Niyat Be-Naqaab
Episodes
احد نے علی کو فون کر کے ساری صورتحال بتا دی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔ پہلی فرصت میں آ گیا۔ احمد بٹ کی بیٹی کو کمرے سے ابھی نکالا نہیں گیا تھا۔ اسے کچھ علم نہ تھا وہ بےخبر سو رہی تھی۔ سجل کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اسے ماں کے کہنے پر کمرے میں لٹا آئی تھی احد اسے تسلی تو دے رہا تھا مگر خود اندر سے بہت پریشان تھا۔ ابھی تک سجل کی اصلیت آشکار نہ ہوئی تھی۔ سجل کی ماں کو دیکھنے ڈاکٹر کو بلا لیا تھا اس نے نیند کا انجکشن دے دیا تھا۔ وہ علی سے مل نہ سکی۔
علی نے عملے کو خوب ڈانٹا تھا۔ امجد بٹ کی بیٹی کو کھول کر بیان لیا گیا تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ امجد بٹ اسے فون پر دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس نے منہ کھولا تو اس کے گھر والوں کی خیر نہیں۔ اس کے گھر والوں کو خفیہ پولیس کی مدد سے نظر رکھی گئی۔ پھر اس نے وعدہ معاف گواہ بننے پر سب کچھ بتانے پر رضامند ہو گئی اس نے باتھ روم اٹینڈ کرنے کی اجازت طلب کی۔ اس نے امجد بٹ کو فون کیا کہ سر یہ بہت بھولے لوگ ہیں میں نے فون ساہلنٹ کر کے چھپا لیا تھا اور اس کو بتانے لگی کہ میں وعدہ معاف گواہ بن گئ تاکہ یہ لوگ مجھے باتھ روم جانے دیں اور میں آپ کو فون کر سکوں۔ اس نے اسے ڈانٹ کر کہا بےوقوف لڑکی ہماری ریکارڈنگ ہو رہی ہو گی فون کی۔ یاد رکھنا تمھارے گھر والے میری تحویل میں ہیں تم اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دو۔ میں جلد تمہیں چھڑوا لوں گا وہ منتیں کرنے لگی سر میرے گھر والوں کو کچھ نہ کرنا میں کچھ نہیں بتاوں گی۔ اس نے کہا فون سے سم نکال دو۔ اس نے فون بند کیا اور باہر آئ۔ اور بولی مجھے آپ پولیس کے حوالے کر دیں۔ میں وعدہ گواہ معاف نہیں بنتی۔
اس سے۔ موبائل لے کر اس کے نمبر نوٹ ہونے لگے۔ اور اس سے گھر میں ہی پوچھ گچھ ہونے لگی۔ احد کے گھر والے اسے عورت زات سمجھ کر تھانے نہیں بھیجنا چاہتے تھے۔ احد نے جب امجد بٹ کے گھر کا ایڈریس بتایا تو وہ حیرانگی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا یہ تو میری سوتیلی ماں اور باپ کا گھر ہے۔ وہ بولا سجل تو میری بہن ہے مگر وہ اس گھر میں کیسے۔ اتنے میں نیلم نے بتایا کہ سجل کی ماں اٹھ گئی ہیں علی بولا کیا میری ماں ادھر ہی ہیں احد اسے لیکر ان کے پاس گیا تو وہ ان کے گلے لگ گیا پہلے تو وہ پہچان نہ سکی۔ پھر اس کے گلے لگ کر خوب روئی اور بہت معافیاں مانگیں تو اس نے بھی روتے ہوئے انہیں ایسا بولنے سے منع کر دیا۔ پھر جب ان کی فوتگی کا سنا تو حیرت سے بولا مگر بابا جان سے تو میں اکثر فون پر بات کرتا رہتا ہوں۔ اور ملنے کا بولوں تو یہ کہہ کر منع کر دیتے تھے کہ تمھاری ماں نہیں پسند کرتی۔ اور میرے گھر میں لڑائی نہ ڈلوانا۔ یہ سن کر سجل کی ماں شرمندہ ہو کر سینہ پیٹنے لگی۔ اور بولی کیا تمھارے باباجان زندہ ہیں علی حیرت سے بولا کہ وہ کہتے سجل بھی ٹھیک ہے۔ اس کی ماں بھی ٹھیک ہے۔ گاوں والے تو ان سے ناراض بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ نہ خود ملتے ہیں نہ ملنے دیتے ہیں۔ ابھی کل ہی میری ان سے بات ہوئی تھی۔ میں فون کر کے دیکھتا ہوں اس نے فون کیا تو فون بند ملا۔ انہوں نے کل آفس سے مجھے لایو وڈیو بھی کال کی تھی۔ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس نے اگر میرے باپ اور بہن کو کچھ کیا تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ شوہر کے زندہ ہونے کی خبر سن کر میں خوشی مناوں یا بیٹی کی جدائی کا غم مناوں۔ احد نے گھر والوں کو اپنی اور سجل کی سچائی بتائ تو وہ بہت خوش ہوے۔ وہ علی کو جانتے تھے بلکہ اس کی شادی پر گاوں بھی گئے تھے۔ اور وہاں ان کے رہن سہن سے کافی متاثر ہوئے تھے۔۔
علی نے خفیہ طور پر پولیس پرائیویٹ کپڑوں میں ان کےگھرکے آگے پیچھے پھیلا دی تھی۔ اب اس نے اس لڑکی سے پوچھ گچھ شروع کی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی۔ باپ ریڑھی لگاتا تھا اسے پڑھنے کا شوق تھا مگر افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ امجد کی ایک کارندہ لیڈی جو کسی بہانے سے لڑکیوں کو دوبئی میں اچھی نوکری کا چارم دے کر منا لیتی۔ کچھ کو بیچ دیتے۔ کچھ سے غلط کام کروا کر پیسے کماتے۔ جو خوشی سے ان کے ساتھ کام میں مل جاتی تو اسے گاہک پھنسانے کا کمیشن بھی دیتے۔ اور اس کے گھر والوں کی کفالت کا زمہ بھی اٹھاتے۔ ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دیتے کہ پولیس کو بتایا تو ان کے گھر والوں کی خیر نہیں۔ اس نے کہا کہ وہ بھی اچھی نوکری کے چارم میں آ گئی۔ اسے دوبئی لے کر گئے پھر اس سے پوچھا کہ تم اگر ہمارے ساتھ مل جاو گی تو گھر والوں سے بھی ملتی جلتی رہو گی اور ان کو خوشحال زندگی بھی دے سکو گی۔ اگر نہ مانو گی تو ہم تمہیں بیچ دیں گے۔ پھر تم کھبی نہ اپنے ملک جا سکو گی نہ گھر والوں سے مل سکو گی۔ پولیس میں بھی ہماری رسائی ہے اگر پھر بھی پولیس تک جاو گی خود کے ساتھ گھر والوں کو بھی مرواو گی۔ اس لیے میں نے سوچا میری عزت تو برباد ہو چکی ہے۔ ان کی بات مان کر گھر والوں کو تو سکھ پہنچاوں گی۔ گھر والے خوش ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں دوبئی میں اچھی نوکری کرتی ہوں۔ اب میرے بہن بھائی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ باپ کی دوا وقت پر آ جاتی ہے۔ گھر کے خرچے بھی آسانی سے نکل آتے ہیں۔ میرا احد سے نقلی نکاح کروایا گیا۔ اور بچہ بھی احد کا نہیں ہے۔ سجل کی ماں بولی یہ احد اور سجل کا بچہ ہے تم نے جس سے ڈیل کی تھی وہ ہماری مالک مکان تھی اس نے سجل کع راضی کیا کہ تمھارا بچہ خوشحال گھرانے میں پلے گا۔ سجل نے پتا کیا تو وہ احد کی بیوی تھی وہ مان گئ کہ بچہ باپ کے گھر پلے گا تو وہ دینے پر راضی ہو گی اور اس کی آیا بننے پر راضی ہو گی۔
