Shehzadi Kay Ansu
Episodes
وہ بولا
"ہاں چاچا جی میں ادھر ہی ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔ شہزادی کدھر ھے؟"
ابا نے بتایا کہ گھر پر ہی ھے تو عقیل کہنے لگا
"آج اسے گھر سے نہ نکلنے دینا"
ابا بولے
"بیٹا اس کا خیال رکھنا، اس پر کوئی کیس نہ بنے"
عقیل نے بھرپور طریقے سے تسلی دی اور فون بند کر دیا۔ فون بند ہوتے ہی ماں نے گرج کر کہا
"خبردار آج کے بعد تم اس آفس میں نہیں جاؤ گی"
ابا نے ہاں میں ہاں ملائی۔ شمیم خود بھی بہت ڈر گئی تھی۔
شمیم نے کچھ دن گھر پر ہی گزار دیے وہ پریشان تھی کہ اب کیا کرے گی۔ سوچتی کہ کاش بنک میں ہی جاب کر لیتی۔ اب تو وہاں بھی نوکری ملنا مشکل ھے۔ اس نے عارضی طور پر قریبی سکول میں نوکری شروع کر دی۔
ایک دن کچھ نکالنے کے لیے شمیم نے الماری کھولی تو اوپر کے خانے میں ایک پیکٹ پڑا نظر آیا۔ یہ اس کو پچھلے باس نے دیا تھا کہ گھر بیگم کو دے آنا مگر افراتفری میں بھول گئی۔ اس نے سوچا کہ اب کیا کرے۔ اگر اس میں کوئی ایسی ویسی چیز ھوئی تو کیا ھو گا۔ اس نے ابا سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے روک دیا اور عقیل کے ذریعے بھجوانے کا کہا۔ شمیم نے بھی اسے مناسب جانا۔
شمیم عقیل کے گھر پہنچی تو وہ وردی پہنے جانے کو تیار کھڑا تھا۔ اس نے اسے تمام بات بتائی تو وہ بولا
"چلو وہ پیکٹ مجھے دے دو اور اس بات کو بھول جاؤ۔ تم نہیں جانتی یہ لوگ کتنے خطرناک ہیں۔ یہ لوگ ذیادہ دیر جیل میں نہیں رہیں گے۔ ایسے لوگ جلدی چھوٹ جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ پولیس والے بھی ملے ہوۓ ہیں"
پھر ہنس کر بولا
"سب میری طرح ایمان دار تھوڑی ہوتے ہیں"
شمیم نے کہا
"میں تمہارے ساتھ جا کر وہ پیکٹ دے آتی ہوں اور وعدہ معاف گواہ بن جاتی ہوں"
عقیل نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا
"توبہ کرو، ایسی غلطی کبھی مت کرنا۔ ہو سکتا ھے ان لوگوں کی اب بھی تم پر اور تمہارے گھر والوں پر نظر ھو کیونکہ تم ان کی ملازم رہ چکی ھو۔ یہ میری غلطی تھی کہ تمہیں وہاں نوکری دلوائی۔ پلیز مجھے معاف کر دو"
شمیم نے ایک دم کہا
"کوئی بات نہیں عقیل اس میں آپ کا کیا قصور"
اتنے میں عقیل کی بیوی چاۓ لے آئی۔ شمیم نے پیکٹ عقیل کے حوالے کیا اور چاۓ پی کر چلی آئی۔
دوسرے ہی دن شمیم کو ایک نئے نمبر سے کال آئی
"ہماری تم پر اور تمہارے گھر والوں پر نظر ھے۔ تم کل انسپکٹر عقیل کے گھر گئی تھی۔ خبردار اگر تم نے پولیس کو کچھ بتانے کی کوشش کی۔ یہ تم سب کے لیے اچھا نہیں ھو گا"
اس نے گھبرا کر فون بند کر دیا اور فوری عقیل کو فون ملایا اور اسے سب بتایا۔ اس نے کہا
"تمہیں گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ھے، میرے گھر آ جاؤ اور مجھے وہ نمبر دکھاؤ"
