Nirala Saajan
Episodes
علی کا باپ بیوی کے آگے سخت پچھتاتے ہوئے رو رو کر اپنے گناہوں کا اقرار کر رہا تھا کہ اس نے بیٹے کے ساتھ بہت زیادتی کی۔ اسے لوگوں کے طعنے سننے پڑتے۔ جن کا وہ حقدار نہ تھا۔ ہم جو شروع سے ہی غریب طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کو ہمیشہ بےعزتی ہی ملتی ہے۔ وہ اس بے عزتی کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان کا بھی اس دنیا پر عزت پر اتنا ہی حق ہوتا ہے جتنا امیروں کا۔ مگر وہ نادان سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں صرف بےعزتی سہنے اور امیروں کی غلامی کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ ان کو اپنے حق کا شعور ہی بیدار نہیں ہوتا۔ نہ ہی وہ عزت پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کنویں کے مینڈک بنے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ کھسرا بنا کر میں خوب پیسے کما لوں گا مگر یہ
میری خوش فہمی تھی وہ تو سپلائی کے کام میں کم از کم روٹین میں تو کماتا تھا گھر کا چولہا چل رہا تھا۔ شادیاں تو کھبی کبھار ہوتی ہیں۔ نہ بچوں کی پڑھائی کی طرف توجہ دی کہ پڑھ لکھ کر معاشرے میں عزت کما سکیں۔ میں خود انپڑھ تھا تعلیم کی قدر نہیں جانتا تھا۔ علی جو لاہق اور سمجھدار تھا چھوٹا ہونے کے ناطے اس کی راے کو قبول کرنا میری مردانگی کے خلاف تھا میری انا اور ضد مجھے بیوی ہونے کے ناطے تمھاری بات ماننے سے روکتی۔ ہم غریبوں کی اناء اور رعب اپنے بیوی بچوں پر ہی چلتا ہے۔ اس طرح شاید ان کی زلت بھری زندگی میں قدرے راحت ملتی ہے۔ ہم لوگ بھی زلت سہ سہ کر ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بے حسی بھر جاتی ہے۔
امام دین روتے ہوئے بیٹے سے معافی مانگنے لگا تو بیٹے نے آگے بڑھ کر اس کے پاوں کو چھو کر پیار سے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔ اور روتے ہوئے کہا کہ پلیز ابا جی مجھے شرمندہ نہ کریں۔ میں نے بھی آپ کی نافرمانی کی ہے۔ آپ کے آگے جھوٹ بولے۔ میٹرک کا بتا کر MBA کر لیا۔ پیپرز دینے کے لیے ماموں کے گھر سے مردانہ لباس میں جاتا۔ ہاتھوں پر دستانے پہن لیتا تاکہ لمبے ناخن چھپ جاہیں۔ بالوں کو جوڑا بنا کر ٹوپی میں چھپا لیتا۔
باپ کو دیکھ کر بیوی ڈر گئ کہ ابھی شوہر ڈانٹے گا کہ اسے
میٹرک سے آگے کیوں پڑھنے دیا۔ امام دین جلدی سے کھڑا ہو کر اسے گلےگاتے کہا شاباش۔ تو نے تو میرا خواب پورا کر دیا ہے۔ بیوی کو جوش بھرے جزبات سے کہتا ہے تمھارا بہت شکریہ۔ واقعی تم بہت سمجھدار عورت ہو۔ کاش میں نے تمھاری قدر کی ہوتی۔علی کی ماں نے شوہر سے معافی مانگی۔ تو وہ بولا پگلی معافی تو میں تجھ سے مانگتا ہوں۔ تجھے تنگ رکھا۔ تو نے علی کو تعلیم دلا کر میری پوری نسل پر احسان عظیم کردیا ہے۔ اب علی کے بہتر مستقبل کے لئے کھبی رکاوٹ نہ بنوں گا۔ آج سے علی تم آزاد ہو جیسے چاہو زندگی گزارو جو چاہے کرو۔ میں کھبی دخل نہیں دوں گا اگر دوبئی دل کرتا ہے تو جاو ورنہ نہ جاو۔ علی نے جواب دیا نہیں اباجان میں جاوں گا اور وہ چلا گیا۔علی کے مالک نے اس سے پہلی ملاقات میں پسند کر لیا اور لے جانے کا ارادہ خرچہ خود برداشت کیا۔ وہ اس سے کافی متاثر ہوا۔
