تھک گئے اور وہ بات بات پر چھری اٹھا لیتی ہیں۔ ہم سب بے بس ہیں۔ ادھر سے وہ لوگ بھی شادی کی جلدی ڈال رہے ہیں۔علی نے کہا اچھا اور جھٹ سے فون بند کر دیا۔


ھادی نے سنا کہ اس کے نرسوں سے بھی افیر تھے تو اس کی حقیقت جاننے کے لیے کوشش شروع کر دی۔


ھادی مایوس ہو کر ہر وقت کمرے میں لیٹا رہتا تھا تو صبا نے ہوش دلایا کہ اٹھو اور سچائی کو face کرو۔ اپنے آپ کو ضائع مت کرو امبر اب تمھاری زمہ داری ہے۔ علی کے لیے کوشش کرو۔ کرن کو ڈاکٹر سے بچاو۔ ورنہ لالہ جی علی اور رجو آپی کی اموشنل کر کے شادی کروا دیں گے۔ تب ھادی نے مشن بنا لیا۔


مسز جاوید کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ صبا کے سمجھانے پر وہ ان سے معافی مانگنے اور خیریت دریافت کرنے گیا تو وہ بیٹی کو ڈانٹ رہی تھی۔ وہ وہیں رک گیا۔ وہ اسے کہہ رہی تھی کہ بےوقوف لڑکی تم نے ھادی میں کیا دیکھا نہ وہ علی کی طرح زیادہ پڑھا ہوا ہے۔


ہم نے بہت اچھا لڑکا تمھارے لئے چنا تھا جو خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ جو بھی اس کی بیوی بنے گی لکی ہو گی۔ مگر تم نے خود قسمت پھوڑ لی۔ جس طرح صبا اور اس کی بہن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح ھادی اور علی میں فرق ہے۔ میں نے تمھارے ڈیڈ کو کھبی نہیں بتایا کہ ضروری نہ سمجھا۔ تمھاری وجہ سے میرا شوہر مجھ سے ناراض ہے۔ اور پہلی بار اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے اور میں ان سے شرمندہ ہوں۔ انہوں نے مجھے پھولوں کی طرح رکھا۔ اور اب وہ مجھ سے بدظن ہو گئے ہیں۔ اپنے ڈیڈ کو راضی کرو۔ میں تو ماں ہوں نا۔ کاش وہ بھی مجھے تمہاری ماں سمجھیں۔ وہ مجھ سے اس لئے بھی خوش تھے کہ تمھاری پیدائش پر تمھاری ماں مر گئی اور میرے یہ چچا کے بیٹے تھے میں نے تمہیں سنبھالنا شروع کر دیا۔ میں بیوہ تھی عمر میں ان سے بڑی تھی تمھیں سنبھالنے والا کوئی نہ تھا میری اولاد نہ تھی۔ انہیں بچی کے لئے کسی کی ضرورت تھی اور میں تم سے اور تم مجھ سے مانوس تھی۔ سب کے احساس دلانے پر کہ تم جو بچی سے اتنا پیار کرتے ہو اس کو پالنے کے لیے مجھ سے بہتر کوئی نہیں۔ اس طرح انہوں نے مجھ سے شادی کر لی۔ اور میں نے تمہیں ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اب کہتے ہیں کہ تم اس کی ماں نہ بن سکی۔ اس کی تربیت نہ کر سکی۔ میں نے آج دن تک تمہیں کھبی نہیں ڈانٹا کہ ان کا سختی سے حکم تھا کہ تم جو مرضی کرو میں کھبی ڈانٹ نہیں سکتی۔ پانی بھی پینا ہو تو تم لا کر دو۔ امبر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ سب گھبراتے ہوئے دوڑے آے۔ تب سب پر حقیقت کھلی۔ جاوید صاحب کو علی نے سمجھایا کہ بچی کو ماں سے بدظن نہ کرو۔ اس طرح وہ زہنی مریض بن جائے گی۔


