Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
تانیہ کی سوکن کو جب پتہ چلا کہ ارم امید سے ہے تو اس نے اسی وقت بیٹے کو فون کر کے بہت سنائی کہ تم نے اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائی اور مجھے سوکن سے پتا چلی۔ بیٹا بھی یہ خبر سن کر شاکڈ ہو گیا اور بیوی سے جا کر لڑنے لگا کہ تم نے مجھ سے کیوں چھپایا وہ حیران پریشان رونے لگی تب بھی وہ کچھ سنے بغیر کمرے سے چلا گیا۔ ارم نے تانیہ کو جا کر ساری بات بتائی وہ بہت پریشان ہو گئ اس نے تو جھوٹ اسے راضی کرنے کے لیے بولا تھا اس نے ارم کو سب بات بتائی اور وعدہ کیا کہ وہ اسے راضی کر لے گی۔
اچانک فون آیا کہ وقار کے ابو فوت ہو گئے ہیں۔
سب جانے لگے تو تانیہ کی سوکن نے فون کر کے سختی سے اسے کہا کہ تم ادھر آنے کی جرات نہ کرنا ورنہ میرا بھائی تمہیں طلاق دے کر فارغ کر دے گا
پھر اس نے بیٹے کو بھی تانیہ کو نہ لانے کی تاکید کر دی۔
مسز افاق نے بہو کو لفٹ نہ کرائی بیٹے کو خوب پیار سے
ملی۔ بیٹے سے بولی میں باپ کا چالیسواں کروا کر گھر واپس آوں گی۔
تانیہ نقاب پہن کر گئی اور منہ دیکھ کر واپس آ گی۔ اس شخص نے اسے سسرال میں وقت گزارنے کا موقع تو دلایا تھا بے شک ایک ملازمہ کی حیثیت سے ہی سہی۔ اس تنخواہ سے تانیہ اپنے والدین اور بیٹی کو پال سکی تھی۔ وہ اسے اپنی بیٹی کی ملازمہ بنا کر لایا تھا مگر قسمت نے اسے اس کے اکلوتے بیٹے کی بیوی بنا دیا تھا۔ اس لحاظ سے وہ اس کا اب سسر تھا۔ اس نے اپنی سوکن کو بھی دیکھا وہ کہتے تھے کہ کنواری لڑکی تھی مگر اتنی کم عمر نہ تھی اور اسے وہ اچھی نہ لگی۔وہ مایوس گھر لوٹ آئی۔ خفیہ طور پر دعا اور ارم سے بھی ملی۔
تانیہ نے گاوں میں اس کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وغیرہ کا سلسلہ گھر میں شروع کر دیا۔ لوگ افسوس کے لیے بھی آنے لگے۔ مردوں کو بتا دیا گیا کہ ایان لوٹے گا تو تب تشریف لاہیں۔ جبکہ عورتوں کو ختم درود پر لگا دیا۔ رات تک روز عورتیں آتی رہتی۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام بھی ملازموں سے کرواتی۔ اس کے پاس جو جمع رقم تھی وہ خرچ کر رہی تھی۔
وقار کے گھر اس کی بیوی نے چوتھے دن ہی چالیسواں کروا کر فارغ کروا دیا کہ شہر میں اتنا ہی ہوتا ہے۔ وقار کو مجبور کرنے لگی کہ کل جاہیداد کی جانچ پڑتال کراو اور یہ حویلی میرے نام کرواو۔ وہ وقار کی بہن سے بھی اکھڑی رہنے لگی۔ اسے کہتی اب اپنے گھر سدھارو یہ تمھارا گھر نہیں میرا گھر ہے۔ میں بوڑھی نند کو ساس کی طرح برداشت نہیں کر سکتی۔ کسی مہمان کو بھی عزت نہ دیتی۔ جو آتا شرمندہ ہو کر جاتا۔
وقار اسے سمجھاتا تو آسمان سر پر اٹھا لیتی۔
