Loading...
Logo
Back to Novel
Nirala Saajan
Episodes
Nirala Saajan

نرالہ ساجن 8

From Nirala Saajan - Episode 8

علی کا باپ بیوی کے آگے سخت پچھتاتے ہوئے رو رو کر اپنے گناہوں کا اقرار کر رہا تھا کہ اس نے بیٹے کے ساتھ بہت زیادتی کی۔ اسے لوگوں کے طعنے سننے پڑتے۔ جن کا وہ حقدار نہ تھا۔ ہم جو شروع سے ہی غریب طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کو ہمیشہ بےعزتی ہی ملتی ہے۔ وہ اس بے عزتی کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا بھی اس دنیا پر عزت پر اتنا ہی حق ہوتا ہے جتنا امیروں کا۔ مگر وہ نادان سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں صرف بےعزتی سہنے اور امیروں کی غلامی کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کو اپنے حق کا شعور ہی بیدار نہیں ہوتا۔ نہ ہی وہ عزت پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کنویں کے مینڈک بنے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کھسرا بنا کر میں خوب پیسے کما لوں گا مگر یہ


میری خوش فہمی تھی وہ تو سپلائی کے کام میں کم از کم روٹین میں تو کماتا تھا گھر کا چولہا چل رہا تھا۔ شادیاں تو کھبی کبھار ہوتی ہیں۔ نہ بچوں کی پڑھائی کی طرف توجہ دی کہ پڑھ لکھ کر معاشرے میں عزت کما سکیں۔ میں خود انپڑھ تھا تعلیم کی قدر نہیں جانتا تھا۔ علی جو لاہق اور سمجھدار تھا چھوٹا ہونے کے ناطے اس کی راے کو قبول کرنا میری مردانگی کے خلاف تھا میری انا اور ضد مجھے بیوی ہونے کے ناطے تمھاری بات ماننے سے روکتی۔ ہم غریبوں کی اناء اور رعب اپنے بیوی بچوں پر ہی چلتا ہے۔ اس طرح شاید ان کی زلت بھری زندگی میں قدرے راحت ملتی ہے۔ ہم لوگ بھی زلت سہ سہ کر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بے حسی بھر جاتی ہے۔


امام دین روتے ہوئے بیٹے سے معافی مانگنے لگا تو بیٹے نے آگے بڑھ کر اس کے پاوں کو چھو کر پیار سے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ اور روتے ہوئے کہا کہ پلیز ابا جی مجھے شرمندہ نہ کریں۔ میں نے بھی آپ کی نافرمانی کی ہے۔ آپ کے آگے جھوٹ بولے۔ میٹرک کا بتا کر MBA کر لیا۔ پیپرز دینے کے لیے ماموں کے گھر سے مردانہ لباس میں جاتا۔ ہاتھوں پر دستانے پہن لیتا تاکہ لمبے ناخن چھپ جاہیں۔ بالوں کو جوڑا بنا کر ٹوپی میں چھپا لیتا۔


باپ کو دیکھ کر بیوی ڈر گئ کہ ابھی شوہر ڈانٹے گا کہ اسے


میٹرک سے آگے کیوں پڑھنے دیا۔ امام دین جلدی سے کھڑا ہو کر اسے گلےگاتے کہا شاباش۔ تو نے تو میرا خواب پورا کر دیا ہے۔ بیوی کو جوش بھرے جزبات سے کہتا ہے تمھارا بہت شکریہ۔ واقعی تم بہت سمجھدار عورت ہو۔ کاش میں نے تمھاری قدر کی ہوتی۔علی کی ماں نے شوہر سے معافی مانگی۔ تو وہ بولا پگلی معافی تو میں تجھ سے مانگتا ہوں۔ تجھے تنگ رکھا۔ تو نے علی کو تعلیم دلا کر میری پوری نسل پر احسان عظیم کردیا ہے۔ اب علی کے بہتر مستقبل کے لئے کھبی رکاوٹ نہ بنوں گا۔ آج سے علی تم آزاد ہو جیسے چاہو زندگی گزارو جو چاہے کرو۔ میں کھبی دخل نہیں دوں گا اگر دوبئی دل کرتا ہے تو جاو ورنہ نہ جاو۔ علی نے جواب دیا نہیں اباجان میں جاوں گا اور وہ چلا گیا۔علی کے مالک نے اس سے پہلی ملاقات میں پسند کر لیا اور لے جانے کا ارادہ خرچہ خود برداشت کیا۔ وہ اس سے کافی متاثر ہوا۔