نہ گئی تو وہ احد اور تمھاری ماں کو مار دے گا
پارٹ 26 دوم
احد نے سن کہ بچہ سجل کا ہے تو اس کا دل سرشار ہو گیا۔ وہ جزباتی ہو کر ماں سے لپٹتے ہوئے بولا۔ ماما بہو نقلی تھی مگر پوتا اصلی ہے۔ ماں روتے ہوئے بولی ہم نے سجل کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ احد کا باپ بولا اللہ تعالیٰ سجل کی حفاظت کرے اب وہ اس گھر میں دھوم دھام سے عزت سے آے گی۔ ساس بولی انشاءاللہ۔ نیلم روتے ہوئے کہا کہ کل جب منا رو رہا تھا اور سجل تڑپ کر آئی تھی تو میں نے ماما سے کہا تھا کہ کاش اس کی جگہ یہ ہماری بھابھی ہوتی اور یہ بچہ اس کا ہوتا تو ماما نے دکھ سے کہا تھا کہ کاش ایسا ہی ہوتا۔ ماں بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے بولی تم نے پہلے بتایا ہوتا تو ہم تمھاری دوسری شادی ہی نہ کرتے اور نہ اس مسئلے میں پڑتے۔ احد بولا اس وقت آپ لوگ زات پات میں پڑے ہوئے تھے اور ہمیں بھی یہی سکھایا تھا۔ ماں افسوس کرتے ہوئے بولی۔ زات پات کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ہم لوگوں کی بری سوچ ہے۔ اللہ پاک نے سب کو برابر بنایا ہے اس کے نزدیک جو اس کے بتاے ہوئے راستے پر چلے وہ افضل ہے اور ایک ہم لوگ ہیں جس کے پاس پیسہ ہے وہ افضل ہے چاہے حرام کا ہی ہو۔
احد بار بار فون کر کے ہدایات دے رہا تھا۔ پھر امجد کی ساتھی لڑکی سے پوچھ گچھ کی اس نے بتایا کہ وہ ہمیں اپنے رازوں میں کم ہی شریک کرتا تھا۔ وہ اپنے چند خاص لوگوں کے علاوہ کسی کو کچھ نہیں بتاتا تھا کہ وہ کدھر سے آیا ہے اور کدھر جارہا ہے۔ اس کا اگلا پلان کیا ہے۔ اس نے بلیک کلر کی وردی میں ملبوس اپنے آدمی پوری کوٹھی میں پھیلا رکھے ہیں۔ مجھے اتنا پتہ ہے کہ کسی کو تحہ خانے میں کھانا بھیجنے کی ہدایات کرتا تھا۔
علی نے اس کے آدمیوں جیسی وردی تیار کرنے کا حکم دیا۔ اور دو لیڈیز امجد بٹ کی ساتھی کے ساتھ مقرر کر دی جو اسے قید رکھتی تھیں۔ اس کو الگ کمرے میں رکھا گیا تاکہ کوئی بھی سرگرمی اس کی نظر میں نہ آئے۔ اس پر وہ اعتبار نہیں کر رہے تھے۔ اس کو باندھ کر رکھا گیا تھا۔
احد کے موبائل پر امجد بٹ کی کال آئی اس نے کہا کہ وہ اس کو پھنسانے کی زرا سی بھی کوشش کرے گا تو سجل اور اس کے والد َسے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور میں ان کے ٹکڑے کاٹ کر ایک ایک بھیجنا شروع کر دوں گا۔ اب اگر تم باز نہ آئے پولیس کو خبر کرنے سے تو میں ایک ایک انگلی سمپل کے طور پر بھیج سکتا ہوں اور میں جو کہتا ہوں پورا کرتا ہوں اور رحم بھی نہیں کھاتا کیونکہ میں کنوارہ ہوں اور میرے لیے رونے والا کوئی نہیں۔ اس لیے میں دنیا کو رلاتا ہوں۔ اب بولو سمپل بھیجوں۔ احد نے سپیکر آن کیا ہوا تھا۔ سب مرد ایک ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے عورتوں اور بچوں کو ایک کمرے میں رکھا تھا تاکہ وہ اموشنل ہو کر کوئی گڑ بڑ نہ کر دیں۔ ان کی حفاظت کے لیے باہر گارڈ مقرر تھے۔ گھر اور گھر کے باہر بھی پولیس کا پہرہ تھا۔
