Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 26

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 26

دعا نے اپنی کالج، یونیورسٹی کی فرینڈز کو فون کر کے اپنی شادی کا فون کر کے بتایا تو وہ بہت حیران و پریشان ہو گئیں۔ سب اس بات سے بہت شاکڈ تھیں کہ اس کا جیون ساتھی ایک تو اس سے کم پڑھا لکھا اوپر سے گاوں کا پھر نکاح بھی ہو چکا اور اب اس شہری لڑکی کو ہمیشہ کے لیے گاوں میں ان کی طرح زندگی گزارنی پڑے گی۔ اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اس سے کافی ناراض ہوہیں اور اس کو خوب سنائی کہ جس گھر میں تم رہتی ہو تم بچپن سے باپ دادا کے پیار سے محروم رہی اس وجہ سے تمہیں اس گھر میں رہنا اچھا لگتا تھا۔ اب اس محبت میں پورے گاوں اور گاوں والوں سے محبت کرنا اور ایک کم پڑھے پینڈو سے جزباتی ہو کر شادی رچا لینا سراسر بےوقوفی ہے۔ ہم تمہیں اس حد تک بے وقوف نہیں سمجھتے تھے کہ شہری رشتوں کی آپشن ہونے کے باوجود تم اس قدر بےوقوفی کر بیٹھو۔ گاوں کے لوگ تو شادی کے بعد تم سے بس وارث کی درخواست کریں گے اور اسی پر فخر کریں گے نہ کہ تمھاری ڈگریوں پر۔ تمہیں آزادی سے کچھ کرنے کا موقع کہاں ملے گا کہ تم گاوں کی حالت کو سدھار سکو۔ تم تو گھرداری میں مصروف ہو جاو گی۔ اس گاوں کے گھر میں اور اس گاؤں کے گھر میں رہنے میں بہت فرق ہے۔ ادھر تمہیں ہر کام کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ سب سے تمہیں اٹیچمنٹ ہے۔ ادھر سواے شوہر کے سب سے خوش ہونا مشکل ہے۔ بلکہ تمہیں اس ماحول ان کے رہن سہن کے طرز زندگی کو اپنانا پڑے گا اپنی زات کو بھول کر ان کے لیول پر آنا پڑے گا۔ اپنی شادی کی زمہ داریوں کے بعد تمہیں کچھ اور کرنے اور سوچنے کا ہوش کہاں رہے گا۔


دعا نے زچ ہو کر کہا کہ تم لوگ بجائے مجھے حوصلہ دینے الٹا مجھے مایوسی کے گڑھے میں دھکیل رہی ہو میرا مشن پورا کرنے کی جدوجہد میں رکاوٹ بن رہی ہو جاو میں تم سب سے ناراض ہوں شادی پر بھی تشریف لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی تینوں کلوز فرینڈز بہت اپ سیٹ ہو گئیں۔


انہوں نے مل کر اس کی بے دلی سے شادی میں شرکت کا پروگرام طے کیا اور تینوں اس کے گاوں روانہ ہو گئیں۔


دعا نے بس خاموشی سے ان سے ملنا گوارا کیا اور کوئی بات چیت نہ کی۔ دعا نے ملک وحید کی اپنے نکاح کی کوئی پکچر فرینڈز کو سینڈ نہ کی تھی۔ وہ تینوں اس کے گلے لگ کر خوب روتے ہوئے سوری بولیں اور کہا کہ اب ہم تمھاری اچھی قسمت کی دعائیں کریں گی کہ اللہ تعالیٰ اسی میں بہتری ڈال دے وہ اسے مناتے ہوئے بولیں یقین مانو یہ سب ہم نے تمھاری محبت کے جوش میں کیا ہے ہم شاکڈ ہو گئی تھیں تو چلو پھر الہڑ مٹیار بننے جا رہی ہو۔ ہم تمھارے گاوں پکنک منانے آیا کریں گے اور ہماری دوست تنور پر گرم گرم روٹیاں اپنے نازک ہاتھوں سے پکا کر لائے گی پھر بولے گی اچھا میں زرا کھیتوں میں اپنے سرتاج کو کھانا دے آوں۔ پھر واپس آ کر پسینہ صاف کر کے بولے گی ٹہرو میں تمھیں ابھی لسی پلاتی ہوں ہم کہیں گے ہمیں چاے پینی ہے پھر وہ لکڑیاں جلا کر پھونکیں مار مار کر چاے بنا کر دے گی۔ اور دعا مصنوعی غصے سے ان کو مارتے ہوئے بولی پھر گرم جلتی لکڑی سے تمھاری عزت افزائی کرے گی۔ سب نے مشترکہ قہقہہ لگایا۔ تینوں بے صبری سے اس کے منگیتر کی تصویر دیکھنے کو مچل گئیں مگر دعا نے کہا نہیں تم لوگ رشک کرو گی جلو گی مجھ سے۔ بڑی مشکل سے دعا نے انہیں ستا ستا کر اپنے موبائل سے اس کی پکچرز دیکھاہیں۔ تینوں اس کی پکچرز دیکھ کر بے اختیار بولیں واہ جی یہ تو خوبصورت گھبرو جوان ہے۔ اسی لیے ہماری دوست نے فوراً ہاں بول دی نہ تعلیم نہ گاوں دیکھا جھٹ ہاں بول دی۔ ایک دوست بولی ہاے کاش مجھے بھی کوئی ایسا گھبرو ملے تو میں بھی جھٹ ہاں بول دوں۔ دونوں نے ہاں میں ہاں ملائ۔ ایک بولی آخر یہ کچھ دیکھ کر ہی شہر کے رشتوں کو دیکھ کر اس کے لئے ہاں بولی بہت خوبصورت جوان ہے ماشاء اللہ۔


اتنے میں ملک وحید کا فون آ گیا تینوں حیرت سے اسے دیکھنے لگیں کیا وہ تمھیں فون بھی کرتا ہے۔ دعا زرا دور چلی گئی اور شرمیلی مسکراہٹ سے آہستہ آہستہ اس سے بولنے لگی۔


دور بیٹھی اس کی فرینڈز آپس میں قیاس آرائی کرنے لگیں کہ وہ اس کے لیول کی باتیں کر سکے گا بے چاری مجبور ہے۔ سامنے باتیں کرے تو بندہ اس کی شکل دیکھ کر ہی اس کے لب و لہجے کو اگنور کر دے مگر فون پر تو۔۔۔۔ ابھی وہ اتنا ہی بولیں تھی کہ رعا مسکراتی ہوئی پاس آ کر فون ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے بولی یہ لو بات کرو یہ اپنی سالیوں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ دعا نے کہا میں سپیکر آن کرتی ہوں آپ بات کر لیں۔


ملک وحیر کی گھمبیر آواز گونجی اس نے بڑے مہزب انداز میں سلام کرتے ہوئے خوشدلی سے کہا کیسی ہیں میری لاڈلی سالیاں۔


سب اس کے انداز تخاطب کو دیکھتے ہوئے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں آواز جیسے گنگ ہو گئی ہو۔ پھر اس کی شوخی بھری آواز گونجی ارے میں بڑا قسمت والا ہوں کہ مجھے گونگی سالیاں ملیں۔ میں تو سمجھا تھا کہ وہ مجھ سے لڑیں گی فرمائشیں کریں گی۔


دعا نے اشارے سے بولنے کا کہا تو جیسے انہیں ہوش آ گیا اور وہ بولیں بہنوئی جی آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی اتنی پیاری بہن کو آپ کے سپرد آسانی سے کر دیں گے تو آپ کی بھول ہے۔


