Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 8

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 8

دعا کی سوتیلی ماں نے گھر میں کافی واویلا مچایا۔ ساس سسر سے بھی بیٹے کی بے وفائی کے شکوے کرنے لگی۔ بھائی وقار کو رو رو کر فون پر سب سچائی بتائی۔ باپ کو بھی فریاد کی اور کہا کہ تانیہ کو گھر سے دھکے دے کر نکال دیں ورنہ جب وہ میرے سامنے آئی تو میں اسے شوٹ کر دوں گی۔


تانیہ کو وقار نے کہا کہ تم اس گھر سے کچھ عرصے کے لیے بیٹی کے پاس چلی جاو۔ سب کو تانیہ اور وقار کے رشتے کا بھی علم ہو گیا تھا مگر کسی نے تانیہ کو کچھ نہ کہا۔


دعا کو اس کی بھابی سب حالات سے آگاہ کر رہی تھی۔


دعا کی سوتیلی ماں نے بھائی کے لیے رشتہ تلاش کرنے کی رفتار تیز کر دی۔


دعا نے ماں کو کہا کہ آپ کی سوکن آپ پر عتاب لاے گی بہتر ہے آپ فوراً میرے پاس آ جاہیں ادھر سے ہم خلع لے لیں گے اور آپ اب سکون کی زندگی بسر کر سکیں گی مگر وہ نہ مانی کہ میں جیسے بھی ہو وہ شوہر کا گھر تب تک نہیں چھوڑ سکتی جب تک یا تو وہ دوسری شادی نہ کر لیں یا خود اسے گھر سے نہ نکال دیں۔


دعا نے ماں کو سنایا کہ دراصل آپ خود ہی ان لوگوں کو چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں۔ آپ کو وقار انکل سے پیار ہے شاید۔ ماں نے نفی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ابھی اس گھر کو میری ضرورت ہے۔ وقار کے ابو بوڑھے ہیں گھر میں تینوں مرد ہیں عورت کوئی نہیں۔ بہن بیاہی گئی ہے۔


دعا نے دکھ سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بیٹی کی تنہائی، بیٹی کی ضرورت، والدین تک نظر نہیں آتے۔ پہلے ہمیں پالنے کے لیے مجبوری سمجھ میں آتی تھی اب کوئی مجبوری نہیں ہے ان کی غلامی کرنے کی۔


تانیہ نے بیٹی سے وعدہ کیا کہ بس تھوڑا صبر کر لو وقار شادی کر لیں تو میں آ جاوں گی۔


دعا نے جل کر جواب دیا پھر تو ان کی بیوی نے ویسے ہی آپ کو چلتا کر دینا ہے اب عزت سے آ جاہیں میں بس کل آپ کو لینے آ رہی ہوں پیکنگ کر لینا۔ حتمی فیصلہ دے کر دعا نے فون بند کر دیا۔


تانیہ بہت پریشان کھڑی تھی وقار کے باپ نے اتفاق سے ساری گفتگو سن لی تھی انہوں نے مشورہ دیا کہ تمھاری بیٹی اب تمہیں سہارا دے سکتی ہے تم کسی کو بتائے بغیر تیاری کرو اور بیٹی کے پاس چلی جاو اب میری بیٹی وقار کی شادی کروا کر دم لے گی اور پھر تمھارے ساتھ وہ سلوک کرے گی جس کی تم مستحق نہیں۔


تانیہ نے چپکے سے تیاری کی اور وقار کے باپ نے ڈرائیور کے ساتھ اسے بھجوا دیا۔


دعا کی سوتیلی ماں اسی دن باپ کے گھر آئی اور پوچھا تانیہ کدھر ہے اور زور زور سے چلانے لگی شور سن کر سب آ گئے۔ وقار نے بہن سے پوچھا کیوں چلا رہی ہو۔؟


وہ چلا کر بولی کدھر ہے تانیہ میں اسے آج زندہ نہیں چھوڑوں گی۔ میں ساس سسر کا گھر چھوڑ کر آ گئی ہوں ان کو سب پتا تھا اسی لئے وہ دعا پر واری صدقے جاتے تھے اب میں وہاں کھبی نہیں جاوں گی۔