شمیم نے موبائیل اٹھایا اور عقیل کے گھر پہنچ گئی۔ وہ انتظار کر رہا تھا۔ اس نے شمیم کے ہاتھ سے موبائیل لے کر کہا
"تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو نہیں"
شمیم نے نفی میں سر ہلایا تو بولا
"کسی کو بتانا بھی مت۔ تمہارے والدین خواہ مخواہ پریشان ھو جائیں گے۔ مجھے بھی اسی نمبر سے دھمکی بھرے فون آۓ تھے۔ میرے پاس یہ نمبر موجود ھے"
عقیل نے شمیم کے فون سے وہ نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔ شمیم نے حیرانگی سے اسے دیکھا پھر ہاتھوں کے اشارے بنا کر کھڑی ہو گئی کہ یہ کیوں کیا تو عقیل نے کہا
"اگر کوئی اس فون کو پکڑ کر اس نمبر کے بارے میں پوچھے تو کیا بتاؤ گی۔ یہ نمبر میرے پاس موجود ھے۔ جب میں ہوں تو تم کیوں پریشان ہوتی ھو"
شمیم مطمعین ھو کر گھر واپس آ گئی۔ کچھ دن اور گزر گئے۔ پھر ایک دن اچانک اسے باس کا فون آیا کہ آپ جاب پر کیوں نہیں آ رھی۔ آپ کی تنخواہ بھی ادا کرنی ھے۔ شمیم سوچ میں پڑ گئی کہ تنخواہ تو لے لینی چاہیے مگر کچھ بھی ھو جاۓ وہاں مزید کام نہیں کرنا۔ اس نے اپنا فیصلہ عقیل کو بھی بتا دیا۔ عقیل سے بات کر کے اسے ڈھارس ملتی تھی۔ وہ بھی اسی حق میں تھا کہ ابھی اچھی نوکری ملنے تک ٹیچری ہی سہی ھے۔
عامر روزانہ آتا مگر شمیم کا اسے دیکھتے ہی موڈ آف ھو جاتا۔ ماں باپ دونوں خوش ھو جاتے۔ وہ بھائی سے بھی فون پر رابطے میں رہتا تھا۔ اپنی میٹھی اور لچھے دار باتوں سے ماں اور ابا دونوں کو شیشے میں اتار لیا تھا۔ ابا کو ہسپتال جانا تھا تو وہ حاضر تھا۔ وہ اس سے بہت خوش تھے۔
شمیم کے گھر کی حالت اب کافی خراب ھو گئی تھی۔ اس کی اپنی تنخواہ بہت کم تھی۔ بھائی ابھی سیٹ نہیں تھا۔ اس کا ابھی صحیح کام نہیں لگا تھا اور ابا کی پنشن بہت کم تھی۔
انہی دنوں شمیم کو اپنے محلے کے اسکول میں کام کرتے ھوۓ ایک خاموش سا سلجھا ھوا ٹیچر قاسم پسند آ گیا۔ وہ ایک سفیدپوش، غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر وہ شمیم کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کرتا تھا۔ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اسے دیکھتے ہی شمیم کا دل مچل گیا۔ وہ اسے دیکھ کر کھل سی جاتی اور اب تو اس کے خواب بھی دیکھنے لگی تھی۔
ایک بار اس کی ماں بیمار ھو گئی تو سارا سٹاف اسے دیکھنے گیا تو شمیم بھی گئی۔ اسے اس کا چھوٹا سا گھر بہت اچھا لگا۔ اسے وہاں ایک سکون سا محسوس ھوا۔ اسے اس کی ماں بھی اچھی اور پرخلوص سی لگی۔ شمیم نے بڑھ چڑھ کر اس کی تیماداری کی۔ اب وہ اکثر قاسم کے گھر کسی نہ کسی بہانے جانے لگی تھی۔ اس کی ماں اسے بہت دعائیں دیتی تھی۔ قاسم خوب سمجھتا تھا شمیم کے پھیرے مگر ٹس سے مس نہ ھوا۔