وہ مسکین آواز میں بولا تو مجرم کی کیا سزا مقرر کی گئی ہے۔


تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آپس میں سرگوشی کر کے یک زبان ہو کر بولیں ہم آپ سے اپنی مرضی کی ٹریٹ لیں گی۔


وہ عاجزی بھرے لہجے میں بولا۔ کیا کوئی ڈسکاؤنٹ مل سکتا ہے۔


تینوں زور سے بولیں بلکل نہیں۔


وہ بولا ٹھیک ہے سالیوں بولو کون سے ہوٹل میں ٹریٹ دوں۔


وہ بولیں ہم کل دن کو آپ کے گھر دیسی کھانا کھانا چاہتے ہیں۔ آپ کے اور آپ کے گھر والوں کے ساتھ۔


ملک وحید نے کہا زبردست جی کل میں ڈرائیور کو لینے بھیج دوں گا۔ مجھے تو اب ادھر آنے کا کرفیو لگا ہے۔


وہ بولیں ہمیں دیسی کھانا کھانا ہے صرف جو بعد میں ہماری بہن کو کھانا پڑے گا۔


ملک وحید نے بڑے سکون سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو آپ کی بہن کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ جو کھانا چاہیں ان کے کھانے پر پابندی عائد تو نہیں ہے۔


تینوں اس کے پر اعتماد انداز میں بولنے پر خوش اور حیران تھیں۔


اگلے دن تینوں گاوں جانے کو تیار تھیں اور دعا کی ہدایت پر اس کے لیے ایک اچھا پرفیوم اور اس کی ماں کے لیے ایک خوبصورت سوٹ دعا نے ہی چند جوڑے اور کچھ پرفیومز خرید کر رکھے ہوئے تھے ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفٹ ساتھ لے کر جاو۔


تینوں شرمندگی سے بولیں ہم غصے سے تم دونوں کے لئے گفٹس نہ خرید سکے اب شادی کے بعد تم لوگوں کی مشترکہ دعوت کریں گے اور اچھے سے گفٹس دیں گے اب غلطی کا احساس ہو رہا ہے۔ اچانک دعا نے کہا کہ ٹہرو ایک مردانہ والٹ بھی پڑا ہے اور ایک جینٹس شلوار قمیض بھی۔ وہ بھی دے دیتی ہوں۔ دعا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب بھی بازار جاتی تو اکثر ایسی چیزیں خرید لیتی تھی جو اچانک کسی کو دینے پڑیں تو آسانی ہو۔


ایک فرینڈ بولی جلدی بتاو اور کیا کیا خرید کر رکھا ہوا ہے ہم بھی مہمان ہیں اور اچانک آئے ہیں ہمیں بھی دو۔


دعا نے انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا دھکیلتے ہوئے کہا چلو چلو بھاگو تمہیں تو میں ٹھینگا دوں گی اس نے انگوٹھا دیکھاتے ہوئے کہا۔


ایک فرینڈ افسوس کرتے ہوئے بولی کاش ہمارا کوئی بوائے فرینڈ ہوتا کوئی منگیتر جیسی چیز ہوتی تو ہمیں بھی اتنا پروٹوکول ملتا اے کاش مگر ہمارے گھر والوں کو کوئی خیال ہی نہیں کہ بچی جوان ہو گئی ہے اس کے لیے کوئی رشتہ ڈھونڈیں۔


دوسری بولی میرے ڈیڈ تو بھائی کو کہتے ہیں اسے تنگ نہ کرو بچی ہے۔


دعا نے زچ ہوتے ہوئے کہا چلو ڈرائیور انتظار کر رہا ہے بعد میں سوگ منانا۔


وہ لوگ گاوں کی ایک بڑی سی پرانی حویلی نما گھر میں داخل ہوئی اور جاہزہ لینے لگیں۔ گھر پرانا تھا مگر اسے رنگ و روغن سے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ گھر کا سامان پرانے ماڈل کا تھا۔ گھر پرانے زمانے کے فرنیچر سے آراستہ تھا۔


ان کو بہت عزت سے ایک بڑے ہال نما کمرے میں بٹھایا گیا اور لسی سے تواضع کی گئی۔ لسی بہت مزے کی تھی لڑکیوں نے پوچھا کیسے بنائی ہے تو ان کی بھابھی نے بتایا کہ اس میں سوڈا بھی ڈالا ہے۔


ملک وحید کی ماں انہیں بڑے پیار سے پیش آ رہی تھی۔ ملک وحید تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا اور پھر باہر نکل گیا وہ اس کی پرسنیلٹی سے بہت متاثر ہو رہی تھیں۔ جو بہت طریقے سلیقے سے بات چیت کر رہا تھا۔ گھر والے بھی بہت عزت دے رہے تھے۔


ان کی عورتیں ماں، شادی شدہ بہن جو رہنے آئی ہوئی تھی وہ اور اس کی بھابی آگے بڑھ بڑھ کر خوشی سے ان کو کھانا پیش کر رہی تھیں کھانے میں ساگ،اوپر تازہ مکھن کڑی مگر زرا پتلی تھی مگر بہت لزیز تھی۔ مٹن کڑاہی گوشت اور چکن کڑاہی تھا ساتھ میں بیف کا پلاو تھا پودینے کی چٹنی اور گھر کا دہی تھا۔ساتھ کولڈ ڈرنکس تھی۔ ان کے مرد بھی بڑے ادب سے ان سے گفتگو کر رہے تھے اور ساتھ کھانا کھا اور ان کو اصرار کر کے کھلا رہے تھے۔ اور معزرت کر رہے تھے کہ زیادہ کچھ نہیں بنا سکے کہ وقت کم تھا ملک وحید نے انہیں گھلا ملا لیا تھا اس کے والد ان کو پتر پتر کہہ کر بات کر رہے تھے انکا بڑا بیٹا انہیں بہنا بہنا کہہ کر مخاطب کر رہا تھا۔ عورتیں شروع میں کچھ شرمانے کے بعد فری ہو گئی تھیں۔


دعا کی فرینڈز بھی اب ان سب سے گھل مل کر باتیں کر رہی تھیں۔ کھانے کے گھنٹے بعد میٹھے میں ان کو آہسکریم پیش کی گئی اور معزرت کی گئی کہ دیسی میٹھا بنانے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے اور اس لئے بھی نہیں بنایا کہ اجکل کی لڑکیاں دیسی گھی کے بنے میٹھے پسند کم کرتی ہیں۔


تینوں بولیں اچھا کیا جو نہیں بنایا اتنی محنت بھی لگتی اور شاید ہم کھا بھی نہ پاتے۔ آپ نے ہمیں ہر چیز چکائی۔


ہر چیز اتنی مزے کی لگتی جی چاہتا اسے ہی بس کھاہیں۔ ہم نے تو اتنا کھا لیا ہے کہ بس بتا نہیں سکتے اچھا کیا آپ نے کولڈ ڈرنک ساتھ رکھی۔


لڑکیوں کے گفٹس گھر والوں کو بہت پسند آئے۔ ملک وحید کی ماں تو سوٹ کی بار بار تعریف کر رہی تھی۔ ملک وحید نے بھی گفٹس کی تعریف کی مگر ایک بار۔


