Niyat Be-Naqaab
Episodes
امجد بٹ سجل کے پاس آیا اور بولا وہ تمھارا مالک جن کے گھر تم جس کے بچے کی آیا تھی وہ کل تمھیں چھڑوانے کے لیے دو کروڑ لے کر آ رہا ہے۔ لگتا ہے تم سے بہت پیار کرتا ہے۔ میں نے تو زیادہ مانگنے تھے مگر اس سے اتنی جلدی اس سے زیادہ کا انتظام نہیں ہو پاتا۔ اور میری دوبئی میں پرسوں کلاہنٹ کے ساتھ میٹنگ ہے۔ اس سے واپس آ کر میں اس گھر کے کاغذات نکلواوں گا۔ اور یہ گھر اپنے نام کراوں گا۔ بڑی مشکل سے تم ملی ہو۔ اتنے سال تم لوگوں کو ڈھونڈتا رہا۔ اتنے میں اس بڈھے سے کام نکلواتا رہا۔ اس کو بلیک میل کرتا رہا کہ تمھاری بیوی اور بیٹی میرے پاس ہے۔ پولیس کو خبر کی تو انہیں مار دوں گا۔ جہاں اس کی آفس میں ضرورت پڑتی لے جاتا۔ اس کے بیٹے علی سے لایو کال آفس سے کھبی گھر کے بیڈروم وغیرہ سے کرواتا۔ میں گھر بھیدی ہو گیا تھا۔ مجھے علم ہو چکا تھا کہ تمھاری ماں کی کوئی لڑائی وغیرہ ہوئی ہے اور اس نے گاوں والوں سے ناطہ توڑا ہوا ہے۔ اور سوتیلے بیٹے کو بھی گھر آنے نہیں دیتی۔ بس تمھارے باپ سے اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے کہلواتا کہ ادھر مت آنا میری بیوی پسند نہیں کرتی۔ تم لوگ میرا گھر خراب نہ کرنا۔ وہ شریف اور غیرت والے لوگ کھبی نہ آے۔ بیٹا آفس ملنے آنا چاہتا تو میں ان سے کہلواتا کہ بیوی نے ادھر بھی کیمرے لگواے ہوئے ہیں۔ اگر اسے پتہ چلا تو اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی جان بھی دے گی ساتھ میں سجل کو بھی مار دے گی۔ مجھے یہ باتیں جو کھبی اس عورت نے ایک بار غصے میں ان سے کہی تھی میرے لئے فاہدے مند ثابت ہو گئی یہ سب باتیں ادھر کے ملازمین سے معلوم ہوہیں۔ جن کو میں نے خرید لیا تھا چند ٹکوں کے عوض۔ اتنی غربت ہے کہ غریب لوگ دو ہزار کے لیے بچہ اغوا کر کے بردہ فروشوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر وہ سجل سے بولا گھر کے کاغذات کہاں ہیں۔ بھاگنے اور سیف خالی کر کے خالی چابی مجھے دینے کا آہیڈیا تمھارا ہی ہو گا ورنہ وہ تمھاری سیدھی سادی ماں اتنا نہیں سوچ سکتی۔ ویسے کمال ہے کہ تم نے مجھ جیسے شاطر انسان کو بھی بے وقوف بنا لیا۔ میں نے تمھارے باپ کو مارنے کا ڈرامہ کیا تھا۔ اس کو بےہوش کیا اس کا مصنوعی پیٹ بنایا۔ اس کی ناک میں روئی دی تاکہ تم دونوں کو لگے کہ یہ واقعی لاش ہے۔ اس لیے تمہیں قریب بھی نہیں آنے دیا کہ پیٹ پھٹ جائے گا۔ مگر تم تو مجھ سے بھی تیز نکلی۔ شاید تم نے میری فون پر بات کرتے رات کو سن لی تھی۔ مجھے کچھ محسوس ہوا تھا پھر میں نے اپنا وہم سمجھا۔ واقعی تم بہت سمجھدار ہو۔ نقدی اور مکان کے کاغذات اور زیورات کے بنک کے سیف کی چابی۔ واہ بای واہ۔ کیا دماغ پایا ہے۔ کاش مجھے تم جیسے دماغ والی بےایمان لڑکی مل جاتی تو مجھے اتنی محنت ہی نہ کرنی پڑتی۔ تمہیں آفر دوں پر مجھے پتا ہے تم کھبی نہیں مانو گی۔