ادھر عامر بھی روز آ دھمکتا تھا۔ شمیم تو اس سے جان چھڑاتی تھی۔ اب کی دفعہ اسے قاسم کے غریب ھونے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ اسے اپنے آپ پر حیرانگی تھی۔ اسے اب پتہ چلا تھا کہ محبت کیا ھوتی ھے۔ اس میں تو عیش و عشرت سب ہیچ لگتے ھیں۔ ایک دن اس نے قاسم سے بات کرنے کی ٹھان لی۔ اسے کہا
"آج میں شام کو تمہارے گھر آؤں گی، تم سے ضروری بات کرنی ھے"
قاسم چپ سا ھو گیا اور جواب نہ دیا۔ شام کو تیار ھو کر جانے لگی تو عامر آ گیا۔ وہ اسے سجا ھوا، تیار اور خوش دیکھ کر حیران ھوا۔ پوچھنے پر شمیم نے بتایا
"میں اپنے اسکول کے ایک ساتھی کی والدہ سے ملنے جا رہی ھوں، جو بیمار ھے"
عامر نے طنزیہ تیر چلایا
"اتنا سج دھج کر جانے کی کیا ضرورت ھے جیسے وہاں کوئی فنکشن ھے"
شمیم نے اس کے تمسخر کا کوئی جواب نہ دیا اور موڈ خراب کیے بغیر ہی وہاں سے چل دی۔ آج اسے یقین تھا کہ وہ اپنی منزل کو پا لے گی۔ اس نے ایک کارڈ پر لکھا کہ 'میں تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ھوں' اور ساتھ پرس میں رکھ لیا۔ قاسم کے گھر پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی کچھ مہمان موجود تھے۔ قاسم نے دروازہ کھولا، وہ کافی خوش نظر آ رہا تھا۔ آج پہلی بار اسے اتنا خوش دیکھ کر شمیم حیران رہ گئی۔ اسے یقین نہ آیا کہ اسے اس کے آنے کی اتنی خوشی ھے۔ وہ اندر آئی تو اندر بیٹھے لوگ دیکھ کر گھبرا سی گئی۔ قاسم نے کہا
"آپ آ جائیں، سب اپنے ہی ہیں"
مہمانوں نے اسے اپنائیت سے دیکھا، قاسم کی ماں نے بڑی محبت سے اپنے پاس بٹھا لیا اور ان لوگوں کے سامنے تعریف کی
"یہ میری بیٹی ھے"
یہ سب سن کر شمیم شرماتی اور خوش ہوتی رہی کیونکہ آج قاسم بھی بہت خوش خوش پھر رہا تھا۔ ماں نے قاسم سے شمیم کو دیکھتے ہوۓ کہا
"فریج سے ہماری بیٹی کے لیے مٹھائی اور کولڈ ڈرنک لے آؤ"
قاسم لے آیا تو بڑے پیار سے مٹھائی اس کے آگے رکھی۔ شمیم نے لڈو اٹھایا اور اپنے منہ میں رکھ لیا۔ انتہائی شیریں مٹھائی تھی۔ قاسم کی ماں نے اسے بتانا شروع کیا
"آج قاسم کی شادی کی بات پکی ھو گئی ھے۔ اس کا نکاح تو بچپن میں ہی ھو چکا تھا۔ اب ایک ہفتے بعد رخصتی طے ھو گئی ھے"
شمیم کو تو جیسے پھندہ لگ گیا، وہ مٹھائی اٹک کر رہ گئی۔ اس نے انتہائی دکھ سے قاسم کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ یکدم شمیم کو کھانسی کا جیسے دورہ سا پڑ گیا۔ ماں نے قاسم کو پانی لانے کا کہا۔ اس نے کونڈ ڈرنک کا گلاس پکڑا دیا۔ شمیم ایک جھٹکے میں سارا گلاس ہی پی گئی۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ شدید کھانسی نے اس کے غم کا جیسے پردہ رکھ لیا۔ پتہ نہیں کیسے اٹھی، ماں سے اجازت لی اور گھر کو چلی۔ ماں کے کہنے پر قاسم نے اسے اپنی شادی کا کارڈ بھی دیا۔ ماں نے شادی پر آنے کی تاکید بھی کی۔ اس نے مصنوعی مسکراہٹ سے کارڈ پکڑا، شادی میں شرکت کے لیے اپنا سر اثبات میں ہلایا اور اپنی پناہ گاہ گھر کو رخت سفر ہوگئی۔