شام کو انہیں کھیتوں کی سیر کو لے گئے۔ ملک وحید اور اس کی بہن ساتھ گئ۔ ان کے بچے دبے دبے سے تھے اگر کسی بات کی سرگوشی میں ضد کرتے تو ماں آنکھیں دیکھاتی تو چپ ہو جاتے۔ وہ بچے گاوں کے لباس شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ گھر میں سب بچوں کے ساتھ گاوں کی زبان بولتے تھے اردو کوئی نہ بولتا۔ ملک وحید کو دعا کی فرینڈز کے سامنے سبکی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے دل میں سوچا اس نے کھبی اس طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا۔


گھر کی عورتیں بھی بچوں کی بھاگ دوڑ سے انہیں چپکے سے ڈانٹ ڈپٹ کر رہی تھیں اور شرمندہ ہو رہی تھیں۔


شام کو گاوں کی سیر کرتے ہوئے لڑکیاں ہر چیز کی مووی بنا رہی تھیں ٹیوب ویل کے گرتے پانی کو دیکھ کر انجوائے کر رہی تھیں۔ لہلہاتے کھیت اور گھنٹے درخت کو دیکھ کر اس کے ساتھ سیلفیاں لے رہی تھی۔ گاوں کی راہ چلتی عورتیں حیران ہو کر دلچسپی سے مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھیں۔ کچھ کچے گھروں کو دیکھ کر وہ افسوس کر رہی تھیں کہ ان لوگوں کی زندگی کتنی کٹھن ہے۔ سر پر پانی کے گھڑے اٹھاے، کنویں سے پانی بھرتی پھر بھی وہ مسکراتی باتیں کرتی چل رہی تھیں۔ کچھ لکڑیوں کے گٹھے اٹھائے جا رہی تھیں۔ کچھ ساہکل سوار چھان بورے کی آواز لگا رہے تھے۔ گاوں میں کچھ چھوٹی موٹی دکانیں بھی تھیں کچھ سبزی کی کچھ کریانے کی۔ گاوں کے بچے اور مرد ادھر سے چیزیں لا کر کچھ راستے میں ہی کھاتے جا رہے تھے۔ اور بڑی معصومیت سے جاتے جاتے رک کر ان کو دیکھ کر جارہے تھے۔ جاتے جاتے مڑ مڑ کر بھی دیکھ رہے تھے۔ گاوں کے لوگ راستے میں جگہ جگہ ملک وحید کو سلام کر رہے تھے وہ دور سے ہی ہاتھ ہلا کر سر جھکا لیتا تھا اسے شرم آ رہی تھی لڑکیاں شہری لباس میں ملبوس سر کے بال کسی کے کھلے اور کسی کے تراشے ہوئے ایک نے پونی بنائ ہوئی تھی۔ دعا نے ہدایت کی تھی کہ دوپٹہ سر پر اور جسم پر کھول کر کرنا۔ ان لڑکیوں نے سنی ان سنی کر دی۔ دعا نے دوبارہ کہا کہ دوپٹے کو گلے میں پٹے کی طرح نہ کرنا۔


گاوں میں ایک لڑکی کو شرم محسوس ہوئی تو اس نے سر پر کر لیا اس کی دیکھا دیکھی باقی نے بھی سر پر کر لیا کیونکہ وہاں کوئی ننگے سر نہ تھی اور ملک وحید کی عورتیں کام کاج کے دوران بھی بڑے بڑے دوپٹے لپیٹے سر کو ڈھانپے کام نمٹا رہی تھی۔


ملک وحید کے گھر کی عورتیں ملازموں کے باوجود پھرتی سے کام کاج کر رہی تھیں۔ ملک وحید کی ماں نے بتایا کہ ہانڈیاں ساری اس نے پکائی ہیں اور وہ ہی زیادہ تر پکاتی ہے۔ صبح سب کا ناشتہ دیسی گھی کے پراٹھے بھی وہی پکاتی ہے۔ ویسے بھی اب کام کم ہو گیا ہے پہلے اس نے بکریاں، مرغیاں، گاے، بھینس اور کتا بھی رکھا ہوا تھا مگر ملک وحید نے سب کو گھر سے دور ملازموں کے حوالے کر دیا ہے کہ آپ اپنی جان کو آرام دیں۔ پھر اب کام ہی کیا بچا ہے۔


لڑکیوں نے حیرت سے ان کی باتیں سنی کہ اتنا کام کرتی ہیں ہم سے تو وہ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔


لڑکیوں نے ملک وحید کی ماں سے کہا کہ آنٹی اب اجازت دیں آپ کی بہو کتنے فون کر چکی ہے۔


ملک وحید نے کہا کہ زرا ٹہریں میں نے آپ کے لیے کچھ شاپنگ کی ہے اللہ کرے آپ کو پسند آ جائے۔


سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔


وہ کمرے میں گیا اور کافی سارے برینڈ کے لفافے اٹھاے باہر آیا۔


لڑکیاں اس کے ہاتھ میں ان کے پسندیدہ برانڈ کے لفافے دیکھ کر آنکھیں پھاڑ کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔


اس نے لفافے ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں سے دو دو سوٹوں کے لفافے اپنی پسند کے چن لیں یہ ہمارے طرف سے اپنی بہنوں کے لئے تحفے ہیں۔


ملک وحید کی ماں بولی کل صبح ہی یہ شہر نکل گیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میری بہنیں آ رہی ہیں ان کے لئے کپڑے لانے ہیں ہم میں سے کسی کو ساتھ لے کر نہیں گیا پتا نہیں کیسے لے کر آیا ہے اللہ جانے آپ لوگوں کو پسند بھی آتے ہیں کہ نہیں اب دعا کے کپڑے اس نے خریدے ہیں ورنہ اس نے عورتوں کے کپڑے کھبی نہیں خریدے۔


لڑکیوں نے کہا آنٹی جی دعا کے کپڑے تو ہمیں بہت پسند آئے ہیں پتہ نہیں ہمارے کیسے ہیں۔


ملک وحید نے کھول کر دیکھانے شروع کیے تو لڑکیوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئی۔


ملک وحید کی ماں غصے سے بولیں یہ کیا سادے مادے کپڑے اٹھا لائے ہو اسی لئے نہیں دیکھا رہے تھے ہمیں۔


لڑکیاں تو اتنے مہنگے اور پیارے پرنٹ کے سوٹ دیکھ دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو رہی تھیں کہ کون سا لیں اور کون سا چھوڑیں۔


ملک وحید نے کہا کہ امی، بھابی، آپا اور دعا کے بھی ہیں کپڑے۔


ماں نے ڈانٹ کر کہا دیکھو بےچاریوں کو پسند ہی نہیں آ رہے ہیں کب سے دیکھ رہی ہیں۔


دوست بولی آنٹی جی سب ہی اتنے پسند آ رہے ہیں کہ ان میں سے چننا مشکل ہو رہا ہے۔


ملک وحید کے شور مچانے پر لڑکیوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور جلدی چننے کا اشارہ کیا۔


انہوں نے دو دو سوٹ چن لیے تو ملک وحید نے کہا کہ امی جی آپ لوگ بھی پسند کر لیں۔ پھر دعا کے لئے رکھ لوں گا۔ ماں نے سوٹوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا کہ یہ سادے سے سوتی سوٹ میں نے تو ان کے تکیے کے غلاف بناوں گی اور کچھ نہیں۔


دعا کی فرینڈ چیخ کر بولیں پلیز آنٹی جی ان کو ایسا کچھ نہ کریں دعا کو ایسے بہت پسند ہوتے ہیں اس کو دے دیں یہ تو بہت مہنگے ہیں۔


