Loading...
Logo
Back to Novel
Shehzadi Kay Ansu
Episodes
Shehzadi Kay Ansu

شہزادی کے آنسو 4

From Shehzadi Kay Ansu - Episode 4

یہ کیا یہ عامر نہیں اویس ھے اور اس کی شادی ہونے والی ھے۔ کیا یہ کوئی غریب ھے۔ یہ کیا چکر ھے۔ یہی سوچتے ہوۓ اسے اب ڈر لگ رہا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے آفس اور منشیات کا واقعہ اور اب یہ فراڈ۔ وہ کیا کرے۔

شمیم نے قریبی شاپ سے ایک چادر خریدی، اوڑھ لی اور ساتھ ہی منہ ڈھانپ لیا، پھر شادی پر ساتھ آئی ہوئی ساتھی کو کال کر دی کہ طبیعت ذیادہ خرابی کی وجہ سے وہ گھر واپس جا رہی ھے۔

ایک دکان پر رک کر صابن کی دو ٹکیاں خرید لیں اور اپنے پرس میں ڈال لیں اور سیدھی چلتی ہوئی، دکاندار کے بتاۓ ہوۓ عامر کی منگیتر کے گھر کے پاس پہنچ گئی۔ گلی خالی تھی۔ اتنے میں ساتھ والے گھر سے ایک بچہ نکلا۔ اس نے بچے سے پوچھا

"اویس کی خالہ کا گھر کون سا ھے؟"

بچے نے اسی گھر کی طرف اشارہ کر دیا۔ اب تصدیق ہو چکی تھی۔ شمیم نے اپنے دل کو مضبوط کیا اور دروازے کی گھنٹی بجا دی۔ ایک معمر سی عورت نے دروازہ کھولا اور شمیم کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔ شمیم کو حوصلہ ہو گیا، اس نے پہلے اسے سلام کیا اور ساتھ ہی پانی مانگ لیا۔ اس عورت نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا اور کہنے لگی

"بیٹی اندر آ جاؤ"

وہ کافی معزز اور محبت کرنے والی لگ رہی تھی۔ شمیم تھوڑا ہچکچائی اور کہنے لگی

"آنٹی میں ڈرتی ہوں۔ آجکل حالات بھی بہت خراب ہیں۔ آپ کے گھر میں کون کون ھے"

آنٹی نے مسکراتے ہوۓ کہا

"بیٹا اچھا کرتی ہو، احتیاط کرنی چاہیے۔ گھر میں میں، میری بیٹی اور چھوٹا بیٹا ھے۔ ان کے ابو باہر گئے ہوۓ ہیں۔ تم کون ہو اور کیسے آنا ہوا "

شمیم نے پرس سے صابن نکالا اور بولی

"آنٹی میں سیلز گرل ہوں، صابن بیچتی ہوں۔ میں آپ کو بازار سے کم قیمت پر دونگی۔ صرف دو ہی رہ گۓ ہیں آپ لے لیں"

اتنے  میں اس کی بیٹی بھی آ گئی۔ وہ شمیم کو عزت سے اندر لے گئے۔ آنٹی نے اپنی بیٹی شربت بنانے کا کہا تو شمیم جھٹ بول پڑی

"نہیں آنٹی اس کی ضرورت نہیں، دراصل میں کافی لیٹ ہو گئی ہوں۔ پانی کا تو بہانہ کیا تھا تاکہ میں آپ کو صابن بیچ سکوں۔ اب لوگ سیلز گرل کا نام سن کر باہر سے ہی بھیج دیتے ہیں۔ میں چاہتی تھی کہ یہ صابن بھی بک جائیں"

آنٹی بولی

"اچھا بیٹا مجھے ہی دے دو، کتنے پیسے ہیں"

شمیم نے کم دام بتاۓ۔ آنٹی پیسے گننے لگی تو ایک دم ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور ماں سے کہا

"آپ کے لیے اویس بھائی کا فون ھے"