گھر میں ماں نے دیکھتے ہی پوچھا
"کیا بات ھے، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ھے"
مگر وہ تو شاک میں تھی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی۔
ابا نے کمرے میں جھانک کر دیکھا اور کہا
"شاید تھک گئی ھے، سونے دو اسے"
شمیم سونے کے بہانے چپکے چپکے روتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد ماں ائی اور کھانے کا پوچھا۔ شمیم نے ہمت کی اور لیٹے لیٹے جواب دیا
"کافی چیزیں کھائی تھی، اب بھوک نہیں ھے۔ مجھے اب نیند آ رہی ھے، اب نہ جگانا"
ماں مطمعین ھو کر چلی گئی۔ شمیم ساری رات روتی رہی، تڑپتی رہی کہ جب امیر کے خواب دیکھتی تھی تو ملتا نہیں تھا۔ اس کی بہنوں کو بن مانگے ہی مل گیا۔ اب جب غریب کو مانگا تو وہ بھی نہ ملا۔ عامر بے شک امیر تھا مگر اس کے دل کو نہ چھو سکا تھا اور چھوا تو ایک غریب نے۔ وہ اپنے دل پر بھی حیران تھی۔
دوسرے دن اس کی حالت خراب تھی۔ طبیعت بھاری تھی۔ اس نے اسکول سے چھٹی لے لی۔ ماں نے اس کا پورا خیال رکھا اور بستر تک سے اترنے نہ دیا۔ اپنی ماں کی اس دلجوئی سے وہ جلد سنبھل گئی اور اپنے دل کو سمجھا لیا کہ قاسم اب کسی اور کی امانت ھے۔ پرائی چیزوں کے بارے میں کیا سوچنا۔ اگلے دن اسکول گئی، وہاں قاسم کی شادی کا چرچا تھا۔ وہ بھی ایک چھٹی کر کے آج ہی آیا تھا اور چہرے سے کافی خوش لگ رہا تھا۔ شمیم کی کولیگ نے اسے قاسم کی شادی کا قصہ سنانا شروع کیا۔ اسے نہ چاہتے ہوۓ بھی سننا پڑا۔ وہ کہہ رہی تھی
"قاسم اور اس کی بہن کا رشتہ بچپن سے ہی اس کے چچا کے گھر طے تھا، نکاح بھی ہو چکے تھے۔ جب بڑے ہوۓ تو قاسم کی بہن نے کسی اور کو پسند کر لیا اور اپنے چچا کے گھر رشتے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے جواب میں قاسم کو رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس طرح دونوں گھرانوں میں ناراضگی پڑ گئی۔ اس کی بہن نے خودکشی کی کوشش کی۔ اس کی جان تو بچا لی گئی مگر گھر والے ڈر گئے اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ قاسم کی منگیتر نے کہا کہ اگر اسے طلاق دی گئی تو وہ خودکشی کر لے گی۔ وہ بے شک میری رخصتی نہ کرے۔ میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی، مجھے منظور ھے مگر میں طلاق نہیں لوں گی۔ پھر دونوں گھر والوں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا اور صرف قاسم کی بہن کو طلاق ھو گئی اور اس کی مرضی کی جگہ پر اس کی شادی کر دی گئی۔ اس کے منگیتر کی بھی شادی ہو گئی۔ اب صرف قاسم اور اس کی منگیتر رہ گئے تھے۔ پھر قاسم نے بھی طلاق کی صورت میں شادی نہ کرنے کی قسم کھا لی تھی ادھر اس کی منگیتر نے بھی یہی کیا تھا۔ سبھی کہہ کہہ کر تھک چکے تھے مگر دونوں نہ مانے۔ پھر قاسم کی پھوپھی نے دونوں گھرانوں کو ان کی شادی پر رضامند کیا۔ اس نے قاسم کے والد اور اس کی منگیتر کے والد، جو دونوں بھائی تھے، ان کو سمجھایا کہ اب اپنی ضد اور اناء کو علیحدہ رکھیں۔ بچوں کی عمریں ڈھلتی جا رہی ہیں۔ اس نے دونوں کو دوبارہ اکھٹا کیا اور آخر منا ہی لیا۔ اب دونوں رضامند ھو گئے ہیں اور ایک ہفتے بعد شادی ھے"
شمیم بے دھیانی میں ساری باتیں سنیں۔ وہ ابھی تک اپنے دل پر ایک گہری چوٹ محسوس کر رہی تھی۔ وہ اب قاسم کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ اسکول کے گراؤنڈ میں بیٹھی تھی کہ عامر کا فون آ گیا کہ ابا کو دل کا دورہ پڑا ھے اور وہ انہیں ہسپتال لے آیا ھے۔ اس کے بقول وہ خود ان کی دیکھ بھال کر رہا ھے اور اس کی بہنوں کو بھی اطلاع کر دی ھے۔
شمیم بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچی تو سبھی پہنچ گۓ تھے۔ سب عامر کی تعریف کر رہے تھے کہ اگر وہ وقت پر ابا کو ہسپتال نہ لاتا تو دیر ھو جاتی، یہ ڈاکٹروں نے کہا تھا۔
ابا کچھ دن ہسپتال رہ کر گھر واپس آ گئے تھے اور کافی بہتر ھو گئے تھے۔ ان دنوں میں عامر نے ان کی خوب خدمت کی۔ وہ کیا سبھی عامر سے متاثر تھے۔ اب شمیم کو بھی عامر اتنا برا نہیں لگتا تھا اور وہ اس سے بات کرنا شروع ھو گئی تھی۔ اب وہ کھل کر شمیم کو پروپوز کر رہا تھا اور وہ اسے جواب نہیں دے رہی تھی۔ عامر مرتے دم تک اس کا انتظار کرنے اور کبھی شادی نہ کرنے کی قسمیں بھی کھاتا رہتا تھا۔
اب اکثر ماں اس سے ناراضگی دکھاتی کہ تمہاری وجہ سے ابا کو دل کا دورہ پڑا۔ تمہارا گھر بس جاۓ تو ہی وہ سکون کا سانس لیں گے۔ تم ہاں کیوں نہیں کرتی ھو۔ آخر عامر میں کس چیز کی کمی ھے۔
شمیم ابھی تک قاسم کی شادی کے شاک سے پوری طرح باہر نہیں آئی تھی کہ اب سب گھر والوں کا عامر کے ساتھ اس کی شادی کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ جب بھی ابا کو دیکھتی تو دل کٹ جاتا۔
ایک دن سب کی مرضی اور ابا کے بارے میں سوچ کر اس نے رضامندی ظاہر کر دی۔ ابا اور اماں دونوں ہی خوش ھو گئے۔ ڈھیروں دعائیں دی۔ بہنوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔
عامر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ جلد ہی اس کے والدین رشتہ لینے پہنچ گئے۔ تحفوں کا ایک ڈھیر لے کر آۓ، خوب پیار کیا اور ہیرے کی انگوٹھی پہنائی۔ پھر انہوں نے سب گھر والوں کو اپنے گھر مدعو کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عامر ان کا اکلوتا بیٹا ھے۔ شمیم ان کے گھر رانی کی طرح عیش و آرام سے رھے گی۔
سب خوش تھے مگر شمیم کو اتنی خوشی نہ تھی۔ اسے تو قاسم کا چھوٹا سا گھر انتہائی پیارا لگا تھا۔ عیش و آرام اور پیسہ اب اس کے لیے اتنی کشش نہ رکھتا تھا۔ مگر ہاۓ ری قسمت اب اسے ایک بہت بڑا اور خوبصورت گھر مل رہا تھا جو قیمتی سامان سے سجا ہوا تھا۔