ماں نے کہا کیا کہا یہ ردی سے مہنگے اٹھا لایا ہے بھاو بنانا اسے کب آتا ہے۔ سو کی چیز ہزار میں لے آیا ہو گا۔دیکھ میری بہو نے کتنا پیارا ریشمی سوٹ بھیجا ہے وہ کیا سوچے گی کہ اس کی سہیلیوں کو ہم نے یہ تحفے دیے ہیں۔ چل کل جا کر میری بیٹیوں کے لیے سونے کے لاکٹ سیٹ لے کر ان کو ادھر پہنچا کر آ۔


تینوں بولیں نو نو آنٹی جی یہ ہی بہت بڑا گفٹ ہے۔ ہم نے اور کچھ نہیں لینا۔


ملک وحید کا باپ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا تھا اس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ شادی پر بہنوں کو لاگ تو دیتے ہی ہیں نا۔ اس کی بہن اس کی بھابی کو سونے کے لاکٹ سیٹ دینے ہی ہیں اس وقت تک ان سب کے خرید کر سب کو اکٹھے دے دیں گے۔


لڑکیاں احتجاج کرنے لگیں تو وہ بولے اگر ملک وحید کو بھائی اور ہمیں اپنا سمجھتی ہو تو حق دعویٰ سے مانگ کر لو گی انکار نہیں کرو گی۔


وہ ان کے خلوص سے متاثر ہو کر بولیں تو پھر ٹھیک ہے ہم لے لیں گے۔


ملک وحید نے ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر کہا آج سے آپ لوگ ہماری بیٹیوں کی طرح ہو اب شادی کے جوڑے بھی آپ لوگوں کے ادھر سے ہی سلیں گے اور وہی آپ نے پہننے ہیں جیسے ہمارے گھر والوں کے لیے ہیں وہی جوڑے ان کے کل تم اپنی بہن یا بھابی کو بازار ساتھ لے کر جاو ان کو بھی ساتھ لے کر جاو اور لاگ کے بہنوں کے سونے کے گفٹ بھی خرید لاو ان کی پسند سے کم از کم دو دو تولے کے ہوں۔


ان لڑکیوں نے احتجاج کیا کہ انکل ہم ویسے تو جیولری کم ہی پہنتی ہیں اور اتنے بھاری نہیں۔


ملک وحید کی ماں بولی دو تولے کوئی زیادہ ہے کیا اپنے بازو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی یہ میرا ایک کڑا دو تولے کا ہے ایک تم نازک شہر کی لڑکیاں بھی ناں۔


لڑکیوں نے کہا کہ وہ چلیں آپ لوگوں کی خوشی کے لئے نازک سا کوئی سیٹ لے لیں گے۔


باپ نے کہا کہ دو تولے سے کم نہ ہو بس۔ ان بچیوں سے میں دل سے خوش ہوا ہوں یہ چاہتیں تو اس سے بھی زیادہ کی ڈیمانڈ کر سکتی تھیں مگر یہ دعا کی طرح بہت اچھی نیچر کی دوسروں کا خیال کرنے والی اور قناعت پسند لڑکیاں ہیں۔ ان کے والدین کی تربیت بہت اچھی ہے۔ انہوں نے دیمانڈ بھی کی تو کیا ہمارے گھر کا دیسی کھانا۔ اگر ہمیں ان کا پتا ہوتا تو ہم ان کو نکاح کے فنکشن میں بھی شامل کرتے۔ یہ دعا کی مخلص دوست ہیں اب میں ملک وحید کے ساتھ خود جا کر ان کے گھروں میں ان کے والدین کو شادی کارڈ دینے جاوں گا۔


ملک وحید نے باقی کے سوٹ بھی اٹھا لیے اور بولا امی جی میں آپ کو اچھے ریشمی سوٹ لا کر دوں گا۔ یہ میں دعا کو بھجوا دیتا ہوں آخر سادے کپڑے بھی اسے گھر میں ضرورت ہوں گے۔


ماں تڑخ کر بولی کیا نئی نویلی دولہن گھر میں ایسے کپڑے پہن کر پھرے گی۔


ملک وحید کے باپ نے کہا کہ تو کیوں نہیں سمجھتی وہ دوسرے دن سے ہی ایسے کپڑے پہن کر پھرے گی وہ شہر کی لڑکی ہے۔ تجھے پہلے بھی سمجھایا تھا کہ اس کا معاملہ الگ ہے تو اس کے معاملے میں نہیں بولنا۔


وہ چپ ہو کر بیٹھ گئی۔


دعا کی دوستوں نے سب گھر والوں کو گلے مل کر خدا حافظ کہا اور کہا کہ پہلے ہم اس رشتے سے ڈری ہوئی تھیں کہ نہ جانے کیسے لوگ ہوں مگر آپ لوگوں سے مل کر دل و دماغ دونوں مطمئن ہیں۔ ہمیں بہت مزہ آیا۔


دوسرے دن شاپنگ کرنے گئے تو ملک وحید گھر میں داخل نہ ہوا۔ بلکہ دعا کی فرینڈز کو باہر بلا لیا کہ جلدی ہے۔ اور بہن اور بھابی کو بھی گاڑی سے اترنے نہیں دیا۔ ایان باہر آیا تو ملک وحید تیزی سے اتر کر ملا اور فرینڈز سلام کر کے گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ دو گاڑیاں لایا تھا دعا کی فرینڈز کہنے لگیں کہ وحید بھائی آپ ایک گاڑی واپس گاوں بھیج دیں ہم تینوں ایک گاڑی لے کر آئی ہیں اسی میں خود ڈرائیور کر کے چلی جاہیں گی۔


دعا کی ایک دوست نے کہا کہ وحید بھائی دعا کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔


ملک وحید نے کہا کہ شادی میں دن کم رہ گئے ہیں اس لئے بڑی امی نے اس کا گھر سے نکلنا بند کیا ہوا ہے۔


ایک دوست جھٹ سے بولی ہم بڑی امی کو منا لیں گے۔


ملک وحید نے کہا کہ وہ بڑی امی کی بات کا مان رکھنا چاہتا ہے انہیں مجبور نہیں کرنا چاہتا آخر انہوں نے دعا کی محبت اور بھلائی کے لیے اسے روکا ہے۔


فرینڈز نے تعریف کی کہ آپ بہت سمجھدار بھائی ہیں۔


ایک دوست کی تین بہنیں تھیں بھائی نہ تھا اس نے اسے پکا بھائی بنا لیا۔ دوسری اکلوتی تھی اس کا بھی بھائی نہ تھا اس نے بھی کہا کہ بھائی کی کمی پوری ہو گئی ہے۔ تیسری کا ایک بھائی اور دو بہنیں تھیں مگر بھائی ہوتے ہوئے بھی نہ پوچھتا تھا۔ وہ شادی کے بعد باہر ملک چلا گیا تھا اور شادی کر کے بیوی بچوں میں مگن ہو گیا تھا۔


ملک وحید کو اس کے والد نے ہدایت کی کہ شاپنگ کے بعد اب بچیوں کے گھروں میں شادی کارڈز دے آنا۔


جیولرز کی شاپ پر ملک وحید نے کہا کہ دو دو تولے کے لاکٹ سیٹ دیکھ لو خود فون آ گیا اور وہ باہر چلا گیا۔


ملک وحید کی بہن نے اپنا اور بھابھی کا ڈھائی ڈھائی تولے کا سیٹ پسند کیا کہ شادی پر پوری برادری دیکھے گی کہ بھائی نے کیا نیگ دیا ہے اس لئے عزت بنے گی۔


