Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 4

From Niyat Be-Naqaab - Episode 4

سجل نیلم کے ساتھ شاپنگ میں مصروف تھی واپسی پر نیلم اسے گھر ڈراپ کر دیتی اور اپنے گھر سرونٹ کوارٹر میں رہنے پر اصرار کرتی۔ سجل نہ مانتی۔ نیلم اپنے بھائی کے روہے سے پریشان رہنے لگی۔ وہ بھی ان کے ساتھ شاپنگ پر لازمی جاتا۔ پہلے نہ جاتا بلکہ بےزاری دیکھاتا۔ اب اس کی بےچینی اور سجل کی آمد پر کھل جانا اسے کھٹکنے لگا۔ وہ ساتھ ہوتی تو خوش خوش رہتا۔ اس کی جان کھاتا سرگوشی میں کہتا اس کے لئے بھی لو وہ چڑ جاتی اور اگنور کرتی۔ اسے لتاڑتی کہ ملازموں کو سر پر چڑھانے اور قیمتی تحفے لیکر دینے کی ضرورت نہیں۔ وہ بدلے میں سجل کو زلیل کرنے لگی سجل غربت کی وجہ سے مجبور تھی۔ آج شاپنگ کا آخری دن تھا سجل نے پھر اسے اپنے گھر شفٹ ہونے پر اصرار کیا کیونکہ وہ بہت سمجھدار تھی۔ ہر کام میں بہت مددگار ثابت ہوتی تھی۔

سجل آفس کے بعد دو گھنٹے پارلر میں جاب کرتی تھی۔ وہ گاڑی میں سامان رکھ رہی تھی کہ اسے پارلر والی کا فون آیا کہ وہ سال کے لئے باہر جا رہی ہے اور پارلر کا کرایہ، بلز، اور پارلر کے اندر رہاہش فری دے گی۔ ہر کسٹمر پر 20 پرسنٹ اس کا۔ پارلر والی جانتی تھی کہ وہ بہت ایماندار ہے۔ سجل خدا کا شکر ادا کرنے لگی کہ اب اسے نیلم کے آگے زلیل نہیں ہونا پڑے گا۔ وہ جانتی تھی کہ پارلر خوب چلتا ہے۔ عید کے دنوں میں بہت پرافٹ ہوتا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ آفس کی جاب سے زیادہ ہی کما لے گی پھر رہائش بھی فری ہے۔ وہ گاڑی سے اترنے لگی۔ وہ اکیلی تھی۔ کچھ فاصلے پر اسے امجد بٹ گاڑی سے نکلتا نظر آیا اس کی جان نکل گئی وہ نیچے ہو گی جب وہ اندر چلا گیا تو وہ بہت پریشان ہو گئی۔ اسے گاڑی کی طرف احد آتا نظر آیا وہ اسے بلانے آیا تھا کہ آپا بلا رہی ہیں اس نے گھبرا کر کہا سر موم کی طبیعت خراب ہو گئی ہے گھر جلدی جانا ہے وہ بولا دو منٹ آپا سے تو مل لو مگر وہ نہ مانی۔ تو اس کی پریشانی اور گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اس نے اگلا دروازہ کھولا اور وہ بھی جھٹ بیٹھ گئی۔ نیلم جو اسے بلانے آی تھی دور سے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جھٹ احد کو فون کیا کہ کدھر ہو وہ صفائی دیتے ہوئے بولا نیلو آپی وہ سجل کی ماں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اسے چھوڑنے جا رہا ہوں۔ یہ سنتے ہی نیلم غصے سے پھٹ پڑی اور زور زور سے چلا کر بولی گھر میں تمھارے سسر امجد بٹ صاحب آے ہیں اور اسے کسی ڈرائیور کے ساتھ بھجوا دیتے۔ تم اس کے ملازم ہو یا وہ تمھاری ملازمہ ہے۔ اسے گاڑی میں آگے بٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس لڑکی کی اوقات کیا ہے مجھے نخرے دیکھاتی ہے۔ اکڑ ایسے دیکھاتی ہے جیسے رہیس زادی ہو۔ تم نے اسے سر چڑھا رکھا ہے۔ اس کے دیوانے بنے پھرتے ہو ایسی لڑکیاں امیرزادوں کو پھنساتی ہیں۔ اسے نوکری سے بھی نکال دو۔ گاڑی روکو اسے رکشے میں بٹھاو اور جلدی گھر آو۔

احد نے سپیکر آن کیا ہوا تھا شرمندہ سا ہو رہا تھا۔۔ سجل نے بھرائی آواز میں کہا سر گاڑی روکیں ورنہ میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔ اس نے چلتی گاڑی سے دروازہ کھولا۔ احد نے جھٹ گاڈی روک دی۔ وہ تیزی سے اتری اور آٹو روک کر اس میں جانے سے قبل اس سے مخاطب ہو کر بولی چھوڑنے کا شکریہ۔ آج سے میں نے آپ کی آفس کی جاب چھوڑ دی ہے آپا کو خوش خبری سنا دیجئے گا اور تیزی سے آٹو میں بیٹھ گئی۔

