Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 8

From Niyat Be-Naqaab - Episode 8

سجل کہتی موم میں اپنے کلیجے کے ٹکڑے کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتی۔ اب احد کے گھر والے چاہے مجھے جوتی کی نوک پر رکھیں۔میں اب اپنے شہزادے کی آیا بن کر رہوں گی۔ ساری زندگی اس کے ساتھ ان کے گھر گزار دوں گی۔ میری زندگی کو ایک مقصد مل گیا ہے۔ اب سامان پیک رکھو ہم ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ جوں ہی احد کی بیوی بچہ لینے آئے گی۔ ہم بھی پیچھے ساتھ ہی چل پڑیں گے۔

احد کے گھر والے شدت سے انتظار کر رہے تھے مگر وہ انہیں بڑے پیار سے کہتی۔ میں چند دن تک اچانک آوں گی۔ ایر پورٹ پر سے پاپا کے ساتھ خود ہی آ جاوں گی۔ یہ میری خواہش ہے کہ میں ایسا کروں۔ گھر والے اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے۔ وہ دراصل اپنے دوبئی میں اپنے معمولات سے فارغ ہو کر جانا چاہتی تھی۔ اب وہ فارغ ہو کر رشیدہ کو فون کر کے لینے جانے لگی تھی۔ بچے کو دینے کی ساری تیاری مکمل تھی۔

سجل نے نیلم کو فون کیا کہ میری موم کی طبیعت اب کافی بہتر ہے اور میں کیا آج ہی آ جاوں۔ وہ آزردہ سی بولی پتہ نہیں بھابھی اچانک کب آ جاے۔ سجل نے پھر پوچھا ویسے کب تک امید ہے وہ زور سے بولی کچھ پتا نہیں تم نے آنا ہے تو آ جاو۔ پھر جھٹ فون بند کر دیا۔ اس نے احد کی بیوی کا غصہ اس پر نکال دیا۔ سجل کی ماں پاس کھڑی سب سن رہی تھی روندھی ہوئی آواز میں آنسو صاف کرتے ہوئے بولی میری شہزادی تو کب تک زلیل ہوتی ریے گی۔ وہ ماں کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولی موم میری خیر ہے بس آپ کو کوئی زلیل نہ کرے۔ آپ نے ادھر آیا گیری نہیں کرنی۔ ادھر میں نے یہ مشہور کیا ہے کہ آپ بہت بیمار ہیں کام کاج نہیں کر سکتیں۔ ورنہ وہ آپ کو بھی اپنی مفت کی آیا بنا لیں گے۔ ان کے سامنے میں آپ کو پکڑ کر کمرے میں لے کر جاوں گی۔ آپ نے اپنے پورشن سے باہر نہیں آنا۔ میں کھانا دینے اور دیکھ بھال کے بہانے آپ کے پاس چکر لگاتی رہوں گی۔ آخر اس ظالم امجد بٹ سے بھی تو بچنا ہے۔ میں اس کی نظر سے بچنے کی کوشش کروں گی۔

احد کے گھر والوں نے پوتے کی سیفی کے لئے پورے گھر میں خفیہ کیمرے نصب کر دیئے۔ تاکہ ملازمین پر بھی نظر رکھی جا سکے۔ احد نے جب سجل کو گھر میں دیکھا تو اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا۔ وہ بے اختیار بولا تم؛ سجل نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے کہا کہ سر اسلام علیکم میں نے سوری آپ کے آفس کی جاب چھوڑ کر ادھر نوکری کر لی ہے ایک تو یہاں سب بہت اچھے ہیں دوسرے میری موم اب ہر وقت میرے قریب ہوں گی اور گھر والا ماحول بھی ملے گا۔ پھر چھوٹے سر کی دیکھ بھال کے لئے نیلم میم نے مجھے رکھا ہے۔ اب میں ساری زندگی اس کی آیا بن کر گزار دوں گی۔ وہ خوش ہو کر بولا تمھاری مدر کہاں ہیں تم لوگوں کی رہائش کدھر ہے۔ نیلم جو بھائی کے تاثرات دیکھ اسے بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کر اندر سے برہم ہو رہی تھی۔ احد ظاہر ہے ان کی رہائش سرونٹ کوارٹر میں ہو گی نا کہ اس کوٹھی میں۔ احد اندر چلا گیا اسے بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی جاہز بیوی ہے۔ اس کا بھی اس گھر پر اتنا ہی حق ہے۔ مگر وہ طبقاتی فرق کی وجہ سے اسے اپنا نہیں سکتا نہ ہی اس کا جائز مقام اسے دے سکتا ہے۔ اسے اس فرق اور معاشرتی رویوں سے نفرت محسوس ہونے لگی۔ اس نے سجل کے جانے کے بعد غریبوں سے رویہ بہتر کر لیا تھا وہ اکثر اب نیلم کو ٹوک دیتا تھا کیونکہ وہ سجل کے لیے پل پل تڑپا تھا۔ وہ اس بات سے مطمئن ہو گیا تھا کہ اب وہ کم از کم اس کے سامنے تو رہے گی۔ اب اس نے دل میں ٹھان لیا کہ اب وہ اس کا جاہز مقام دلا کر رہے گا اور وہ اٹھ کر اس کی ماں سے ملنے سرونٹ کوارٹر میں چلا گیا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران اور خوش ہوی۔ اس نے احد سے کہا کہ ہم ادھر تمھاری شادی شدہ زندگی کو برباد کرنے نہیں آے نہ ہی کوئی حق جتاہیں گے تم بھروسہ رکھو۔ ہم دو بےبس عورتوں کو ایک محفوظ چھت کی ضرورت تھی۔ میری بیٹی جوان ہے باہر دنیا بہت ظالم ہے۔ میری بیٹی اب ساری زندگی تمھارے بیٹے کی اور تمہارے گھر والوں کی خدمت میں گزار دے گی اور کچھ نہیں مانگے گی۔ وہ اسے ہاتھ پکڑ کر تسلی دے کر بولا آپ تسلی رکھیں اب اسے اس گھر سے کوئی نکال نہ سکے گا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books