تینوں فرینڈز نے جیولر سے ٹوٹل دو تولے کے تین لاکٹ لے لیے۔


ملک وحید کی بہن نے ٹوکا مگر وہ نہ مانیں۔ ملک وحید جو اندر آ رہا تھا اس نے اصرار کیا کہ دو تولے کا ایک فرینڈ لے۔ مگر تینوں نے سختی سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم نے گھر والوں سے ڈانٹ نہیں کھانی۔ مجبوراً وہ چپ ہو گیا۔


شاپنگ کے بعد وہ لوگ ان کے فرینڈز کے گھر گئے۔ وہ سب ملک وحید سے متاثر ہوئے۔ اور شادی میں آنے کا وعدہ کر لیا۔


ملک وحید نے دعا کی فرینڈز کے گھر والوں سے کہا کہ اب آپ لوگوں کی میں ہمیشہ خیر خبر رکھوں گا اور اپنی بہنوں کی اچھی جگہ شادیوں کرنے میں پورا ساتھ دوں گا انشاءاللہ۔


شادی پورے منظم طریقے سے اپنے انجام کو پہنچی۔ ہر چیز پلان کے مطابق اپنے وقت پر کی گئی۔ پورے گاؤں میں واہ واہ مچ گئی۔ہر فنکشن میں سب کو لنچ باکس تقسیم کیے گئے۔ دن کے وقت کی شادیاں رکھی گئی۔ حتکہ مہندی بھی دن کو کی گئی۔ رات تک سب فارغ ہو جاتے۔تین دن مسلسل شادی کے فنکشن رکھے گئے کوئی گیپ نہیں رکھا گیا۔ صبح دس بجے سے دن تین بجے تک فنکشن ختم کر دیا جاتا۔ جس میں پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق انٹرٹینمنٹ بھی رکھی گئی۔ جس میں گانا لاہیو جس میں ملک وحید نے بھی دعا کو خود گا کر گانا ڈیلیگیٹ کیا اس کی زبردست آواز میں خوب سماں بندھا۔ خوب تالیاں بجیں۔ ہلکہ ہلکہ میوزک ہر فنکشن میں بجایا گیا۔ بہت زیادہ سب نے انجوائے کیا۔ شہر سے آئے لوگ وقار صاحب کے جاننے والے، دعا کی فرینڈز کے گھر والے سب اس گاوں میں ایسے شاندار انتظامات دیکھ کر ششد رہ گئے کچھ نے آفرز بھی کر دیں کہ ہم اپنی شادی کا ٹھیکہ دیتے ہیں۔


دعا دولہن بن کر جب گاوں پہنچی تو اس کی ساس نے سونے کا رانی ہار اسے تحفے میں دیا۔ نند نے اور جٹھانی نے سونے کی انگوٹھیاں دیں۔ جیٹھ اور نندوی نے بھاری سلامی دی۔


ملک وحید کو قیمتی لیب ٹاپ اور گھڑی ایان نے سلامی میں دی۔ وقار صاحب اور تانیہ نے بھاری سلامی دی۔ مسز آفاق نے سونے کا سیٹ دیا۔ وقار کے بیٹے نے دعا اور ملک وحید کو قیمتی پرس دیے جو ان کو بہت پسند آئے۔ دعا کی بھابی نے دعا کو قیمتی لیپ ٹاپ دیا۔ ایان نے کہا کہ میں دعا کو بعد میں تحفہ دوں گا ادھار رہا۔ دادا نے دعاؤں سے روتے ہوئے رخصت کیا۔ بیٹے کو یاد کرنے لگے۔ دعا بھی جب سب سے ملنے لگی تو ایان نے منع کر دیا کہ دولہن کو چلتے وقت رلا رلا کر بیڑہ غرق کر دیتے ہیں میک اپ جو سارا دن لگا کر کیا جاتا ہے اس کی ناس بھی مار دیتے ہیں۔ دولہن کو خوشی خوشی رخصت کرنا چاہیے کہ اس کی نئی زندگی شروع ہوئی اور گھر والوں کا ایک فرض ادا ہوا۔ دولہن کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے اس گھر سے رخصت ہو رہی ہے اور اس کا اس گھر سے ہمیشہ کا ناتہ ٹوٹ گیا ہے ایسے باور کرایا جاتا ہے کہ جیسے وہ اب ادھر کھبی نہیں آ سکے گی۔ وہ اس غم سے چور حسرت سے بابل کی گلی، گھر اور والدین کو دیکھتی ہے جیسے وہ اب اس کے والدین ہی نہیں رہیں گے ان سے بھی رشتہ ختم۔


حقیقت یہ ہوتی ہے کہ والدین بیٹی کو روتا دھوتا رخصت کرتے ہیں تو اس کے جانے کے بعد دکھی اور مغموم رہتے ہیں۔ ساری رات پریشان رہتے ہیں۔ ماں تو اکثر روتی ہی رہتی ہے۔ اس کے برعکس دولہن جب پیا گھر پہنچتی ہے تو رسمیں شروع ہو جاتی ہیں اس کو پروٹوکول دیا جاتا ہے گھر والے خوش ہوتے ہیں دولہن، دولہا کے ساتھ رسمیں نبھاتے وقت چھیڑ چھاڑ اور ہلہ گلہ مچا ہوتا ہے۔ دولہن اس وقت تک رونا دھونا بھول چکی ہوتی ہے اور گھر والوں کے ساتھ خوشی سے شامل ہوتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔ پھر ولیمے والے دن جب میکے والے آتے ہیں تو وہ سٹیج پر بیٹھی اپنے دولہا کے ساتھ مسکرا مسکرا کر خوشی خوشی باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ اس کو خوش دیکھ کر والدین کو اطمینان ملتا ہے۔


دعا کو رات کو ملک وحید کے بیڈ روم میں اس کی نند اور جٹھانی چھوڑ کر گئی تو وہ اس بیڈ روم کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس میں ڈبل بیڈ تھا کافی پرانا اس پر پڑا گدا بھی پتلا ہو چکا تھا۔ کمرے میں پرانی سی لوہے کی الماری، دو پرانے زمانے کی کرسیاں پرانا لکڑی کا میز۔ کمرے میں خستہ حال قالین جس کے نیچے سے سیمنٹ کا پرانا فرش نظر آ رہا تھا۔ دیواریں بھی پرانی، دیواروں میں کسی جگہ سے سیمنٹ بھی اکھڑا ہوا تھا۔ کمرے کی حالت دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ اس کی فرینڈز نے بتایا تھا کہ گھر اور گھر کا سازوسامان پرانا ہے۔ مگر انہوں نے ملک وحید کا بیڈ روم دیکھنا مناسب نہ خیال کیا تھا۔


دعا کی آنکھیں بھر آئی۔ اس نے سنا تھا کہ ملک وحید نے جہیز دینے سے منع کیا تھا مگر جہاں وہ اتنی دولت لٹا رہا تھا تو کیا اپنے کمرے کی حالت درست نہیں کر سکتا تھا۔ اور بھائی اگر ایک کمرے کا فرنیچر زبردستی دے دیتا تو ملک وحید شاید نہ بول پاتا۔ اسے اپنی فرینڈز کا خیال آ گیا تو اس نے سوچا کہ اب اس گھر کی عزت اس کی عزت ہے وہ اسی میں صبر کرے گی اور حرف شکایت زبان پر نہ لاے گی اب جیسا بھی ہے اس نے اب اسی حالت میں ان لوگوں کے ساتھ بناہ کرنا ہے دو انسو اس کی آنکھوں سے گرے اور اس نے صاف کر کہ دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ حرف شکایت زبان پر نہ لاے گی اور کسی سے کوئی گلہ تک نہ کرے گی انشاءاللہ۔