عامر کے گھر دعوت پر شمیم بھی گئی۔ کھانے پینے کی اشیاء سے میز بھری ہوئی تھی۔ اس کی بہنیں بھی ہمراہ تھیں۔ سبھی اس کی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔ شمیم چپ چپ سی تھی۔ سب اسے شرم سمجھ رہے تھے۔ عامر خوشی سے ادھر ادھر جھومتا پھر رہا تھا۔
اس موقع پر عامر کے گھر والوں نے فوری نکاح کا عندیہ دیا تو شمیم نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا
"ابھی چھ ماہ تک میں نکاح نہیں کرنا چاہتی صرف منگنی ہو گی"
وہ ابھی عامر اور اس کے گھر والوں کو مذید جاننا چاہتی تھی۔ سب حیران رہ گئے۔ ماں نے اسے گھور کر دیکھا۔ ابا بھی اسے پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ یہ کیا ھے مگر اس نے پرواہ نہ کی اور اپنی ضد پر اڑی رہی۔
ایسے وقت میں عامر نے بات سنبھالی اور کہنے لگا
"ٹھیک ہے جیسے ہماری شہزادی کی مرضی"
اس کے والدین بھی اس کی مرضی دیکھ کر رضامند ھو گۓ۔
منگنی کی تیاری شروع ہو گئی۔ شمیم کے لیے مہنگا ترین جوڑا اور ہیرے کا سیٹ پسند کیا گیا۔ اس نے لاکھ منع کیا مگر یہاں اس کی نہیں چل سکی۔ منگنی کا فنکشن ایک بڑے ہوٹل میں رکھا گیا۔ شمیم تو آج اپنی عمر سے بہت کم لگ رہی تھی۔ پری جیسا چہرہ لیے کسی دیس کی شہزادی لگ رہی تھی۔ ہر کوئی تعریف کر رہا تھا۔ عامر کے گھر والوں کے ساتھ آۓ لوگ بڑے پرشوق اور عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے ان میں عمر رسیدہ لوگ بھی شامل تھے۔ شمیم کو وہ لوگ زہر لگ رہے تھے۔ ان کی بے ہودہ تعریفیں اس کو چبھ رہی تھیں مگر کیا کرتی، عامر اور اس کے والدین انہیں خاص اہمیت دے رہے تھے۔
منگنی کے بعد عامر اور اس کے گھر والے اب اس پر پورا حق جتانے لگے تھے۔ شمیم کو یہ قطعی گوارا نہ تھا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسے عامر کے والدین پسند ہی نہ آۓ تھے۔ سسر اس کی طرف بھرپور نظروں سے دیکھ کر بات کرتا تھا۔ کہتا بیٹی تھا مگر اسے اس کی نظریں گندی لگتی تھیں۔ ماں بھی عجیب سی تھی، وہ عامر کی ماں کم اور باس ذیادہ لگتی تھی۔ وہ ہر وقت عامر سے پیار کے بجاۓ رعب سے بات کرتی تھی۔ یہ بات شمیم نے کئی بار نوٹ کی تھی۔ کتنی بار اسے لگا کہ شاید وہ اس کی سگی ماں ہی نہ ھو۔ ایک بار اس نے عامر سے پوچھا تو وہ ہکلا سا گیا پھر ناراضگی دکھائی کہ اس کی ماں کے بارے میں ایسا کیوں کہہ رہی ھے۔ شمیم کو اس سے سوری کرنا پڑی تو اس نے موڈ بحال کیا مگر شمیم کا شبہ اس کے ہکلانے کی وجہ سے ختم نہ ھوا۔
عامر کے گھر والے کسی نا کسی رشتہ دار سے ملنے کے بہانے بار بار شمیم کو گھر بلانے لگے۔ سب رشتہ دار اسے دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کرتے لیکن نہایت بے ڈھنگے انداز میں تعریفیں کرتے۔
