Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کا دادا روز بہانے بناتا بیٹا میں کوشش کر رہا ہوں جلد از جلد زمینیں سیل کرنے کی گاوں کی زمین جلدی نہیں بکتی۔ اسی سلسلے میں مجھے روز جانا پڑتا ہے۔ سجل کا باپ اپنے گھر میں آ کر بہت خوش تھا۔ اسے ماں کے ہاتھوں کے بنے کھانے لزت دے رہے تھے۔ جب وہ بیوی کو شلوار قمیض پہنے ماں کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھتا تو سکون محسوس کرتا۔ وہ سوچتا اپنا ملک اپنے لوگ، اپنے والدین کے ساتھ کتنا سکون ملتا ہے۔ اسے اس گاؤں میں رہنا پسند نہ تھا اب واپس جانے کا دل نہ کرتا۔ ابا اسے ساتھ نہ لے کر جاتے گھر اور بچوں میں موج کرنے کا مشورہ دیتے۔
ایک دن سجل کے باپ نے ضد کی کہ میں بھی آج آپ کے ساتھ جاوں گا۔ اس نے کھبی زمین، جاہیداد میں دلچسپی نہ لی تھی کہ کدھر ہے اور کتنی ہے۔ اب اسے دل میں شرمندگی محسوس ہوتی کہ وہ ان کو کتنا تنگ کرتا رہا ہے۔ اب اس عمر میں وہ اس کے لیے کتنی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ اس نے سوچا کہ وہ بنک وغیرہ سے لون لے کر چھوٹا سا گھر بنا لے اور کوئی بزنس کرنے کا سوچے۔ کب تک وہ ایسے گھر پر بیٹھا رہے گا۔ اور باپ کو زمین بیچنے سے منع کر دے۔ کچھ رشتے دار تو زمین بیچنے کے اتنے خلاف تھے کہ وہ کہتے کہ باپ دادا کی جاہیداد بیچنا ایسے ہے جیسے ماں بہن کو بیچنا۔ اس لیے وہ کچھ بے دل ہو گیا تھا۔
وہ باپ کے ساتھ شہر آیا۔ باپ اسے پراپرٹی ڈیلر کے پاس لے کر گیا اس نے جب اسے زمینوں کے ریٹ بتاے۔ تو وہ حیران رہ گیا۔ اچھے علاقے کے ریٹس بہت زیادہ تھے۔ پھر باپ اسے وہاں لے گیا جدھر اس کا گھر بنا ایک شان سے کھڑا تھا اس کے آس پاس گھر دیکھانے کے بعد اس گھر کے بارے میں پوچھا کہ یہ گھر کیسا ہے سجل کے باپ نے رشک سے دیکھتے ہوئے سوچا اگر ایسا گھر بنا سکتا تو اس کی بیوی خوشی سے پاگل ہو جاتی اور امریکہ کو بھول جاتی۔ اس نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کا سب سے بڑا اور سب سے خوبصورت گھر یہی ہے۔ باپ اسے اندر لے آیا۔ چوکیدار اور ملازم اس کے باپ کے آگے پیچھے ہونے لگے۔ وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا جو چند کرسیوں اور میز پر مشتمل تھا باپ نے اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ملازم نے آکر چاے کا پوچھا تو سجل کے دادا نے کہا کہ ابھی جب تک میں نہ بلاوں کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ پھر بیٹے سے گویا ہوا کہ بیٹا مجھے معاف کرنا میں نے اپنی خوشی کے لیے تم سے جھوٹ بولا۔ سجل کا باپ جو گھر میں داخل ہو کر حیران تھا وہ تڑپ کر رہ گیا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر چوم لیے۔ باپ اس کی اس والہانہ محبت سے بہت خوش ہوا جس کے لیے وہ عرصے سے ترسا ہوا تھا۔ اس نے بھی جوابی اس کا سر چوم لیا۔ پھر آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے اس نے بتانا شروع کیا کہ جب اس نے گاوں میں رہنا پسند نہ کیا۔ تو اس نے دوراندیشی سے سوچتے ہوئے اس کے مستقبل کی بہتری کے لئے پلان بنایا کہ جب بیٹا باہر کی رنگینیوں سے بھر جاے گا تو واپس پاکستان ہی آئے گا تو اس نے کسی کو بتاے بغیر بزنس شروع کرنے کا سوچا تاکہ بیٹا آے تو جما جمایا بزنس ملے۔ کافی دوڑ دھوپ کے بعد اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ اس نے چاہنا سے مال منگوا کر دوکانوں پر مال دینا شروع کیا۔ ساتھ ساتھ کچھ زمینیں بیچ کر شہر میں پلازہ تعمیر کروا کر کراے پر دے دیا۔ اور ایک دو شاپس اپنی بھی کھول لیں اور کیمرے لگا دیے۔ اللہ پاک نے برکت ڈالی اور خوب چل پڑا۔ کچھ گھپلے بھی ہوے کچھ دھوکے بھی ملے۔ مگر اچھے لوگ بھی ملے جن کے دم سے سب چل رہا ہے۔ فلاں فلاں مشہور برانڈ ہمارے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ہمارے پاس کافی مال ودولت تھی۔ اگر میں عقل نہ کرتا اسے بڑھانے کا نہ سوچتا تو بھرے کنویں بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو سواے چند قریبی لوگوں کے میں نے کسی کو خبر نہ ہونے دی۔ کہ سو سجن دشمن ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ کسی کو اپنی آمدنی اور زراہع نہیں بتانے چاہیے۔ مکان تو تمھارے آنے سے سال پہلے مکمّل ہو چکا تھا تم لوگ اس وجہ سے ہمارے پاس رکے ہوئے تھے کہ گھر بنے گا تو جاہیں گے۔ میں نے سوچا اگر بتا دیا تو تم فوراً فیملی کو لے کر چلے جاو گے مگر اب مجھے احساس ہے کہ میں اپنی خوشی کے لئے بہو کو دھوکہ دے رہا ہوں۔ سجل کے باپ کو احساس ندامت محسوس ہوا کہ والدین بےچارے اولاد کی قربت حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ اپنی ساری متاع حیات لٹا کر بھی احسان جتانے کی بجائے اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ روتے ہوئے ان کے پاوں میں گر گیا اور معافیاں مانگنے لگا۔ آپ نے دھوکہ نہیں دیا احسان کیا ہے۔ اتنی محنت آپ اکیلے کرتے رہے۔ لوگ آپ کا ساتھ دیتے رہے اور میں بدنصیب، نادان گوروں کی غلامی میں خوشی تلاش کرتا رہا۔ کاش وہ وقت میں نے آپ کے ساتھ گزارا ہوتا۔ آپ کا بازو بنا ہوتا۔ انسان اولاد مانگتی ہے خاص طور پر بیٹے جو باپ کا سہارا بنیں گے مگر اولاد خود غرض ہو جاتی ہے صرف اپنی خوشی سوچتی ہے۔ میں اب کھبی آپ سے جدا نہیں ہوں گا ہمیشہ آپ کے ساتھ گاوں رہوں گا۔ سچی پوچھیں تو مجھے اب ادھر سے جانے کا دل نہیں کرتا۔ سکون ملتا ہے خوش نصیب ہیں جن والدین کے زیر سایہ ریتے ہیں۔ مگر میری نادانی سے میں اس سے کافی عرصہ دور رہا اب ایک لمحہ بھی نہیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.