Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 28

From Niyat Be-Naqaab - Episode 28

امجد بٹ بولا کیا تم واقعی تیار ہو۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی۔ انکل میں خود کو اور والدین کو ازیت اور تکلیف والی زندگی میں نہیں دیکھ سکتی۔ ہم لوگ ان چیزوں کے عادی نہ تھے۔ پلیز آپ مجھے اپنے ساتھ شامل کر لیں۔ ٹھیک ہے اس کے لیے مجھے تمھارا ٹیسٹ لینا ہو گا۔ جی میں تیار ہوں۔

سجل کا باپ روتے ہوئے چیج کر بولا ہم نے کھبی حرام کا لقمہ نہ خود کھایا نہ اپنی فیملی کو کھلایا۔ اور اس میں بھی بہت برکت اور سکون رہا۔ اس سے اچھا تھا کہ تم مجھے ملتی ہی نہ۔ وہ غم اس غم سے کم تھا۔ وہ رونے لگا۔ ڈیڈ اچھا آپ چپ تو کریں۔ امجد بٹ کو اشارہ کیا کہ وہ راضی ہے۔ پھر باپ کے پاس آئی اور بولی اچھا نہیں کرتی۔ وہ اس سے ناراض ہو کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ اس نے پھر امجد بٹ کو اپنے راضی ہونے کا اشارہ کیا۔ وہ کمرے سے باہر چلا گیا وہ بولی کچھ نہیں بس باپ کے ساتھ گلے لگی رہی۔ وہ سپاٹ ہی رہا۔ سجل نے اسے اپنی شادی کی اور اس کے بعد کے سب حالات سناے۔ وہ روتے ہوئے بولا۔ میں نے تم ماں، بیٹی کو بہت لاڈلا رکھا ہوا تھا۔ برا ہو اس امجد بٹ کا جس نے ہماری ہنستی بستی زندگی کو آگ لگا دی اور تم اس کا ساتھ دینا چاہتی ہو۔ دشمن کا۔ سجل شکوہ بھری نظروں سے بولی کیا آپ کو اپنے خون پر بھروسہ نہیں۔ میں اس تحہ خانے میں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتی نا۔

باپ ڈر کر بولا وہ بہت خطرناک اور بے رحم انسان ہے۔ رسک تو لینا ہی پڑے گا نا۔ ادھر کون سا اچھا سلوک ہو رہا ہے۔ باپ نے سمجھایا۔ اس کے کارندے کتوں کی طرح سارے گھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ تسلی دیتے ہوئے بولی آپ فکر نہ کریں بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں وہ جلد ہمیں اس مشکل سے نکالے گا اور توبہ استغفار کرتے رہیں شاید بن مانگے اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا تو شاید وہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ غریب بھی انسان ہیں۔ باپ نے اقرار کیا کہ واقعی تم ٹھیک کہتی ہو۔ اچھا میرے نواسے کی سناو۔ کیسا ہے۔ نہ جانے کب ملوں گا۔ جلد ہی ملیں گے انشاءاللہ۔ وہ اس وقت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پھوپھو اور دادی اسے اچھی طرح سنبھال رہی ہوں گی۔ وہ مجھے مس کر رہا ہو گا مجھ سے سب سے زیادہ مانوس تھا۔ باپ نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور فخر کرتے ہوئے کہا کہ تم نے کم عمری میں ہی بہادری سے مقابلہ کیا اور فرمانبردار اولاد ہونے کا حق ادا کیا۔ خود آیا بنی رہی مگر ماں کو نہ بننے دیا اس کو بیمار بتاتی رہی۔ شاباش میری بیٹی۔

