Loading...
Logo
Back to Novel
Nirala Saajan
Episodes
Nirala Saajan

نرالہ ساجن 7

From Nirala Saajan - Episode 7

صبا کی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس نے جھٹلانا چاہا تو صبا چلا کر بولی۔ کل سارا دن کچھ نہیں کھایا۔ شکل ایسی بنائی ہے جیسے مریض عشق ہو۔ وہ تمھاری کیا لگتی ہے جو اس کی شادی کا اتنا غم منا رہے ہو۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو پھر نارمل رہو کھاو پیو۔ مجھے بھی کرن کا بہت دکھ ہے۔ مگر ہم بےبس ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے تو میں خود تمھارا ساتھ دیتی۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو اٹھو ناشتہ کرو نارمل ہو جاو۔ میں نارمل ہوں۔ اس نے ناشتہ کیا۔ اس نے باپ سے کہا کہ میں اب دوبارہ ناخن بڑھا لوں گا اور زنانہ کپڑے پہنوں گا ابھی شیو کر کے آتا ہوں۔ اتنے میں بھائی نے بتایا کہ آج ایک شادی کی بکنگ ہے تیار رہنا۔ باپ نے کہا کہ یہ کہیں نہیں جائے گا اور تمھیں اب زنانہ بننے کی ضرورت نہیں۔ اب تم مرد بن کر جیو گے۔ ماں نے خوشی سے جھوم جھوم کر اس کی بلائیں لیں۔ سب حیران ہو رہے تھے کہ یہ کایا کیسے پلٹی۔ باپ نے کہا کہ مجھے اس کا ماموں دوبئی بھیجنے پر زور دے رہا تھا اس کو کوئی سواری والا ملا جس کا ادھر بڑا سٹور ہے اسے کسی چست اور اچھے لڑکے کی تلاش ہے۔ رہائش، کھانا پینا فری اور تنخوا بھی اچھی دے گا۔ میرے بڑے دو تو اس قابل نہیں ہیں میرا یہی بیٹا جس میں سارے گھن ہیں جو والدین کا فرمانبردار بھی ہے۔ اسے میں دوبئی بھیجوں گا۔ اس نے میری فرمانبرداری میں اپنی زات کو بھی بھلاے رکھا۔


امام دین کا خاندان جدی پشتی میراثی تھا وہ اپنے آباو اجداد کی محبت میں اس کام سے محبت کرتا تھا۔ اس کی بیوی اور سالا بھی اس کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ امام دین کو بیٹی کی خواہش تھی جس سے وہ زیادہ پیسے کما سکتا تھا۔ مگر تیسرا بھی بیٹا ہوا تو وہ بیوی پر برس پڑا پھر اس کے زہن میں خیال آیا کہ اسے کھسرا بنا کر پیسے کماوں گا۔ اس نے بیوی سے کہا کہ سب جگہ مشہور کر دو کہ کھسرا پیدا ہوا ہے۔ اگر اس راز کو اوپن کیا تو میں خودکشی کر لوں گا بیوی نے احتجاج کیا تو خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ نیند کی گولیاں کھا لیں وقت پر اسے ہسپتال لے گئے اور اس کی جان بچ گئی۔ بیوی کے بھائی کی فیملی کے سوا کسی کو علم نہ ہوا۔ سالے کا گھر قریب تھا اور وہ فنکشن میں ساتھ جاتا تھا۔ اس کی صرف دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی امام دین کے بیٹے سے بیاہ دی تھی۔ جس کا کزن بقول ڈاکٹر کے معزور پیدا ہوا اور جلدی مر گیا۔ اب کوئی بچہ نہ تھا۔ کھسرے کا نام باپ نے علینا رکھا مگر ماں اسے علی پکارتی۔ امام دین کے سامنے سب اسے علینا پکارتے مگر اکیلے میں علی کہتے۔


