Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کا باپ روتا رہا باپ بھی روتا رہا پھر باپ نے اسے گلے لگا کر پیار سے تسلی دی اور چپ کرایا۔ اور کہا کہ آج وہ جا کر بہو کو بتا دے گا کہ اس کا گھر مکمل ہے مگر سجل کے باپ نے کہا کہ وہ اب ادھر ہی رہے گا سجل کا باپ بولا میری بیوی اگر گاوں نہیں رہے گی تو جدھر مرضی جاے میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑ سکتا۔ باپ نے فوراً سرزش کی اور کہا کہ اس نے بیٹے کا گھر توڑنے کے لئے یہ سب نہیں کہا۔ پہلی بات یہ کہ اس کا اب ہمارے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ اب تو ہمیں اس کی زیادہ دلجوئی کرنی ہے۔ آخر ہماری اکلوتی بہو ہے۔ سجل کےباپ نے اس کا ان کے ساتھ برے روپے کا سوچتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی طرف سے معافی مانگتا ہے۔ وہ پچھتاتے ہوے بولا کاش میں امریکہ ک شوق نہ رکھتا نہ ایسی عورت سے شادی ہوتی۔ باپ نے کہا کہ نہیں ایسے نہیں کہتے وہ تمھاری قسمت میں لکھی تھی۔ بیوی بھی اک نعمت ہے۔ جس نعمت کی قدر نہ کرو وہ چھن جاتی ہے۔ سجل کے باپ نے پہلی بیوی کو یاد کرتے ہوئے سوچا واقعی اس نے پہلی بیوی کی قدر نہ کی تو وہ چھن گئی۔ وہ کیسے اس کا اور اس کے والدین کا خیال رکھتی تھی۔ اسے یاد کر کے آبدیدہ ہو گیا۔ سجل کے دادا نے کہا کہ تم اس بیوی کی قدر کرو جیسے تم نے اسے پہلے لاڈلا رکھا تھا اس کے ساتھ اب زیادہ اچھے بن کر ریو اس نے والدین کھوے ہیں۔ ہم اس کی کسی بات کا برا اس لیے نہیں مناتے کہ اس نے کبھی ایسا ماحول دیکھا نہیں۔ اس کی تربیت پورپی ماحول میں ہوئی ہے پیار سے اسے اس طرف لاے تو شاید وہ سمجھ جاے۔ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوی ہے وہ پہلے ہی نازک سی ہوتی ہے۔ عورت پر سختی جاہز نہیں۔ پیار اور میانہ روی کا رویہ اپنانا چاہیے۔ پھر گاوں میں میٹرک سے آگے اسکول نہیں ہے بچوں کو شہر میں رکھنا پڑے گا۔ وہ بولا پھر آپ لوگ بھی میرے ساتھ رہیں گے۔ سجل کے دادا جو بہت سمجھدار اور دور اندیش تھے وہ جانتے تھے کہ سجل کی ماں کسی کو ساتھ رکھنے پر راضی نہ ہو گی اور بیٹے اور بہو میں جھگڑا رہے گا اور بیٹا بےسکون رہے گا۔ انہوں نے علی پوتے کو بھی ساتھ بھیجنے کا پروگرام کینسل کر دیا۔ سجل کے باپ کو سجل کے دادا نے کہا کہ علی ہمارے ساتھ رہے گا جب تک میٹرک نہ کر لے۔ بعد میں دیکھی جائے گی۔ سجل کا باپ نیم رضامند ہو گیا مگر اس نے کہا کہ جب سجل کی نی کلاس شروع ہو گی تب شفٹ ہونا ہے۔ اور اس کی ماں کو دلاسے دیتے رہیں گے بعد میں سچ موقع پر بتا دیں گے ادھر اس کی صحت بھی ٹھیک ہو رہی ہے اور اب وہ قدرے خوش بھی رینے لگی ہے۔ اور دیسی کھانے بھی شوق سے کھانے لگی ہے۔ اس کے لیے بھی ادھر اچھا ہے زرا وہ سب کو جان لے۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.