Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 11

From Niyat Be-Naqaab - Episode 11

سجل دادا دادی کی جان بن گئ تھی۔ جب سے سجل کے بھائی علی کو پتا چلا کہ سجل اس کی بہن ہے تو وہ بہت خوش ہوا اور شدت سے اپنی فیملی کا انتظار کرنے لگا۔ باپ سے فون پر دادا بات کراتے رہتے تھے۔ سب اسے کہتے اب تو تمھاری فیملی آنے والی ہے اب تو تم اپنے والدین کے گھر ان کے ساتھ رہو گے۔ کھبی ننھیال اور کھبی دھدیال نہیں رہنا پڑے گا۔ وہ گاوں کے اسکول میں داخل تھا۔ دادا نے نئے گھر میں ایک سجل اور ایک اس کا کمرہ بھی تیار کروایا تھا۔ کہ باپ کے ساتھ رہ کر شہر کے اچھے اسکول میں داخل ہو گا۔ سنجیدہ، شرمیلا اور کم گو تھا۔ خاموش رہتا جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ مختصر اور آہستہ گفتگو کرتا۔ دبا دبا رہتا۔ ہر وقت شلوار قمیض میں ملبوس ہوتا۔ سجل کی ماں ادھر ٹی شرٹ اور پینٹ پہنتی تو سب کے ساتھ سجل کے باپ کو بھی شرم آ جاتی۔ وہ اب اکثر اسے ٹوکنے لگا تو وہ چڑ جاتی۔ اور اسے جلد شہر لے جانے کی ضد کرتی۔ تو اس نے اسے سمجھایا کہ میرے پاس جو رقم تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ پھر ابھی بزنس بھی شروع کرنا ہے سجل کو اچھے اسکول پڑھانا ہے یہاں پر اسے نرسری میں داخل کروانا پڑے گا۔ کم از کم ایک سال تک ابا جان گھر بنوا کر دیں گے اور کاروبار کے لیے رقم دیں گے تو ہم جا سکیں گے۔ جب تک گاوں کی زمینیں بکتی نہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ روہانسی ہو کر بولی میں ادھر بور ہوتی ہوں۔ سجل کے باپ نے تسلی دی میں اور ابا جان روز اسی کام کے لیے جاتے ہیں اور دیر سے اسی لئے آتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو مجھے بھی احساس ہے میرے ابا جان اگر پیسے دینے سے پیچھے ہٹ گئے تو ہم سڑک پر آ جاہیں گے۔ تم ان کی مرضی پر چلو سب کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرو۔ ان کی مرضی کا لباس زیب تن کرو۔ وہ تم سے قدرے ناخوش ہیں اب وہی ہمارا آسرا ہیں۔ اگر انہوں نے ہمیں عاق کر دیا تو واپس امریکہ جانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔

سجل کی ماں قدرے بھولی تھی۔ اس لیے وہ جلد بےوقوف بن گئ۔ اور شلوار قمیض اور دوپٹہ لینے لگی۔ بیٹی کو اسکول چھوڑنے جاتی۔ اسکول اتنا دور نہ تھا علی بھی خاموشی سے سجل کا بیگ اٹھا کر ساتھ چلتا رہتا۔ سجل کی ماں کا دل اب اس قدرتی ماحول میں لگنے لگا تھا مگر وہ وہ ظاہر نہ ہونے دیتی۔ ادھر رہنے سے وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگی تھی۔ صبح جلدی اٹھ کر اسکول جانے سے اس کی واک بھی ہو جاتی۔ وہ کسی سے فالتو بات نہ کرتی تھی۔ سب اسے بہت عزت واہمیت دیتے۔ اتنی عزت اسے کھبی نہ ملی تھی۔ وہ اندر سے خوش ہونے لگی۔ مگر میاں کو یہاں سے جلد جانے کی تاکید کرنا نہ بھولتی۔ سجل بہت خوش تھی اس کی سہیلیاں بن گئ تھی۔ علی اس کی پڑھائی میں مدد کرتا۔ سجل کی ماں کو اب دیسی کھانے اسے لزت دینے لگے تھے۔ شروع میں تو وہ بریڈ وغیرہ کھاتی تھی مگر اب تو وہ فرمائش کرتی کہ یہ پکاو۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books