احد جان کر لیٹ گھر پہنچا آپا کی کالیں کاٹتا رہا پھر اس نے سوہچ آف کر دیا۔ گھر پہنچا تو سب پریشان تھے مگر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ نیلم نے گھر والوں کو ساری حقیقت بتا دی۔ کوئی بات نہیں شادی ہو گی خوبصورت بیوی ملے گی تو اس کالی کا بھوت اتر جائے گا مگر ماں پریشان ہو گئی۔ اسے سجل کی عادتیں پسند آی تھی۔ احد خاموش سا ہو کر رہ گیا تھا۔ نیلم بھی اس کے لئے پریشان ہو گئی تھی۔ ساری شادی کے دوران وہ خاموش اور سنجیدہ رہا۔ سب دونوں کی جوڑی کی تعریفیں کر رہے تھے۔ دولہن کی خوبصورتی کی تعریفیں ہو رہی تھی۔ مگر احد کو اس میں کوئی حسن اور خوبصورتی متاثر نہ کر رہی تھی۔ آفس فون کر کے پوچھا تو اسے پتہ چلا تھا کہ سجل نہیں آ رہی۔ وہ بیوی کے ساتھ ہنی مون پر بھی گیا۔ وو ایک سے خوبصورت قیمتی ڈریس پہن کر آتی۔ مگر احد میں اسے کوئی خوبصورتی نظر نہ آتی۔

اسے سجل کے ساتھ گزرا وقت یاد آتا۔ جب وہ اس کے نیو مگر قدرے سستے لباس پہن کر آتی تو وہ اسے دنیا کی سب سے حسین لڑکی نظر آتی تو وہ بے خود سا ہو جاتا۔ اسے یاد آتا وہ اسے سختی سے کہتا بچہ نہیں ہونا چاہیے۔ تم جیسی معمولی ملازمہ کے بطن سے تو بالکل بھی نہیں۔ ہم خاندانی رہیس ہیں۔ اولاد بھی اپنے ہم پلہ سے ہی چاہتے ہیں۔ اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ نہ وہ اسے لبھانے کی کوشش کرتی نہ فالتو بات کرتی۔ اس سے گریزاں رہتی۔ وہ پھر بھی اس کی طرف کھنچا چلا جاتا۔ اسے اس کی قربت میں خوشی ملتی۔ وہ سوچتا کیا وہ اسے پیار کرنے لگا ہے۔ آپا نے اس کے دل کا حال کیسے جان لیا۔ جبکہ اسسے اپنے دل کا حال خود بھی معلوم نہیں تھا۔ اس کی یاد میں وہ تڑپ رہا تھا مگر مل نہیں سکتا تھا۔ اس کے دل نے آہ بھر کر خواہش کی کاش وہ غریب ہوتا تو یہ طبقاتی فرق اس کی راہ میں حائل نہ ہوتا۔ وہ اپنی شادی کو ایک روبوٹ کی طرح نبھا رہا تھا کیونکہ اسے والدین کی خواہش عزیز تھی۔ جو پہلے دن سے ہی پوتے کی رٹ لگائے ہوئے تھے اور بیوی نے ان کو جوش خبری سنا دی تھی اور وہ پاکستان کے ڈاکٹروں سے ڈلیوری نہیں کرانا چاہتی تھی۔ اس کے والدین دوبئی میں مقیم تھے وہ بہت پہلے ہی ان کے پاس جانا چاہتی تھی تاکہ ریگولر چیک اپ کرا سکے۔ ساس، سسر پوتے کی خواہش کے پیش نظر اسے بھجوانے پر راضی تھے۔ بیٹے نے بڑی مشکل سے والدین کو منایا کہ وہ اسے چھوڑ کر آ جاے گا۔ پیچھے آفس بھی دیکھنا ہے۔ پھر وہ وقفے وقفے سے جاتا رہے گا۔آج وہ اس کے ساتھ دوبئی جا رہا تھا۔ وہاں ساس، سسر نے اس کی خوب آو بھگت کی۔ اور تسلی دی کہ جب بچہ ہو جائے گا ہم اسے لیکر خود پاکستان آ جاہیں گے والدین کو بتاتے رہنا کہ میں جاتا رہتا ہوں۔ تاکہ ان کو تسلی رہے۔ تم پریشان نہ ہو بلکہ پورا دھیان اپنے بزنس کی طرف دو۔ تاکہ اس کا حرج نہ ہو۔ ہم تمھاری امانت کو بحفاظت پہنچا دیں گے آخر ہم اس کے والدین ہیں۔ ان کی باتوں سے احد مطمئن ہو کر آگیا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books