Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 4

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 4

گھر میں اکیلی تانیہ تھی اس نے جلدی جلدی گھر کے ضروری سامان کو سمیٹا۔ سب کے موبائل، لیب ٹاپ وغیرہ سنبھالنے شروع کر دیے۔ تھوڑی دیر بعد ہی فون آ گیا کہ وقار کی ماں چل بسی ہیں۔ وقار کی بیوی اب تانیہ کے آنے کے بعد قدرے بہتر ہو گئی تھی وہ بھی ضد کر کے چل پڑی۔ وہاں جا کر اس کی حالت بگڑ گئی۔ اسے ہاسپٹل داخل کر دیا گیا اور تانیہ کو اس کے پاس بھیج دیا گیا۔


تانیہ اپنی ساس کے لئے رو رہی تھی جو اسے اچھا برتاؤ کرتی تھی۔ تانیہ اس کے آخری رسومات میں بھی شامل نہ ہو سکی۔


ایک ہفتہ گزر گیا تانیہ سوکن کے پاس رہتی۔ گھر والے چکر لگاتے رہتے۔ آج اس کی سوکن کی طبیعت قدرے بہتر تھی۔ وقار صاحب بھی اس کے پاس موجود تھے اس کے سسر اور بیٹی بھی پریشان کھڑے ہوئے تھے اس نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا اور تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس سے بولی تم بہت اچھی ہو۔ تم وقار سے شادی کر لو سب اسے دیکھنے لگے۔ وقار نے اسے تسلی دی تم ٹھیک ہو جاو گی۔


وقار کا ہاتھ پکڑتے ہی اس کا سانس اکھڑنے لگا اور ڈاکٹر کے چیک کرنے پر ڈاکٹر نے مایوسی سے سر ہلا دیا۔ اس کی بیٹی چیخ چیخ کر رونے لگی۔ تانیہ نے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔


تانیہ کی بیٹی بہت اداس تھی اس کی کلاس فیلو فرینڈز اس کی ماں کی ڈیتھ کا سن کر اس کے گھر موجود تھیں ان میں دعا کو دیکھ کر تانیہ حیران رہ گئی اور اسے انجان بن کر ملی۔ پھر والدین کو پریشان ہو کر فون کیا کہ دعا ادھر کیا کر رہی ہے۔ انہوں نے پریشانی سے بھرپور لہجے میں بے بسی سے بتایا کہ دعا اب کچھ عرصے سے بہت نڈر اور بے باک ہو گئی ہے ہمارے کنٹرول سے باہر ہو گئی ہے۔ ہماری بلکل نہیں سنتی۔ نہ ہی تمہیں کچھ بتانے دیتی تھی۔ فیشن بھی کرنے لگی ہے۔ امیر سہیلیوں سے دوستی بھی لگائی ہوئی ہے۔ ایک پرانی گاڑی بھی خرید لی ہے۔


تانیہ نے گھبرا کر پوچھا پیسے کہاں سے لائی۔


ماں نے بتایا کچھ ہم سے زبردستی لیے اور کچھ دوستوں سے لون لے کر کچھ بتاتی ہے کہ اپنے پاس جمع تھے اور نہ جانے کیسے گاڑی چلانی بھی سیکھ چکی ہے۔ کہتی ہے دوستوں سے سیکھی ہے۔ کہتی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس بھی بنوا لیا ہے۔ججب جی چاہے نکل جاتی ہے دوستوں کو گھر بھی لاتی ہے۔


تانیہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا کیا کوئی لڑکے بھی دوست ہیں؟


ماں بولی نہیں دو تین لڑکیاں ہی آتی جاتی ہیں۔لڑکا کھبی نہیں کوئی آیا۔


تانیہ نے اس بات پر تھوڑا سکھ کا سانس لیا۔


تانیہ جتنا دعا کو پکڑنے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی موقع نہ دیتی۔