ماں تیزی سے اندر چلی گئی۔ لڑکی اویس کے نام سے شرما گئی تو شمیم کو موقع مل گیا۔ اس نے بڑے پیار سے پوچھا

"فون کے نام سے آپ شرما گئی ہیں، کہیں آپ کے منگیتر کا فون تو نہیں تھا"

لڑکی نے گردن ہلاتے ہوۓ اثبات میں جواب دیا۔ شمیم نے پوچھا

"وہ کیا کرتا ھے"

تو لڑکی نے جواب دیا

"پتہ نہیں جی کسی بزنس کا بتاتے ہیں۔ کسی صاحب کے پاس کام کرتے ہیں جو کسی بھی وقت انہیں بلا لیتا ھے"

شمیم کے پوچھنے پر اس نے اپنا نام ثمینہ بتایا۔ شمیم نے کہا

"اچھا ثمینہ اب میں چلتی ہوں۔ آپ مجھے بڑی اچھی لگی ہیں، کیا آپ مجھے اپنی شادی پر بلائیں گی"

اتنے میں اس کی ماں آ گئی اور یہ سنتے ہی کہنے لگی

"کیوں نہیں بیٹا ضرور، تم بتاؤ کیا نام ھے تمہارا اور کہاں رہتی ہو"

شمیم نے اپنا نام صدف بتایا اور گھر کا پتہ گول کر گئی، بولی

"آپ مجھے بتا دیں کب شادی ھے میں آ جاؤں گی۔ اصل میں میرے بوڑھے والدین ہیں اور میں ان کی خاطر نوکری کر رہی ہوں۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ یہ کپڑے میری ایک امیر سہیلی کے ہیں۔ میں اس کی کزن کی شادی میں آئی تھی۔ فارغ ہو کر ساتھ کام بھی کر رہی ہوں تاکہ کچھ پیسے بن  جائیں۔ دو صابن بچے تھے بھلا ہو آپ کا آپ نے لے لیے"

آنٹی اس کی باتیں سن کر متاثر ہو گئی اور ہمدردی سے بولی

"بیٹا تم آج سے میری بیٹی ہو۔ جب کبھی اس محلے میں آؤ تو ملنے ضرور آ جایا کرو"

شمیم خوش ہو گئی اور کہنے لگی

"ضرور آنٹی مگر میں کسی مرد کے سامنے نہیں آؤں گی، میں پردہ کرتی ہوں۔"

آنٹی اس کی پردے والی بات پر بھی خوش ہو گئی۔ پھر شمیم اجازت لے کر واپس چل پڑی۔

گھر پہنچی تو اس نے سوچا کہ عقیل کو بتا دے پھر فیصلہ کیا کہ وہ اس واقعے کا ذکر ابھی کسی سے نہیں کرے گی۔ اس دنیا میں دھوکہ ہی دھوکہ ھے۔ گھر میں بھی کسی سے ذکر نہیں کیا کہ سب پریشان ہو جائیں گے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ ان تمام حالات کا بہادری سے مقابلہ کرے گی اور ان دھوکہ بازوں کو بے نقاب کرے گی۔

ماں کمرے میں آئی اور اسے دیکھتے ہی بولی

"کیا ہوا بیٹی کچھ پریشان لگ رہی ہو"

ماں کو میرے دل کا حال کیسے پتہ لگ جاتا ھے، اس نے سوچا حالانکہ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ پھر سنبھل کر بولی

"ماں میں سفر سے تھک گئی ہوں بس ذرا سونا چاہتی ہوں"

ماں نے سر اثبات میں ہلایا اور واپس چلی گئی۔

شمیم سونے کے بہانے آئیندہ کا پلان بنانا چاہتی تھی۔ عامر اور اس کے نقلی والدین کی کھوج لگانی تھی۔ وہ دلدل میں گرنے سے بال بال بج گئی تھی۔ اس نے خدا کا شکر کیا کہ نکاح نہ ہوا ورنہ تو شاید اس کی زندگی ہی ختم تھی۔