علی کے کہنے پر اس نے کہا کہ وہ ملک جاوید کو تمام حالات میسج کر دے ویسے تو شاید پوری بات سنیں بھی نا۔ اور لالہ جی کو بھی اور ساس کو بھی۔ اس نے سب کو فارورڈ کر دیے۔ علی، صبا اور کرن کو بھی کر دیا۔ جاوید صاحب پر جب فاروقی کی حقیقت آشکار ہوئی تو وہ میسج پڑھ کر نرم پڑ گئے۔ اور ھادی کو کمرے میں بلایا۔ علی اور صبا خوش ہوے۔ لالہ جی نے میسج نہ پڑھا غصے سے بولے غلط کام کر کے اب معافی مانگ رہا ہے علی نے کہا کہ وہ ابھی بلا لاتا ہے مگر وہ بولے آیا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔


جاوید صاحب نے اس سے زبانی ساری تفصیل پوچھی۔ ھادی نے معافی مانگ لی اور انہوں نے معاف کر دیا اور وعدہ لیا کہ میری بیٹی نادان اور بےوقوف ہے۔ اس سے زیادہ امید نہ رکھنا ورنہ دکھی رہو گے۔ اس گھر کے ماحول میں رہے گی تو آہستہ آہستہ سیکھ جاے گی۔


ھادی نے وعدہ کیا کہ وہ اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرے گا۔


فاروقی کے گھر سے ڈھولک بجنے کی آوازیں ا رہی تھیں۔ فاروقی آیا اور لالہ جی کو گلہ کرنے لگا کہ آپ سب ابھی تک نہیں آے۔ تو لالہ جی نے سب کو آرڈر کر دیا کہ سب گھر والوں نے جانا ہے۔ جس کو میری بات کی لاج رکھنی ہے وہ ضرور جاے گا۔ بی بی جی نے سب کو تیار ہونے کا کہہ دیا۔ لالہ جی نے کہا کہ پتہ چلے کہ شادی پر جا رہے ہو۔ مجبوراً انہیں تیار ہو کر جانا پڑا۔ چلتے وقت وہ علی کے کمرے میں گی تو وہ لاہٹ بند کر کے رو رہا تھا۔ ھادی اس کے ساتھ آیا اور بولا کہ وہ آخری دن تک کوشش کرے گا علی مایوسی سے بولا اب کوئی اس نہیں بچی۔ صبا نے ھادی کو اشارے سے بلایا اور اس سے کہا کہ وہ علی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے وہ بولی تم ڈاکٹر کو فون لگاو۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے نا تو میں اس شرط پر اس سے شادی پر تیار ہوں کہ وہ کرن کا نکاح علی سے کرواے۔ ھادی بولا تم پاگل ہو۔ وہ بولی اور کوئی راستہ نہیں اس شادی کو روکنے کا۔ اس سے شرط رکھنی ہے کہ نکاح کورٹ میں ہو گا۔ دونوں نکاح ایک ہی وقت میں ہوں گے۔ ھادی نے کہا کہ طیب۔ کیا کرن طیب سے رشتہ توڑ کر اس شرط پر مان جائے گی۔ اس سلسلے میں طیب کو بہن کا گھر بسانے کے لیے منانا ہو گا امید ہے مان جائے گا۔ ھادی نے کچھ سوچا اور اس بات میں اس کا ساتھ دینے پر راضی ہو گیا۔


صبا آج سمپل تیار ہو کر بھی غضب ڈھا رہی تھی۔ شادی والے گھر سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔ صبا موقع کی تلاش میں تھی کہ کسی طرح ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہو جائے۔


