Nirala Saajan
Episodes
کرن کے باپ نے بیٹی کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا۔ گاڑی چلانے سے پہلے کھسرے نے بالوں کو سمیٹنا چاہا تو کرن نے پرس سے پونی نکال کر اسے کہا پلیز اس سے باندھ لیں۔ اس نے شکریہ کہہ کر پکڑ لی۔ چندہ معنی خیز مسکراہٹ سے مسکرائی۔ کرن کو اس کی مسکراہٹ بہت بری لگتی تھی۔ جب سے بھائی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ کرن بھائی سے خفا رہتی تھی۔ وہ اسے گلے کرتی کہ وہ خود اس کے لیے اپنی پسند سے کوئی اچھی سی بھابھی ڈھونڈ کر لاتی۔ یہ اس کو زرا پسند نہ آئی تھی۔ کرن صاف دل لڑکی تھی وہ اپنے دل کی بات صاف ظاہر کر دیتی تھی۔ بیٹے کے مجبور کرنے پر وہ لوگ جب گے تو ان کا گھرانہ والدین کو خاص پسند نہ آیا تھا۔ کرن نے گھر آ کر کافی واویلا مچایا۔ اس کے والدین نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائ تو کرن کے بھائی کو کرن پر سخت غصہ آیا اس نے اسے ڈانٹا تو والدین نے بیٹے کو ڈانٹ کر کہا اگر تمہیں پسند ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ سب کو پسند آئے۔ ابھی بھی وقت ہے پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ بعد میں پچھتاو گے۔۔ وہ نہ مانا اور ادھر شادی جلدی بھی کرنے پر ڈٹ گیا کہ اس کے بہت رشتے آ رہے ہیں اور وہ اس کی شادی کہیں اور نہ کر دیں۔
گھر والوں کے مجبور کرنے پر رشتہ پکا کر دیا گیا۔ چندہ کا رشتے کے بعد پی ٹی سی ایل پر فون آیا تو کرن نے اسے سنا دیں کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی مجبوراً بھابھی بنا رہے ہیں۔ وہ اس کے جواب میں خاموش ہو گئ مگر اس نے کرن کے بھائی کو بڑھا چڑھا کر شکایت لگائی وہ بہن سے بہت لڑا۔ والدین نے اس کا ساتھ دیا بیٹے کو ڈانٹا کہ ہماری بیٹی جو چاہے بولے تم نے خبردار اسے کچھ کہا۔ وہ غصے سے بڑبڑاتا ہوا کمرے میں چلا گیا تب سے وہ اس سے سیدھے منہ بات نہ کرتا۔ وہ بھی اکھڑی اکھڑی رہتی۔ ساری شادی میں وہ منہ بناے رہی۔ اگر کچھ کہتا تو والدین ڈانٹ دیتے۔ چندہ کے گھر آ جانے پر بھی وہ بےزاری کا اظہارِ کرتی رہی۔
چندہ اس کے غصے کو خاطر میں نہ لاتی۔ بس اسے دیکھ کر طنزیہ مسکراتی رہتی۔ وہ شوہر کو اس کے خلاف کر چکی تھی ساتھ ہی پیار جتاتے ہوئے کہتی جانو وہ آپ کی بہن ہے اور مجھے بہت عزیز ہے میری گڑیا رانی ہے۔ میں اس کی باتوں کا برا نہیں مناتی۔ اس کے لیے اچھا ہی سوچتی ہوں۔ دیکھنا میں خود اس کے لیے اچھا سا رشتہ ڈھونڈنے میں اپنے ساس سسر کی مدد کروں گی اور جلد اس کی شادی کرا دوں گی تاکہ والدین اس کا فرض ادا کر کے سرخرو ہو جائیں۔
کرن کی ماں نے رشتے والی سے رابطہ کیا۔ چندہ ساس کے ساتھ پیش پیش ہوتی۔ لوگ آتے پسند بھی کر جاتے۔ دو بار منگنی بھی ہوئی مگر ان لوگوں کی طرف سے وجہ بتاے بغیر انکار ہو گیا۔ خاندان بھر میں بدنامی ہوئی۔ والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ اس کی بھائی بھابھی سے بنتی نہیں ہے۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو اس کا کیا ہو گا۔ اس لئے وہ اس کی جلد از جلد شادی کر دینا چاہتے تھے۔ مگر کہیں بات نہ بن پا رہی تھی۔ چندہ نے پہلے شوہر کو قاہل کیا پھر ساس سسر کو منا لیا۔ لڑکے کی تصور بھی دکھائ اور بتایا کہ وہ آجکل امریکہ سے بیٹے کی شادی کرنے کے لیے آے ہوئے ہیں ان کے پاس رشتوں کی لاہن لگی ہے۔ تصویر دکھائی لڑکا ینگ اور سمارٹ تھا۔ پھر لڑکے والوں کو انواہیٹ بھی کر دیا۔ کرن بھابھی کے لاے رشتے پر اوکے نہیں کرنا چاہ رہی تھی مگر کرن کی ماں ڈٹ گئی۔ کہ بہو کے رشتے دار ہیں امیر ہیں۔ ان کو جہیز بھی نہیں چاہیے۔ لڑکا پڑھا لکھا سمارٹ ہے۔ والدین اس کے اس رشتے پر راضی اور خوش ہیں۔ کل کلاں مجھے کچھ ہو گیا تو اس کا کیا بنے گا۔ باپ بھی بیوی کے آگے مجبور ہو گیا۔ بیٹی والدین کی خوشی کے لیے راضی ہو گئی۔ مگر بےزار سی رہتی۔ بہو شادی ہوتے ہی ساس کے ساتھ میٹھی زبان سے بات کرتی۔ ساس کو ماما جی اور سسر کو پاپا جی پکارتی۔ ساس اس سے خوش رہنے لگی تھی کیونکہ وہ مکھن لگاتی اور بھولی ساس خوش ہو جاتی۔ وہ جانتی تھی کہ ساس کی دکھتی رگ بیٹی ہےاو اس لیے وہ اس کی بیٹی کا زکر ماما جی ہماری گڑیا رانی اٹھ گئی۔ آج میں اس کی پسندیدہ ڈش بنا رہی ہوں۔ ساس خوش ہو جاتی۔ سسر کو اس کی مکھن لگانے کی عادت کا اندازہ تھا مگر وہ ادھر کم لگاتی۔ اس نے سمجھ لیا کہ ساس مان گئی تو سب مان جاہیں گے اور اس نے اپنی چرب زبانی سے ساس کو گرویدہ بنا لیا تھا۔ تب ہی وہ کزن کے لیے رشتہ لینے میں کامیاب ہو چکی تھی کیونکہ یہ ایک خوشحال گھرانہ تھا۔ اور وہ دولت کی پجاری تھی۔