کرن کے نکاح کی تیاری ہو رہی تھی کہ علی نے چلا کر انہیں وارننگ دی تھی کہ وہ اچھا لڑکا نہیں مگر بات پوری نہ بتا سکا تھا۔ گھر میں بدمزگی ہو چکی تھی۔ مگر چندہ نے جلدی ڈالی اور سب نارمل کرنے کی کوشش کی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ وہ اور دولہے کے والدین جلدی مچانے لگے۔ نکاح خواں آ گیا۔ خاندان والے نکاح کے منتظر تھے ساتھ ساتھ چہ میگوئیاں بھی کر رہے تھے۔ کرن علی کے لیے بہت پریشان ہو رہی تھی صبا بھی اس سے مل کر نہ گئی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا اس شادی سے دور چلی جاے۔ اسے علی پر بھروسہ تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ لیکن والدین کی عزت کے لیے چپ تھی۔ وہ مسلسل روے جا رہی تھی۔ کرن کی ماں نے علی کی باتوں کا کافی اثر لیا تھا اور وہ کمرے میں بیٹھی پریشان تھی رشتے دار عورتیں اس کے پاس بیٹھی تھی۔ آخر چندہ کے جلدی ڈالنے پر اس نکاح کے لئے سب کو بٹھایا گیا۔ کرن کا بھائی اور باپ بھی بیٹھ گئے کافی پریشان تھے۔ علی کی باتوں نے ان کے دل میں وہم ڈال دیا تھا۔ مگر اب بارات دروازے پر تھی اور سارا خاندان جمع تھا۔ بیٹی کی عزت داو پر لگی ہوئی تھی۔ جب نکاح ہونے لگا نکاح خواں اور چند گواہ کرن کے کمرے میں اجا زت لینے گئے اس کی نظروں میں پاس کھڑے پریشان حال بھائی اور باپ کا چہرہ آ گیا۔ اس کے رشتے دار قریب بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کرن کو جھنجھوڑا جو نکاح خواں کے سوال پر خاموش تھی کہ تمھیں یہ نکاح قبول ہے۔ تو اس نے بھائی کو دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا تو اس نے جھٹ تین بار بول دیا قبول ہے۔
نکاح خواں واپس دولہے کے پاس آیا اور نکاح پڑھانے لگا۔ دولہے کے باپ نے چندہ کو اشارہ کیا۔ کرن کا بھائی یکدم بولا نکاح سے پہلے میری کچھ شرائط ہیں وہ یہ کہ دولہا ہر ماہ میری بہن کو کم از کم پچاس ہزار مہینہ خرچہ دینے کا پابند ہو گا۔ چندہ جو دولہے کی ماں کے قریب بیٹھی ہوئی تھی کرن کی ماں بھی پاس بیٹھی ہوئی تھی چندہ جھٹ بولی اتنی بڑی رقم۔ کرن کے بھائی نے کہا کہ بقول تمھارے بہت پیسے والے ہیں امریکہ سے آے ہیں۔ تو وہ پہلو بدلنے لگی۔ علی کا بھائی پھر بولا اور دو لاکھ نقد حق مہر طلاق کی صورت میں دس لاکھ دینے ہوں گے۔ چندہ تڑپ کر بولی تم نے میرے پانچھ لاکھ لکھواے تھے اپنی بہن کے دس لاکھ۔ کرن کے بھائی نے کہا کہ بہن کی سیفٹی کے لیے کر رہا ہوں۔ یہ لازمی ہے ورنہ نکاح نہیں ہو گا۔ چندہ پریشانی سے بولی۔ تم نے کہا تھا کہ وہ جہیز نہیں دے گا اور اس کے بدلے نقد رقم دے گا۔ وہ بولا جہیز کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں دوں گا چندہ چیخی کیوں۔ وہ بولا میں صرف تین کپڑوں میں رخصت کروں گا یہ لوگ ویسے ہی بہت امیر ہیں ہاں اگر یہ غریب ہوتے تو میں بہت کچھ دیتا۔ دولہے کا والد بولا ہم آپ کی شرطیں نہیں مان سکتے۔ کرن کے ایک رشتے دار نے کہا کہ بلکل مناسبت شرائط ہیں۔ آپ نے کون سا طلاق دینی ہے۔ اور حق مہر نقد بھی مناسب ہے۔ دولہے کا باپ بولا مگر یہ جہیز بھی تو نہیں دے رہے۔ یہ کیا بات ہے غریب جھگی والا بھی کچھ نہ کچھ دیتا ہے اور یہ تین کپڑوں میں رخصت کرے گا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.