Nirala Saajan
Episodes
صبا کی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس نے جھٹلانا چاہا تو صبا چلا کر بولی۔ کل سارا دن کچھ نہیں کھایا۔ شکل ایسی بنائی ہے جیسے مریض عشق ہو۔ وہ تمھاری کیا لگتی ہے جو اس کی شادی کا اتنا غم منا رہے ہو۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو پھر نارمل رہو کھاو پیو۔ مجھے بھی کرن کا بہت دکھ ہے۔ مگر ہم بےبس ہیں۔ اگر کچھ کر سکتے تو میں خود تمھارا ساتھ دیتی۔ اگر ایسی کوئی بات نہیں تو اٹھو ناشتہ کرو نارمل ہو جاو۔ میں نارمل ہوں۔ اس نے ناشتہ کیا۔ اس نے باپ سے کہا کہ میں اب دوبارہ ناخن بڑھا لوں گا اور زنانہ کپڑے پہنوں گا ابھی شیو کر کے آتا ہوں۔ اتنے میں بھائی نے بتایا کہ آج ایک شادی کی بکنگ ہے تیار رہنا۔ باپ نے کہا کہ یہ کہیں نہیں جائے گا اور تمھیں اب زنانہ بننے کی ضرورت نہیں۔ اب تم مرد بن کر جیو گے۔ ماں نے خوشی سے جھوم جھوم کر اس کی بلائیں لیں۔ سب حیران ہو رہے تھے کہ یہ کایا کیسے پلٹی۔ باپ نے کہا کہ مجھے اس کا ماموں دوبئی بھیجنے پر زور دے رہا تھا اس کو کوئی سواری والا ملا جس کا ادھر بڑا سٹور ہے اسے کسی چست اور اچھے لڑکے کی تلاش ہے۔ رہائش، کھانا پینا فری اور تنخوا بھی اچھی دے گا۔ میرے بڑے دو تو اس قابل نہیں ہیں میرا یہی بیٹا جس میں سارے گھن ہیں جو والدین کا فرمانبردار بھی ہے۔ اسے میں دوبئی بھیجوں گا۔ اس نے میری فرمانبرداری میں اپنی زات کو بھی بھلاے رکھا۔
امام دین کا خاندان جدی پشتی میراثی تھا وہ اپنے آباو اجداد کی محبت میں اس کام سے محبت کرتا تھا۔ اس کی بیوی اور سالا بھی اس کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ امام دین کو بیٹی کی خواہش تھی جس سے وہ زیادہ پیسے کما سکتا تھا۔ مگر تیسرا بھی بیٹا ہوا تو وہ بیوی پر برس پڑا پھر اس کے زہن میں خیال آیا کہ اسے کھسرا بنا کر پیسے کماوں گا۔ اس نے بیوی سے کہا کہ سب جگہ مشہور کر دو کہ کھسرا پیدا ہوا ہے۔ اگر اس راز کو اوپن کیا تو میں خودکشی کر لوں گا بیوی نے احتجاج کیا تو خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ نیند کی گولیاں کھا لیں وقت پر اسے ہسپتال لے گئے اور اس کی جان بچ گئی۔ بیوی کے بھائی کی فیملی کے سوا کسی کو علم نہ ہوا۔ سالے کا گھر قریب تھا اور وہ فنکشن میں ساتھ جاتا تھا۔ اس کی صرف دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی امام دین کے بیٹے سے بیاہ دی تھی۔ جس کا کزن بقول ڈاکٹر کے معزور پیدا ہوا اور جلدی مر گیا۔ اب کوئی بچہ نہ تھا۔ کھسرے کا نام باپ نے علینا رکھا مگر ماں اسے علی پکارتی۔ امام دین کے سامنے سب اسے علینا پکارتے مگر اکیلے میں علی کہتے۔
