Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
تانیہ جب وقار کے ساتھ گھر پہنچی تو اس کی بیٹی ارم نے بھاگ کر خوشی سے اس کا استقبال کیا اور گلے لگتے ہی ماما جانی کہہ کر لپٹ گئی۔ تانیہ نے اسے جوش و محبت سے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معاف کرنا میری بیٹی میری نادانی کی وجہ سے تجھے اپنے شوہر اور گھر سے دور رہنا پڑا۔
ارم روتے ہوئے بولی نہیں ماما آپ کی نیت صاف تھی آپ اپنی سوکن کو گھر لانے کا سوچ کر ایک جھوٹ کا سہارا لے رہی تھیں اور اللہ تعالیٰ نیتوں پر اجر دیتا ہے۔ لیکن ویسے جھوٹ سے ہر ممکن بچنا ہی چاہیے۔ سچ بےشک کڑوا ہوتا ہے مگر اس کا اثر میٹھا ہوتا ہے۔
اتنے میں وقار کا بیٹا بھی مسکراتا ہوا خوشی سے آیا اور سلام کیا۔
تانیہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا کر میرا بیٹا کہہ کر بہت سا پیار کیا۔
ارم مسکراتے ہوئے مصنوعی خفگی سے بولی؛ ماما بس کریں سارا پیار اسی پر لٹا دیں گی کیا میرے لئے بھی اور میرے بچے کے لئے بھی کچھ بچا کر رکھیں۔
اس کے بھائی نے اسے انگوٹھا دیکھاتے ہوئے کہا کہ جل ککڑی یہ اب صرف میری ماما ہیں تم اب اس گھر سے جا چکی ہو۔ اور ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگا کہ یااللہ اس چڑیل کو جلد اپنے گھر سے بلاوا آ جائے تاکہ میں اپنی ماما سے پورا پیار کا حق وصول کر سکوں۔
ارم نے اسے مسکراتے ہوئے گھورا؛
وقار ان دونوں بچوں کی محبت کو دیکھ کر سرشار ہو رہا تھا۔
تانیہ محبت پاش نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
وقار اندر سے ایک لفافہ لے کر آیا اور تانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا یہ تمہارے سسر صاحب نے تمہیں گفٹ دیا ہے۔
اتنے میں ملازمہ چاے کی ٹرالی بمعہ لوازمات سے بھری لے آئی کیونکہ وقار نے آنے سے پہلے بچوں کو فون کر کے بتا چکا تھا اور بیٹا بھاگ کر جلدی سے چائے کے ساتھ لوازمات لے آیا تھا۔
تانیہ نے لفافہ کھول کر دیکھا اور حیران رہ گئی کہ یہ خوبصورت بڑا سا گھر اس کے نام ہو گیا تھا۔
وقار نے اسے تمام حالات کی تفصیل بتائی۔
تانیہ نے لینے سے انکار کرنا چاہا تو بچوں نے مجبور کیا اور ناراضگی کا اظہار کیا تو تانیہ کو ماننا ہی پڑا کیونکہ کاغذات اس کے نام منتقل ہو چکے تھے اس نے آنکھیں آنسوؤں سے صاف کرتے ہوئے وقار کا شکریہ ادا کیا۔ بچوں نے تالیاں بجا کر اسے گلے لگا کر پرجوش طریقے سے مبارک باد دی۔
بیٹے نے شرارت سے پوچھا ماما ہمیں اپنے گھر سے نکالیں گی تو نہیں نہ۔
ارم بولی بس خدمت کرتے رہو تو ٹکے رہو گے۔۔سب نے خوشگوار ماحول میں چائے پی۔
تانیہ نے اللہ تعالٰی کا بہت شکر ادا کیا۔
تانیہ کی زندگی میں بہار ہی بہار آ چکی تھی دونوں سوتیلے بچے اس کی عزت کرتے اس سے پیار کرتے۔ وقار بھی اسے دوسروں کے سامنے عزت سے مخاطب کرتا۔ اکیلے میں اسے میری پری کہہ کر مخاطب کرتا اور خوب پیار بھرے جزبات کا اظہار کرتا اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت مرد کہتا۔
تانیہ اس کی باتوں سے نہال ہو جاتی۔
وقار کے ساتھ صبح واک پر جاتی۔
شام کو سوسائٹی کی عورتوں کے ساتھ قریبی پارک میں ارم کے ساتھ جاتی۔ چند خواتین سے دوستی بھی ہو چکی تھی۔
ارم کو ریگولر چیک کرواتی۔ اس کا خیال رکھتی۔ اس کو واک اور ایکٹیو رہنے کا کہتی۔ ہلکے پھلکے کاموں کو کرنے کی بھی نصیحت کرتی۔ اسے نارمل رہنے کا کہتی کہ اپنے آپ کو بیمار نہ سمجھنا۔ ورنہ سست پڑ جاو گی اور سستی دونوں کے لئے بچہ اور ماں کے لیے نقصان دہ ہے۔ جتنا اپنے آپ کو ایکٹو رکھو گی بڑے آپریشن کا چانس کم ہو گا اور فاہدہ ملے گا بس بھاری وزن نہ اٹھاو باقی گھر کے روٹین کے کاموں میں لگے رہنے سے وقت بھی کٹ جاتا ہے۔
