Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 21

From Niyat Be-Naqaab - Episode 21

سجل ماں سے کہتی موم کاش ڈیڈ زندہ ہوں۔ ماں بولی کیوں دل کو جھوٹی تسلیاں دیتی ہے۔ خود ان کی لاش دیکھی۔ مشکل سے اس غم کو تھپکی ملی ہے۔ نہ ایسی باتیں سوچ جو ممکن نہ ہوں۔ موم پتا ہے۔ میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کاش اس لالچی انسان نے جاہیداد کے لالچ میں زندہ رکھا ہو۔ ماں غصے سے اور دکھ بھرے لہجے میں بولی نہ سوچ میری بچی۔ یہ کوئی انڈین ڈرامہ نہیں ہے کہ مرے ہوئے دوبارہ زندہ ہو جائیں۔ ان کی ناک میں روہی تھی پیٹ پھولا ہوا تھا۔ سجل روتے ہوئے بولی موم دراصل ہم نے ڈیڈ کی باڈی کے ساتھ ٹائم نہیں گزارہ نہ ہو کھل کر رونے کی اجازت تھی امجد بٹ کہتا اونچی آواز میں مت رونا اہل محلہ کو خبر نہ ہو۔ تم لوگ اکیلی ہو اتنی بڑی جاہیداد کی مالک ہو۔ میں تو اب ہر وقت تمھارے ساتھ ہوں۔ مگر مجھے کھبی گھر سے باہر کام کے سلسلے میں باہر بھی جانا پڑے گا ویسے تو میں نے تمام ملازمین کو اچھی طرح ہدایات کر دی ہیں۔ وہ اب تم لوگوں کو اکیلے باہر نہیں جانے دیں گے۔ تمھارا کوئی بھائی بھی نہیں ہے ورنہ میں اس کے حوالے کر دیتا گاوں کا بس نام پتہ ہے سجل نے جھٹ پوچھا تو کیا آپ نے انہیں ادھر نہیں دفنایہ۔ وہ ہکلا کر بولا آں ہآں ادھر ہی ادھر ہی۔ پھر بات بدل دی۔ اب سجل کو کچھ سوچ کر شک ہونے لگا تھا مگر ماں نام نہ لینے دیتی۔ ڈرتی کہ ہمارے ساتھ کوئی بھروسے والا ساتھ دینے والا مرد نہیں۔ اس لیے بس جان بچی ہے یہی کافی ہے۔ سجل کہنے لگی۔ موم ایک بار گاوں جانے دو میں ڈیڈ کی قبر ڈھونڈ لوں گی۔ گاوں میں سب ایک دوسرے کی خبر رکھتے ہیں میں لپٹ لپٹ کر جی بھر اونچی اونچی آواز میں رونا چاہتی ہوں۔ ہم تو گھٹ گھٹ کر روے ہیں۔ موم ایک بار گاوں چلو وہ لوگ کھلے دل کے لوگ ہیں ضرور معاف کر دیں گے۔ ماں نے جواب دیا وہ تو بےچارے کر ہی دیں گے۔ مگر مجھے شرمندگی ہے۔ وہ لوگ آتے میں لفٹ نہ دیتی۔ منہ بناے رکھتی۔ وہ لوگ شرمندہ ہو کر چلے جاتے۔ تمھارے ڈیڈ اگر کچھ کہتے میں قیامت لے آتی۔ سسر کو فون کر دیتی کہ آپ کا بیٹا مجھ سے لڑتا ہے وہ ہمیشہ میری طرفدار ی کرتے۔ وہ بیٹے کو لعن تعن کرتے۔ ان کو بھی بس گزادے لاہق اہمیت دیتی جواب میں وہ بیٹے کو کہتے اس کا ہمارے سوا کون ہے اس کا تو میکہ بھی نہیں ہے۔ بہت مظلوم ہے۔ اس کی باتوں کا برا نہیں ماننا۔ ہم ایک بہو کھو چکے ہیں دوسری نہیں کھونا چاہتے۔ یہ ہماری سجل جان کی ماں ہے۔ وہ غیرت والے تھے انہوں نے علی کو ماموں کی سرپرستی میں دے دیا۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی بیٹا نہ تھا۔ وہ اسے لے کر سعودی عرب چلے گئے۔ تمھارے باپ نے اس کے جانے کا غم کیا اور اسے یاد کرنے لگے۔ میں نے اتنا واویلا مچایا کہ انہوں نے مجھے تھپڑ مار دیا۔ بس پھر کیا تھا میں نے کہا کہ اب اگر دوبارہ اس کا زکر اس گھر میں ہوا تو یا وہ ادھر آیا تو میں سجل کو بھی مار دوں گی اور خود بھی مر جاوں گی۔ پھر سسر کو فون کر کے بلایا۔ کھانا پینا چھوڑے رکھا۔ سسر آے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کی۔ مجھے سمجھایا کہ اب نہ کوئی گاوں سے آے گا نہ تمہیں جانے کا بولیں گے کیونکہ ہر عید پر وہ لے جاتے تھے اور میں مسلسل موڈ خراب میں رہتی۔ سجل دکھ سے سوچتے ہوئے بولی موم میں گاوں جانے کی خوشی میں عید کا انتظار کرتی تھی بہت مزہ آتا تھا۔ ماں بولی تو ان پر فدا ہوتی تو مجھے جیلسی ہوتی کہ میری بیٹی مجھ سے زیادہ ان سے پیار کرتی ہے۔ سجل ماں کے گلے لگ کر بولی موم ماں تو ماں ہوتی ہے آپ سے بڑھ کر مجھے دنیا میں نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ میں دادا دادی سے بھی بہت پیار کرتی ہوں بھائی سے بھی۔ ان کے اور آپ کے پیار میں انیس بیس کا فرق ہے۔ آپ بیس ہیں۔ ماں روتے ہوئے بولی نہیں میری جان تو اب مجھ سے بھی زیادہ ان سے پیار کرے تو مجھے ڈھیروں خوشی ملے گی۔ مجھے کوئی سمجھانے والا بھی نہ تھا۔ گناہ اور ثواب کا علم نہ تھا۔ امریکہ میں پیدا ہوئی۔ وہاں ہی پلی بڑھی۔ وہاں جواہنٹ فیملی سسٹم ہے ہی نہیں۔ والدین بھی اکیلے رہتے تھے۔ نہ کوئی رشتہ دار تھا اس لیے مجھے ان رشتوں کی قدر کا شعور ہی نہ تھا۔ کتنا یہ پیارسسٹم ہے۔ کتنا مزہ آتا ہے سب کے ساتھ بیٹھ کر۔ مجھے اندر سے بہت مزہ آتا تھا۔ مگر میری سہیلیاں ہر وقت پاکستان اور اس کے جواہنٹ سسٹم کی برائی کرتی رہتی تھیں سب پاکستانی تھی۔ وہ کہتی پاکستانی مرد شادی خاندان کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی غلامی کروا سکیں۔ خود کماتے ہیں نوکری بھی نہیں کرنے دیتے۔ گھر میں قید کر دیتے ہیں۔ ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں ہم کیوں ان کے خاندان کی غلامی کریں۔ وغیرہ۔ وہ کہتی تم پاکستان جاو گی تو تمھارے ساتھ ایسا ہی ہو گا میاں تمھیں کم وقت دے گا۔ میں بےوقوف جب آہی تو گاوں میں رہی۔ تمھارے ڈیڈ زیادہ وقت اپنے والد یا گاوں والوں کے ساتھ بتاتے۔ ماں کے پاس پیار سے بیٹھ کر باتیں کرتے۔ ان کی ٹانگیں دباتے۔ مجھے اپنی فرینڈز کی باتیں سچ لگتی۔ مگر اب سوچتی ہوں۔ پاکستانی مرد بیوی کے لیے کتنی اچھی سوچ رکھتے ہیں کہ وہ گھر رہے۔ باہر اسے خوار نہ ہونا پڑے وہ خود اس کے لیے کما کر لاہیں۔ بدلے میں وہ صرف اپنے والدین کی دیکھ بھال چاہتے ہیں مان رکھتے ہوئے اپنا سمجھتے ہوئے۔ عورت گھر کی زینت ہے۔ کیا اگر اس کے والدین گھر میں ساتھ رہتے ہوں تو ان کو کھانا دینا۔ ان کے کپڑے دھونا جو کام وہ خود نہیں کر سکتے تو کیا ان کی مدد کرنا غلامی ہے۔ انسانیت کا ناطہ ہے۔ ہم نے بھی بوڑھے ہونا ہے۔ بلاضرورت گھر سے نکلنا تو اسلام میں بھی منع ہے۔ جو نوکری کرتی ہیں ان سے پوچھو ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔ جو مجبوری میں کرتی ہیں۔ گھر رینے کے لئے ترستی ہیں۔ ہاں چند ایک ہیں جو نوکری اور باہر گھومنے کو انجوائے کہتی ہیں۔ اگر اپنے پیاروں کی قربت نصیب ہو تو سب سے بڑی خوشگواری ان کے سنگ ہوتی ہے۔ اپنا گھر اپنے پیاروں سے جڑے رشتوں میں خلوص اور سکون ہے جو باہر کی دھول مٹی میں نہیں ہے۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books