دروازے سے ملک وحید کھانس کر اندر داخل ہوا۔اور دعا سنبھل کر بیٹھ گئی اس نے سلام کیا اور منہ دکھائی ایک چھوٹا سا گفٹ اسے دیکر واش روم گھس گیا۔


دعا بےدلی سے اس چھوٹے سے گفٹ کو ہاتھ میں پکڑے اداسی سے سوچ رہی تھی کہ ملک وحید مسکراتا ہوا باہر آیا اور دعا سے بولا۔ ہاں جی تو بتاو گھر گھر والے سب کیسے لگے۔ دعا نے اسے دیکھا اور کہا سب اچھا ہے گھر اور گھر والے بھی۔


وہ اس کی طرف مسکرا کر سوالیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ اور یہ بیڈروم۔؟


دعا نے کہا وہ بھی اچھا ہے اور کہتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔


ملک وحید اس کے سامنے بیٹھ گیا اور پیار سے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا میری جان کیا تم واقعی خوش ہو میرے ساتھ اس حالت میں اس گھر کے ماحول کے مطابق رہ سکو گی کیونکہ اس گھر میں میری ماں کی مرضی چلتی ہے اور ان کو یہ پرانا سازوسامان بہت عزیز ہے اور کوئی اس میں ردوبدل نہیں کر سکتا ہے۔ اور اس گھر میں ان کی مرضی چلتی ہے۔ کیا تم یہ سب کر پاو گی اپنے آپ کو اس ماحول میں ڈھال سکو گی کیونکہ کتابی باتوں اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر تم کچھ کرنا چاہتی ہو تو ان کو خوش اور ان کی اجازت درکار ہو گی ورنہ میں بھی ان کے آگے بےبس ہوں ورنہ میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔


دعا نے وعدہ کیا کہ وہ آنٹی جی کی مرضی کے خلاف نہیں جاے گی مجھے یہ بیڈ روم اسی طرح منظور ہے۔ میرے پاس اتنی سلامیاں ہیں مگر میں انہیں خرچ نہیں کروں گی۔ کیونکہ مجھے جو سسرال سے سلامیاں گاوں کی طرف سے ملی ہیں وہ میں نے الگ رکھنی ہیں اور جو میکے کے گاؤں سے ملی ہیں وہ الگ رکھنی ہیں۔ سسرال کے گاؤں میں ہمیشہ ساس نے لوگوں سے موقعوں پر لین دین کیا ہے اور یہ ان کا حق ہے میں انہیں صبح دے دوں گی۔ اور جو میکے گاوں سے ملی ہیں وہ بڑی ماما کا حق ہے انہیں اگر آپ کی اجازت ہو تو دوں گی۔


باقی جو مجھے سب نے دی ہیں وہ ہم اپنے خرچے کے لیے مشترکہ رکھیں گے انشاءاللہ۔


ملک وحید نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں اچھا فیصلہ ہے۔


اپنے پیسوں سے کی آپ اس بیڈ روم کی چیزیں بھی چینج کریں گی میری ماں کو برا لگے گا شاید کہ شاید بہو اس کمرے کو اپنے لیول کا نہیں سمجھتی کیا آپ اس حالت میں گزارہ کر سکتی ہیں کیا۔ ؟


دعا بولی میں ہاں گزارہ کر سکتی ہوں میں یہ ہی سب سوچ کر آئی تھی۔


مک وحید نے ہنس کر کہا کہ آپ تو گاوں کی حالت سدھارنے آئی تھی مگر ادھر ایک کمرے کو سدھارنے کی اجازت نہیں ہے۔ دعا نے ایک سانس بھری اور خاموش ہو گئی اس نے گفٹ کھولا تو اس میں ویزہ کارڈ تھا۔


ملک وحید نے کہا کہ آپ اسے جب چاہیں یوز کر سکتی ہیں۔


دعا نے بے دلی سے شکریہ کہہ کر پاس پڑے ٹیبل پر رکھ دیا۔


ملک وحید نے کہا کہ امی جان فجر کے وقت سب کے دروازے کھٹکھٹا دیتی ہیں اور سب کو اٹھنا پڑتا ہے اور نماز اور تلاوت کے بعد سب کا ناشتہ بناتی ہیں اس لئے ہمیں بھی جلدی سونے کی عادت ہے۔


دعا نے جواب دیا میں صبح اٹھنے کی عادی ہوں۔ ہمیشہ سے ہی پہلے نانا نانی کے لے اٹھتی تھی ان کو دودھ گرم کر کے دیتی تھی اور خود ایک بریڈ پر مکھن جیم لگا کر کھا کر کالج چلی جاتی تھی۔


پھر اپنے گاوں میں بڑی امی کو دودھ گرم کر کے صبح دیتی اور بعد میں وہ ناشتہ بناتیں اور مجھے اپنے ساتھ زبردستی دیسی گھی کا پراٹھا کھلاتیں۔


دعا رات کے آدھے پہر جاگتی رہی اور اپنے رب سے دعا کرتی رہی کہ مجھے ثابت قدم رکھنا۔ اسے رونا بھی آ رہا تھا ملک وحید سکون سے سو رہا تھا۔ پہلا قدم ہی مشکل لگ رہا تھا وہ جانتی تھی ساس کو خوش رکھنا اور اس گھر میں اپنی مرضی کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے سارے پلان فیل ہوتے نظر آ رہے تھے وہ یہ شکر بھی کر رہی تھی کہ شکر ہے ملک وحید کا رویہ اد کے ساتھ اچھا ہے۔ اس نے بڑے سلجھے انداز میں مختصر انداز میں اس کی تعریف بھی کی تھی وہ اس کی بات سوچ کر مسکرا دی اس نے کہا تھا کہ کیا میری دولہن ہی اتنی خوبصورت لگ رہی ہے یا ہر لڑکی دولہن بن کر اتنی خوبصورت لگتی ہے۔


صبح زور زور سے دروازہ بجنے سے وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ملک وحید واش روم میں تھا اس نے تیزی سے جا کر دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے ساس کو پایا اس نے جھٹ سلام کیا تو ساس نے جواب دینے کی بجائے اسے غور سے دیکھتے ہوئے ڈانٹ کر کہا کہ تم نے بغیر دوپٹے دروازہ کھولا۔اس نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہوں نے رات کو بتایا تھا کہ امی جان صبح جگانے آتی ہیں اس لئے۔


ساس نے غصے سے کہا کہ کیا ساس کے سامنے دوپٹہ نہیں کرنا۔یہاں ننگے سر پھرنا منع ہے یاد رکھنا۔ اور فارغ ہو کر جلدی آنا اپنے سسر کو لسی دینے جانا۔


ملک وحید پیچھے کھڑا تھا اس نے ماں کو سلام کیا تو ماں نے وعلیکم السلام کہہ کر اسے بھی جلدی آنے کا بولا۔ دعا دروازہ بند کرنے لگی تو ساس جاتے جاتے مڑ کر بولی دروازہ کیوں بند کر رہی ہو دروازہ صرف رات کو بند ہوتا ہے۔