دعا بھابی کو لے کر گھر واپس آ گئ کیونکہ اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی اور وہ اسے ڈاکٹر کے کلینک لے کر گئ تو پتا چلا کہ وہ امید سے ہے۔ اس نے یہ خوشخبری سب کو سنائی تو اس کا سوتیلا بھائی سن کر منہ پھلا کر غصے سے چل پڑا جب کہ سب نے خوشی منائی۔
وقار ایک تو باپ کی وفات پر رنجیدہ تھا اوپر سے اس کی بیوی نے جاہیداد کی جلدی ڈالی تھی۔ پھر داماد کا بیٹی کے ساتھ رویہ بھی وہ دیکھ چکا تھا سگی بہن بھی اس کی بیٹی سے ساسوں والا برتاؤ کر رہی تھی اسے طعنے تشنے دے رہی تھی اس پر طنز کر رہی تھی کہ وہ تانیہ کو شوہر اور ساس پر فوقیت دیتی ہے۔ وہ روتی رہتی اور صفائیاں دیتی رہتی مگر ماں بیٹے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
دعا واپس گاوں آ چکی تھی اس کو دادا نے کہا کہ وہ گاوں کے پٹواری کے کاغذات چیک کرے ہم نے اپنی ساری جاہیداد پوتے اور پوتی کے نام شرعی حیثیت سے کر دی ہے۔ دعا نے انکار کیا تو وہ ناراض ہونے لگے۔
تانیہ اور دعا اس صورت حال سے پریشان ہو گئی کہ ایان آئے گا تو سمجھے گا کہ ہم نے اس کی غیر موجودگی میں فاہدہ اٹھا کر جاہیداد ہتھیا لی ہے۔
ایان نے وقار سے کہا کہ انکل بہتر ہے کہ آپ جاہیداد کا بٹوارہ کر دیں اور اس کام سے فارغ ہو جائیں۔
وقار نے ایسا ہی کیا اور وکیل کو اس کام پر لگا دیا۔ پھر وہ بیٹی کو بھی چپکے چپکے روتے دیکھتا اور کڑھتا تھا اگر داماد سے بات کرنا چاہا تو اس نے اسے غصے سے کہا کہ اتنی بڑی خوشی کی خبر سننے کا سب سے پہلا حق میرا تھا جو میری بیوی نے مجھے نہیں دیا میں اسے معاف نہیں کر سکتا۔ اس نے بہن سے گلہ کرنا چاہا کہ میری بیٹی اپنے شوہر سے کافی چھوٹی ہے ابھی کم عمر ہے اس کو ابھی دنیا داری نبھانے کا کچھ پتا نہیں ہے۔ مگر بہن لاپرواہی سے بولی۔ سوری میں اپنے بیٹے کو حق بجانب سمجھتی ہوں۔ میرا بیٹا جب تک وہ اب فارغ نہ ہو جائے اسے گھر لے جانے پر تیار نہیں ہے۔
دعا نے بھابی کو بہت تسلیاں دیں اور کہا کہ یہ سب وقتی ہے جلد سب ٹھیک ہو جائے گا تم فکر نہ کرو اور ہمت سے کام لو اور اس وقت کا بہادری سے مقابلہ کرو۔ ایان کو ورغلایا گیا ہے جب اسے عقل آئے گی خود ہی ٹھیک ہو جائے گا تمھارے پاپا تمھاری وجہ سے بہت پریشان ہیں اور ان کو پہلے ہی بیوی نے پریشان کر رکھا ہے۔ تم پریشان نہ ہو اس وقت انہیں تمھاری مورل سپورٹ کی ضرورت ہے۔ تم ان کو سہارا دو۔
دعا ہانپتی کانپتی تانیہ کے پاس آئی آج ہی وہ وقار کے گھر سے واپس آئی تھی اور دادا نے وکیل کے کاغذات چیک کرنے اور وصول کرنے کا بولا تھا۔
ماما ماما کدھر ہیں آپ؟،
تانیہ نے گھبرا کر پوچھا کیا ہوا جلدی بتاو۔
اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا کہ وہ وہ وہ دادا ابو نے میرے نام اور بھائی کے نام شرعی لحاظ سے جاہیداد نام کروا دی ہے۔
تانیہ بے اختیار بولی کیا۔
ایان جو سامنے سے داخل ہو رہا تھا اس کی بات سن کر وہیں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.