ھادی نے ڈاکٹر سے کہا کہ اسے صبا والی شرط منظور ہے اور صبا بھی تیار ہے۔ اسے یقین نہ آیا۔ ھادی نے کہا صبا تمھاری گھر آئی ہوئی ہے وہ بولا آپ مل کر پروگرام فاہنل کرتے ہیں۔ وہ حیران اور خوش ہوا۔ اس نے بہن کو ساری بات بتائی تو بہن خوش ہو کر بولی ارے وہ ہیرا ہمیں مل جائے تو ایسی بہت سی کرن کو ہم لات مار سکتے ہیں۔ وہ صبا کو ڈھونڈنے لگے۔ صبا کسی عورت سے باتیں کر رہی تھی وہ عورت اس کی تعریف کر رہی تھی۔ ڈاکٹر نے جب پہلی بار اتنا بنا سنورا دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ بہن نے دیکھا تو دل میں اس کے معصوم دلکش سراپے کو سراہے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ صبا کے پاس آئی تو صبا اس سے بڑے پرجوش طریقے سے ملی۔ وہ بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتی ہوئی اسے کمرے میں لے گئی۔ وہاں ڈاکٹر کھڑا تھا اس نے پوچھا صبا آپ تو آج قتل کرنے آئی ہیں۔ اس کی بہن بولی۔


ڈاکٹر شمس کام کی بات کرو۔ وہ اس پر سے نظریں ہٹا ہی نہیں رہا تھا اس نے کہا کہ ھادی اور تم اب ہم سے کون سا کھیل کھیل رہے ہو جبکہ شادی سر پر ہے اور آج ڈھولکی ہے۔ پہلے کہاں تھے تم لوگ۔ انتظار کر رہے تھے کہ کسی طرح معجزہ ہو جائے اور کرن کی شادی علی سے ہو جائے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ اب گیم ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم آپ کی شرط ماننے کے لیے دل و جان سے تیار ہیں۔ بتاو کیسے اور کب کرنا ہے۔ پھر اس کو پلان سمجھا دیا گیا۔ جاتے ہوئے ڈاکٹر کی بہن مسکراتے ہوئے بولی باے باے بھابی پھر قہقہہ لگا کر بولی ہونے والی۔ شمس بہن کو دیکھ کر بولا باے باے مسز شمس پھرقہقہ لگا کر بولا مطلب ہونے والی۔ صبا آنسو دبا کر چل پڑی۔


ھادی نے جب پلان سنا تو بہت سٹپٹایا مگر صبا بولی علی کی خوشیاں لوٹانے کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ وہ بولا میں ان دھوکے باز لوگوں کو دھوکہ دوں گا پہلے علی کا نکاح ہو گا۔ پھر میں تمہیں ان سے بچا لوں گا۔ تم فکر نہ کرو۔


صبا باضد تھی کہ وہ ڈاکٹر شمس سے شادی کرے گی جبکہ ھادی اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر وہ مان نہیں رہی تھی۔ ھادی پچھتا رہا تھا کہ اس نے یہ بات کیوں بتائ کہ اس نے صبا سے شادی والی شرط رکھی ہے۔ وہ بھی بھائی کی محبت میں جزباتی ہو گیا تھا اور صبا نے بھی تو اسے convince کر لیا تھا کہ اسے کون سا کسی سے محبت ہے۔ چاہے جس سے بھی شادی ہو وہ گزارہ کر لے گی۔ پھر ڈاکٹر شمس ایک نام والا انسان ہے۔ خاندانی ہے پرسنیلٹی والا ہے۔ دولت والا ہے پھر سب سے بڑی بات وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ تو بس فیصلہ ہو گیا اگر تم نے میرا ساتھ نہ دیا تو میں کچھ کھا کر مر جاوں گی۔ ھادی مجبور ہو گیا نظر میں بھائی کی خوشیاں دوڑنے لگیں۔


پلان کے مطابق ڈاکٹر نے اپنا نکاح پڑھوایا۔ اور وہ صبا شمس بن گئ۔ ڈاکٹر نے خوشی سے جھوم کر کہا ویری گڈ۔ تم نے پہل کی ورنہ مجھے لگتا تھا کہ تم کہو گی کہ پہلے علی کا نکاح ہو۔ اب میں بھی وعدہ پورا کروں گا۔ اس نے علی کو بلایا۔ صبا کرن کو بلا کر اتنا بتایا تھا کہ ڈاکٹر کو احساس ہو گیا ہے اور وہ اب خود دونوں کو ملانا چاہتا ہے۔


