Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
دعا نے ماں کو اتفاق نگر جانے کی تیاری دیکھ کر روکنے کی کوشش کی۔ دعا نے کہا ماما مجھے بھی ساتھ رکھ لیں میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں۔ میرا دل آپ کے بغیر نہیں لگتا ہے۔
تانیہ نے اسے قدرے پیار بھرے غصے سے سمجھایا کہ تم کب بڑی ہو گی۔ جب میں جانے لگتی ہوں بچوں کی طرح ضد کرنے لگتی ہو۔ اب تم چھوٹی تو نہیں ہو ناں۔ جوان ہو سیکنڈ ایر کی طالبہ ہو۔ میرا خواب تمہیں پڑھا کر کسی مقام پر لانے کا ہے تاکہ تم ماں کی طرح کسی اتفاق نگر کی حویلی میں ملازمہ نہ بن کر رہو۔ تم ماں کی مشکلات کب سمجھو گی۔ کیا میرا دل نہیں کرتا میں اپنی بیٹی اپنے والدین کے ساتھ رہوں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ اسی مسئلے سے نمٹنے کے لئے تمھارے نانی نانا نے مجھے ایک شادی شدہ امیر آدمی سے بیاہ دیا۔ جس کی پہلے ہی ایک بیوی اور ایک بیٹا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور میرے والدین کو دولت سے رام کر لیا اور نکاح کے عوض میرے والدین کو یہ پانچ مرلے کا گھر لے دیا کچھ مالی امداد بھی کی۔ نکاح کے بعد اس نے مجھے ادھر ہی رکھا۔ اس نے نکاح کو خفیہ رکھا۔ جب تم پانچ برس کی ہوئی تو وہ اپنے گاؤں میں دل کے اٹیک سے اچانک فوت ہو گیا۔ میں نے سنا تو روتی دھوتی اس کے گاؤں پہنچی۔ باہر ہی میرے شوہر کا سسر کھڑا تھا ان سب کا غائبانہ تعارف میرے شوہر نے تصاویر وغیرہ دکھا کر کروایا تھا۔ میں نے اسے پہچان کر اس کے پاس جا کر کہا کہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ وہ تھوڑا حیران ہوا اور مجھے ایک ساہیڈ پر لے گیا۔ جب میں نے اسے سچائی بتائی تو وہ مجھے گھورنے لگا میں نے اسے بتایا کہ میرے پاس نکاح نامہ بھی موجود ہے اس کی فوٹو کاپی میں ساتھ لائی ہوں اسے دیکھائ تو اس نے جیب میں ڈال لیا اور مجھ سے پوچھا کوئی بچہ وغیرہ ہے میں نے دانستہ طور پر اس سے چھپایا کہ یہ بڑے لوگ میری بیٹی سے دشمنی نہ کرتے رہیں۔ میں نے جھوٹ بولا کہ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔
اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیا چاہتی ہو۔ میں نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے بس ویسے ہی اپنے شوہر کے آخری دیدار کو آئی تھی۔ ہمارا کوئی زریعہ آمدنی نہیں ہے۔ مجھے کوئی ایسا کام مل جائے کہ میں اپنے بوڑھے والدین کو پال سکوں
اس نے مجھے کہا کہ تم زبان بند رکھنا ورنہ تم پچھتاو گی میری بیٹی کو پتا چلا کہ تم اس کی سوکن ہو تو وہ تمھارا برا حشر کرے گی۔ عافیت اسی میں ہے کہ تم ہمیشہ زبان بند رکھو اور میری بیٹی کو زہنی ازیت میں مبتلا نہ کرو۔ میں تمھاری مالی سپورٹ کروں گا یا تو ہر مہینے خرچہ دوں گا یا ایک ہی بار موٹی رقم لے لو۔ اس کے علاوہ اگر تم جاہو تو اس اتفاق نگر میں میری بیٹی کی ملازمہ بن کر رہ سکتی ہو اس کی تمھیں عام ملازمین کی طرح تنخواہ ملے گی۔ بولو کیا منظور ہے دوسری صورت میں زلت کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔
تانیہ نے کہا کہ مجھے آپ یکمشت امداد کر دیں ہر ماہ آپ کو بھی ٹینشن رہے گی۔ اس کے علاوہ مجھے روزگار کی بھی تلاش ہے اگر اس گھر میں آپ کی بیٹی کی خدمت کا موقع ملے تو مجھے منظور ہے۔