سجل دلار سے بولی۔ ڈیڈ ہماری مالکن خالہ رشیدہ ویسے تو لالچی عورت تھی مگر مشکل پڑے تو ساتھ خوب دیتی تھی۔ میں تو کالج اور پھر جاب پر چلی جاتی تھی تو وہ موم کی بہت ہیلپ کرتی ان کو اس نے سارا کام سکھا دیا۔ برتن، ہاتھ سے کپڑے دھونے، صفائی، ہنڈیا روٹی۔ غرض ماں کو تو اب مکی کی روٹی اور ساگ پکانا بھی آ گیا ہے نماز روزہ اور ختم وغیرہ بھی پڑھتی ہیں۔ جب ساگ وغیرہ پکاتی تھی تو دادو کی روح کو اسپیشل ثوابِ پہنچاتی تھی کہ ان کو پسند تھا اور مزے کی بات ہے کہ ان کی برسی پر خاص اہتمام کرتی تھی اور ان کے ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کرتیں۔ محلے داری نظام سیکھ گی تھی اور خوش بھی رہتی تھی۔ سب سے اخلاق سے ملتیں۔ باپ سن سن کر مسکرا کر آنکھیں صاف کر رہا تھا۔ سجل نے کہا کہ ڈیڈ بس بہت رو لیا اب نہیں رونا۔ اور پیٹ بھر کر کھانا بھی کھانا ہے۔ تاکہ دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر اس کو تھپکی دی اور کہا کہ تم حوصلہ نہیں ہارتی۔ بلکہ دوسروں کو بھی حوصلہ دیتی ہو۔ شاباش میری جان۔ تم نے میری بھی ہمت بندھا دی۔

علی نے امجد بٹ کی ساتھی لڑکی سے معلومات لیں اور پتہ چلا کہ وہ اکثر ایک عورت کے پاس زیادہ جاتا تھا۔ وہ بھی ایک بار اس کے ساتھ تھی۔ اس جگہ وہ لوگ پہنچے تو ایک عورت ملی زرا دھمکانے پر اس نے سب اگل دیا کہ امجد بٹ ان کا محلے دار تھا اور اسے پسند کرتا تھا مگر وہ آوارہ تھا گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اور کر دی۔ جلد وہ بیوہ ہو گی اور امجد بٹ اس کی کفالت کرنے لگا۔ اور اس کے ساتھ ناجائز تعلقات بھی استوار رکھے۔ مگر شادی نہ کرتا کہ وہ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا۔ اس میں سے ایک ناجائز بیٹی ہے۔ اس کو اس کا علم نہیں ہے میں نے بھی ڈر کر نہیں بتایا۔ بیٹی کو جب پتا چلا کہ وہ ناجائز اولاد ہے تو وہ انتقاماً غلط رستے پر چل پڑی۔ وہ باپ کو سبق سکھانا چاہتی ہے۔ وہ اسے ساتھ لے آے۔ اس کا DNA ٹیسٹ کروایا۔ اب پلان کے مطابق رات کو پیسے لے کر جانے تھے۔

علی نے ماہر لوگوں کو امجد بٹ کے ملازمین کی وردی میں ٹیم بنا کر تیار کیا اور چھپ کر وہاں پہنچ گئے۔ علی گیٹ کی طرف آیا تو گیٹ پر ملازم نے حیرت سے اسے دیکھا۔ علی نے رعب سے کہا میں اس ٹیم کا باس ہوں میں گھر کے باہر ڈیوٹی دے رہا تھا جاو ادھر دیکھو کچھ گڑبڑ تو نہیں۔ وہ اس طرف گیا تو علی کے ساتھیوں نے اسے دبوچ کر بےہوش کر دیا۔ اور اسے دیوار کے ساتھ لٹا دیا۔ باقی سب بہانے سے گھر میں داخل ہو کر ٹہلنے لگے کہ لگے وہ بھی پہرہ دے رہے ہیں۔ علی کو شک تھا کہ ان کو تحہ خانے میں قید رکھا ہو گا۔ علی کے ساتھیوں نے اس کے آدمیوں کو بے ہوش کرنا شروع کردیا۔ رومال ان کے منہ پر رکھتے۔ ان کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگاتے منہ باندھتے اور لان میں لٹاتے جاتے۔ گاڑی گھر سے زرا فاصلے پر کھڑی کی تھی اور پیدل آے تھے۔ کچھ راہگیر ان کو حیران دیکھ کر گزرے۔ علی کی ٹیم تمام کارندوں کو بےہوش کر چکی تھی۔ ا

امجد بٹ احد کو دھمکی دے چکا تھا کہ کچھ بھی ہوشیاری کی تو میں سجل کو مارنے میں ایک منٹ نہیں لگاوں گا۔ ویسے بھی گھر اس کے نام ہے۔ اس لیے سوچ لینا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books