علی آیا ادھر سے کرن بھی طیب کے ساتھ آ گئی۔ ڈاکٹر نے ایکٹنگ کی۔ مگر کرن کو ماں کی فکر لگ گئی۔ مگر ڈاکٹر اور صبا کے سمجھانے پر کرن مان گئ۔ طیب بھی خوشی سے مان گیا وہ تو صبا کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔ علی کو کچھ شبہ ہوا کہ یہ ڈاکٹر اتنا اچھا کیسے ہو گیا مگر صبا نے جلدی ڈال دی کہ جب قسمت مہربان ہو رہی ہے تو دیر نہ کرو۔ ھادی پریشان تھا مگر بھائی کی خوشی بھی عزیز تھی۔ کرن اور علی کا نکاح ہو گیا۔ کورٹ سے باہر آئے تو فاروقی نے علی کو مبارک باد دی۔ علی نے ہلکہ سا سر ہلا دیا۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا۔ ڈاکٹر شمس بولا کیوں سالے صاحب مجھے بھی مبارک باد نہیں دو گے میرے اور صبا کے نکاح کی۔ پھر اس نے ساری بات مسکراہٹ سے بھرپور لہجے میں بتا دی کہ بہن نے بھائی کے لیے قربانی دے دی۔ طیب اور کرن حیرت سے منہ تکنے لگے۔ ڈاکٹر کی بہن، باپ، ماں، بہن کے بیٹا اور بیٹی سب ایک گاڑی میں بیٹھے۔ صبا کو بھی ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ اور کہا کہ اب دیکھنا ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اس کے جسم کو نیل سے رنگ دیں گے۔ اپنی بےعزتی کا بدلہ اسے روز نیل ڈال کر لوں گا۔ اور ہم اپنے گھر نہیں کسی اور گھر جا رہے ہیں۔ علی تڑپ کر پیچھے بھاگا مگر گاڑی تیز-رفتاری سے چلی گئی۔


طیب بہت اداس تھا کرن علی اور طیب کو تسلیاں دیتے ہوئے رو رہی تھی کہ نہ جانے خوشیاں پا کر بھی مجھے خوشیاں نصیب ہوں گی۔ اسے بہن پر ترس آیا کہ وہ علی کو پا کر خوش ہے اور میرے لیے بھی دکھی ہو رہی ہے تو اس نے کہا پگلی مبارک ہو بھلا ایک صبا نہیں تو اور اچھی لڑکی مل جائے گی۔ ویسے بھی صبا کو کچھ نہیں ہو گا میں نے پولیس کو فون کردیا ہے جلد ہی ناکے پر ان کی گاڑی پکڑی جائے گی اور ہم صبا کو طلاق دلوا دیں گے۔ شکر کرو تم علی کی بیوی بنی ہو۔ صبا ان کے ساتھ رہ کر بھی انہیں ڈیل کر لے گی۔ اب چلو گھر ماما کو بھی کسی طریقے سے بتانا ہے۔ چھپانا کچھ نہیں ہے۔ جو بھی ہو گا انشاءاللہ بہتر ہو گا۔ صبا بھی ہمیں مل جائے گی۔ میں تمھارے لیے بہت خوش ہوں۔ ھادی شرمندہ تھا کہ صبا نے یہ زبردستی کروایا ہے اموشنل کر کے۔ اج یہ قدم نہ اٹھایا تو علی کی شادی رجو آپی سے کروا دیں گے اور کرن کی ڈاکٹر کے ساتھ۔ صبا نے ان کو بچانے کے لیے قربانی دی ہے۔ اب بس صبا کو ان سے بچا کر طلاق دلوانی ہے۔