تانیہ کی زندگی میں ہر طرف خوشیوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اسے صرف اب بیٹی کے مستقبل کی فکر تھی۔ بیٹی شادی کا نام نہیں لیتی تھی بھائی کے ساتھ ملکر شادی ھال اور پلازے کے کاموں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس سے ملنے آتی وہ اسے سمجھاتی کہ پلیز شادی کے لئے ہاں بول دو کچھ سوسائٹی کی عورتوں نے بھی اس سے رشتے کی خواہش کا اظہارِ کیا تھا مگر وہ نہ مانتی تھی۔
ایان تانیہ کے جانے سے بیوی کی طرف سے مطمئن ہو چکا تھا۔ کہ وہ اس کا خیال رکھے گی۔ اس نے بیوی کو موبائل رکھنے سے منع کیا تھا اس کے پاس شادی سے پہلے کا موبائل میکے میں موجود تھا مگر ایان آزمانے کے لئے جب بھی فون ملاتا وہ بند ملتا۔ وہ اپنی بیوی کی وفاشعاری پر حیران ہوتا۔ اس کا دل چاہتا اڑ کر جاے اور اسے لے آئے مگر وہاں اس کا ریگولر چیک اپ بھی ہو رہا تھا۔ وہ تانیہ سے فون پر بات کرتا تو وہ خود ہی اس کا حال احوال بتا دیتی وہ بس خاموشی سے سنتا رہتا۔ وہ کھبی لاہیو بھی بات کرتا تو وہ جان بوجھ کر ایسی جگہ بیٹھتی جہاں سے اسے ارم بیٹھی نظر آتی۔
ایان کی اناء اسے ارم سے بات کرنے سے روکتی۔ اسے تو بس اب شدت سے بچہ ہونے اور اسے واپس گھر لانے کا انتظار تھا اسے اپنے اس رویے سے خود بھی تکلیف محسوس ہوتی۔ ماں بھی نہ کہتی کہ اسے گھر لے آو اسے اس کی دیکھ بھال کرنی پڑتی۔ تانیہ کے جانے کے بعد اسے گھر کے انتظامات کو سنبھالنا مشکل لگتا تھا۔ تانیہ نے پورا نظام احسن طریقے سے سنبھالا ہوا تھا کسی ملازم پر رعب نہ جماتی نہ ڈانٹتی۔ پھر بھی کام ہو جاتے مگر مسز آفاق ہر وقت ملازموں کو ڈانٹ پھٹکار کرتی رہتی۔
ایان بھی ملازموں پر غصہ کرتا تو دعا اسے سمجھاتی کہ بھائی اس طرح ڈانٹ کر کام لینے سے یہ صرف ڈانٹ کر ہی سنیں گے ڈھیٹ ہو جاہیں گے ان پر بے عزتی کا کوئی فرق نہیں پڑے گا وہی بات آپ پیار وشفقت سے بولیں گے تو وہ دل سے کریں گے اور غلطیاں بھی کم ہوں گی۔ اگر یہ غلطی کرتے بھی ہیں تو درگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دیا کریں۔ یہ مظلوم طبقہ ہے جو غربت کی چکی میں پس کر زندگی بسر کرتے ہیں نہ انہیں اچھا کھانے کو ملتا ہے نہ اچھا پہننے کو۔ اوپر سے مالکوں کے ہاتھوں زلت کی زندگی جینی پڑتی ہے۔ انہیں بھی جینے کا حق حاصل ہے۔ عزت کروانے کا حق حاصل ہے۔
دعا کی باتوں سے ایان پر کافی اثر ہونے لگا اور اس کا رویہ نرم ہوتا گیا۔
دعا گاوں کے وہ لڑکے جو جاب کرنا چاہتے تھے انہیں ہوٹل میں جاب پر رکھنے کے لیے ٹریننگ دے رہی تھی اور ان کو آدھی سیلری بھی دیتی کہتی اگر کام اچھا کرو گے محنت سے کرو گے تو پوری تنخواہ ملے گی اور انعام کی صورت میں ایک سیلری فالتو ملے گی۔
تانیہ اس کی شادی کے لئے فکرمند رہتی مگر وہ مگن تھی اپنے کام میں۔
تانیہ وقار کے ساتھ لان میں بیٹھی چاے پی رہی تھی کہ ملازمہ گھبرائی ہوئی آئی اور سانس پھولے ہوئے بتانے لگی کہ ارم بیبی درد سے کراہ رہی ہیں۔
وقار نے جلدی سے بھاگ کر گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے زور زور سے بیٹے کو آوازیں دینے لگا۔
گاوں میں بھی اطلاع مل چکی تھی کہ ارم کو ایمرجنسی میں ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔
َایان نے جب سنا تو ماں کو زور زور سے آوازیں دینے لگا اور جلدی سے چلنے کا کہا۔ ماں تیار ہونے لگی تو ایان نے غصے سے کہا کہ وہ اکیلا ہی جا رہا ہے آپ تیار ہو جائیں پہلے اور زن سے گاڑی اڑا کر لے گیا۔
دعا نے مسز آفاق کو تسلی دی ملازموں کو ضروری ہدایات دیں۔ اور مسز آفاق سے مخاطب ہو کر بولی چلیں بڑی ماما۔ ان کو گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہو گئی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.