ایک دن شمیم نے عامر سے کہا
"تمہارے رشتہ دار میری تعریفیں کیوں کرتے ہیں؟ میرے بزرگ ہیں، مجھے دعائیں دیں نہ کہ تعریفیں۔ انہیں کوئی شرم حیا نہیں ھے"
عامر گھبرا گیا، بولا
"تم ہو ہی اتنی حسین، تعریف تو نکل ہی جاتی ھے نا پھر ہائی سوسائیٹی میں ایسا ہی ہوتا ھے۔ تم ٹنشن نہ لو میں آئندہ اس کا خیال رکھوں گا"
اس کا خیال رکھنے کا کہنے پر شمیم نے حیران ہو کر سوچا کہ اس بات کا کیا مطلب ھے مگر سمجھ نہ آیا۔
قاسم کی بارات دوسرے شہر جانی تھی۔ تمام سٹاف جا رہا تھا تو اسے بھی جانا پڑا۔ بارات میں کافی رش تھا۔ وہ تھک گئی تھی اور سر میں بھی درد شروع ہو گیا تھا۔ جب درد کافی بڑھ گیا تو سوچا کہ قریبی بازار سے کوئی دوا لے آۓ۔ راستے میں اسے ایک سگریٹ پان کا کھوکھا نظر آیا جہاں ایک شخص معمولی کپڑوں پہنے کھڑا کچھ خرید رہا تھا۔ شمیم کی اس پر نظر پڑی تو ایک دم اسے پہچان گئی اور ہکابکا رہ گئی۔ عامر کو تو وہ ہر حال میں پہچان سکتی تھی۔ عامر کی اس پر نظر نہ پڑی۔ کچھ خرید کر وہ خاموشی سے مخالف سمت چل پڑا۔ شمیم پتھر بنی کھڑی رہ گئی۔ جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا تو اس نے ہمت کی اور اس دکان پر پہنچ گئی۔ اسے دکاندار داڑھی والا بھلے مانس شخص لگا۔ شمیم نے اسے سلام کیا تو اس نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔ شمیم نے اس سے پوچھا
"یہاں پر ابھی جو آدمی کھڑا تھا وہ کہاں گیا ھے"
اس نے مختصر جواب دیا
"اپنے گھر"
شمیم نے پوچھا
"ان کا گھر کہاں ھے۔ اصل میں میری ایک دوست یہاں کہیں رہتی ھے، اسی نے مجھے ان سے ملایا تھا۔ مجھے اب اپنی دوست سے ملنا ھے مگر اس کا ایڈریس کہیں نہیں مل رہا"
دکاندار نے حیرانگی سے کہا
"مگر اس کی تو نہ کوئی بہن ھے اور نہ بھائی صرف ایک بوڑھا باپ ھے"
شمیم سمجھ گئی کہ گربڑ ھو گئی ھے، یکدم بولی
"اس کی کزن ہو گی، مجھے اس نے اسی سے ملایا تھا"
دکاندار ہنس کر بولا
"اس کی منگیتر ہو گی۔ وہ اس کی خالہ کی بیٹی ھے اور ان کی بچپن کی منگنی ہو گئی تھی۔ اب ایک ہفتے بعد شادی ھے"
تو وہ بولی
"اچھا بھائی میں اب اس سے پوچھتی ہوں کہ اس نے مجھے شادی کیوں نہیں بلایا۔ آپ مہربانی کر کے اسے کچھ نہ بتائیے گا میں اسے خود ٹھیک کر لوں گی۔ آپ مہربانی کر کے مجھے اس کا ایڈریس بتا دیں"
اس نے کہا
"اویس کا گھر اس موڑ سے آگے پہلی گلی میں ھے اور اس کی خالہ کا گھر یہ ساتھ والی گلی میں ھے"
شمیم دکاندار کے عامر کو اویس کے نام سے مخاطب کرنے پر بھی حیران تھی۔ اسے شدید خوف آیا۔ ماتھا پسینے سے بھیگ گیا۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور ساتھ والی گلی کی طرف چل دی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.