Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 3

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 3

وقار نے تانیہ کے لے اپنی بہن کو فون کیا کہ تمھاری بھابی بیمار ہے تو اپنی ملازمہ ادھر بھیج دو ہمیں ایک اس وقت خدمتگار اور بھروسے والی عورت کی سخت ضرورت ہے۔ بہن نے ساس کو بتایا وہ بیٹی کے لیے پریشان تھی اس نے کہا کہ ہمیں پہلے خیال نہ آیا چلو اچھا ہے اس گھر میں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس نے وقار کو فون کر دیا کہ ڈرائیور کو بھیجو آ کر لے جائے۔


وقار نے بہن سے کہا کہ اس نے کسی کام سے آنا ہے وہ خود ہی آ کر لے جائے گا۔


تانیہ کو اس کی بہن نے کہا کہ وہ سارا سامان لے جائے اسے اب ادھر لمبے عرصے تک رہنا ہے۔


وقار نے اس کا سامان ڈگی میں رکھا اور ساتھ حکم دیا کہ گاڑی میں بیٹھ جاو۔


تانیہ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔


کچھ آگے جاکر اس نے تانیہ کو آگے بیٹھنے کا حکم دیا اور گاڑی روکی۔


تانیہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملازمہ کو آگے بیٹھنا زیب نہیں دیتا۔


وقار تیز آواز میں بولا تم میری بیوی ہو۔


تانیہ نے دکھ سے بھرے لحجے میں کہا کہ تو پھر اپنے گھر بیوی کی حیثیت سے لے کر جاو ناں ملازمہ پلس رکھیل والی حیثیت سے کیوں لے کر جا رہے ہو۔


وقار نے کہا کہ تمھارا گلہ جاہز ہے۔ پہلے تم آگے آو پھر میں سب باتوں کا جواب دوں گا۔


وہ بولی کیا گھر مجھے آگے بٹھا کر لے کر جائیں گے۔


وہ بولا نہیں اس وقت تم پیچھے بیٹھو گی تم آگے آتی ہو یا پھر میں سختی کروں۔


تانیہ مجبور ہو کر آگے بیٹھ گئی۔


وقار اسے بازار لے کر گیا اور اسے کپڑے، جوتے اور ضرورت کا سامان زبردستی لے کر دیا اور ضرورت کا سامان۔


ووہ بولا پرانا سب پھینک دو کتنے سالوں سے وہی گسے پٹے کپڑے پہن رہی ہو۔ مجھے بہت افسوس ہوتا تھا جب میں تمہیں اتنی محنت کرتے دیکھتا تھا۔ تم مجھے پہلی نظر میں ہی پسند آ گئ تھی جب میں کنوارہ تھا اور باہر ملک سٹڈی کے لیے گیا ہوا تھا۔ میں آپا سے لاہیو بات کر رہا تھا۔ بڑی سکرین پر آپا مجھ سے بات کر رہی تھی تم خاموشی سے کمرے میں کپڑے پریس کر رہی تھی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ تم بیوہ ہو۔ میں نے بہانے سے پوچھا کہ ایک بیوہ ہے میرے ساتھ پڑھتی ہے کافی سلجھی ہوئی ہے مجھے اس کی عادات بہت پسند ہیں کیا خیال ہے آپ کا اس سے میں شادی۔۔۔۔


آپا نے غصے سے دھاڑ کر کہا کہ دوبارہ ایسی بات سوچی تو میں قیامت لے آوں گی اچھا ہے تم دور تھے ورنہ نہ جانے میں کیا کر بیٹھتی۔


اس کے بعد میں مایوس ہو گیا اور اپنی بچپن کی منگیتر اپنے سے پانچ سال بڑی آپا کی نند سے شادی کر لی۔ وہ بہت اچھی بیوی ثابت ہوئی۔ اس نے مجھے ہمیشہ مجبور کیا کہ میں اپنی عمر سے چھوٹی لڑکی سے شادی کر لوں۔ آپ اتنے پڑھے لکھے اور میں انپڑھ۔