تانیہ نے دیکھا وہ وقار سے زیادہ فری ہو کر بات کرتی تھی جبکہ وقار بھی اس کی بیٹی کی تمام دوستوں میں سے سب سے زیادہ اسے ہی پروٹوکول دیتا۔ اس کی بیٹی بھی سب سے زیادہ تانیہ کو لفٹ کراتی۔ اس کی باقی سب سہیلیاں جا چکی تھی مگر تانیہ ادھر ہی براجمان تھی۔ اسے اس کی دوست اور وقار جانے نہ دیتے تھے۔


وقار کی بیوی اور ماں کے ایک ہی دن اکھٹے چالیسویں کر دیے گئے تھے کیونکہ وقار کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔ دعا اس کے ساتھ روز شاپنگ پر چلی جاتی۔ ساتھ میں اس کا بھائی بھی جاتا۔ وہ اگرچہ کم گو لڑکا تھا کسی سے بھی فالتو کلام نہ کرتا تھا۔ دعا سے بلا ضرورت بات نہ کرتا تھا۔


ایک دن تانیہ کو موقع مل ہی گیا سب صبح سو رہے تھے دعا فرج سے پانی پینے آئی تو تانیہ نے اسے پکڑ لیا اور باہر لے گئ۔ دعا جلدی سے ماں سے لپٹ گئی۔


ماں کو اس نے بولنے کا موقع ہی نہ دیا وہ گلے لگ کر دھیمی آواز میں رو رو کر ماں سے گلے کرتی رہی۔


ماں نے اسے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے لان میں پڑی کرسی پر بٹھا لیا خود پاس بیٹھ کر اسے پیار کرنے لگی۔


دعا نے کہا کہ ماما مجھ سے آپ نے اپنے آپ کو دور کیوں رکھا۔ میں پانچ سال کی معصوم بچی تھی جب آپ مجھے چھوڑ کر ادھر آ گئی۔ مجھے ساتھ لے آتی مجھے انپڑھ رہنے دیتی میرے لیے اتنی محنت نہ کرتی۔ کم از کم آپ کی قربت تو مجھے نصیب ہوتی۔ آپ اکیلی سب کے لیے اتنی محنت کر رہی ہیں۔ چھوٹی عمر میں نانا نانی نے ایک قسم کا آپ کا سودا کیا اپنے فائدے کے لیے۔ آپ کی زندگی برباد کردی۔


تانیہ نے تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے ساری سٹوری سنا دی اپنے اور وقار سے زبردستی نکاح تک کے تمام واقعات اسے بتاے۔ وہ بولی آپ نے کیوں زبردستی نکاح ہونے دیا


تانیہ نے کہا کہ شکر کرو کہ ان امیرزادوں نے مجھ سے نکاح کیے ورنہ یہ لوگ تو نکاح کھبی نہیں کرتے ساری زندگی پال سکتے ہیں مگر برباد کر کے نکاح نہیں کرتے۔ تمھاری ماں اس معاملے میں خوش قسمت ہے۔


دعا نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اب تو وقار انکل کی بیوی کا چالیسواں بھی ہو گیا ہے اب وہ نکاح کو اوپن کیوں نہیں کرتے۔


تانیہ بولی میں نے اوپن کروا کر کیا کرنا ہے۔ ۔


دعا نے کہا کہ جیسے آپ نے بتایا کہ وقار انکل کی بیوی نے مرنے سے پہلے آپ کو وقار انکل سے شادی کی ریکویسٹ کی تھی۔ اب تو ان کے لیے راستہ صاف ہے۔ وہ مرحومہ بیوی کی آخری خواہش کی آڑ میں اس کام کو پورا کر سکتے ہیں اب تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ویسے میں نے اکثر نوٹ کیا ہے جب سے وقار انکل کی بیوی فوت ہوئی ہے ان کے والد اکثر کچھ بول رہے ہوتے ہیں دونوں میں خفیہ بہث چل رہی ہوتی ہے۔میں نے وقار انکل کی بیٹی کو سب سچ بتا دیا تھا اتفاق سے وہ میرے کالج پڑھتی تھی وہ اپنی دوستوں میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی مجھے اس کی باتوں سے کچھ شک گزرا تو میں نے اکیلے میں اس سے بات کی تو وہ واقعی وقار انکل کی بیٹی نکلی۔ پھر میں نے اسے ساری سچائی بتا دی تو وہ بہت خوش ہوئی اس نے یقین دلایا کہ وہ اپنی شادی کے بعد اس کے حق کی کوشش کرے گی۔ اب میں نے اسے بتایا کہ تمھاری ماما بھی یہی چاہتی تھیں تو اب وہ اس ٹاپک کو گول کر جاتی ہے۔ مجھے اسے بار بار کہتے شرم آتی ہے۔