سجل جو غم اور تھکن سے ندھال تھی۔ سجل نے آہستہ سے کہا کہ مجھے منظور ہے۔ وہ حیران ہوا تو سجل نے کہا کہ وہ باپ کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی۔ باپ نے گرج کر کہا پاگل ہو گئی ہو کیا۔ وہ دکھ اور افسوس سے بولی۔ ڈیڈ اس دنیا میں شریف اور غریب کی کوئی زندگی نہیں۔ مجھ پر یہ بیت چکی ہے۔ حقدار کو اس کا حق نہیں کوئی دیتا جب تک اس سے چھینو نہ۔ آپ نے اتنے سال شرافت دکھا کر کیسی ازیت بھری زندگی گزاری۔ آپ اگر انکل سے معاہدہ کر لیتے تو ایسے کئی گھر آپ کے پاس ہوتے۔ میں اب بےواقوفی کر کے اپنی اور والدین کی زندگی عزاب میں نہیں ڈال سکتی۔ بس آپ میری عزت پر آنچ نہ آنے دیں تاکہ میرے والدین کو سکون رہے۔ اور یہ مجھے آپ کے ساتھ کام کرنے دیں۔ بولیں میری شرط منظور ہے۔
امجد بٹ بولا لگتا ہے کہ تم مجھے بےوقوف سمجھتی ہو۔ جو مجھے الو بنانے کی کوشش کر رہی ہو۔ وہ بولی میں جانتی تھی کہ آپ میرا یقین نہیں کریں گے مگر آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس طرف میرا دھیان دلوایا۔ اور میں اب پچھتا رہی ہوں کہ میں اتنے برس اپنی ماں کو غربت کی چکی میں پیستی رہی۔ میری ماں جن چیزوں کی عادی نہ تھی میں عادی نہ تھی۔ وہ سب کرنا پڑا۔ سستے کپڑے سستی پلاسٹک کی جوتی۔ روکھا سوکھا کھانا۔ وہ بھی بمشکل پورا ہوتا تھا۔ دوسروں کے آگے نوکر بن کر رہنا اور زلیل ہونا پڑا۔ کاش میں اس گھر سے نہ نکلتی۔ ادھر ہی آپ کے ساتھ مل کر اس کام کو آگے بڑھاتی۔ آپ جو کرتے ہیں ٹھیک کرتے ہیں یہ دنیا ہے ہی اسی قابل۔ آپ نے میری عقل کو استعمال کرنے کا شعور دیا ہے شکریہ آپ کا۔
سجل کے باپ کی آنکھوں میں اس کے حالات سن کر آنسو آ گیے۔ سجل نے کہا کہ فرض کریں میں انکل جی کی بات نہیں مانتی ہوں اور شرافت کی زندگی گزارنے کا عہد کرتی ہوں تو ڈیڈ جانتے ہیں ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔ انکل ہمیں ازیت دینے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گے۔ اور ہماری زندگی جہنم بن جائے گی۔ اتنے سال شرافت کی زندگی گزار کر کتنی ازیت میں زندگی بسر کی ہے۔ وہی اگر آپ انکل کے ساتھ مل کر کام کرتے تو ہم بھی آپ سےجدا نہ ہوتے۔ اور خوشحالی بھری زندگی گزارتے۔ ڈیڈ مجھ میں اب اور ازیت سہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ پلیز آپ مان جائیں۔ امجد بٹ شش وپنج میں پڑ گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.