Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل دادا دادی کی جان بن گئ تھی۔ جب سے سجل کے بھائی علی کو پتا چلا کہ سجل اس کی بہن ہے تو وہ بہت خوش ہوا اور شدت سے اپنی فیملی کا انتظار کرنے لگا۔ باپ سے فون پر دادا بات کراتے رہتے تھے۔ سب اسے کہتے اب تو تمھاری فیملی آنے والی ہے اب تو تم اپنے والدین کے گھر ان کے ساتھ رہو گے۔ کھبی ننھیال اور کھبی دھدیال نہیں رہنا پڑے گا۔ وہ گاوں کے اسکول میں داخل تھا۔ دادا نے نئے گھر میں ایک سجل اور ایک اس کا کمرہ بھی تیار کروایا تھا۔ کہ باپ کے ساتھ رہ کر شہر کے اچھے اسکول میں داخل ہو گا۔ سنجیدہ، شرمیلا اور کم گو تھا۔ خاموش رہتا جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ مختصر اور آہستہ گفتگو کرتا۔ دبا دبا رہتا۔ ہر وقت شلوار قمیض میں ملبوس ہوتا۔ سجل کی ماں ادھر ٹی شرٹ اور پینٹ پہنتی تو سب کے ساتھ سجل کے باپ کو بھی شرم آ جاتی۔ وہ اب اکثر اسے ٹوکنے لگا تو وہ چڑ جاتی۔ اور اسے جلد شہر لے جانے کی ضد کرتی۔ تو اس نے اسے سمجھایا کہ میرے پاس جو رقم تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ پھر ابھی بزنس بھی شروع کرنا ہے سجل کو اچھے اسکول پڑھانا ہے یہاں پر اسے نرسری میں داخل کروانا پڑے گا۔ کم از کم ایک سال تک ابا جان گھر بنوا کر دیں گے اور کاروبار کے لیے رقم دیں گے تو ہم جا سکیں گے۔ جب تک گاوں کی زمینیں بکتی نہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ روہانسی ہو کر بولی میں ادھر بور ہوتی ہوں۔ سجل کے باپ نے تسلی دی میں اور ابا جان روز اسی کام کے لیے جاتے ہیں اور دیر سے اسی لئے آتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو مجھے بھی احساس ہے میرے ابا جان اگر پیسے دینے سے پیچھے ہٹ گئے تو ہم سڑک پر آ جاہیں گے۔ تم ان کی مرضی پر چلو سب کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرو۔ ان کی مرضی کا لباس زیب تن کرو۔ وہ تم سے قدرے ناخوش ہیں اب وہی ہمارا آسرا ہیں۔ اگر انہوں نے ہمیں عاق کر دیا تو واپس امریکہ جانے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔
سجل کی ماں قدرے بھولی تھی۔ اس لیے وہ جلد بےوقوف بن گئ۔ اور شلوار قمیض اور دوپٹہ لینے لگی۔ بیٹی کو اسکول چھوڑنے جاتی۔ اسکول اتنا دور نہ تھا علی بھی خاموشی سے سجل کا بیگ اٹھا کر ساتھ چلتا رہتا۔ سجل کی ماں کا دل اب اس قدرتی ماحول میں لگنے لگا تھا مگر وہ وہ ظاہر نہ ہونے دیتی۔ ادھر رہنے سے وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگی تھی۔ صبح جلدی اٹھ کر اسکول جانے سے اس کی واک بھی ہو جاتی۔ وہ کسی سے فالتو بات نہ کرتی تھی۔ سب اسے بہت عزت واہمیت دیتے۔ اتنی عزت اسے کھبی نہ ملی تھی۔ وہ اندر سے خوش ہونے لگی۔ مگر میاں کو یہاں سے جلد جانے کی تاکید کرنا نہ بھولتی۔ سجل بہت خوش تھی اس کی سہیلیاں بن گئ تھی۔ علی اس کی پڑھائی میں مدد کرتا۔ سجل کی ماں کو اب دیسی کھانے اسے لزت دینے لگے تھے۔ شروع میں تو وہ بریڈ وغیرہ کھاتی تھی مگر اب تو وہ فرمائش کرتی کہ یہ پکاو۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.