Niyat Be-Naqaab
Episodes
امجد بٹ جانتا تھا کہ سجل کے باپ کے والدین وفات پا چکے ہیں۔ سجل کی ماں کا بھی کوئی نہیں۔ سجل کے گاوں والے رشتے داروں سے تقریباً ناطہ ختم ہے۔ سجل کی ماں نے ساس سسر کی وفات کے بعد ان سب کو لفٹ نہ دی تو ان کی بھی جرات نہ ہوی ادھر آنے کی۔ ویسے بھی وہ ان کی شان وشوکت کے آگے دبے ہوئے تھے۔ اس لیے امجد بٹ نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ وہ اس کی جاہیداد ہتھیانے کے چکر میں تھا بزنس میں تو وہ پارٹنر بن ہی چکا تھا۔ اس نے پلان کے مطابق سجل کے باپ کو بزنس ٹور پر لے گیا وہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی نیت بےنقاب کی۔ پھر اسے بےہوش کر کے نقلی پیٹ موٹا کر کے ایمبولینس میں لٹا کر اس کے مرنے کا ڈرامہ کیا۔ گھر لا کر سجل اور اس کی ماں کو منہ سے صرف کپڑا ہٹا کر دکھایا اس کی ناک میں روی ڈال دی۔ ان کو قریب نہ آنے دیا اور کہا کہ پیٹ موٹا ہو گیا ہے پھٹنے کا خطرہ ہے اس لیے پیٹ پھٹ نہ جائے۔ لاش کی بےعرمتی نہ ہو جائے۔ جلد دفنانہ ضروری ہے۔ وہ دو اکیلی بےبس عورتیں اس کے آگے کھلونا بنی ہوئی تھیں۔ کچھ نہ بولی اور روتی دھوتی رہ گئی۔ سجل نے امجد بٹ سے کہا کہ گاوں والوں کو اطلاع کر دینی چاہئے۔ ڈیڈ کے موبائل میں ان کے نمبر ہوں گے مگر امجد بٹ نے مکاری سے کہا ہرگز نہیں بیٹا وہ آپ کی جاہیداد کے پیچھے پڑ جاہیں گے اور آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ان کو تو وفات کا بھی خفیہ رکھنا ہے۔ آپ فکر نہ کرو اب میں ہوں نا آپ کا نگران۔ ان کو تسلیاں دینے لگا۔
سجل بچپن سے ہی بہت سمجھدار اور سلجھی ہوئی تھی۔ وہ انسان کا رویہ جلد سمجھ جاتی تھی۔ شروع شروع میں اسے امجد بٹ کی محبت اچھی لگی مگر بعد میں وہ حیران ہونے لگی۔ کہ وہ اس کے ماں باپ کے سامنے تو اس سے پیار جتاتا جیسے وہ چھوٹی سی بچی ہو مگر اکیلے میں اس کا انداز بدل جاتا۔ اس کے منہ کی طرف والحانہ دیکھنے لگتا۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پاس بیٹھنے پر اصرار کرتا۔ سجل اب جوان تھی اسے الجھن ہونے لگی۔ وہ بہانہ بنا کر چلی جاتی۔ باپ کی وفات سے وہ اس سے ڈر سی گئی تھی۔ ماں اس کی سادہ مزاج تھی۔ سجل نے اس کے چنگل سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی۔ اسے اب اس پر شک ہونے لگا تھا کہ اس نے محلے داروں کو بھی اس کی وفات کا خفیہ رکھنے کا کہا کہ تم دونوں ادھر اکیلی رہتی ہو اس لے حفاظت کے پیش نظر ایسا کر رہا ہے۔ اس نے صاف بتا دیا کہ اب وہ ان کی مدد کے لیے ادھر ہی رہے گا۔ سجل کو برا لگا کہ ایک نامحرم ہم عورتوں کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے۔ جب باپ زندہ تھا تب وہ کبھی کبھار دیر ہو جانے کی صورت میں ادھر رہ جاتا تھا مگر اب سجل کو مناسب نہ لگ رہا تھا اس نے ہلکہ سا احتجاج کیا کہ محلے والے کیا کہیں گے تو اس نے کہا کہ اسی لیے تو تمھارے باپ کی موت کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں۔ سجل کو اب ا سے خطرہ محسوس ہونے لگا اس نے ماں کو بھی قاہل کر لیا اور ادھر سے مکان کے کاغذات کے ساتھ اور مال قیمتی تو وہ پہلے ہی پیک کر چکی تھی۔ اس نے ماں کو پٹی پڑھای کہ اسے ایسے ظاہر کرنا پڑے گا جیسے ہم اسے ہی اپنا سرپرست سمجھتے ہیں تاکہ اسے ہم پر یقین آ جاے کہ ہم اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاہیں گی۔ سجل کو لگتا تھا ملازم بھی اب اس کے زیر اثر ہیں۔ اسے اس وقت دادا کی کی گئی نصیحتیں کام آ رہی تھی کہ جاہیداد کے لیے اپنے بھی پراے بن جاتے ہیں کبھی کسی انجان پر بھروسہ نہ کرنا وہ کتنا ہی کیوں نہ پیار جتاے۔
سجل سوچنے لگی ابھی ایک دن گزرا ہے باپ کو گزرے اور یہ زرا بھی غمگین نظر نہیں آ رہا۔ نارمل اور خوش لگ رہا ہے۔ سجل نے ماں کو سب سمجھا دیا کہ اس وقت ہمیں حوصلے اور عقلمندی سے اس کے چنگل سے نکلنا ہے۔ ملازموں پر بھی ظاہر نہیں کرنا۔ دراصل اس نے اسے کسی کو فون پر بات کرتے سنا تھا۔ بس زرا ان کا بھی کچھ کر لوں پھر آتا ہوں۔ وہ ماں کو سوتا دیکھ کر کہ وہ ڈسٹرب نہ ہو دبے پاوں کچن میں پانی لینے گئی تھی تو اس نے بس اتنا ہی سنا کہ ان دونوں کا کچھ کر لوں۔ وہ دبے پاؤں واپس ا گی۔ اس بات سے یہی نتیجہ نکالا کہ ادھر خطرہ ہے۔ ملازم بھی اس کی جی حضوری کر رہے تھے ان کی طرف دھیان نہیں دے رہے تھے۔ وہ دونوں رو رو کر نڈھال ہو چکی تھیں سجل مسلسل ماں کو ہمت دے رہی تھی۔ زبردستی ماں کو ناشتہ کرایا کہ بھاگنے کی ہمت ہو۔ خود بھی زبردستی کیا۔ باپ کی یاد شدت سے آ رہی تھی۔ امجد بٹ آ کر تسلیاں دینے لگا کہ میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ سجل نے روتے ہوئے کہا کہ انکل ہم آپ سے زیادہ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ اب آپ ہی ہمارے سرپرست ہیں۔ کیوں موم ماں کو ہوش آیا اور سجل کی پڑھائی پٹی بول دی کہ بھائی صاحب اب ہمارے مال ودولت سب آپ کی نگرانی میں دوں گی حتکہ اس کی شادی بھی آپ نے کرنی ہے میں تو سیف کی چابی بھی آپ کو سونپ دوں گی جس میں گھر کے کاغذات کے علاوہ کچھ رقم بھی موجود ہے۔ سجل ابھی بچی ہے اتنی بڑی زمداری نہیں سنبھال سکتی۔ اور مجھے بھول جاتا ہے۔ ہم اکیلی عورتیں ہیں اب آپ کو بھائی بنایا ہے تو آپ کو بھائی کا فرض نبھانا پڑے گا میں آپ کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔ اور سیف کی چابی آپ کو سنبھالنے کے لیے دیتی ہوں پلیز انکار نہ کیجیے گا۔ اس نے خالی سیف کی چابی اس کے حوالے کر دی اور بولی اب سیف کی حفاظت آپ کے زمے۔ امجد بٹ کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ پڑے۔ جو کام اسے مشکل لگتا تھا وہ آسانی سے ہو گیا۔ اس نے خوشی اور جوش میں جھٹ پکڑ کر جیب میں ڈال کر کہا بھابی اب آپ بےفکر ہو جائیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.