Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کے باپ نے چند دنوں میں سب کام سمجھ لیا باپ کو کہا اب آپ آرام کریں۔ باپ نے کہا کہ گھر کا سازوں سامان آ جاے تم لوگ خیریت سے شفٹ ہو جاو۔ سجل کا اچھے اسکول میں داخلہ ہو جائے پھر میں آرام کروں گا۔ تم بیوی کے ساتھ جاکر اس کی پسند سے خریداری کرو۔ سجل کے باپ نے کہا کہ نہیں ابا جان وہ بہت بھولی اور بےو قوف عورت ہے۔ باپ نے ہنستے ہوئے کہا اسی لیے تجھ سے شادی کی ہے۔ بیٹا شرما کر مسکرانے لگا۔ سجل کے باپ نے کہا ضرورت کا سامان ڈال دیتے ہیں باقی بعد میں ساتھ ساتھ لیتے رہیں گے۔ ایک سال گاوں گزارنے کے بعد وہ لوگ شفٹ ہو گئے۔ سجل اور اس کی ماں بہت خوش تھی۔ گھر میں جھولے، سویمنگ پول، لان اور کمرہ کھلونوں سے سجاہواتھا۔ علی کواس کے ماموں سعودیہ لے گئے۔ زندگی معمول پر گزرنے لگی۔ کاروبار نے بہت ترقی کی۔ علی کھبی کبھار دادا دادی کے ساتھ آتا رہا۔ سجل کی ماں اسے دیکھ کر منہ بنا لیتی۔ میٹرک کے بعد ماموں اسے سعودیہ لے گئے اور اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ سجل کی ماں خوش ہو گی۔ کیونکہ اسے شوہر کا بیٹے سے لگاو برداشت نہ ہوتا تھا وہ ہر وقت شوہر سے کہتی رہتی۔ یہ گھر میری سجل کے نام کر دو۔ میں علی کے نام نہیں ہونے دوں گی۔ سجل بھائی سے پیار کرتی تھی مگر ماں کی سخت نفرت کو دیکھ کر اسے گھل مل نہ سکتی تھی۔ علی نے بھی رویہ دیکھتے ہوئے ماں، بیٹی سے رابطہ ختم کر دیا تھا نہ ہی وہ سجل کے باپ سے اس کے بارے میں پوچھتی نہ ہی وہ خود اس کا زکر کرتے۔ سجل کے دادا دادی یکے بعد دیگرے جلد گزر گئے تو اب سجل کی ماں نے گاوں سے بالکل ناطہ توڑ لیا۔ سجل باپ کی بےحد لاڈلی تھی۔ منہ سے نکلی ہوئی ہر خواہش اس کی پوری ہوتی۔ نویں جماعت میں تھی کہ اس نے شاپنگ کی فرمائش کر دی اس کی سالگرہ بھی نزدیک تھی جو ہوٹل میں دھوم دھام سے منائی جاتی تھی۔ سجل باپ کی طرح بہت رحم دل بھی تھی۔ ملازموں سے رویہ اچھا رکھتی۔ جبکہ اس کی ماں ملازموں کو حقیر گردانتی۔ ان سے سیدھے منہ بات نہ کرتی۔ سجل کے باپ نے گاڑی شاپنگ پلازہ کی پارکنگ میں روکی۔ اسی وقت امجد بٹ نے اس فیملی کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کہ شریف لوگ ہیں۔ وہ
موقع کی تلاش میں لگ گیا کہ کسی طرح راہ رسم بڑھا سکے۔ آخر اسے موقع مل ہی گیا جب سجل اہسکریم لے کر آ رہی تھی تو امجد بٹ تاک میں تھا تیزی سے گزرتے اس سے ایسے ٹکرایا کہ اس کی آہسکریم اس کی واسکٹ اور بازو پر بری طرح لگ گئی۔ سجل پریشان ہو کر سوری کرتی والدین کی ٹیبل کی طرف آ گی وہ بھی پیچھے آ گیا سجل نے روتی آواز میں باپ سے کہا ڈیڈ مجھ سے غلطی ہو گئی میں نے انکل کے کپڑے خراب کر دیے۔ امجد بٹ بڑے پریم سے بولا ارے میری بیٹی آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہو مجھے تو اچھا لگا کہ آج اگر میری بیٹی زندہ ہوتی تو آپ جتنی ہوتی۔ پھر اس نے ایک ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر دوسرے ہاتھ سے آنکھوں کو ملا۔ سجل نے پریشان ہو کر اسے پانی کا گلاس دیا۔ سجل کے باپ نے اس کا کندھا پکڑ کر اسے کرسی پر بیٹھ جانے کا بولا۔ وہ لڑکھڑاتا بیٹھ گیا۔ سجل نے پوچھا آپ کی بیٹی کب فوت ہوئی تھی۔ اس نے درد بھرے لہجے میں کہا نہ پوچھو۔ سجل کی ماں خاموشی سے اسے سن رہی تھی جبکہ سجل اور اس کا باپ اس کے لیے دکھی ہو رہے تھے سجل ٹشو سے اس کے کپڑے صاف کرنے لگی تو اس نے کہا کہ نہ کرو مجھے اچھا لگا ہے میں بےاولاد ہوں۔ اس لیے ترسا ہوا ہوں۔ سجل کے باپ نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں آج سے یہ آپ کی بیٹی ہے۔ سجل نےجوش میں کہا آپ میری سالگِرہ پر آنا۔ اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا میری بیٹی اتنے خلوص سے بلاے گی تو ضرور آوں گا بلکہ آپ کی آنٹی کو بھی لاوں گا وہ بھی خوش ہو جائے گی۔ بے چاری کے چار بچے بچپن میں ہی فوت ہو گئے سجل کے والدین حیرت سے اس کی باتیں سننے لگے۔ اور افسوس کرنے لگے۔ وہ گویا ہوا میری بیوی کا زہنی توازن خراب ہو گیا میرے پاس بہت پیسہ تھا جدی پشتی امیر تھا بیٹھ کر کھاتا تھا کام کرنے کی ضرورت نہیں تھی پھر بیوی کاعلاج کروایا۔ باہر ملکوں سے بھی علاج کرایا۔ لنگر کے منہ کھول دہے۔ کہ اولاد نہیں رہی بیوی تو بچ جائے۔ اکلوتا ہوں۔ والدین گزر گئے۔ اب لے دے کے ایک بیوی بچی ہے۔ اس کے علاج پر پیسہ پانی کی طرح بھایا۔ پر یہ دنیا بڑی ظالم ہے۔ جس پر بھی اعتبار کرتا وہی مجھے نوچ کھاتا۔ میں اپنی پریشانی میں مبتلا رہتا۔ بچے مرتے جا رہے تھے بیوی کے علاج کے لیے میں مارا مارا پھر رہا تھا میرے دوست نما دشمن میری دھاک میں بیٹھے تھے میرا سب کچھ لوٹ لیا۔ پلیز آپ کسی پر بھروسہ نہ کرنا ورنہ آج میری طرح کوڑی کوڑی کامحتاج ہو جاو گے۔ کسی کو دوست نہ بناؤ۔
مجھے دوستوں نے لوٹا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.