وقار نے کہا کہ کہ اگر گھر والوں کا خوف نہ ہوتا تو میں ایک منٹ بھی دیر نہ لگاتا۔ ابھی بھی وہ زور دے رہی ہے۔ جب سے اسے اپنی بیماری کا پتا چلا ہے۔ اور آپا تو میرے لئے کنواری، جوان لڑکی ڈھونڈ رہی ہیں۔ مگر میں تمہیں اب کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا کیونکہ کسی نے آپا کو مشورہ دیا تھا کہ اس کی بھی اپنے کسی ملازم سے شادی کروا دو جوان ہے ابھی۔ وہ تمھارے لیے رشتے کی تلاش میں تھی۔


تانیہ یہ سن کر حیران رہ گئی۔


وقار نے اسے وعدہ کیا کہ وہ زرا صبر کرے وقت آنے پر وہ جب نکاح کی جرات کر سکتا ہے تو اسے سب کے سامنے اوپن بھی کر سکتا ہے۔


تانیہ خاموش ہو گئ اور قسمت کے اس کھیل پر حیران تھی کہ جب اسے اپنا ہم عمر ملا ہے تو وہ خوش بھی کھل کر نہیں ہو سکتی۔ جو باقاعدگی سے اس کے والدین کو اچھی خاصی رقم ہر ماہ خود دے کر جاتا ہے۔ اس کے والدین بہت خوش ہیں۔ بس دعا سے مشکل سے چھپا پاتے ہیں۔ وہ ہر بار اتفاق سے گھر نہیں تھی۔


وقار کو اس کے باپ نے فون کیا کہ بیٹا ملازمہ کو کچھ اچھے کپڑے وغیرہ لے دو اس نے کافی سال تمھاری بہن کے گھر والوں کی بے لوث خدمت کی ہے۔ تمھاری بہن تو ویسے بھی کنجوس مشہور ہے۔


وقار نے زرا بےزاری کی ایکٹنگ کی اور بولا سانس بھر کر بولا ٹھیک ہے ابا جان۔


وہ بولا شاپنگ تو ہم نے جلدی جلدی کر لی اب سکون سے دن کا کھانا کھاتے ہیں اور پھر چلتے ہیں۔


وہ فیملی ریسٹورنٹ میں بیٹھی اس کے سامنے کھانا کھاتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ کیا واقعی وقار اسے دنیا کے سامنے اپناے گا۔ اسے یہ سب خواب لگ رہا تھا اس کی پیار بھری دلفریب باتوں میں وہ کھو سی گئی تھی۔


جب وہ اس کے سنگ اس کے گھر پہنچی تو ایک عجیب احساس تھا وہ جا تو ایک ملازمہ کی حیثیت سے رہی تھی مگر اس کے ساتھ وقار کا پیار بھی شامل تھا۔


گھر میں اس کا سامنا وقار کے باپ سے ہوا مگر وہ نارمل رہا۔ وہ اس کے رویے پر حیران تھی جو پہلے ہر وقت اسے دھونس جما کر وارننگ دیتا رہتا تھا اب وہ اس سے بہت اچھے طریقے سے پیش آ رہا تھا کھبی بیٹی بھی پکار لیتا۔


وقار کی بیوی بہت اچھی تھی اس سے محبت سے پیش آتی۔ اس کا بیٹا اور بیٹی بھی اس کی عزت کرتے۔ وقار کی ماں تانیہ سے خوش تھی اس نے آتے ساتھ گھر کے نظام کو اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا۔ وقار نے اپنے گھر والوں کو صاف کہہ دیا تھا کہ یہ صرف میری بیمار بیوی کی دیکھ بھال کے لئے آئی ہے اس سے باقی گھر کے کاموں سے دور رکھا جائے تاکہ میری بیمار بیوی کا حرج نہ ہو۔ باقی ملازمین کے کاموں کی نگرانی کر سکتی ہے۔


وقار کی بیوی پر اسے بہت ترس آتا۔ جس کو علم نہ تھا کہ وہ اس کی سوکن بن چکی ہے۔ وہ کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنا چاہتی تھی مگر قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا۔ دوسری بار بھی شادی شدہ مرد۔


وقار موقع پاتے ہی اس پر والہانہ پیار لٹانے لگتا تھا۔


اچانک وقار کی ماں چکرا کر گری اور بےہوش ہو گئی۔ سب گھبرا گئے۔ اسے جلدی سے ہاسپٹل لے جایا گیا۔ تانیہ اس کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books