Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
تانیہ کی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہونے کے سبب ایان اور ارم کو مزید رکنا پڑا جو گاوں واپس جا رہے تھے اور وہاں سے ان کی بہن دعا اور تانیہ کو انتظام کر کے ضروری سامان کے ساتھ گاوں لے جانے کی تیاری کرنی تھی۔ اب تانیہ کی ماں بھی چل بسی۔
تانیہ کو پےدرپے دکھ مل رہے تھے۔ گاوں جانے کی تیاری مکمل تھی۔ سب گاوں پہنچ گئے۔
ایان نے دعا کے نانا نانی کا بڑا ختم دلوایا۔ اور ہر وقت ارم اور ایان تانیہ کی دل جوئی میں لگے رہتے۔ تمام ملازم اب تانیہ کی حقیقت جان چکے تھے اور عزت کرتے تھے۔ گاوں والے بھی جان کر خوش ہوتے۔
تانیہ کا دل تو آفاق نگر میں خوب لگتا تھا یہ اس کے سابقہ شوہر کی حویلی تھی۔ جہاں وہ کئی سال ملازمہ کی حیثیت سے رہی۔ اب سوتیلا بیٹا اسے باور کراتا کہ یہ اس کا اپنا گھر ہے۔ اب بھی گاوں کی عورتیں آتیں اسے چھوٹی مالکن کہہ کر پکارتیں۔ تانیہ نے گھر کا سارا نظام سنبھال لیا تھا ارم خوش تھی ایک تو وہ دعا کی دوست تھی پھر تانیہ کو بھی بچپن سے دیکھ رہی تھی اس لیے بھی اسے اس سے انسیت تھی۔ پھر شادی کے بعد اتنی بڑی حویلی میں بوریت محسوس کرتی تھی۔وہ جب بھی آفاق نگر آتی بہت خوش ہوتی۔ اس کی پھوپھو اس کو بچپن سے ہی بہو بنانے کے خواب دیکھتی تھی اس کا بیٹا اس سے کافی بڑا تھا مگر ارم کی ماں بہت شریف عورت تھی۔ وہ نند کی بہت عزت کرتی۔ اس نے بچپن سے ہی بیٹی کو باور کرایا ہوا تھا کہ تمھاری شادی ایان سے ہو گی اور اس کو سب سے پیار ملتا تو وہ نہال ہو جاتی۔
ایان بھی اسے کم عمر خیال کرتے ہوئے اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ بھی چھوٹی عمر سے ہی سمجھدار تھی۔ رشتوں کو مان دینے والی تھی۔
تانیہ سے سوکن کا غم برداشت نہ ہوتا تھا اسے وقار سے محبت تھی۔اسے اب اپنی سوکن کا خیال آتا تھا جو اس جیسے غم سے گزری تھی اور اب جوابی اس پر بھی سوکن لے آئی تھی۔ مگر وہ اپنی مرضی سے سوکن تو نہیں بنی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ وقار کی بیوی بھی اس کی طرح بے قصور ہو۔اسے احساس ہوتا کہ اس کی سوکن اور اس کا بیٹا دونوں پر اس کا قبضہ ہے۔ اس نے ایان اور ارم کو سمجھانا شروع کر دیا کہ وہ ماں سے راضی ہوں اور اسے منا کر گھر لے آہیں۔ آخر وہ تم لوگوں کی ماں ہے جبکہ اس کے ساس سسر اسے برا بھلا کہتے اسے واپس لانے کے حق میں راضی نہ تھے۔
وقار کی شادی کروانے کے حق میں اس کا باپ بھی نہ تھا مگر بیٹی کے آگے مجبور تھا بیٹی میں اس کی جان تھی وہ اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا اس کے دکھ سے وہ بھی دکھی تھا۔ جب آفاق کی وفات ہوئی تو تانیہ نے اس کے آگے اپنی سچائی ظاہر کی تو اس وقت وہ اپنی بیٹی کو اس دکھ سے بچانے کے لئے تانیہ کو ڈرا دھمکا کر سچائی بتانے سے منع کیا اور اتنے سال اسے اس کے حق سے محروم رکھا اور اسے بیٹی کی ملازمہ بناے رکھا۔ اب عمر کے اس حصے میں اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا تھا۔ وہ اب اس کی بہو بن چکی تھی اس حقیقت سے بھی وہ واقف ہو چکا تھا۔ جس لڑکی سے وقار کی بہن شادی کروانا چاہتی تھی وہ لوگ اچھے لوگ نہ تھے جھگڑالو اور لالچی تھے۔
وقار کی بہن کو فوری طور پر کسی کنواری لڑکی کا رشتہ نہ مل سکا تھا اس نے تانیہ سے انتقام لینے کے لئے اس کا رشتہ ادھر کر دیا۔ جو لڑکی کنواری تو تھی مگر کم عمر نہ تھی اس کا نکاح ہو چکا تھا اور رخصتی سے پہلے ہی ان کی لالچی طبیعت کے باعث طلاق ہو چکی تھی مگر انہوں نے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ اور وہ لوگ مسز آفاق کی خوشامد کرتے تاکہ اتنے اچھے پڑھنے لکھے امیر گھر میں رشتہ ہو جائے۔
وقار کے باپ نے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے ادھر شادی ہونے دی اور وقار کے حصے کی ساری جاہیداد میں سے اس کا گھر تانیہ کے نام کر دیا۔ باقی وقار کے بچوں کے نام۔ جو شرعی حصہ بیٹی کا بنتا تھا وہ اس کے نام کر کے سرخرو ہو گیا اور کاغذات تانیہ کو بھجوا دیے اور اسے فون پر معافی مانگی اور بتایا کہ وقار کی بیوی لالچی ہے اور تم فکر نہ کرو جلد ہی جب اس پر حقیقت آشکار ہو گی تو وہ اس کو چھوڑ دے گی۔ تم بس اسے معاف کر دینا میں تم سے التجا کرتا ہوں۔
تانیہ نے مسز آفاق کو لمبا چوڑا میسج کیا اور معافی مانگی اپنی ساری رودادِ لکھ دی اور لکھا کہ وہ زندگی میں کسی کی سوکن بننے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا۔ وقار صاحب سے شادی زبردستی ہوئی۔ میری سوکن بھی کیا پتا میری طرح مجبور ہو۔ آپ اپنے گھر آو اپنے بیٹے، بہو کی خوشیاں دیکھو۔ آپ کے آنے پر میں بیٹی کو لے کر چلی جاوں گی۔ آپ کی بہو کو آپ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ امید سے ہے۔ تانیہ نے وہ امید سے ہے کا جھوٹ لکھا تاکہ وہ خوشی سے واپس آ جاے۔
جاری ہے۔
پلیز اسے شہیر، لاہک اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.