ماں کو اپنے اس خوبصورت بیٹے کو پڑھانے کا شوق تھا دوسرے میٹرک بھی نہ کر سکے۔ علی کے ماموں نے ٹیکسی لی تو داماد کو ساتھ لگا لیا۔ دونوں الگ الگ ڈیوٹی دیتے جب کوئی فنکشن ہوتا تو سب مل کر جاتے۔ علی کا چھوٹا بھائی کسی دوکان پر معمولی تنخواہ پر ملازم تھا۔ علی مختلف کام کرتا رہتا۔ زیادہ تر دوکانوں پر مال سپلائی کا کام کرتا تھا۔ آمدنی کم تھی گزارہ مشکل تھا محلے کی دوکانوں میں مال سپلائی کرتا تو گاہک اسے کھسرا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نے بچپن سے ہی کھبی مردانہ لباس نہیں پہنا تھا کیونکہ باپ خاندان میں بڑا اور رعب والا تھا سب اس سے ڈرتے تھے۔
بیوی نے شوہر سے ڈرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرنے پر مجبور تھی۔ علی جب دس سال کا ہوا تو اس نے احتجاج کیا کہ اسے لڑکیوں والے کپڑے پہننے اور کھسرا کہلوانے میں شرم آتی ہے اور سکول میں بچے چھیڑ تے ہیں۔ اس پر باپ نے مارا پیٹا اور اسکول چھڑوانے کی دھمکی دی۔ بیوی پر بھی سختی کی۔ اور خودکشی کی دھمکی بھی دی۔
علی باپ کی مار سے زیادہ ماں کے آنسوؤں سے ڈر گیا جو رو رو کر اسے التجائیں کر رہی تھی کہ تو بھاہیوں کی طرح انپڑ رہ جائے گا اور معاشرے میں کوئی مقام نہ پا سکے گا۔ جب تک باپ زندہ ہے اپنی ہستی کو بھول جا اس کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے۔ بس پڑھائی نہ چھوڑنا۔ نہ ہی کبھی باپ کی نافرمانی کرکے دوزخ کمانا۔ جیسا بھی ہے باپ ہے۔ میرا سہاگ ہے پہلے بھی خودکشی سے مشکل سے بچے ہیں۔ بہت ضدی ہیں جو کہتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ بس باپ کو حرام موت سے بچا لو۔ اپنے کانوں کو لوگوں کی باتوں کی عادت ڈال لو۔ تعلیم حاصل کر لینا چاہے چوری کرنی پڑے۔ اس میں میں اور ماموں تمھارا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے مجھے صرف میٹرک تک تمھیں پڑھانے کی اجازت دی ہے۔ اب تم ایسا کرنا۔ کہ میٹرک سے آگے بھی پڑھو تو انہیں میٹرک بتاو تاکہ تم زیادہ پڑھ سکو۔ تب سے علی نے اپنی زات کو فراموش کر دیا۔
صبا علی کے ماموں کی چھوٹی بیٹی تھی۔ بڑی۔بہن کو پڑھائی کا زرا شوق نہ تھا وہ چند کلاسیں پڑھنے کے بعد گھر بیٹھ گئ۔ اور گھر داری سنبھال لی۔ کیونکہ ماں محلے کے کپڑے سلائی کرتی محلے داروں سے زیادہ اجرت بھی وصول نہ ہوتی۔ صبا کو پڑھائی کا جنون کی حد تک شوق تھا وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ علی کے گھر والے اور ماموں کے گھر والے ان دونوں کی تعلیم حاصل کرنے بھرپور کوشش اور تعاون کرتے۔ علی بھی پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور صبا بھی بہت لاہق تھی۔ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات خود بھی پورا کرنے کی کوشش کرتی۔ کالج میں لڑکیوں کے اجرت پر نوٹس وغیرہ تیار کرتی۔ بہن اور ماں فارغ وقت میں گلے، چادریں وغیرہ کاڑھتیں تو صبا کالج میں کلاس فیلوز کے آگے سیل کر دیتی۔ کھبی بازار سے جیولری منگوا کر سیل کرتی۔پرس وغیرہ پن غرض چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پیسے کماتی۔ کھبی گھر سے کچھ پکا کر چھوٹے پیکٹ بنا کر لے چاتی۔ لڑکیاں بہت شوق سے کھاتی۔ وہ مناسب ریٹ پر دیتی۔ جس سے لڑکیاں خوشی خوشی لے لیتیں۔ اور اس کو پاکٹ منی مل جاتیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.