Niyat Be-Naqaab
Episodes
احد کے گھر میں اس کی شادی کے ہنگامے زوروں پر تھے۔ شادی کی شاپنگ کا سارا انتظام احد کی بڑی بہن نیلم عرف نیلو کے سپرد تھا جو حال ہی میں امریکہ سے پاکستان شفٹ ہوی تھی۔ اس کے دو بچے تھے بیٹی 9 سال کی اور بیٹا 6 سال کا تھا۔ نیلم کا گھر بن رہا تھا گھر مکمّل ہونے تک اسے والدین کے گھر رہنا تھا۔ بچے اسے بہت تنگ کرتے تھے۔ اس نے احد سے کہا کہ اسے کوئی مدد گار چاہیے جو سارا دن اس کے پاس رہے بچوں کی سنبھالنے میں مدد کرے۔ احد نے حیران ہو کر کہا آپا ڈھیر ملازم تو ہیں مگر آپا نے جواب دیا کہ اسے بچوں کو پڑھانے، کھانا کھلانے کے لیے کسی پڑھی لکھی کی ضرورت ہے۔ احد کے زہن میں سجل کا خیال آیا تو اس نے آپا سے وعدہ کر لیا۔
احد نے سجل کو آفس کمرے میں بلایا اور آپا کا مسئلہ بیان کیا مگر سجل نے معزرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی چاکری نہیں کر سکتی۔ ہم بےشک غریب ہیں مگر کھبی ایسا کام کیا نہیں۔ احد نے کہا کہ وہ یہاں سے دوگنی تنخواہ دیں گی مگر وہ پھر بھی نہ مانی۔ اس نے ڈانٹ پلاہی اس کو اس کی اوقات یاد دلائی۔ حتکہ نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی تو اس نے کہا سر میں ابھی دو منٹ میں اپنا استعفیٰ دے جاتی ہوں۔ احد کو ہوش آیا اور نرم پڑتے ہوئے بولا ٹھیک ہے مت آو جاو جا کر کام کرو۔ اس کے جانے کے نام سے احد کے دل کو چوٹ لگی۔ وہ اپنے وعدے پر قائم تھی اس کی طرف دیکھتی بھی نہ۔ نہ فالتو بات کرتی۔ اس کے آفس جواہن کرنے کے ہفتہ بعد ہی اس کی شادی تھی۔ اس کو اس کی بھوک کا خیال آیا تو سارے آفس کے لئے بریانی منگوا لی۔ مگر سجل نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ وہ لنچ گھر سے لای تھی اور کر چکی ہے۔ احد اپنی بےبسی پر دل مسوس کر رہ گیا۔ اسے ڈر تھا کہ وہ نوکری چھوڑ کر نہ چلی جائے۔ اسی وقت اس کی آپا کا فون آیا کہ وہ آفس آ رہی ہے۔ احد باہر آ گیا اور آپا اور بچوں کو لے کر اپنے کیبن میں آ گیا۔ احد نے کہا آپا وہ نہیں مان رہی۔ آپا حیران ہوئی اسے بلانے کا کہا۔ سجل اندر آی بچوں کے گال تھپکاے ان سے ہاتھ ملایا پھر آپا کو دور سے سلام کیا اور کھڑی ہو گئی۔ سر آپ نے مجھے بلایا۔ اس دوران نیلم مسلسل دیکھی جا رہی تھی۔ احد نے آپا کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ میری آپا ہیں یہ آفر دے رہی ہیں۔ نیلم تمسخر بھرے انداز میں بولی وہ اس کے فیش ایبل حلیے کو دیکھتے ہوئے بولی کیا تم بہت امیر ہو اور نوکری شوقیہ طور پر کر رہی ہو۔ احد جھٹ بولا کدھر آپا انتہائی غریب ہے خستہ حال گھر وہ بھی رینٹ پر۔ وہ حیرانی سے بولی تمھیں کیسے پتہ تب احد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور بتایا کہ اس کی طبیعت خراب تھی تو گھر چھوڑنے گیا تھا۔ آپا قدرے حیران ہوئی۔ اتنے میں سجل کے موبائل-فون پر ماں کی کال آئی کہ دوا یاد سے لے آنا۔ وہ پیسے نہ ہونے کے سبب دو دن سے ٹال رہی تھی اس نے اچھا کہا اور فون بند کر کے بولی میم آپ کو مسلے میں دیکھ کر میں نے سوچا شادی تک آپ کی ہیلپ کر دوں۔ نیلم خوش ہوتے ہوئے بولی ٹھیک ہے۔ اسے بھی یہ اکڑو لڑکی پسند آئی تھی۔ نیلم تیزی سے بولی چلو ابھی بازار چلتے ہیں صرف دو دن شاپنگ کے بچے ہیں پھر فنکشن شروع ہو جائیں گے۔ احد کو جیسے سکون مل گیا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.