دعا نے ملک وحید کی طرف دیکھا تو وہ معزرت والے انداز میں بولا پلیز۔


دعا نے دروازہ کھولا چھوڑ دیا۔


وہ سسر کے کمرے میں گئی اور آہستہ سے دروازہ بجایا۔


سسر جو نماز ادا کر رہے تھے نہ بولے۔


تھوڑی دیر انتظار کے بعد دعا نے دوبارہ دروازہ بجایا سر پر اچھی طرح دوپٹہ لیے ہاتھ میں لسی کا گلاس پکڑے اس نے سلام کیا انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں جواب دیا اور اس کا حال احوال پوچھا اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساس کے تیز مزاج کا بتایا اور کہا کہ وہ دل کی بری نہیں ہے۔


اس نے کہا جی کوئی بات نہیں وہ میری ماں ہیں جیسے کہیں گی ویسے ہی میں کروں گی۔ وہ خوش ہو کر اسے دعائیں دینے لگے اور وہ دل میں خوش ہو کر چل پڑی کہ سسر صاحب اچھے ہیں۔


فرینڈز کے سامنے وہ خوش دکھائی دینا چاہتی تھی زبردستی مسکرا رہی تھی حالانکہ اپنے خواب پورے نہ ہونے کا اسے اب پکا یقین ہو چکا تھا جو وہ یہاں کرنے آئی تھی۔


تانیہ ماں تھی پھر ساس کی تیز مزاجی دیکھ چکی تھی جو وہ گھر والوں کو دیکھا رہی تھی۔ اس نے بیٹی کے اندر چھپے غم کو پڑھ لیا اور کہا کہ شادی شدہ لاہف آسان نہیں ہوتی سب کو خوش رکھنا پڑتا ہے تم میکے سے موازنہ کر رہی تھی جہاں سب تمھاری سنتے تھے مگر اب تم نے خود یہ راستہ چنا ہے تو ثابت قدم رہنا اور دنیا کو باتیں بنانے کا موقع مت دینا اب جو بھی حالات ہوں ہمت اور صبر سے مقابلہ کرنا۔ شروع کا وقت ہر لڑکی کے لیے ایک کڑا امتحان ہوتا ہے بس اپنی مرضی بھول جاو اور ہر بات میں یس سر کرتے رہو پھر سب خوش ہونے لگتے ہیں اور اس کی بات ماننے میں دیر نہیں کرتے۔


دعا کی آنکھیں نم ہو گئی اور ماں نے بھی اسے نم آنکھوں سے گلے لگا کر پیار کیا تو دعا کے دل کو سکون مل گیا۔


دعا مکلاوے گئ اور شام کو واپس کیونکہ ساس کا حکم تھا۔ وقار صاحب نے سب کی دعوت کی سب آے اور ساتھ ہی دعا کو بھی جانا پڑا۔ تانیہ نے نہ روکا۔


دعا کو گاوں میں رہتے تین ماہ گزر چکے تھے اور ساس کی پابندیاں جاری تھیں۔ کہیں جانا ہوتا تو ساس بھی ساتھ جاتی اور گاڑی میں آگے بیٹھتی۔ دعا کو کھبی شوہر کے ساتھ اکیلے آگے بیٹھ کر جانے کا موقع نہ ملتا۔


ملک وحید ساس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا تو دعا زرا سکھ کا سانس لیتی۔ وہ تو فون بھی سامنے نہ کر سکتی تھی کہ ساس کو فون رکھنا بہوؤں کا پسند نہ تھا دعا بھابی کو رات کمرے میں آ کر میسج کرتی اور تانیہ کو چپکے چپکے فون کرتی۔ اپنے موبائل کو چھپا کر رکھتی کہ ساس کھبی کبھار کمرے میں آ کر بیٹھ جاتی۔ لیب ٹاپ بھی بند سنبھالا ہوا تھا۔


دعا کی اس پتلے گدے پر سوتے سوتے کمر دکھنے لگی تھی۔۔ اسے یاد تھا کہ اس نے ساس کو گاوں کی سلامیاں پیش کیں تو اس نے جھٹ پکڑ لیں بلکہ اس کی سلامی کا بھی پوچھا تو اس نے چپ کر کے وہ بھی پکڑا دیں۔ میکے کی نہ بتایا وہ انپڑھ عورت تھی بتایا کہ یہی ہیں سب۔ ساس نے اسے کہا کہ اچھا کسی کو مت بتانا۔ وہ گردن ہلا کر رہ گئی۔ اس کے میکے والوں کے سامنے ان سے بہت اچھی طرح پیش آتی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی۔


اس کی فرینڈز کو بھی سر ڈھانپنے کا نہ بولتی وہ چند بار آہیں اور اس کی حالت زار کا اندازہ کر کے افسوس کرتی چلی گئی مگر دعا نے انہیں اپنے شوہر کو گلہ کرنے کی اجازت نہ دی اور اپنی قسمت پر شاکر رہی۔


ملک وحید کو بھی وہ گلہ نہ کرتی بس اپنے اوپر والے سے رحم کی دعا کرتی۔ نند بچوں سمیت رہنے آ جاتی وہ اور اس کے بچے اودھم مچاتے مگر وہ کچھ نہ بولتی۔ نند ماں کی لاڈلی تھی۔ وہ اس سے خوب خدمتیں کراتی۔


جٹھانی ساس کو سرگوشیاں کرتی رہتی۔ ساس اور وہ دونوں ایک پارٹی بن کر رہتیں۔اکھٹھی دم کرنے والوں کے پاس بھی جاتی رہتی۔


ایک سال کا عرصہ گزر گیا ساس نے بچہ نہ ہونے کا طعنہ دینا شروع کر دیا۔ میکے بھی دعا کم جاتی کیونکہ اس کو ڈر رہتا کہ کوئی اس کی حالت زار نہ سمجھ لے۔ سب کو اندازہ ہو چکا۔


ایک دن ایان اس کے گھر آیا جو اکثر اس کے سسر یا ملک وحید سے کسی کام کے سلسلے میں آتا رہتا تھا اس وقت اس کی ساس اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی اور پتر پتر کہہ کر پکارتی اور کھلاے پلاے بغیر جانے نہ دیتی۔


ایان نے ملک وحید سے کہا کہ وہ دعا اور اس کی بھابی کو شمالی علاقہ جات کی سیر کو لے کر جانا چاہتا ہے۔ تو اس نے کہا کہ امی جان جانے نہ دیں گی تو ایان غصے سے بولا بھائی کا بھی حق ہے آخر۔ دعا نے آ کر کہا بھائی جان آپ اکیلے اپنی فیملی کو ساتھ لے کر جاہیں کیا کرتے ہیں تم بھی چلو اور فلاں بھی چلے۔ میں نے جب موڈ بنا تو ملک صاحب کے ساتھ چلی جاوں گی۔ آپ میری فکر نہ کریں۔ وہ اپنی بہن کو دیکھنے لگا جو پٹاخہ مشہور تھی اب سسرال کے آگے گونگی بن کر رہتی تھی مگر کسی اور کا لحاظ نہ کرتی تھی۔ گاوں کی عورتیں بھی اس کی حاضر جوابی سے ڈرتی تھیں جو کوئی رشتہ دار باتیں بنانے کی کوشش کرتا اس کی بھی طبیعت صاف کر دیتی تھی ساس حیران ہوتی اس کی ہر جاہز ناجائز بات مانتی۔ اس کی کسی بات کا پلٹ کر کھبی جواب نہ دیتی۔ ساس اس کی باتیں بنا کر ملک وحید کے کان بھرتی اسے غصہ دلاتی تو وہ اس کے غصے کو منٹوں میں ٹھنڈا کر دیتی اس سے معزرت کرتی کہ انجانے میں اس سے ہوا ہے ورنہ وہ ایسا نہ کرتی اور آگے محتات رہے گی۔ اور کہتی ابھی چلیں میرے ساتھ میں امی جی سے معافی مانگ لوں گی تو وہ شرمندہ ہو جاتا۔ ساس جو آس لگا کر بیٹھی ہوتی کہ وہ اس کے درمیان لڑائی ڈلوائے گی مگر صبح ان کے سامنے راضی خوشی دیکھتی تو مایوس ہو جاتی۔