تانیہ نے قیاس آرائی کی کہ ہو سکتا ہے وقار باپ کو اس بات کے لیے منا رہے ہوں اور وہ نہ مان رہے ہوں۔ایسا ہے کہ تم زرا صبر کرو۔ اپنے بھائی کی شادی ہو جانے دو۔ پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کریں۔


دعا غصے سے بولی اگر تو یہ لوگ آپ کو اس گھر میں جاہز مقام دیتے ہیں تو ٹھیک ورنہ وقار انکل بزدلی دکھاتے ہیں تو ویسے بھی میری تعلیم مکمل ہو چکی ہے میں نے جاب کے لیے بہت سی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ میری جاب سے کم از کم ہم دال روٹی چلا سکتے ہیں اکھٹے رہ سکتے ہیں۔ آپ وقار انکل کو چھوڑ دینا ان سے خلع لے لینا۔ اب میں مزید آپ کو اس گھر میں اس پوزیشن میں نہیں دیکھ سکتی ہوں۔ آپ کو میری بات ماننی ہو گی۔ میں آپ سے جان کر نہیں مل رہی تھی تاکہ آپ بھی میرے لیے تڑپیں جس طرح میں ہر لمحہ آپ کے لیے تڑپتی تھی۔ مجھے یہاں سب کو آپ کو اپنی ماما بتاتے کوئی شرم نہیں آتی۔ میں آج سب کو بتا دوں گی۔


تانیہ نے کہا کہ پہلے اپنے بھائی کی شادی ہو جانے دو پھر دیکھتے ہیں۔


دعا نے حتمی فیصلہ دے دیا ٹھیک ہے ماما بھائی کی شادی تک میں آپ کی بات مان لیتی ہوں۔ آج میں واپس جا رہی ہوں۔ نانا نانی کو بھی دیکھنا ہے انہیں تسلی دینی ہے انہوں نے مجھے بہت پیار سے پالا ہے کچھ عرصے سے میں ان کے ساتھ رویہ بدل دیا تھا مجھے ان پر غصہ تھا مگر میں سمجھتی ہوں کہ وہ بھی غربت کے ہاتھوں مجبور تھے اور آپ کو ادھر دیکھ کر ایسی حالت میں تو مجھے سمجھ آ چکی ہے کہ آپ مجھے جدا کر کے ہمارے لیے کتی مشقت بھری زندگی جی رہی ہیں۔ اب میں نوکری کی کوشش تیز کروں گی اور آپ کو اس جہنم سے دور لے جاوں گی۔ میری سوتیلی ماما بھی اپنے وقار بھائی کے لئے کم عمر کنواری لڑکی ڈھونڈ رہی ہیں۔


تانیہ نے کہا چلو اب اندر چلتے ہیں دیر ہو گئی ہے سب جاگنے والے ہوں گے ناشتہ بنانا ہے۔


وہ الگ الگ اندر گئی تو وقار کے والد اور وقار میں خفیہ باتیں چل رہی تھی۔ وقار کچھ احتجاج کرتے نظر آتے تھے جبکہان کے والد انہیں مناتے۔


تانیہ کو دعا نہ کچن میں سرگوشی کی کہ لگتا ہے وقار انکل آپ کے لیے منا رہے ہیں اور وہ اپنی بیٹی کے بتائے رشتوں پر زور دے رہے ہیں۔


تانیہ سن کر مسکرا دی۔


جاری ہے۔


پلیز اسے شہیر، لاہک اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books