احد نے تڑپ کر کہا کہ ہمیں مال و دولت سے پیار نہیں خدارا میری سجل کو کچھ مت کرنا بس تم اپنی ڈیمانڈ بتاو۔ اس نے کہا کہ مجھے فرق نہیں پڑتا تم پولیس لے بھی آو۔ میں سجل کے باپ کے گھر موجود ہوں۔ اگر تم کچھ ایسا کرو گے تو میں اپنی جان جاتی دیکھ کر ان کو ٹکڑوں میں ماروں گا۔ مجھے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں۔ احد نے کہا پلیز جیسا تم چاہو گے ویسا ہی ہو گا۔ بھروسہ رکھو اور اپنی ڈیمانڈ بتاو۔ اس نے کہا کہ میری اگلی کال کا انتظار کرو۔ علی غصے سے بولا میں اسے جان سے مار دوں گا اگر میری بہن اور باپ کو کچھ کیا۔ نیلم کے شوہر نے دونوں کو کول کیا اور سمجھایا کہ غصہ دیکھانے سے وہ ان دونوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔
امجد بٹ کا فون آیا اس نے فوری طور پر دو کروڑ لانے کا حکم دیا۔ احد کو کل تک کاوقت دیا۔ احد نے رات 9بجے رات تک پہنچانے کا وعدہ کر لیا۔ اس نے رات کا وقت اس لیے مقرر کیا تاکہ کارروائی میں آسانی ہو۔
امجد بٹ سجل کو گھر لے گیا اپنے گھر کو اتنے سال بعد دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گی۔ دل میں خواہش جاگی کاش میرے ڈیڈ بھی اس گھر میں موجود ہوتے۔ اس نے اسے لا کر گھر کے تحہ خانے میں دھکا دیا اور بولا رہ اپنے باپ کے ساتھ۔ وہ ایک دری پر آنکھیں موندے سیدھے لیٹے تھے شور سے انکھ کھولی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اس کے ڈیڈ کمزور اور قدرے بوڑھے لگ رہے تھے جبکہ سجل بچے کی پیدائش کے بعد تھوڑی موٹی ہو گئی تھی کچھ دیر کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ امجد بٹ تیزی سے باہر نکل آیا۔ سجل دوڑ کر باپ کے گلے لگی۔ اس کی ضعیف بازو بھی اس کے لئے کھل گئی تھی۔ سجل بہت اونچی اونچی آواز میں چیخ چیخ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ اس کی چیخیں اتنی بلند تھی کہ پوری حویلی میں گونج رہی تھی۔ لگتا تھا کہ آج وہ اپنی آہیں اور فریاد عرش تک پہنچانا چاہ رہی تھی۔ اس کے باپ کی بھی دکھ بھری چیخیں بلند تھیں۔ لگتا تھا آج وہ رو رو کر سب غم دھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کافی دیر وہ روتے رہے اور نڈھال ہو گئے۔ بڑی مشکل سے باپ نے اس کی ماں کا پوچھا اس نے آہستہ سے کہا وہ ٹھیک ہیں۔ تو اس کے باپ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اسے چومنے لگا اس نے بھی باپ کے کمزور سے ہاتھوں کو چوما۔
امجد بٹ کا سب سے خاص آدمی اس تحہ خانے پر مقرر تھا اس کے دل میں سجل کو امجد بٹ کو بےدردی سے گھسیٹتے دیکھ کر اور اندر سے ان کی دکھ سے بھری فریادی چیخوں کو سن کر رحم کا جزبہ امنڈ آیا۔ اور اس کے دل میں خوف خدا پیدا ہو گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.