اس کا ملک وحید کا بیوی سے اچھا سلوک اور اس پر فدا ہونا جلاتا۔ وہ کہتی کہ اسے پیسے ہاتھ میں مت دینا جو چیز ضرورت کی ہو وہ لا کر دینا۔


دعا کے پاس میکے کی سلامیوں کے پیسے ہی پڑے تھے جو اس کی بڑی ماما نے نہ لیے تھے۔ اگر ملک وحید کو کوئی ضرورت کی چیز کہتی وہ لے آتا۔ پیسے وہ خود ہی نہ لیتی۔ کیونکہ اس کی ساس اکثر اس کے کمرے کی تلاشی لیتی رہتی۔ حتکہ وہ اس کا کوڑا بھی چیک کرتی۔


اپنی جٹھانی کے بچوں کو پڑھاتی۔ اس کے گاوں کی عورتوں نے بھی بچوں کو پڑھنے بھیج دیا۔ ساس نے برا منایا اور صرف جیٹھ کے بچوں کو پڑھنے کی اجازت دی۔ اس کا دل دکھا۔ اس نے صدق دل سے رب سے دعا کی کہ اے میرے رب میرے ملک اور میرے گاوں پر رحم فرما اگر میں نہیں یہ سب کر سکتی تو تو کسی اور کے وسیلے سے اسے مکمل کروا دے مجھے تو میکے بھی جانے کی اجازت نہیں جلدی ملتی چھ ماہ سے میکے نہ جا سکی ہوں۔ اتنے میں سسر اس کے کمرے میں آے پیچھے ہی ملک وحید اور اس کا بڑا بھائی بھی آ گئے۔


سسر نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ دونوں سامنے کرسیوں پر بیٹھ گئے دعا اور ملک وحید بیڈ پر بیٹھ گئے۔


سسر نے کہا کہ بیٹی تم ہمارے گھر والوں، گاوں والوں کے لیے ایک مشعل راہ اور ایک نعمت ہو۔ تمھارے بتاے ہوئے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہم سب مردوں نے اس میں ایان اور وقار صاحب بھی شامل ہیں ہم نے اس مشن کو خدا کے فضل و کرم سے پورا کیا ہے۔ تمھیں ہم گاوں سے باہر کم لے کر جاتے تھے کہ تم ہماری اس تعمیر و ترقی کو دیکھ نہ لو۔ ہم نے الحمداللہ گاوں میں ہائی اسکول تعمیر کروایا ہے۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا ہاسپٹل ایک چھوٹی مسجد اور ایک شاپنگ پلازہ تعمیر کروایا ہے۔ تمھارے بھائی نے شادی ہال بھی مکمل کروا لیا ہے۔


دعا حیرت سے سب سن رہی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔


دعا نے کہا مگ آپ لوگوں نے مجھے شامل نہیں کیا۔


سسر نے کہا کہ میں نے ایان سے وعدہ کیا تھا کہ بہو اور بیٹے کو شہر میں گھر بنا کر بہو کو شہر میں رکھوں گا اس شرط پر اس نے رشتہ دیا تھا مگر تم سے چھپانے کا کہا تھا۔ میں نے بھی شرط عائد کی تھی کہ بہو ایک سال تک گاوں میں گزارے گی۔ اب ایک سال ہو گیا ہے اور تمھارا ایک کنال میں گھر بن گیا ہے آدھے میں لان ہے اور آدھے میں ڈبل سٹوری گھر۔


تمھاری ساس کو اس شرط کا علم تھا اور وہ خوش تھی کہ بیٹے کو پڑھی لکھی ملے گی۔ اور وہ رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس نے یہ بھی شرط لگائی تھی کہ سال پورا وہ بہو کے معاملے میں نہیں دخل دیں گے۔۔


ہم نے ایان سے کہا کہ ہو سکتا ہے بہو دو ماہ میں ہی اکتا جائے ہمیں شرط بتانی پڑے گی مگر ایان نے کہا کہ ابھی کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ورنہ وہ گاوں میں مہمان کی طرح رہے گی اسے اپنا گھر نہیں سمجھے گی۔ اگر وہ اکتا بھی گئ تو شرط بتا کر اسے زبردستی رہنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اسے گھر کے کاغذات دیے اور کل شہر اپنے گھر کو سیٹ کرنے اور اپنی مرضی کا فرنیچر وغیرہ لانے کے لئے اسے ایک گاڑی کی چابی بھی دی گئی کہ یہ بھی اس کی ہے۔ وہ خوشی سے لبریز کانپتے ہاتھوں سے چابی پکڑتے ہوئے بولی لگتا ہے گاڑی چلانا بھول گئ ہوں۔ سسر نے کہا کہ تم تو بیٹا اپنی زات کو بھی بھول چکی تھی۔ وہ رونے لگی تو سسر نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ہم نے تمھارے مشن کو پورا کیا ہے اور اگے بھی کرتے رہیں گے اور اس کام میں ہمارے ساتھ اور بھی محب وطن پاکستانی شامل ہوچکے ہیں تم نے ہمارے اندر غیرت جگائی ہے کہ پاکستانی عوام بس حکومت سے ترقی کی آس لگا کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاتی ہے۔ ہر کام حکومت کا نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔ کہ ہم بھی اس کی ترقی کے لئے کوشاں رہیں۔ اب ہم اس کام کو ہمیشہ جاری رکھیں گے اور اس کو برھاہیں گے۔ تم بھی اب اس میں شامل ہو سکتی ہو۔


دعا کو دعائیں دیتے وہ باہر نکل گئے۔


ملک وحید نے دعا کو پیار سے دیکھا تو وہ شرما کر بولی آپ بھی چھپے رستم نکلے۔


ساری رات دعا خوش ہوتی اور اپنے رب کا شکر ادا کرتی رہی۔ صبح وہ ساس کے پاس گئی اور جانے کی اجازت چاہی تو ساس نے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا اور کہا کہ اب تجھے کسی بھی کام کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے تو بہت قابل لڑکی ہے۔ تجھے ادھر ضائع نہیں ہونے دوں گی تو اپنے گھر کے مردوں کی بازو بنو اور نیکیاں کماو۔ اور دوسروں کو بھی راہ دیکھاو تم سے میں بہت خوش ہوں مجھے معاف کر دو سب تمھاری تعریفیں کرتے اور مجھے برا لگتا۔ دعا نے کہا کہ آپ میری ماں ہیں آپ جو چاہیں مجھے کہہ سکتی ہیں آپ کا حق ہے۔ دونوں گلے ملنے لگیں اور رونے لگی۔


دعا نے اپنے گھر میں سمپل فرنیچر ڈالا اور اس گھر میں بیٹھی خدا کی رحمت پر شکر ادا کرنے لگی۔


ختم شد۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books