Niyat Be-Naqaab
Episodes
احد آفس سے باہر نکل رہا تھا کہ اس کا چپڑاسی تیزی سے گھبرایا ہوا اس کے پیچھے آیا اور پریشانی سے بولا سر وہ مس سجل صاحبہ کرسی پر بےہوش پڑی ہیں وہ بھی پریشان ہو کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ واقعی بےسود سی پڑی تھی۔ احد جو اس آفس کا چیرمین تھا اسے تو اس کا نام بھی معلوم نہ تھا اس نے چپڑاسی سے کہا ان کے منہ پر پانی ڈالو۔ چپڑاسی نے پانی چھڑکا تو سجل نے نقاہت سے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ احد نے اس سے پوچھا مس آپ کو ڈاکٹر کے لے چلوں۔ چپڑاسی کو جوس لانے کا بولا۔ چپڑاسی بھاگ کر جوس لے آیا۔ احد نے کہا کہ اسے پی لیں پھر آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں۔ سجل نے آہستہ آہستہ جوس پیا اور قدرے بہتر ہو گئی۔ اس نے بتایا کہ لگتا ہے اس کا بلڈ پریشر لو ہو گیا تھا اس نے جلدی میں ناشتہ نہیں کیا تھا اور احد نے اس کی بات کاٹ کر کہا کہ مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ گھر کیسے جاتی ہیں اس نے کہا کہ لوکل بس میں۔ احد نے کہا کہ چلیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔ سجل نے آہستہ سے کہا سر میں چلی جاوں گی۔ احد نے غصے سے کہا کہ مہترمہ یہاں کوئی فلمی سین نہیں ہونے والا کہ میں آپ کو آفر دوں اور آپ نخرے کریں۔ میں آپ کی حالت کے پیش نظر آپ کو آفر کر رہا ہوں۔ فکر نہ کریں آپ کو گھر ڈراپ کروں اور بس اس سے آگے کچھ نہیں ہونے والا۔
سجل کو بہت غصہ آیا اور بولی سر آپ رہنے دیں میں چلی جاوں گی وہ اٹھنے لگی تو کمزوری سے گر گئی۔ احد نے کہا کہ اس وقت آپ مہربانی فرما کر چلیں۔ چپڑاسی نے بھی کہا میڈم آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ چلی جاہیں۔ اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا چپڑاسی نے کہا کہ سر ان کو سہارا دے دیں۔ احد نے منہ بنا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لایا۔ وہ بہت مشکل سے گھر کا راستہ بتاتی رہی۔ احد کو غصہ آ رہا تھا کہ جستہ حال راستہ پھر نہایت بوسیدہ گھر کے آگے رکا۔ اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اوپر سے مالک مکان نے جھانکا اور تیزی سے نیچے آگئی۔ احد نے کہا کہ اپنے گھر سے کسی کو بلاو تاکہ وہ تمہیں اندر لے جائے۔ سجل نے نقاہت بھری آواز میں آہستہ سے بولا کہ سر میری بوڑھی ماں کے علاوہ میرا کوئی نہیں۔ احد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا اچھا چلو میں تمہیں اندر چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ اسے اندر لے جا کر ایک چارپائی پڑی تھی اس پر بٹھایا۔ ماں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں پوچھا کیا ہوا اسے۔؟ احد نے کہا اس کا بلڈ پریشر لو ہو گیا تھا اسے کچھ کھلاییں۔ سجل لیٹ کر بولی موم کچھ نہیں ہوا آپ پریشان نہ ہوں۔ احد نے کہا کہ اچھا میں چلتا ہوں آپ چند روز آرام کریں آفس آنے کی ضرورت نہیں۔ سجل نے آہستہ سے ماں سے کہا کہ سر کو چاے پلاو۔ ماں کو ہوش آیا بولی بیٹا تمھارا بہت شکریہ۔ احد نے کہا کہ شکریہ میں بس اب چلتا ہوں۔ اتنے میں مالک مکانی اندر آ گی اور اسے تیز آواز میں بولی ابھی کدھر آپ چلے آپ کی ابھی خاطر تواضع ہو گی۔ پھر اس نے شوہر کو آواز دی۔ وہ اندر آ کر احد سے بدتمیزی کرنے لگا۔ سجل کی ماں نے روکنے کی کوشش کی مگر دیکھا باہر پورا محلہ جمع تھا۔ اور سب اسے برا بھلا کہہ رہے تھے۔اتنا ہنگامہ مچا کہ نہ جانے اس نے اس لڑکی کے ساتھ کیا کیا کہ اس کی یہ حالت ہو گئی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ تمہیں ابھی اسی وقت اس سے نکاح کرنا پڑے گا مختصر یہ کہ مالکن نے مولوی صاحب کو بھی بلا لیا احد اتنا بےبس ہو گیا کہ اسے نکاح کرنا ہی پڑا۔مالکن نے احد سے پوچھا تمھارے پاس اس وقت کتنی رقم ہے اس نے کہا تیس ہزار۔ مالکن نے کہا کہ لاو سب یہ نکاح کا خرچہ ہے۔ اس نے سارے پیسے لے کر جیب میں ڈال کر مسکراتی ہوئی بولی اب دولہن کو یہاں سے لے جاو وہ بولا میں کہاں لے کر جاوں وہ بولی یہ تمھارا مسئلہ ہے۔ احد نے سوچا اس نے کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا تھا اب تو بیوی بن گئ ہے لے چلتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کیا کرنا ہے۔ مالکن نے دو کلو مٹھائی منگوائی، سب کو بانٹی۔ مولوی صاحب کو تین ہزار دے کر باقی پاس رکھ لیے۔
احد سجل سے بولا اپنے کپڑے پیک کرو اور چلو۔ مالکن کی بیٹی دوگلاس دودھ کے لے آیی۔ مالکن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ پستہ بادام والا دوھ ہے پی لو۔ اور سجل کو زبردستی پلا دیا۔ اس نے روتے ہوئے پی لیا اس کی ماں بھی رو رہی تھی۔ مالکن طنزیہ انداز میں بولی ارے بہن شکر کرو بدنامی سے بچ گئی ہو۔ اب جو بچہ ہو گا اسے باپ کا نام تو ملے گا ورنہ تو بدنامی کا باعث بن جاتا۔ احد کو غصہ آ گیا بولا آپ نے جو کرنا تھا کر دیا اب جاہیں یہاں سے۔ وہ ڈھٹائی سے بولی یہ میرا گھر ہے۔ سجل کو دودھ پینے سے کچھ ہمت آ چکی تھی احد نے نہ پیا، مالکن نے کھڑے کھڑے سارا پی لیا۔ سجل نے روتے ہوئے کہا کہ میری موم اکیلی رہ جائیں گی۔ مالکن جھٹ بولی تم ان کی فکر نہ کرو ہم ان کا خیال رکھیں گے۔ احد اس گھر سے جلد نکلنا چاہتا تھا اس نے کہا کہ ان کو بعد میں لے جاوں گا فلحال تم چلو جلدی سے۔ اس کی ماں کو تسلی دی کہ جلد آپ دونوں کے رہنے کا بندوبست کر دوں گا۔ ماں نے روتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور جزباتی انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اس سب کا کرنے کا ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے تم جانتے ہو۔ بس اب میری بیٹی کو اپنے نام سے جدا نہ کرنا۔ بےشک اسے ادھر ہی رکھ لینا۔ اگر گھر والوں کا ڈر ہے تو خفیہ رکھ لینا۔ بس کھبی کھبی آتے رہنا۔ اب تمھارے علاوہ ہمارا کوئی سہارا نہیں۔ ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔ تم ساتھ نہیں رکھ سکتے تو واپس ادھر ہی چھوڑ دینا۔ احد متاثر ہو گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.