Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل بے حد پریشان تھی کہ اب وہ اس حالت میں کہاں جاے گی۔ مگر پارلر والی نے صاف کہہ دیا کہ مجھے اچھی قیمت ملی۔ میں نے فوراً دے دیا انہیں ابھی قبضہ چاہیے۔ میں نے تمھارا ٹھیکہ نہیں لیا۔ اب میں آ کر اس سے بھی بڑا پارلر کھولوں گی۔ اور پہلے کی طرح تمھیں ہیلپر رکھ لوں گی۔ میری مجبوری تھی کہ تمہیں دینا پڑا۔ شکر کرو کچھ وقت تم نے بھی میری وجہ سے اپنی حیثیت سے بڑھ کر گزار لیا۔ تم نے تو کھبی خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا جاو اب اپنی پرانی جگہ خالہ رشیدہ کے گھر۔ فکر نہ کرو میں آوں گی تو تمہیں اپنے پارلر میں نوکری دے دوں گی۔ ویسے تم ایمان دار ہو۔ مجھے بھروسہ تھا کہ تم اسے اپنا سمجھ کر حفاظت سے رکھو گی۔ تبھی تمھیں 20 پرسنٹ کا شیر دیا۔ ویسے تم نے اسے خوب چلایا۔ اتنا تو میں بھی نہ کما سکی تھی جتنا تھوڑے عرصے میں تم نے کما کر دیا۔ تب ہی تو میں اتنا پیسہ جمع کر پائ ہوں۔ دور دور تک تم نے اس کی شہرت بڑھا دی۔ میں آوں گی تو تمھیں زیادہ تنخواہ پر رکھوں گی۔ مگر ابھی میں تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔ تم شرافت سے انہیں چابی دے دینا۔ ورنہ وہ تمھارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ وہ تمسخر سے مسکرا تے ہوئے بولی ویسے تمھارا سامان ہے ہی کتنا چار چیزیں۔ اسکا قہقہہ بلند ہوا۔ سجل نے غصے سے چیخ کر اسے کہا میں تمھارے پارلر پے لعنت ڈالتی ہوں۔ وہ غرور سے بولی جب بھوکی مرو گی خود ہی آو گی۔ سجل نے کہا کہ تمھارا غرور تمھیں ایک دن تباہ کر دے گا اور غصے سے فون بند کر دیا۔ وہ خالہ رشیدہ کو فون ملانے لگی۔
خالہ رشیدہ کے لئے تو وہ سونے کی چڑیا تھی۔ وہ اس کا بہت خیال رکھنے لگی تھی کہ بچہ ٹھیک رہے۔ وہ اسی پرانے کمرے میں شفٹ ہو گئے تھے۔ سجل نے ایک بہت خوبصورت بچے کو جنم دیا جو باپ کی طرح گورا چٹا اور خوبصورت تھا۔ اللہ کے کرم سے بغیر آپریشن کے نارمل ڈلیوری تھی۔ مگر خالہ رشیدہ نے احد کی بیوی کو بڑا آپریشن بتایا تھا اور بڑا خرچہ مانگا تھا۔ احد کی بیوی نے کہا کہ ایک ہفتے بعد آ کر لے جائے گی۔ احد کی بیوی نے احد کے گھر والوں کو جنم کا بتا دیا تھا اور نارمل ڈلیوری بتای تھی۔ اور کہا کہ زرا سفر کے قابل ہو جائے تو آ جاے گی۔ وہ وہاں اس کی شاپنگ میں لگ گئ تاکہ سسرال والے خوش ہوں۔ وہ لوگ خوشیاں منا رہے تھے ادھر سے خالہ رشیدہ اس کی تصویریں بھجوا رہی تھی۔ احد اور سسرال والے دوبئی آنا چاہ رہے تھے مگر احد کی بیوی نے بڑے پریم سے روک دیا کہ وہ خود آ کر دیکھانا چاہتی ہے۔ نیلم اب سجل کو روز فون کرتی کہ تم ابھی آ جاو بھابھی آنے والی ہے۔ مگر اس نے صاف کہہ دیا کہ ابھی موم کی طبیعت خراب ہے۔ احد کی بیوی آے تو میں اسی دن آ جاوں گی۔ نیلم نے سوچا اس کی اکڑ بھی کمال ہے۔ پھر دل میں خود ہی تاہید کرتے سوچا وہ خود بھی تو کمال ہے کاش وہ ہماری ہم پلہ ہوتی۔ احد کی بیوی ہوتی اور یہ اس کا بچہ ہوتا تو وہ کتنے خوش قسمت ہوتے۔ اس نے دکھ سے سوچا کہ ایک احد کی بیوی ہے سواے خوبصورتی اور ہم پلہ ہونے کے کوئی خوبی نہیں۔ سب اس سے بےزار تھے۔ احد بھی خوش نہ تھا اس کا اندازہ گھر والوں کو تھا مگر آتے ہی اس نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر دے کر سب کو مجبور اور خوش کر دیا تھا۔ اب وہ ان کو پوتے کے لیے ترسا رہی تھی۔ انہوں نے اس کی تصویروں کو بڑا کروا کر سارے گھر میں لگا دیا تھا۔
