Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل پریشان ہو رہی تھی۔ کہ وہ احد کی بیوی کی سچائی کیسے اس تک پہنچاے۔ نیلم سے کوشش کی تھی بات کرنے کی مگر وہ تو کچھ اس کے خلاف سننے کو تیار نہیں تھی اس کو اب اپنے بچے کی فکر لاحق ہو گئی تھی۔ وہ ساس سے کل چند دن میکے جا کر رہنے کی بات کر رہی تھی۔ اس نے ماں سے کہا کہ بچے کو میں اس کے ساتھ نہیں جانے دوں گی۔ ہم اب داو لگا کر بچے کو لیکر یہاں سے نکل جاہیں گے۔ مگر کہاں جاہیں۔ خالہ رشیدہ بھی لالچی عورت ہے۔ اس کے پاس احد کی بیوی کا نمبر بھی ہے۔ گاوں کے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں ہے۔ نہ وہ لوگ لالچی ہیں نہ ہی دھوکے باز۔ پھر رحم دل اور ساتھ نبھانے والے ہیں۔ وہ ہمارے اپنے ہیں ہمیں اس حالت میں دیکھ کر ضرور معاف کر دیں گے۔ بھائی کی بھی کوئی خبر مل جائے گی۔ شاید ڈیڈ کا بھی۔ وہ اتنا کہہ کر اداس ہو گئی۔ اس نے ماں سے کہا کہ ہم بڑا پرس اٹھا لیتے ہیں جس میں گھر کے ضروری کاغذات ڈال کر اور کچھ بھی نہیں اٹھانا اتنا وزن نہ جانے ہمیں کتنا بھاگنا پڑے۔ ویسے بھی سستے گھسے پرانے کپڑے لے کر جانا بے عزتی ہے۔ آپ بھی تیار ہو کر کچھ بہتر کپڑے نکال کر پہن لیں۔ ہم بچے کو لے کر فوراً نکلیں گے۔ کھلونے گڈے کو جھولے میں لٹا کر چادر اوڑھا کر کہہ دوں گی کہ بچہ سو رہا ہے۔ اس کے لیے اس کا کچھ ضروری سامان ساتھ رکھ لوں۔ آپ جلدی سے باہر نکل کر کوئی سواری تلاش کریں۔ میں بچے کو لے کر آتی ہوں۔ ماں باہر نکل آئی۔
سجل اب آہستہ سے بچے کو سرونٹ کوارٹر میں لٹا آئی۔ یہ اس کے سونے کا ٹائم تھا اس نے احد کی ماں سے کہا کہ بچہ سو رہا ہے میں زرا موم کو دیکھ آوں ان کی طبیعت خراب ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے۔ مجھے تھوڑی دیر کے لیے چھٹی چاہیے میں جلد از جلد بچے کے جاگنے تک آ جاوں گی ویسے بھی یہ دو گھنٹے بعد اٹھے گا۔ اس کو کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ اور تیزی سے آ کر کاکے کو اٹھایا اس کا بیگ اور کاغذات والا بڑا پرس ماں لے گی تھی وہ اسے اٹھا کر چپکے سے باہر آئی۔ چپکے چپکے ادھر ادھر دیکھا دل میں دعائیں کرتی جا رہی تھی۔ باہر اسے امجد بٹ کی گاڑی نظر آ گی گاڑی آج اس نے گھر سے باہر کھڑی کی تھی۔ وہ فون پر احد کی بیوی سے بات کر رہا تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہو گئی ادھر سے گزر رہا تھا تو سوچا ادھر کھانا کھا لوں گھر کا کھانا۔ ساتھ تمھارے لے جانے کی بات بھی کر لوں۔ تم بس اپنی کل کی تیاری مکمل رکھو۔ میں دو گھنٹے رکوں گا۔ وہ بولا نہیں ضرورت۔ اس نے اسے اندر اطلاع کے لیے بھیجا خود پیچھے چل پڑا سجل کو اس دوران چوکیدار کی نظر سے بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔ اس نے ماں کو ادھر ادھر ڈھونڈا مگر وہ نظر نہ آئی۔ سجل پریشان ہو رہی تھی کہ دیوار کی اوٹ میں اسے ماں کھڑی نظر آئی۔ اس نے جلدی سے ماں کو ہلکی آواز میں پکارا ماں ڈری سہمی بولی سواری نہیں مل رہی ہے۔ سجل نے دو منٹ کچھ سوچا۔ اس نے پرس سے امجد بٹ کی گاڑی کی چابی نکالی جو اس کے باپ کی گاڑی تھی اور ایک چابی ہر وقت اس کے پرس میں موجود رہتی تھی۔ چوکیدار بھی گیٹ بند کر چکا تھا گاڑی گیٹ سے زرا فاصلے پر کھڑی تھی۔ سجل کو گاڈی چھوٹی عمر سے ہی چلانی آتی تھی۔ اس نے لاک کھولا ماں حیرت سے اس کی حرکت دیکھ رہی تھی۔ اس نے ماں سے سامان لے کر گاڑی میں جلدی سے پھینکا اور ماں کو بٹھا کر بچہ اس کی گود میں دیا گاڑی کو اسٹارٹ کیا۔ اتنے سالوں بعد اپنے باپ کی گاڑی میں بیٹھ کر اسے چلاتے ہوئے اس کا دل بھر آیا۔ ماں ڈری ہوئی بیٹھی تھی۔ اس کے آنسو نکل آئے۔ ماں بھی روتے ہوئے بولی کھبی میں اس میں ملکہ کی طرح بیٹھتی تھی۔ ماں نے ڈرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ظالم آ گیا تو سجل بہادری سے بولی میں اسے گاڑی کے نیچے دے دوں گی۔ میرے باپ کی گاڑی ہے۔ موم اب ڈر کر نہیں رہنا۔ اس بات سے ڈرتے رہے کہ اس کا انسپکٹر دوست ہے۔ قانون سے مدد نہیں لی۔ ساری دنیا تو دوست نہیں ہے نا۔ اور سب برے تو نہیں ہوتے نا۔ مانا میں اس وقت زرا چھوٹی تھی سیکنڈ ایر کے پیپرز دے چکی تھی۔ اچھے کالج میں ایڈمشن کا سوچ رہی تھی مگر اس ظالم کی وجہ سے میں سکون سے پڑھائی نہ کر سکی۔ وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہی تھی۔ کہ اسے پیچھے سے پولیس کی گاڑی آتی نظر آئی۔ ساتھ امجد بٹ بیٹھا ہوا تھا ساتھ ہی احد کی گاڑی بھی آتی نظر آئی۔ ماں بہت ڈر گئی۔ سجل نے تسلی والے انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ موم کسی بھی مشکل میں اگر ڈر جاو تو انسان کامیاب نہیں ہو پاتا۔ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا جو ڈریں۔ گاڑی میرے باپ کی بچہ میرا اپنا۔ میرے پاس اس کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے۔ والد کے خانے میں اس کے باپ کا نام ہے۔ نکاح نامہ میرے پاس موجود ہے۔ گھر کے کاغذات میرے پاس موجود ہیں۔ پھر اب ڈرنا نہیں بلکہ سچائی سب کے سامنے لانی ہے۔ اگر احد نے قبول نہ کیا تو میں اس سے طلاق لے کر اس کی زندگی سے نکل جاوں گی۔ بچہ ابھی چھوٹا ہے وہ اسے مجھ سے نہیں لے سکتا۔ بس آپ مضبوط بن جاہیں۔ ساری زندگی ہم نے ڈر ڈر کر گڑاری ہے۔ اب تو میں اس ظالم سے ڈیڈ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی پوچھوں گی اور ہاسپٹل کی ساری details بھی مانگوں گی
ماں نے کہا کہ میری بہادر بیٹی میری سمجھدار بیٹی تو زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ احد پر بھروسہ نہ کر اتنا عرصہ نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے اس کی جرات نہ ہو سکی تجھے بیوی ظاہر کرتے ہوئے۔ اپنے ہی گھر میں اس نے تجھے نوکرانی کی حیثیت سے رکھی رکھا اور تجھے زلیل ہونے کا تماشہ دیکھتا رہا۔ اس کے نزدیک بھی کلاس کے فرق کی اہمیت ہے۔ جب قسمت نے تجھے اس کی بیوی بنا دیا تھا تو تو اس کی عزت بن گئ تھی مگر اس نے بھی جیسے تمھارے کہنے پر شکر ادا کیا ہو کہ یہ خود ہی جان چھوڑی رکھے۔ نہ بچہ پیدا کرنا چاہتا تھا نہ ہی طلاق دیتا تھا بس نوکرانی بن کر میرے سامنے رہے اور میرے بچے کی آیا بنی رہے۔ اب تو میں خود اس سے بات کروں گی۔ اور اس کے پیچھے اپنی زندگی برباد نہ کرنے دوں گی۔ سجل خوش ہو کر بولی موم اب ہوئی نا بات۔ اگر آپ پہلے ہی بہادری دیکھاتیں تو کھبی ہم اتنے زلیل نہ ہوتے۔ میں اب خود اپنے ڈیڈ کا بزنس دیکھوں گی اور اس کو آگے بڑھاوں گی۔ بیٹا پولیس ان کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہو۔ ہمارے پلان دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ سجل نے ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ کھبی بھی نیگیٹو نہیں سوچنا چاہیے پراعتماد ہو کر سوچیں تو کامیابی ملتی ہے۔ اگر ناکامی بھی ملے تو ہمت ہار کر کامیابی حاصل کرنے کی جدوجہد چھوڑنی نہیں چاہیے۔ کھبی تو کامیابی ملے گی نا۔ اتنے میں اس کے آگے پولیس کی گاڑی نے بریک لگا کر اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ امجد بٹ اسے غور سے دیکھنے لگا۔ ساتھ ہی احد نے بھی قریب گاڑی روکی۔ اسے گاڑی ڈرائیور کرتے دیکھ کر کافی حیران تھا۔ سجل نے گاڑی روک کر اتر کر پولیس والے کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ اس نے بھی سخت لہجے میں کچھ کہنا چاہا تو احد نے روک دیا اور کہا کہ گھر چل کر بات کرتے ہیں۔ ادھر تماشا نہیں بنانا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.