وہ لوگ ابھی ادھر ہی تھے کہ گھر سے فون آیا کہ مسز جاوید چل بسی ہیں۔ وہ لوگ بھاگم بھاگ گھر پہنچے اگے لالہ جی فون ہاتھ میں لیے اداس بیٹھے تھے دیکھتے ہی بولے صبا نے قربانی دے دی۔ اور ھادی نے پھر بھائی کی محبت میں صبا کو پھنسا دیا۔ ماموں انتظامات میں لگے ہوئے تھے۔ مامی اور رجو امبر کو بھی سنبھال رہی تھیں اور لوگوں کو بھی ڈیل کر رہی تھیں۔ ھادی سوری کہتا جاوید صاحب کی طرف چلا گیا وہ اسے دیکھ کر رونے لگے۔ پاس پڑوسی بیٹھے ان کی دلجوئی کر رہے تھے۔


علی کو صبا کی فکر تھی پولیس والے کا فون آیا کہ وہ لوگ ہاسپٹل میں ہیں ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ ان کا نواسا چل بسا۔ صبا کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔ سب خطرے سے باہر ہیں سواے بچے کے۔ صبا بھی خطرے سے باہر ہے۔ اس نے ماموں کو بتایا وہ تڑپ گے اور رضیہ کو لے کر چلے گئے۔ وہاں گئے تو وہ کافی ٹھیک تھی اس کو مسز جاوید کی بیوی کا افسوس تھا اس نے ان کو گھر بھجوا دیا۔


مسز جاوید کی تدفین کر دی گئی۔ صبا نے سسرال سے آنے پر انکار کردیا۔ بولی کہ ان لوگوں کو اور اس گھر کو میری ضرورت ہے۔ اس کے ساس سسر بیٹی کے لیے دکھی تھے جس کے شوہر نے بیٹے کی وفات پر بیوی کو طلاق دے دی کہ وہ اب بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ پہلے بیٹا تھا مگر اب میں بیٹے کے لیے اور شادی کروں گا۔ بیٹی بھی سات سال کے بعد لے جاوں گا۔ سسر کی ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ وہ وہیل چیر پر ہے۔ ڈاکٹر کو کافی چوٹیں آئی ہیں اور اس کا علاج چل رہا ہے۔


جب نکاح ہوا تو فاروقی صاحب نے لالہ جی کو ہنستے ہوئے ساری نیت ظاہر کر دی اور ان کے خلوص اور شرافت کا خوب مزاق اڑایا۔ کہ آخر ہم کامیاب ہو ہی گئے۔ صبا کا رشتہ لے لیا۔ لالہ جی کو بتانے لگا اب اس کو ایسی چوٹیں لگاہیں گے کہ ہفتوں وہیل چیر پر گزارے گی۔ لالہ جی منت سماجت کرنے لگے۔ مگر اس پر اثر نہ ہوا۔ اور اب وہیل چیر پر بیٹھا معافیاں مانگ رہا تھا بیٹی اور ماں بھی اب اس سے معافی مانگ رہی تھی۔ صبا نے سب کو معاف کر دیا۔ اور ڈاکٹر جو شدید زخمی تھا اس کی خدمت کرتی وہ اس سے معافی مانگتا۔ سارا گھر صبا کے رحم وکرم پر تھا۔


جاوید صاحب اپنے نیو گھر شفٹ ہو گئے۔ امبر اداس رہتی۔ وہ سوچتی ھادی کے ساتھ نکاح کر کے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سمجھتی تھی کہ ھادی اس کی طرح شوخ مزاج ہے۔ اور وہ نکاح کے بعد اس کے ساتھ گھومے پھرے گی۔ عیش کرے گی۔ مگر سب الٹ ہو گیا۔ اس کے ڈیڈ نے پہلی بار اسے مارا اس کی ماں کو مارا جو اصل ماں نہ تھی۔ اب تو ھادی بھی علی کی طرح سنجیدہ ہو چکا تھا۔ اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی۔ وہ علی اور ھادی کا مقابلہ کرتی تو سوچتی والدین ہمیشہ بچوں کے بھلے کا سوچتے ہیں۔ اس نے نادانی میں علی جیسے ہیرے کو کھو دیا۔ اب ھادی ہی اس کا سب کچھ ہے۔ کم از کم اس گھر کی بہو ہے جہاں سب اچھے ہیں۔ اس نے شکر ادا کیا۔ اب تو وہ بھی سنجیدہ ہو چکی تھی۔ رضیہ سے کافی ککنگ سیکھ لی تھی بس روٹی گول نہ پکتی۔


