Niyat Be-Naqaab
Episodes
نیلم نے سجل سے کہا کہ اگر تم شادی شدہ نہ ہوتی تو میں تمہیں اس گھر میں داخل نہ ہونے دیتی۔ پتا نہیں تم نے میرے بھائی پر کیا جادو کر رکھا ہے۔ تمھارے آنے سے پہلے وہ چپ اور اداس پھرتا تھا اب وہ بہت خوش رہنے لگا ہے۔ تمہیں بھولتا ہی نہیں ہے۔ جانتا بھی ہے وہ خود شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ ہے۔ تم بھی شادی شدہ ہو۔ پھر نہ اسے زیب دیتا ہے نہ تمہیں۔ تم بلاضرورت اس کے سامنے مت آنا سمجھی۔ ہم نے ہزاروں لڑکیوں میں سے بہت خوب صورت اعلیٰ خاندان اور امیرزادی سے شادی کروائی۔ جو سلیقہ مند بھی ہے۔ اس کے میکے تمہیں لے کر جاوں گی۔ ہمارے گھر سے بھی بڑا خوبصورت اور سلیقے سے سجا ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اس میں۔ احد کی ماں تپ کر بولی۔ اس گھر کو اپنا نہیں سمجھتی۔ نہ ہمیں اہمیت دیتی ہے نہ شوہر کو۔ حتکہ اپنے بچے پر بھی دھیان نہیں دیتی۔ پاس نہیں سلاتی کہ نیند ڈسٹرب ہوتی ہے۔ اگر سجل دن رات اس کی دیکھ بھال نہ کرتی تو ہم کیا کرتے۔ نیلم جو احد کی بیوی کے شاندار گھر سے متاثر تھی۔ ماں سے بولی ارے ماما وہ اتنے بڑے گھر سے ہے ہم اس کی حیثیت سے کم ہیں۔ وہ تو امجد انکل نے ہماری شرافت دیکھ کر رشتہ دے دیا۔ اب سجل تو شروع سے ملازمہ ہے اس نے تو کام کرنا ہے ورنہ بھوکے مرنا ہے۔ اب انکل امجد نے بیٹی کی شادی سادگی سے کر کے اور جہیز نہ دے کر ایک مثال قائم کر دی۔ شادی بھی گھر میں کروائی اور ولیمہ بھی گھر میں کروایا۔ اور جہیز کے نام پر احد کو سلامی میں زبردستی چیک دیا۔ بیٹی کو شادی کے چند جوڑے اور ایک سیٹ دیا۔ وہ کہتے تھے کہ پوتا ہوا تو وہ سب کچھ اس کے نام کر دیں گے۔ اب دیکھیں کب کرتے ہیں۔ میں نے تو بھائی کی شادی پر خوب ارمان نکالنے تھے مگر انہوں نے سب چوپٹ کر دیا۔ میرے دل میں ابھی تک ارمان ہے۔
سجل کی ماں بولی امجد بٹ کی نظروں سے بچ کر رہنا ورنہ وہ دبوچ لے گا۔ ہم اس سے کتنا چھپے ہیں مگر قسمت اب اس کے قریب لے آی ہے۔ ایسا کرو تم ساری سچائی احد کو بتا دو۔ اس کی فراڈن بیوی اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ سجل افسردگی سے بولی میں نے بھی یہی سوچا مگر نیلم موقع نہیں دیتی۔ نہ جانے اس کا گھر کب مکمل ہو گا اور وہ ادھر سے جاے گی۔ تم احد کو میسج کر دو نا۔ سجل نے کہا کہ اس کی بیوی کو میں نے اس کی غیر موجودگی میں فون چیک کرتے دیکھا ہے۔ اس لیے رسک نہیں لے سکتی۔ میں موقع کی تلاش میں لگی رہوں گی۔ بچہ سو رہا ہے۔ میں رات کو بھی آپ کے پاس سو نہیں سکتی کہ اس کی دادی کے کمرے میں بچے کے ساتھ سونا پڑتا ہے۔ احد کے والد بے چارے پوتے کے لیے دوسرے کمرے میں سوتے ہیں۔ موم مجھے آپ کی فکر لگی رہتی ہے۔ ماں نے جواب دیا کہ پگلی تیری شادی کے بعد بھی تو میں اکیلی ہی سوتی۔ اکیلی رہتی۔ اگر اپنے گھر میں ہوتے تو فکر نہ ہوتی۔ میرا تو کوئی بیٹا بھی نہیں ہے۔ سجل بولی بیٹا تو ہے۔ ماں نے نظریں جھکا لیں۔
سجل بچپن سے ہی اپنے والدین کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ دولت ان کے گھر کی باندی تھی۔ سجل کے والد گاوں کے بہت بڑے زمیندار کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی گاوں بھر میں بہت عزت تھی۔ سجل کے والد کی شادی چھوٹی عمر میں ہی قریبی رشتے داروں میں کر دی۔ سجل کے والد ابھی شادی کرنا نہیں چاہتے تھے وہ گاوں کی زندگی کو ناپسند کرتے تھے۔ بیوی ایک بچے کو جنم دے کر فوت ہو گئی۔ بچے کو ننھیال والے لے گئے ادھر جوان خالہ تھی پالنے کے لیے۔ وہ رشتہ بھی دینا چاہتے تھے مگر سجل کے والد نے انکار کر دیا بچے سے بھی لگاوٹ محسوس نہ کی۔ اور باہر جانے کی رٹ لگا دی۔ والدین اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجنا نہ چاہتے تھے وہ دوبارہ اس کا گھر بسانا چاہتے تھے مگر سجل کے والد نے کہا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے پہلے اپنا کیریر بنانا چاہتے ہیں۔ والدین مجبور ہو گئے۔ اور بچے کو امریکہ بھیج دیا۔ وہ سٹڈی ویزے پر گے تو سجل کی والدہ کا گھر قریب تھا۔ سجل کی ماں وہاں کی نیشنیلٹی ہولڈر تھی۔ سجل کا باپ اس پر فدا ہو گیا۔ سجل کے نانا سے رشتے کی بات کی۔ سجل کی ماں نے بھی دوستی کر لی۔ والدین کو کہہ دیا کہ وہ صرف اسی سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ سجل کے نانا نے جب اس کی معلومات کراہیں تو مطمئن ہو گئے کہ وہ تو بڑے زمیندار اور عزت دار گھرانے کا چشم وچراغ تھا وہ کافی متاثر ہوئے۔ سجل کے والد نے جب سجل کے نانا کو اپنی پہلی شادی اور بیٹے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اسے اپنی بیوی اور بیٹی سے راز رکھنے کا کہا مبادا اس وجہ سے وہ انکار نہ کر دیں۔ وہ اس رشتے کو بیٹی کے لیے موزوں سمجھتے تھے۔
ادھر ہی ان کی شادی کر دی گئی اور سجل کے والد کو سجل کی ماں کی وجہ سے نیشنیلٹی بھی مل گئی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.