Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل اداس بیٹھی اپنی ماں کے لیے پریشان ہو رہی تھی آنکھوں سے آنسو بھی رواں دواں تھے۔ احد کن انکھیوں سے اسے مسلسل روتا دیکھ کر حیرانگی سے سوج کہ یہ کیسی لڑکی ہے جو غریب ہونے کے باوجود مجھ جیسے فیکٹری اونر کو پا کر بھی خوش نہیں ہے۔ اس نے سوچا ہو سکتا ہے یہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہو۔ احد نے اکڑ سے کہا آپ اس بندھن کو زنجیر نہ سمجھنا۔ جب چاہو میں تمہیں آزاد کر دوں گا پھر جہاں چاہے شادی کر لینا۔ سجل نے سنتے ہی اس کے منہ پر بے اختیار ہاتھ رکھ دیا اور تیزی سے بولی خدا نہ کرے پھر اپنی حرکت پر خود ہی شرما کر ہاتھ پیچھے کر لیا۔ اس کے شرمانے سے احد کے دل میں ہلچل سی مچ گئی اس کو کن انکھیوں سے دیکھا وہ قدرے سانولی سی پتلے نقوش والی، آنکھیں بہت بڑی نہ تھی مگر ان میں اعتماد ٹپکتا تھا۔ ہاتھوں اور پاوں کے لمبے ناخن، بال بھی اسٹائل میں کٹے ہوئے مگر اس وقت الجھے اور بےترتیب ہو رہے تھے۔ اوپر درمیانی سائز کی شرٹ جو گھٹنوں تک تھی۔ نیچے جینز کی پینٹ اوپر بڑا دوپٹہ۔ جب وہ دیکھ رہا تھا تو سجل نے اسی وقت اسے دیکھا دونوں کی نظریں ملیں سجل شرما گی نہ جانے احد کو اس کا شرمانا کیوں بھا رہا تھا۔ وہ دھیرے لب مسکرا دیا۔ اچانک اس نے زور سے بریک لگای تو سجل کا سر اس کے کندھے سے ٹکرا گیا اور وہ بے اختیار سوری بول گیا پھر اس کی خاندانی اکڑ عود کر آی۔ کہ وہ اپنی معمولی ورکر کو سوری بول رہا ہے۔ پھر اس سے مخاطب ہوا سنو لڑکی میں تو تمھارا نام تک نہ جانتا تھا مگر تمھارے لالچی پڑوسی کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ جانتا ہوں اس میں تمھارا یا تمھاری ماں کا قصور نہیں۔ وہ آخری ٹائم تک منع کرتی رہی۔ تمھارے پڑوسیوں سے جان چھڑوانے کے لیے ساتھ لے آیا ہوں۔ میں جانتا ہوں اس مالکن نے مجھے امیر دیکھ کر موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے جھوٹا الزام لگا کر مجھ سے پیسے بٹور لیے۔ میرے لئے معمولی رقم ہے مگر ان غریب لوگوں کے لیے بڑی رقم ہے۔ یہ تو دو ہزار کے فاہدے کے لیے بچہ اغواء کر لیتے ہیں۔ میں پولیس کو فون کر دیتا مگر سب سے پہلے اس نے میرا موبائل چھین لیا تھا پھر اتنے لوگوں میں میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ تمہیں بےسہارہ دیکھ کر میں نرم پڑ گیا ہوں۔ میں اس ٹور کے بعد تمہیں ادھر ہی ماں کے پاس چھوڑ دوں گا میری ہم پلہ لوگوں میں شادی ہونے والی ہے۔ ہمارے گھر والے تو کتے، بلیاں بھی نسلی رکھتے ہیں۔ اگر تم خاموشی سے اس راز کو اوپن کیے رہو گی تو میں کھبی کبھار چکر لگا لیا کروں گا۔ اور تمھیں تنخواہ جتنے پیسے گھر بیٹھے دے دیا کروں گا۔ سجل نے ایک لمبا سانس لیا اور بولی سر میں ہمیشہ اپنے آپ کو آپ کی ورکر کی حیثیت سے زیادہ کچھ نہ سمجھوں گی۔ میں تو شادی کھبی کرنا ہی نہ چاہتی تھی۔ میں کر شادی کر لیتی تو میری ماں کا کیا ہوتا۔ احد دل میں متاثر ہوتے ہوئے بولا مگر تمھاری ماں کو تو فکر ہوتی ہو گی بہت زیادہ مگر میں ماں کو نہیں چھوڑ سکتی۔ میں نوکری کرتی رہوں گی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دوں گی۔ آپ سے نہ کھبی ملوں گی نہ بات کروں گی۔ آپ بےفکر رہیں۔ بس میری ماں کی تسلی کے لیے اپنا نام جڑا رہنے دیں۔ آپ شادی کر کے اپنی خوشیوں میں مگن رہیں۔ بےشک سال دوسال چکر نہ لگائیں میں موم سے کہ دوں گی کہ آپ باہر ملک چلے گئے ہیں محلے والوں نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا جس کے لیے میں معزرت چاہتی ہوں۔ آپ سے مجھے کوئی ماہوار نہیں چاہیے۔ بس میں پہلے کی طرح اس تنخواہ سے گزادہ کر لوں گی۔ احد نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
احد کے لئےسجل کے ساتھ گزارا ہوا پورا ویک بہت خوش کن انداز میں گزرا۔ وہ اسے کچھ شاپنگ کروانا چاہتا تو وہ انکار کر دیتی۔ احد نے زبردستی اپنی مرضی سے اس کے لئے شاپنگ کی۔ اسے وہ ملبوسات زیب تن کرنے کو کہتا۔ وہ سجل کے فالتو بات نہ کرنے پر اور اپنے لاپرواہی والے انداز پر اندر سے چڑ جاتا۔ مگر وہ اپنے وعدے پر قائم رہی۔ اور ثابت قدم رہی۔ احد اس کے مغرور انداز پر حیران ہوتا۔ اس کے فیشن دیکھتا۔ ماں کو موم کہنے پر دل میں ہنستا کہ یہ لڑکی غریب ہے۔ مگر انداز امیروں والا ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ اسے اکڑ دیکھاے گا مگر الٹا اس کی اکڑ بہت تھی۔ وہ اپنی ہار پر تلملا کر اسے بہت زلیل کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی۔ اس نے ماں کے لئے اپنے پیسوں سے سوٹ لیا۔ احد کے دل میں خواہش جاگی کاش یہ اپنی پسند سے میرے لیے بھی کچھ لیتی۔ وہ اسے زلیل کرتا نہ تو تم گوری چٹی حسین زادی ہو پھر غرور کس بات کا۔ وہ جواب نہ دیتی۔ اس نے موبائل سے اپنی منگیتر کی تصویریں دیکھا کر کہا یہ نہ صرف خوبصورت ہے گوری چٹی ہے بلکہ ہماری طرح امیر زادی بھی ہے۔ سجل جواب نہ دیتی۔ ایک دن تپ کر سجل نے کہا کہ سر سیرت کی دولت بھی ہونی چاہیے۔ جواب میں احد خاموش ہو گیا اسے اس کی سیرت کا کچھ علم نہیں تھا۔احد نے اسے محلے میں گھر چھوڑا۔ سجل کی ماں نے زبردستی چاے کے ساتھ پکوڑے کھلاے جو اسے کافی پسند آئے مگر تعریف نہ کی۔ مالکن اندر آی مگر احد نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں اور نہ ہی اس کی کسی بات کا جواب دیا۔ وہ شرمندہ ہو کر چل پڑی۔ سجل کی ماں دل میں خوش ہو گئی کہ اسے ایسا ہی داماد چاہیے تھا جو اس دنیا کا مقابلہ کرسکے۔ احد نے جاتے سمے کچھ رقم اسے دہنا چاہی مگر سجل نے لینے سے سختی سے انکار کر دیا۔ وہ شرمندہ سا ہو گیا اور تیزی سے باہر نکل آیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.