ایک ہفتے بعد عامر یعنی اویس کی شادی تھی۔ شمیم نے اس سے اپنا رویّہ تبدیل کر لیا۔ اب وہ اس سے اچھے موڈ میں بات کرتی تھی۔ وہ کافی حیران ہوا تو شمیم نے اسے یقین دلایا کہ اب اسے اس کی اور اس کی محبت کی قدروقیمت سمجھ آگئی ھے۔ اب وہ اسے کھونا نہیں چاہتی اور ہر لمحہ اس کے ساتھ گزارنا چاہتی ھے جب تک شادی نہ ہو جاۓ مگر فاصلے میں رہ کر۔

شمیم نے اسے سیر کرانے کا آرڈر دے دیا۔ عامر نے فوری اپنے نقلی باپ کو فون ملایا کہ آپ  کی بہو سیر پر جانا چاہتی ھے۔ ان کی رضامندی سے وہ اسے ساتھ لے گیا۔ اب وہ اکثر اس کے ساتھ جانے لگی اور خوب شاپنگ بھی کرنے لگی۔ عامر ہر بات کے لیے اپنے باپ سے پوچھتا تھا۔ شمیم کو تو سب پتہ تھا۔ ایک دل انجان بن کر اور ناراضگی سے پوچھا

"تم ہر بات اپنے پاپا سے کیوں پوچھتے ہو"

عامر عاجزی سے بولا

"میرے والد بہت سخت مزاج اور اصول پرست ہیں اس لیے مجھے ایک ایک پیسے کا اور اپنے وقت کا حساب دینا پڑتا ھے"

عامر کی شادی قریب تھی اور شمیم نے شاپنگ اور سیر پر اس کا بہت وقت لینا شروع کر دیا۔ وہ اب بھی اسے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھلاتا، مہنگی سے مہنگی شاپنگ کراتا اور شمیم اور حیرت میں ڈوب جاتی۔ عامر اب بھی قیمتی لباس پہنے آتا، آنکھوں پر مہنگا چشمہ لگا کر وہ کسی امیرزادے سے کم نہ لگتا۔

کچھ دن بعد وہ دوبارہ عامر کے اصلی سسرال، اس کو خالہ کے گھر پہنچ گئی۔ اس کی بیوی کے لیے شادی کا درمیانی قیمت کا ایک تحفہ بھی لے گئی تاکہ انہیں کوئی شبہ نہ ہو کہ وہ ایک غریب سیلز گرل ھے۔ وہ لوگ بہت ملنسار تھے۔ شمیم نے پردہ کیے رکھا۔ اس نے اس کے چھوٹے بھائی سے بھی پردہ کیے رکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ بچے بہت تیز ہوتے ہیں۔ اگر کبھی کسی جگہ مل گیا اور پہچان لیا تو گڑبڑ ہو جاۓ گی۔

اپنی مہندی کے دن عامر نے نہ ملنے کے خوب بہانے بناۓ۔ شمیم سب جانتی تھی دل ہی دل میں ہنستی رہی۔ اسی دن شمیم پھر وہاں پہنچ گئی۔ اسے دیکھ کر دلہن اور اس کی ماں خوش ہو گئے۔ پھر مصروفیت کا بہانہ کر کے وہ ان کے گھر سے نکل آئی۔ وہاں سے وہ سیدھی عامر کے نقلی ماں باپ کے گھر پہنچ گئی۔ وہ لوگ اسے دیکھ کر پہلے کنفیوز ہو گئے مگر جلد ہی سنبھل گئے اور اس پر واری صدقے جانے لگے۔ عامر کا پوچھنے پر بہانہ بنایا کہ دوسرے شہر گیا ھے دیر سے آۓ گا اور وہ خود کسی فنکشن میں جانے والے ہیں۔

شمیم یہاں پہلے بھی کئی بار آ چکی تھی اور جانتی تھی کہ ان کے چوکیدار کی بیوی ہی ان کے گھر کے اندر کام کرتی ھے۔ جب عامر کی ماں اندر تیار ہو رہی تھی اور والد ایک فون سننے باہر گیا تو شمیم نے موقع پا کر اسے اپنے پاس بلایا اور کہا

