Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کا باپ سجل کی ماں پر فدا تھا اس کی ہر بات مانتا۔ سجل کی پیدائش پر بھی بہت خوش تھا۔ سجل کے دادا دادی بیٹے کو کھانا نہیں چاہتے تھے اس لیے اس شادی پر مجبوراً خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان لانے کا کہا۔ سجل کے والدین کا کار حادثے میں انتقال ہو گیا اب تو سجل کا باپ بیوی کی دلجوئی میں لگا رہتا۔ اس کو اب وطن اور والدین کی یاد ستانے لگی۔ بیٹے سے بھی محبت جاگ گئی۔ سجل کے والدین کی وفات سے اس کے دل پر اثر ہوا۔ اس نے بیوی کو پاکستان سیٹل ہونے کے لیے منانا شروع کیا۔ مگر وہ نہ مانتی۔ ایک دن ایک واقعے نے اسے ڈرا دیا اور وہ ڈر کر جلد پاکستان جانے کی ضد کرنے لگی۔ ہوا یوں کہ ایک پاکستانی لڑکے کو کچھ انگریز لڑکوں نے مار پیٹ کر زخمی کر دیا۔ ان کے گھر کے قریب کا واقعہ تھا۔
سجل کا باپ اسے لیکر گاوں آ گیا۔ سب نے سجل کی ماں کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ مگر وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی۔ سب اس کی دلجوئی میں لگے رہتے۔ مگر وہ سب سے اکھڑی اکھڑی رہتی۔ سجل کی ماں کو جب شوہر کی پہلی شادی اور بیٹے کا علم ہوا تو اس نے خوب واویلا مچایا۔ اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ کہ میں تم جیسے دھوکے باز کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اس نے صاف بتایا کہ تمھارے والد نے منع کیا تھا مگر وہ نہ مانی۔ کہ میرے پاپا اپنی کنواری بیٹی کو کسی شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ کے ساتھ نہیں بیاہ سکتے۔ وہ ویسے بھی شہر میں رہنا چاہتی تھی پھر وہ اس شرط پر ساتھ رہنے پر راضی ہوئی کہ وہ وہ بیٹے کو ساتھ نہیں رکھے گا اور اسے شہر میں جلد از جلد ایک شاندار گھر تعمیر کروا کر دے گا۔ سجل کے دادا نے کا گھر بچانے کے لیے اس کی شرط مان لی۔ سجل پانچ سال کی تھی۔ وہ بہت خوش رہتی۔ بھائی وہ گیارہ سال کا تھا۔ دادی نے بتایا کہ وہ اس کی بہن ہے تو وہ اس کو بہت پیار کرتا۔ مگر سجل کی ماں اب اسے بات کرنے سے بھی منع کرتی۔ وہ چوری چوری اسے پیار کرتا۔ اس کا ننھیال بھی چند گھر چھوڑ کر تھا۔ وہ جب زرا بڑا ہوا تو دادا اسے اپنے پاس لے آے۔ مگر اب سجل کی ماں کی وجہ سے اسے ننھیال رہنا پڑ رہا تھا۔ سجل کے باپ نے پاکستان آنے سے پہلے باپ کو شرط رکھ دی تھی کہ وہ اپنی رہائش شہر میں رکھے گا اس کے باپ کو اندازہ تھا کہ وہ پہلے گاوں میں رہنا پسند نہ کرتا تھا اب تو امریکہ پلٹ ہے۔ اس لیے اس کے باپ نے کچھ زمینیں فروخت کر کے اس کے بتائے بغیر ایک بڑا اور خوبصورت گھر تعمیر کروانا شروع کر دیا بہت اعلی اور جدید طرز کا گھر ڈیزائن کروایا۔ سب رشتے داروں نے شدید مخالفت کی باپ دادا کی جاہیداد فروخت کرنا غلط بات ہے مگر ان کا جواب تھا کہ جب میرا بیٹا ہی ادھر نہیں رہنا چاہتا تو پھر اس زمین کو رکھنے کا فاہدہ۔ انہوں نے بیٹے کا کاروبار سیٹ کرنے کے لیے بھی کوشش شروع کر دی۔ اتفاق سے انہیں اس میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔ ایک چلتا بزنس اتفاق سے مل گیا اور اپنی نگرانی میں اسے چلانے لگے اور کافی ترقی کی۔ جب بیٹے نے باہر کا رخ کیا تو ان کا دل اداس ہوا انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خوش کرنے اور پاکستان واپس لانے کے لیے حربے شروع کر دیے۔ سب خفیہ رکھا کہ بیٹے نے منع کر دیا اور آنے سے انکار کردیا تو ان کا دل ٹوٹ جائے گا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.