Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کہتی موم میں اپنے کلیجے کے ٹکڑے کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتی۔ اب احد کے گھر والے چاہے مجھے جوتی کی نوک پر رکھیں۔میں اب اپنے شہزادے کی آیا بن کر رہوں گی۔ ساری زندگی اس کے ساتھ ان کے گھر گزار دوں گی۔ میری زندگی کو ایک مقصد مل گیا ہے۔ اب سامان پیک رکھو ہم ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ جوں ہی احد کی بیوی بچہ لینے آئے گی۔ ہم بھی پیچھے ساتھ ہی چل پڑیں گے۔
احد کے گھر والے شدت سے انتظار کر رہے تھے مگر وہ انہیں بڑے پیار سے کہتی۔ میں چند دن تک اچانک آوں گی۔ ایر پورٹ پر سے پاپا کے ساتھ خود ہی آ جاوں گی۔ یہ میری خواہش ہے کہ میں ایسا کروں۔ گھر والے اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے۔ وہ دراصل اپنے دوبئی میں اپنے معمولات سے فارغ ہو کر جانا چاہتی تھی۔ اب وہ فارغ ہو کر رشیدہ کو فون کر کے لینے جانے لگی تھی۔ بچے کو دینے کی ساری تیاری مکمل تھی۔
سجل نے نیلم کو فون کیا کہ میری موم کی طبیعت اب کافی بہتر ہے اور میں کیا آج ہی آ جاوں۔ وہ آزردہ سی بولی پتہ نہیں بھابھی اچانک کب آ جاے۔ سجل نے پھر پوچھا ویسے کب تک امید ہے وہ زور سے بولی کچھ پتا نہیں تم نے آنا ہے تو آ جاو۔ پھر جھٹ فون بند کر دیا۔ اس نے احد کی بیوی کا غصہ اس پر نکال دیا۔ سجل کی ماں پاس کھڑی سب سن رہی تھی روندھی ہوئی آواز میں آنسو صاف کرتے ہوئے بولی میری شہزادی تو کب تک زلیل ہوتی ریے گی۔ وہ ماں کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولی موم میری خیر ہے بس آپ کو کوئی زلیل نہ کرے۔ آپ نے ادھر آیا گیری نہیں کرنی۔ ادھر میں نے یہ مشہور کیا ہے کہ آپ بہت بیمار ہیں کام کاج نہیں کر سکتیں۔ ورنہ وہ آپ کو بھی اپنی مفت کی آیا بنا لیں گے۔ ان کے سامنے میں آپ کو پکڑ کر کمرے میں لے کر جاوں گی۔ آپ نے اپنے پورشن سے باہر نہیں آنا۔ میں کھانا دینے اور دیکھ بھال کے بہانے آپ کے پاس چکر لگاتی رہوں گی۔ آخر اس ظالم امجد بٹ سے بھی تو بچنا ہے۔ میں اس کی نظر سے بچنے کی کوشش کروں گی۔
احد کے گھر والوں نے پوتے کی سیفی کے لئے پورے گھر میں خفیہ کیمرے نصب کر دیئے۔ تاکہ ملازمین پر بھی نظر رکھی جا سکے۔ احد نے جب سجل کو گھر میں دیکھا تو اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا۔ وہ بے اختیار بولا تم؛ سجل نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے کہا کہ سر اسلام علیکم میں نے سوری آپ کے آفس کی جاب چھوڑ کر ادھر نوکری کر لی ہے ایک تو یہاں سب بہت اچھے ہیں دوسرے میری موم اب ہر وقت میرے قریب ہوں گی اور گھر والا ماحول بھی ملے گا۔ پھر چھوٹے سر کی دیکھ بھال کے لئے نیلم میم نے مجھے رکھا ہے۔ اب میں ساری زندگی اس کی آیا بن کر گزار دوں گی۔ وہ خوش ہو کر بولا تمھاری مدر کہاں ہیں تم لوگوں کی رہائش کدھر ہے۔ نیلم جو بھائی کے تاثرات دیکھ اسے بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کر اندر سے برہم ہو رہی تھی۔ احد ظاہر ہے ان کی رہائش سرونٹ کوارٹر میں ہو گی نا کہ اس کوٹھی میں۔ احد اندر چلا گیا اسے بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی جاہز بیوی ہے۔ اس کا بھی اس گھر پر اتنا ہی حق ہے۔ مگر وہ طبقاتی فرق کی وجہ سے اسے اپنا نہیں سکتا نہ ہی اس کا جائز مقام اسے دے سکتا ہے۔ اسے اس فرق اور معاشرتی رویوں سے نفرت محسوس ہونے لگی۔ اس نے سجل کے جانے کے بعد غریبوں سے رویہ بہتر کر لیا تھا وہ اکثر اب نیلم کو ٹوک دیتا تھا کیونکہ وہ سجل کے لیے پل پل تڑپا تھا۔ وہ اس بات سے مطمئن ہو گیا تھا کہ اب وہ کم از کم اس کے سامنے تو رہے گی۔ اب اس نے دل میں ٹھان لیا کہ اب وہ اس کا جاہز مقام دلا کر رہے گا اور وہ اٹھ کر اس کی ماں سے ملنے سرونٹ کوارٹر میں چلا گیا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران اور خوش ہوی۔ اس نے احد سے کہا کہ ہم ادھر تمھاری شادی شدہ زندگی کو برباد کرنے نہیں آے نہ ہی کوئی حق جتاہیں گے تم بھروسہ رکھو۔ ہم دو بےبس عورتوں کو ایک محفوظ چھت کی ضرورت تھی۔ میری بیٹی جوان ہے باہر دنیا بہت ظالم ہے۔ میری بیٹی اب ساری زندگی تمھارے بیٹے کی اور تمہارے گھر والوں کی خدمت میں گزار دے گی اور کچھ نہیں مانگے گی۔ وہ اسے ہاتھ پکڑ کر تسلی دے کر بولا آپ تسلی رکھیں اب اسے اس گھر سے کوئی نکال نہ سکے گا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.