"تم یہاں کب سے کام کرتی ھو؟"

پھر اپنی جیب سے ہزار ہزار والے نوٹ نکال کر ہاتھ پر رکھ لیے اور دوبارہ بولی

"تم اگر مجھے آج رات اپنے کواٹر میں چپکے سے رہنے دو اور ان لوگوں کو کہو کہ میں واپس چلی گئی ہوں تو میں تمہاری احسان مند رہوں گی اور تمہیں اس کا معاوضہ بھی دوں گی۔ تمہیں اپنے خاوند کو بھی سمجھانا ہو گا"

شمیم نے ساتھ ہی پانچ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے اور اسے کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر دوبارہ بولی

"اگر تم میری مدد کرو تو بعد میں اتنے ہی اور نوٹ دوں گی"

چوکیدار کی بیوی نے چند لمحوں کے لیے سوچا پھر پیسوں کا لالچ غالب آ گیا۔ اس نے نوٹ پکڑ لیے، اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور سیدھا اپنے کواٹر میں لے گئی۔ وہاں اسے بٹھا کر واپس نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئی اور مطمعین نظر آئی، کہنے لگی

"میں نے مالک کو آپ کے جانے کا بتا دیا ھے اور وہ بھی مالکن کے ساتھ باہر نکل گئے ہیں۔ گھر میں اس وقت میرے اور میرے میاں کے سوا کوئی نہیں ھے۔ اسے بھی میں نے سب سمجھا دیا ھے۔ آپ تسلی رکھیں"

شمیم کی جان مین جان آ گئی۔ پہلے وہ کافی ڈری ہوئی تھی مگر اب اس نے بہت ہوشیاری سے حالات سنبھال لیے تھے۔ اس کو سمجھ آ گئی تھی کہ اگر سوچ سمجھ کر قدم اٹھاۓ جائیں تو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ھے۔

پوچھنے پر چوکیدار کی بیوی نے اسے مذید بتایا کہ اس کوٹھی کا اصل مالک ملک سے باہر ہوتا ھے۔ اس کا ایک دوست کرایہ وصول کرتا ھے۔ ہم لوگ اصل مالک کے ملازم ہیں اور یہ لوگ کرایہ دار ہیں۔ یہ لوگ یہاں کچھ دیر کے لیے آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ یہاں نہیں رکتے ہیں۔ روزانہ آتے ہیں کچھ لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ لڑکا ان کا بیٹا نہیں ھے بلکہ ان کا ملازم ھے۔ انہوں نے ہمیں صاف کہا ھے کہ ہم اپنے پیسوں سے مطلب رکھیں اور کسی معاملے میں اپنی ٹانگ نہ اڑائیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔ گھر کے اصل مالک کے دوست نے بھی ہم سے یہی کہا ھے۔ ہم غریب لوگ ہیں، گھر اور پیسوں سے مطلب ھے اور کئی سالوں یہاں رہ رہے ہیں۔ ہم نے ان کے کسی کام میں کبھی دخل نہیں دیا لہذا انہیں ہم پر پورا بھروسہ ھے۔ ہم صرف میاں بیوی یہاں رہتے ہیں۔ ہماری کوئی اولاد بھی نہیں ھے۔ ہم اب بوڑھے ہو رہے ہیں۔ ہم نے کسی کے کام میں دخل دے کر کیا کرنا ھے۔ اب ہم اپنے پیسے جمع کر رہے ہیں تاکہ عمرہ کر سکیں۔ ان لوگوں کو ہمارے عمرے سے کوئی غرض نہیں ھے، کہتے ہیں اپنے پیسے جمع کرو اور جاؤ۔

شمیم نے اسے کہا

"تم میرا ساتھ دو اور میری مدد کرتی رہو، مجھے ان لوگوں کی تمام خبریں دیتی رہو تو میرا وعدہ ھے تمہیں میں عمرہ کراؤں گی"

