Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کی ماں شوہر کے زندہ ملنے کی خوشی میں شکرانے کے نفل ادا کر رہی تھی۔ سب بہت خوش تھے۔ سجل کا باپ اپنے نواسے کو دیکھ کر نحال ہو رہا تھا۔ علی سے سجل کی ماں نے بہت معافیاں مانگی تھی۔ شوہر سے بھی اپنے رویے کی معافی مانگیں۔ اس نے کہا کہ اس میں میرا بھی قصور ہے۔ میں نے کسی رشتے کو سہی طور پر نہ نبھا سکا۔ نہ پہلی بیوی سے۔ نہ بیٹے سے۔، نہ والدین سے۔ پھر تم سے شادی کر کے تمھارے والدین کو ساتھ رکھ لیتا۔ پھر تمہیں بلکل مختلف ماحول سے لا کر گاؤں میں لے آیا۔ خود اپنی دنیا میں مگن ہو گیا اور تم سے توقعات وابستہ کر لیں اس ماحول میں رچ بس جانے کی۔ تم بھی مجھے معاف کر دو۔ مرد کو کھبی اپنی غلطی نظر نہیں آتی۔ کچھ مرد ایسے گنے چنے ہوتے ہیں جو اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کا تدارک کرتے ہیں۔ عورتوں کو بھی چاہیے کہ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
احد کے والدین نے کہا کہ ہم سجل کا باقاعدہ طور پر آپ سے رشتہ مانگیں گے اور دھوم دھام سے شادی کریں گے۔ سجل کے باپ نے کہا کہ آج تو ہم لوگ علی کے ساتھ گاوں جا رہے ہیں۔ علی کی بیوی، بچہ اور ماموں، ممانی شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ جس ماموں نے پالا تھا اس نے اپنی چھوٹی بیٹی سے علی کی شادی کر دی ہے۔ میری بیگم کی خواہش ہے کہ وہ علی کا رشتہ مانگیں پھر علی کی شادی کر کے بہو کو اپنے ساتھ رکھیں۔ جس دن علی کا ولیمہ ہو اس دن سجل کی بارات نکالیں۔ یہ دنیا کی انوکھی شادیاں ہوں گی۔ بچے بھی والدین کی شادی میں شرکت کریں گے۔ سجل کو خالہ رشیدہ کا فون آیا کہ دو ماہ ہوے اس کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا ہے اس نے ماں سے بچے کو جدا کیا۔ خدا نے اس کا بچہ جدا کر دیا۔ جو ایک لاکھ اس بچے کا کمایا تھا وہ بیٹے کی بیماری اور اس کے کفن دفن پر خرچ ہوا ہے کاش میں نے لالچ نہ کیا ہوتا۔ جس کو بچہ دیا تھا وہ فون نہیں اٹھا رہی ہے۔ سجل نے کہا کہ وہ فراڈ تھی اسے جیل ہو چکی ہے۔ اس کے گھر کا خرچہ علی اور احد اٹھا رہے ہیں۔
روبی کی شادی گارڈ سے کرا دی ہے اور گارڈ کو احد نے نوکری بھی دے دی۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.