پھر وہ اسے اپنی روتی دھوتی بیٹی کے پاس لے گیا اور بولا بیٹی یہ ایک غریب عورت ہے کسی نے مجھے اس کو ملازمت کے لئے بھیجا ہے اس کے بوڑھے والدین ہیں بیوہ ہے اولاد بھی نہیں ہے شہر میں اس کے والدین اپنے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں۔ تم اسے اپنی خدمت کے لیے رکھ لو اور جو مناسب لگے اسے تنخواہ دے دینا۔
اس کی بیٹی نے اسے دیکھا اور کہا ٹھیک ہے ابھی سے کام پر لگ جاو۔ میرے آس پاس ہی رہنا اور میرا حکم بجا لانا اس نے اس کی تنخواہ مقرر کر دی جو تانیہ کے لیے بہتر تھی۔
تانیہ نے روتے ہوئے سوکن کو بتایا کہ اسے بھی آج اپنے شوہر کی یاد آ رہی ہے جب وہ بھی آپ کی طرح بیوہ ہوئی تھی اس کا شوہر بہت اچھا تھا۔ وہ اس کو یاد آ رہا ہے۔
اس کی سوکن اکڑخان اور غصے والی تھی بس ہوں کر کے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
تانیہ جو اپنے عمررسیدہ شوہر کو بھی قبول کر چکی تھی جس نے اس کے والدین کو گھر کی چھت فراہم کی تھی اپنا گھر ان کا خواب تھا والدین نے اس سے بہت معزرت بھی کی تھی اور اپنی مجبوری بتائی تھی۔
تانیہ والدین کی مجبوری سمجھتی تھی اس لیے وہ اندر سے ناخوش ہوتے ہوئے بھی والدین کے سامنے خوشی کا اظہارِ کرتی تھی۔
اس کے شوہر نے اسے پانچ سالوں میں کوئی تکلیف نہ پہنچائی تھی وہ اکثر آتا رہتا اور اس کے لئے تحفے بھی لاتا۔ وہ بتاتا کہ اس کی بیوی اس سے تقریباً آٹھ سال بڑی ہے۔ اپنے خاندان کی ہے۔ بہت اکڑو اور غصے والی ہے۔ جہیز میں مربے بھی لائ تھی اور اس کے والدین اس کی قدر کرتے تھے جبکہ وہ خوش نہ تھا۔ اس نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس شادی کو کھبی اوپن نہیں کر سکے گا اس میں خاندان سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ وہ تانیہ کے پاس آ کر سکون محسوس کرتا۔ اپنی بیٹی سے پیار کرتا وہ کہتا اسے اعلیٰ تعلیم دلوانا۔
بیٹی بھی باپ کی راہ تکتی رہتی۔ وہ اس کی من موہنی باتوں سے خوش ہوتا۔ اس کو یہاں آ کر سکون ملتا۔ وہ اس کے والدین کی بھی عزت کرتا۔ تانیہ مطمئن رہنے لگی عمر کے اس فرق کے باوجود وہ اب خوش تھی مگر اس کے پرانے وفادار ملازم جو اس راز میں شریک تھا اطلاع دینے پر چلی آئی تھی۔ اسے ادھر رہنے کا ٹھکانہ بھی مل گیا اور شوہر کا آخری دیدار بھی نصیب ہو گیا۔
اس کی سوکن کے باپ نے اس کے والدین کو رقم دے دی۔ تانیہ نے فون پر والدین کو تمام صورتحال بتا کر دعا کا نہ بتایا۔ اس کے والدین نے اس کی بات پر عمل کیا کیونکہ اب وہ ان کا سہارا تھی۔
تانیہ کی زندگی اب ایک نئی ڈگر پر چل پڑی تھی اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے خواب کو پورا کر رہی تھی۔ مہینے کے آخر میں اسے چند دن کی چھٹی مل جاتی۔ والدین اس کی بیٹی کو پیار سے پال رہے تھے۔ نانا اسے اسکول باہک پر لانے لے جانے کی ڈیوٹی دیتا نانی گھر کو سنبھالتی۔
تانیہ سوکن کے بیٹے کو پیار کرتی اسے اچھی بری باتوں کی تمیز سکھاتی وہ اس سے کافی مانوس تھا ویسے بھی وہ ٹین ایج میں تھا وہ اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتی۔
سوکن اس سلجھی ہوئی سمجھدار لڑکی سے بہت خوش تھی جو اسے کھبی ڈانٹ کا موقع نہ دیتی سارے گھر کا نظام اچھی طرح سے اس نے سنبھال لیا تھا اس کے ساس سسر بھی اس سے خوش تھے۔ وہ اپنے ہی سسرال میں ایک نوکر کی حیثیت سے رہ رہی تھی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.