ہاسپٹل پہنچ کر کرن کو گاڑی سے اترنے کا مسئلہ تھا چندہ اتر کر تیزی سے اسے اگنور کرتی آگے چل پڑی۔ آخر کھسرے نے آگے بڑھ کر اسے اترنے میں مدد کی اور وہیل چیر والا خالی لے کر جا رہا تھا اس نے اشارے سے پاس بلا کر اس میں بٹھا دیا۔ کرن نے دیکھا چندہ دور کھڑی اس کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ کرن کو بہت غصہ آیا اور وہ مسکرا دی۔ شاید وہ اسے جان کر غصہ دلاتی اور لطف لیتی تھی۔ اور
انتقامی مسکراہٹ اس کے لبوں پر رہتی۔
چیک اپ سے واپسی پر کرن نے بھابھی سے کہا کہ وہ اسے گاڑی میں بٹھائے مگر وہ بولی میں تمھارا وزن نہیں اٹھا سکتی۔ ارے اس سے کہو شرماو نہیں یہ کھسرا ہے مرد نہیں ہے۔ سوری یہ مردانہ کھسرا ہے۔ کرن غصے سے بولی آپ کو تو اللہ تعالیٰ ہی پوچھے۔ ارے تم تو اس کے لئے ایسی بن جاتی ہو۔ جیسے تمہیں اس سے پیار ہو گیا ہو۔ کرن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولی میں گھر جا کر ماما کو آپ کی ساری بکواس بتاتی ہوں۔ وہ جواب میں مسکرا دی۔
وہ درزی کے بہانے آئی تھی مگر شاپنگ مال میں چلی گئی اور بولی میں نے کچھ لینا ہے میں ابھی آتی ہوں۔
کرن پارکنگ ایریا میں گاڑی میں بیٹھی رہی۔ اور کھسرا باہر کھڑا رہا۔ کافی دیر گزر گئی نہ وہ آے نہ ہی فون اٹھاے۔ اس نے کھسرے سے کہا کہ پلیز آپ مجھے پانی یا جوس لا دیں۔ اس نے پیسے دینے چاہے مگر اس نے نہیں لیے۔ اور واپس آیا تو پریشان اور کنفیوز لگ رہا تھا۔ دراصل جب وہ جوس لینے گیا تو دیکھا۔ چندہ کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھی جوس پی رہی تھی اور خوش گپوں میں مصروف تھی۔ کرن گھر بھی بار بار فون کر رہی تھی آخر ماں نے بیٹےکو فون کر کے بتایا کہ وہ فون بھی نہیں اٹھا رہی ہم پریشان ہیں۔ بیٹے نے تھوڑی دیر کے بعد ماں کو فون کر کے بتایا کہ وہاں سگنل پرابلم تھا اور اب وہ نکل رہی تھی اب آ رہی ہے۔
کرن اس کے ہاتھ میں صرف ایک شاپر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اتنی دیر میں بس اتنی شاپنگ۔ کرن اس پر برستے ہوئے بولی۔ آپ نے جان بوجھ کر مجھے تنگ کرنے کے لیے دیر لگائی ہے۔ وہ جواب میں خاموش اور کھوئی کھوئی سی رہی۔ کھسرا تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا جیسے بہت غصے میں ہو۔ تب ہی کرن نے کہا پلیز زرا آہستہ چاہیں۔ ایک دم سے وہ جیسے ہوش میں آ گیا۔ اور رفتار دھیمی کر دی۔
کرن نے گاڑی کے شیشے کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں ملی اور کرن شرما کر کھ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
گھر پہنچ کر سسر نے پوچھا اتنی دیر کیوں لگائی تو اس نے جھٹ عزر پیش کیا کہ اسے ایک عورت کا یہنا سوٹ۔ بہت پسند آیا تھا اس نے سوچا ماما جی کے لیے ضرور لوں گی ان پر بھی اچھا لگے گا۔ وہ ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔ آخر مل ہی گیا وقت کا پتا ہی نہ چلا۔ اور اپنی شاپنگ نہ کر سکی۔ کرن نے کہا دیکھاو سوٹ کون سا سوٹ ہے ایسا۔ جب کرن نے کھول کر دیکھا تو عام سا سوٹ تھا کرن بولی یہ تو عام سا سستا سا ہے۔ کرن کی ماں نے جھٹ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آیا ہے میری بہو اتنی محنت سے ڈھونڈ کر لائی ہے۔ میں تو اسے سلوا کر ضرور پہنوں گی۔ کھسرا کھڑا اس کی مکاری پر کھول رہا تھا مگر کچھ بول نہ سکتا تھا کیونکہ اہم لوگ اس عورت کی مٹھی میں تھے۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.