کرن کے نکاح کی تیاری ہو رہی تھی کہ علی نے چلا کر انہیں وارننگ دی تھی کہ وہ اچھا لڑکا نہیں مگر بات پوری نہ بتا سکا تھا۔ گھر میں بدمزگی ہو چکی تھی۔ مگر چندہ نے جلدی ڈالی اور سب نارمل کرنے کی کوشش کی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ وہ اور دولہے کے والدین جلدی مچانے لگے۔ نکاح خواں آ گیا۔ خاندان والے نکاح کے منتظر تھے ساتھ ساتھ چہ میگوئیاں بھی کر رہے تھے۔ کرن علی کے لیے بہت پریشان ہو رہی تھی صبا بھی اس سے مل کر نہ گئی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا اس شادی سے دور چلی جاے۔ اسے علی پر بھروسہ تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ لیکن والدین کی عزت کے لیے چپ تھی۔ وہ مسلسل روے جا رہی تھی۔ کرن کی ماں نے علی کی باتوں کا کافی اثر لیا تھا اور وہ کمرے میں بیٹھی پریشان تھی رشتے دار عورتیں اس کے پاس بیٹھی تھی۔ آخر چندہ کے جلدی ڈالنے پر اس نکاح کے لئے سب کو بٹھایا گیا۔ کرن کا بھائی اور باپ بھی بیٹھ گئے کافی پریشان تھے۔ علی کی باتوں نے ان کے دل میں وہم ڈال دیا تھا۔ مگر اب بارات دروازے پر تھی اور سارا خاندان جمع تھا۔ بیٹی کی عزت داو پر لگی ہوئی تھی۔ جب نکاح ہونے لگا نکاح خواں اور چند گواہ کرن کے کمرے میں اجا زت لینے گئے اس کی نظروں میں پاس کھڑے پریشان حال بھائی اور باپ کا چہرہ آ گیا۔ اس کے رشتے دار قریب بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کرن کو جھنجھوڑا جو نکاح خواں کے سوال پر خاموش تھی کہ تمھیں یہ نکاح قبول ہے۔ تو اس نے بھائی کو دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا تو اس نے جھٹ تین بار بول دیا قبول ہے۔


نکاح خواں واپس دولہے کے پاس آیا اور نکاح پڑھانے لگا۔ دولہے کے باپ نے چندہ کو اشارہ کیا۔ کرن کا بھائی یکدم بولا نکاح سے پہلے میری کچھ شرائط ہیں وہ یہ کہ دولہا ہر ماہ میری بہن کو کم از کم پچاس ہزار مہینہ خرچہ دینے کا پابند ہو گا۔ چندہ جو دولہے کی ماں کے قریب بیٹھی ہوئی تھی کرن کی ماں بھی پاس بیٹھی ہوئی تھی چندہ جھٹ بولی اتنی بڑی رقم۔ کرن کے بھائی نے کہا کہ بقول تمھارے بہت پیسے والے ہیں امریکہ سے آے ہیں۔ تو وہ پہلو بدلنے لگی۔ علی کا بھائی پھر بولا اور دو لاکھ نقد حق مہر طلاق کی صورت میں دس لاکھ دینے ہوں گے۔ چندہ تڑپ کر بولی تم نے میرے پانچھ لاکھ لکھواے تھے اپنی بہن کے دس لاکھ۔ کرن کے بھائی نے کہا کہ بہن کی سیفٹی کے لیے کر رہا ہوں۔ یہ لازمی ہے ورنہ نکاح نہیں ہو گا۔ چندہ پریشانی سے بولی۔ تم نے کہا تھا کہ وہ جہیز نہیں دے گا اور اس کے بدلے نقد رقم دے گا۔ وہ بولا جہیز کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں دوں گا چندہ چیخی کیوں۔ وہ بولا میں صرف تین کپڑوں میں رخصت کروں گا یہ لوگ ویسے ہی بہت امیر ہیں ہاں اگر یہ غریب ہوتے تو میں بہت کچھ دیتا۔ دولہے کا والد بولا ہم آپ کی شرطیں نہیں مان سکتے۔ کرن کے ایک رشتے دار نے کہا کہ بلکل مناسبت شرائط ہیں۔ آپ نے کون سا طلاق دینی ہے۔ اور حق مہر نقد بھی مناسب ہے۔ دولہے کا باپ بولا مگر یہ جہیز بھی تو نہیں دے رہے۔ یہ کیا بات ہے غریب جھگی والا بھی کچھ نہ کچھ دیتا ہے اور یہ تین کپڑوں میں رخصت کرے گا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books