وقار کے باپ نے اپنی بیٹی کے ساس سسر کو کہا کہ میں بیٹی کے اس اقدام پر شرمندہ ہوں آپ اب تانیہ کو گھر لے آہیں اسے اس کے حصے کی جاہیداد دیں اس کی بیٹی کو دیں۔ میں آپ سب کا گنہگار ہوں وہ آپ کے بیٹے کی فوتگی پر جب آئی تھی تو میں نے ہی اسے بجائے حق دینے کے اسے ڈرا دھمکا کر بیٹی کی ملازمہ بنا دیا۔ اب میں اپنا گھر اس کے نام کروانا چاہتا ہوں۔ میری بیٹی بہت ضدی ہے وہ وقار کی شادی کروا کر دم لے گی اس نے رشتہ بھی دیکھ لیا ہے۔ زرا بڑی عمر کی کنواری لڑکی ہے۔ وقار کو بھی تانیہ کی قدر نہیں ہے۔ میں چپکے سے گھر تانیہ کے نام کروا رہا ہوں پھر بے شک وقار اس سے شادی کرے۔ تانیہ کو تو ان بہن بھائی نے بسنے نہیں دینا۔


تانیہ جب بیٹی کے گھر پہنچی تو بیٹی ماں سے گلے لگ کر اس شدت سے روئی اور روتے روتے کہتی ماما میں اب آپ کو کھبی اپنے سے دور نہیں جانے دوں گی۔ اب آپ وقار انکل سے طلاق لے لیں۔ وہ اب آپ کو نہیں بساے گا۔ اس نے زبردستی آپ سے نکاح کیا اور آپ بھی خوش فہمی میں مبتلا رہیں۔ کیا میرے پاپا نے اپنی شادی کسی پر ظاہر کی حتکہ والدین تک کو نہیں بتایا۔ شوہر کی فوتگی پر آپ رہ نہ سکی اور سوکن کے باپ کو اپنی سچائی بتائی َ اس نے ڈرا دھمکا کر بیٹی کی آیا بنا دیا۔ اب سوکن کے بھائی نے اغوا کر کے بیوی بنایا اب سب کو سچائی کا علم بھی ہو چکا ہے تو اب بھی وقار انکل بہن کی سن رہے ہیں اور آپ کو جاہز مقام نہیں دے رہے۔ان کے باپ کا شاید تھوڑا بہت ضمیر جاگ گیا ہے جو اس نے آپ کو ادھر بھجوا دیا۔ ورنہ آپ کی سوکن آپ کو زندہ نہیں چھوڑتی۔


دعا نے ماں سے خلع کا مطالبہ کیا تو ماں نے روتے ہوئے بیٹی سے التجا کی کہ بےشک وقار صاحب نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا مگر جب تک وہ خود طلاق نہ دیں مجھے یہ داغ نہ لگاو مجھے سہاگن رہنے دو۔ میں نے طلاق لے کر کونسا اور شادی اب اس عمر میں کرنی ہے۔


بیٹی ماں کو گلے لگا کر بولی ٹھیک ہے ماما۔


تانیہ کو سب حویلی والے یاد آتے اس کا بہت وقت ادھر گزرا تھا۔


تانیہ نے سنا آج وقار کی شادی ہے وہ بہت ڈسٹرب رہی۔ دعا جو اسے ۔سمجھتی تھی اسے تسلی دینے لگی۔ تانیہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور بولی میری سوکن سچی ہے کسی بھی عورت سے سوکن برداشت نہیں ہوتی۔


دعا کمرے میں داخل ہوئی تو نانا بیڈ پر اوندھے پڑے تھے اس نے چیخ ماری اور ماں کو آواز دی۔ دونوں نے بڑی مشکل سے اسے گاڑی میں ڈال کر نانی کو تسلی دی اور پڑوسن کو نانی کے حوالے کر کے نانا کو ہاسپٹل لے گئے۔


ہاسپٹل پہنچے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ دونوں رونے لگیں۔ دعا نے حوصلے سے کام لیتے ہوئے ان کی ڈیڈ باڈی کو گھر لانے کا انتظام کیا اور بھائی بھابی کو اطلاع دی۔ دونوں چوری چھپے آئے اور بھائی نے بہن کو گلے لگا کر تسلی دی۔ تانیہ سے بولا آپ میرے مرحوم باپ کی بیوی تھی اس لحاظ سے آپ میری سوتیلی ماں ہیں اب آپ کو میں ماما پکاروں گا میں اپنی ماں کے رویے کی آپ سے معزرت چاہتا ہوں۔ اس کی بیوی بولی میرے باپ نے بھی آپ کی قدر نہ کی ایک دن پچھتائیں گے۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ نے بہت قربانیاں دی ہیں۔


دعا کا بھائی بولا اب آپ کو جاہیداد میں سے پورا حق ملے گا۔ااس نے کفن دفن کا انتظام کیا۔


جاری ہے۔


پلیز اسے شہیر، لاہک اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books