ماں کو اپنے اس خوبصورت بیٹے کو پڑھانے کا شوق تھا دوسرے میٹرک بھی نہ کر سکے۔ علی کے ماموں نے ٹیکسی لی تو داماد کو ساتھ لگا لیا۔ دونوں الگ الگ ڈیوٹی دیتے جب کوئی فنکشن ہوتا تو سب مل کر جاتے۔ علی کا چھوٹا بھائی کسی دوکان پر معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ علی مختلف کام کرتا رہتا۔ زیادہ تر دوکانوں پر مال سپلائی کا کام کرتا تھا۔ آمدنی کم تھی گزارہ مشکل تھا محلے کی دوکانوں میں مال سپلائی کرتا تو گاہک اسے کھسرا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نے بچپن سے ہی کھبی مردانہ لباس نہیں پہنا تھا کیونکہ باپ خاندان میں بڑا اور رعب والا تھا سب اس سے ڈرتے تھے۔


بیوی نے شوہر سے ڈرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور تھی۔ علی جب دس سال کا ہوا تو اس نے احتجاج کیا کہ اسے لڑکیوں والے کپڑے پہننے اور کھسرا کہلوانے میں شرم آتی ہے اور سکول میں بچے چھیڑ تے ہیں۔ اس پر باپ نے مارا پیٹا اور اسکول چھڑوانے کی دھمکی دی۔ بیوی پر بھی سختی کی۔ اور خودکشی کی دھمکی بھی دی۔


علی باپ کی مار سے زیادہ ماں کے آنسوؤں سے ڈر گیا جو رو رو کر اسے التجائیں کر رہی تھی کہ تو بھاہیوں کی طرح انپڑ رہ جائے گا اور معاشرے میں کوئی مقام نہ پا سکے گا۔ جب تک باپ زندہ ہے اپنی ہستی کو بھول جا اس کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے۔ بس پڑھائی نہ چھوڑنا۔ نہ ہی کبھی باپ کی نافرمانی کرکے دوزخ کمانا۔ جیسا بھی ہے باپ ہے۔ میرا سہاگ ہے پہلے بھی خودکشی سے مشکل سے بچے ہیں۔ بہت ضدی ہیں جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ بس باپ کو حرام موت سے بچا لو۔ اپنے کانوں کو لوگوں کی باتوں کی عادت ڈال لو۔ تعلیم حاصل کر لینا چاہے چوری کرنی پڑے۔ اس میں میں اور ماموں تمھارا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے مجھے صرف میٹرک تک تمھیں پڑھانے کی اجازت دی ہے۔ اب تم ایسا کرنا۔ کہ میٹرک سے آگے بھی پڑھو تو انہیں میٹرک بتاو تاکہ تم زیادہ پڑھ سکو۔ تب سے علی نے اپنی زات کو فراموش کر دیا۔


صبا علی کے ماموں کی چھوٹی بیٹی تھی۔ بڑی۔بہن کو پڑھائی کا زرا شوق نہ تھا وہ چند کلاسیں پڑھنے کے بعد گھر بیٹھ گئ۔ اور گھر داری سنبھال لی۔ کیونکہ ماں محلے کے کپڑے سلائی کرتی محلے داروں سے زیادہ اجرت بھی وصول نہ ہوتی۔ صبا کو پڑھائی کا جنون کی حد تک شوق تھا وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ علی کے گھر والے اور ماموں کے گھر والے ان دونوں کی تعلیم حاصل کرنے بھرپور کوشش اور تعاون کرتے۔ علی بھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور صبا بھی بہت لاہق تھی۔ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات خود بھی پورا کرنے کی کوشش کرتی۔ کالج میں لڑکیوں کے اجرت پر نوٹس وغیرہ تیار کرتی۔ بہن اور ماں فارغ وقت میں گلے، چادریں وغیرہ کاڑھتیں تو صبا کالج میں کلاس فیلوز کے آگے سیل کر دیتی۔ کھبی بازار سے جیولری منگوا کر سیل کرتی۔پرس وغیرہ پن غرض چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پیسے کماتی۔ کھبی گھر سے کچھ پکا کر چھوٹے پیکٹ بنا کر لے چاتی۔ لڑکیاں بہت شوق سے کھاتی۔ وہ مناسب ریٹ پر دیتی۔ جس سے لڑکیاں خوشی خوشی لے لیتیں۔ اور اس کو پاکٹ منی مل جاتیں۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books