احد خوش بھی اور دکھی بھی تھا۔ اسے سجل بری طرح یاد آ رہی تھی اس کے دل میں خوہش جاگی تھی کہ کاش یہ بچہ سجل کا ہوتا۔ وہ پچھتانے لگا کہ اگر وہ اپنی شادی ظاہر کرتا پھر شاید گھر والے اسے بچے کی خاطر اپنا لیتے۔ وہ رسک تو لیتا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ سجل سے شدید محبت کرنے لگے گا۔ کیا وہ بھی اسے پیار کرتی ہو گی۔ مگر وہ تو اسے لفٹ ہی نہیں دیتی تھی۔ جب وہ آفس کے حال میں انٹر ہوتا تھا تو بغیر دھیان دیے تیزی سے گزر جاتا تھا لڑکیاں اسے لفٹ لینے کے لیے ترستی تھیں اسے لبھانے کی کوشش کرتیں۔اسے ان لڑکیوں پر بہت غصہ آتا تھا۔ وہ ینگ تھا ہینڈسم تھا آفس کا اونر تھا۔ اس کی زندگی میں داخل ہونے کے لیے ترستی تھیں مگر وہ کسی لڑکی کی طرف دھیان نہیں دیتا اپنے کام کو فوکس کرتا۔ وہ دو ہی بہن بھائی تھے۔ باپ نے اسے اعلیٰ تعلیم دلائی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد باپ نے اس کی قابلیت دیکھتے ہوئے اسے اپنے بزنس میں شامل کر لیا۔ وہ تعلیم کے دوران بھی بزنس میں دلچسپی لیتا اور مشورے دیتا جو باپ کے لیے کارآمد ثابت ہوتے۔ جلد ہی اس نے سارا کاروبار اچھے طریقے سے سنبھال لیا اور جلد ہی خوب ترقی دی۔ باپ بھی مطمئن ہو کر اس کے پرزور اصرار پر گھر بیٹھ گیا۔ باپ نے اسے جلد شادی کرنے اور اس کے بچوں سے وقت گزارنے کا اصرار کیا۔ باپ نے واضع الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ اگر تم لڑکی پسند کرتے ہو تو شرط یہ ہے کہ کہہ وہ اعلیٰ خاندان سے ہو۔ اور ہمارے ٹکر کی ہو۔ ورنہ قبول نہیں۔ اسے ابھی تک کوئی لڑکی پسند نہ آئی تھی اس لئے اس نے والدین کو یہ فریضہ سرانجام دینے کی زمہ داری سونپ دی۔
اتفاق سے ایک ریسٹورنٹ میں احد کے والد کو اپنا پرانا کلاس فیلو مل گیا۔ وہ ان کا دوست تو نہ تھا۔ مگر احد کا باپ پرانی شناسائی پر خوش ہوا۔ پھر کچھ امجد بٹ نے اندازہ لگا لیا کہ وہ شریف اور خاندانی لوگ ہیں اس نے انہیں شیشے میں اتارنا شروع کیا۔ ساتھ بیٹھی خوبصورت لڑکی کا بیٹی کہہ کر تعارف کروایا۔ اپنے بزنس کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اپنی بیٹی کے لئے کسی خاندانی رشتے کی فکر کا بھی اظہار کر دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کے بہت رشتے آ رہے ہیں مگر وہ انجان لوگ ہیں آجکل بہت فراڈ چل رہا ہے اس لئے وہ ڈرتا ہے ساتھ ہی ان کو گھر آنے کی دعوت دے دی۔
گھر بہت بڑا اور خوبصورت تھا۔اس گھر کی سجاوٹ میں سلیقہ نمایاں تھا۔ نیلم بھی ساتھ تھی۔ سب بہت متاثر ہوئے۔ کیونکہ وہ ان کے گھر سے بھی بڑا تھا۔ امجد بٹ کی بیوی بھی بڑھ چڑھ کر بیٹی کی تعریفیں کر رہی تھی۔ کہ یہ سب اس کی بیٹی کا شوق ہے۔ گھر احد کے گھر سے بھی بڑا اور خوبصورت تھا۔ احد کے والد نے ادھر ہی سب سے راے لیکر ہاں کر دی۔ احد نے والدین کی خوشی اور جوش کو دیکھتے ہوئے رضامندی دے دی۔ نیلم تو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔ بار بار بھائی کو چھیڑ رہی تھی۔ امجد کا پلان کامیاب ہو رہا تھا وہ بہت خوش تھا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.