ڈاکٹر کی بہن نے بیٹے کی پیدائش کے بعد شوہر سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ اور بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ تاکہ مزید بچے نہ پیدا کرنے پڑیں۔ مگر اس نے تو صفائی دینے کا موقع ہی نہ دیا۔ وہ بیٹے کو یاد کر کے روتی۔ صبا سے معافی مانگتی۔ آخر اس نے ساس سسر کے مشورے سے اس کی دوسری شادی کا حل نکالا۔ وہ خوبصورت اور کم عمر تھی۔ وہ لوگ مان گئے۔ لالہ جی اب بھی فاروقی صاحب کو دیکھنے روز آتے۔


لالہ جی اب علی اور ھادی کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ کرن نے والدین کو سمجھا بجھا کر صبا کی نند کو طیب کے لیے تجویز دے دی۔ ماں اس کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ تھوڑا سا شور مچانے پر وہ علی کے ساتھ نکاح پر راضی ہو گئی تھی۔ صبا جیسی ہیرا کو …


سب ان کی خوشیوں میں دل سے شریک تھے۔ دونوں بہت خوب صورت لگ رہے تھے۔ سب کو ان کی خوشی میں خوشیاں منانے کا موقع ملا۔ سب نے علی سے پوچھا کہ ہنی مون پر کہاں جاو گے تو علی نے کہا کہ میں نے کرن کو بہت انتظار کروایا۔ اس نے بہت صبر کیا۔ میں اپنی ساری زمہ داریوں سے فارغ ہو کر اسے اپنے گھر لانا چاہتا تھا۔ اب ملک سے باہر جس جگہ کرن بولے گی لے کر جاوں گا سب نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہارِ کیا اور کرن سے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ پاکستان اپنے پیارے ملک میں ہی اپنے تمام پیاروں سمیت اس ہنی مون کو یاد گار بنانا چاہتی ہوں۔ سب نے علی کی طرف دیکھا۔ علی نے اٹھ کر کرن سے ہاتھ ملایا اور کہا ڈن۔ سب نےزور زور سے کرن زندہ باد کرن زندہ باد کے نعرے لگائے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر شمس نے کہا کہ میں اور صبا تو لازمی جاہیں گے۔ صبا بولی نہیں انکل آنٹی کو کون دیکھے گا۔ ڈاکٹر شمس بولا اب ویسے بھی تمہیں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے موم ڈیڈ نے کہا کہ ہمیں ملازمین کا انتظام کر کے دو صبا کو اب ہمارے اکلوتے بیٹے کے ساتھ لاہف انجوائے کرنے کا موقع ملے۔ اور میں نے کر دیا ہے دونوں گھروں کا۔ اب علی سکون سے جاے۔ علی نے کہا کہ بزرگ بھی جاہیں گے۔ لالہ جی آپ نے بھی جانا ہے۔ آپ سب بزرگ وہاں گپ شپ کرنا چیس کھیلنا۔ کرن کے پاپا بولے۔ مجھے تو ابھی سے ہی جانے کی excitement ہو رہی ہے۔علی نے کہا کہ پرسوں صبح سب نے move کرنا ہے۔ تیاریاں کر لیں۔ سب نے خوشی سے نعرے لگائے۔ اور جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔


سب بہت خوش تھے۔ پہنچ کر سب کو ملازموں نے جوس دیا۔ اس کے بعد سب نے ٹولیاں بنا لیں اور گپ شپ موی فوٹوگرافی ہلہ گلہ کھانا پینا ہنسی مزاق چل رہا تھا۔ سب نے خوب انجوائے کیا۔ بزرگوں نے بھی اس کو یادگار بنا دیا۔ سب واپس آے تو مسرور اور شادمان تھے۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books