اتنے میں چوکیدار بھی آ گیا اور گفتگو میں شامل ہو گیا۔ شمیم کے اعتماد میں اور اضافہ ہو گیا کہ اب وہ ان فراڈیوں کو گرا لے گی۔ اس نے انہیں بتایا کہ کس طرح وہ ان کے جال میں پھنسنے جا رہی تھی۔ وہ بولی

"یہ بری طرح میرے پیچھے پڑے ہوۓ ہیں۔ تم دونوں کی مہربانی ھے میری عزت بچا لو مجھے بچا لو۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں"

شمیم کے آنسو بھی بہہ رہے تھے اور اس نے دونوں کے آگے ہاتھ بھی جوڑ لیے۔ چوکیدار اور اسکی بیوی گھبرا گۓ اور ساتھ ہی ترس بھی آ گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر چوکیدار بولا

"بیٹی تم گھبراؤ نہیں ہم تمہاری پوری مدد کریں گے۔ اب ہم سے اور گناہ میں ان کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔ ہم اپنے گناہوں پر شرمندہ ہیں۔ اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں اب ہمیں اب توبہ کر لینی چاہیے۔ یقین رکھو اب تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے"

شمیم نے انہیں مذید پیسے دینے چاہے تو دونوں نے انکار کر دیا۔ چوکیدار دوبارہ بولا

"بیٹی تم ہمیں اور شرمندہ نہ کرو۔ تم نے تو ہمیں سیدھی راہ دکھائی ھے۔ اللہ تمہارا بھلا کرے گا۔ تم نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہمیں اب اور پیسے نہیں چاہیے۔ تم ہمارے حق میں دعا کرنا۔ اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرماۓ"

شمیم کو اب کافی تسلی ہو گئی تھی۔ دونوں کو بتا کر وہ کوٹھی کا جائزہ لینے لگی کہ کہیں کوئی کیمرے تو نہیں لگے ہیں مگر اسے کوئی ایسا سراغ نہیں ملا۔ اس نے فون چیک کیا۔ میسج باکس میں کچھ میسج موجود تھے۔ کدھر ہو، کب آنا ھے وغیرہ مگر ایک میسج اس کے کام کا تھا۔

'تمہیں پھر کہتا ہوں کہ اس کوٹھی میں کیمرے لگوا دو مگر تم دھیان ہی نہیں دیتے'

شمیم کو تسلی ہو گئی کہ اس جگہ پر کیمرے نہیں لگے ہیں اب وہ آذادانہ کوٹھی میں گھوم سکتی تھی۔ اس نے چوکیدار سے پوچھا

"کیا تم ساری رات جاگتے ہو اور ڈیوٹی کرتے ہو"

وہ بولا

"ہاں جی، صبح 8 بجے دوسرا آ جاتا ھے۔ وہ دن کو ڈیوٹی کرتا ھے اور میں اپنے کواٹر میں سونے چلا جاتا ہوں"

شمیم بولی

"ٹھیک ھے میں صبح 7 بجے یہاں سے چلی جاؤں گی"

درازوں کی تلاشی کے دوران اسے عامر کی دیگر کچھ لڑکیوں کے ساتھ شادی کی تصویریں مل گئيں۔ اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ لڑکیاں بھی دھوکے میں یہاں پھنسی ہوں گی۔ وہاں بہت سی رسیدیں بھی موجود تھیں جو شمیم نے اٹھا لیں۔

شمیم نے چوکیدار کی بیوی سے مذید گپ شپ کی تو اسے دل دھلانے والی کچھ اور معلومات مل گئیں۔ یہ غریب گھرانوں کی خوبصورت لڑکیاں پھانس لیتے۔ وہ لوگ بھی دولت کے لالچ میں رشتہ دے دیتے۔ یہ لوگ جگہیں بدل بدل کر ایک ہی لڑکے کی کئی کئی شادیاں کرتے۔ اپنا اور لڑکے کا حلیہ بھی بدلتے رہتے تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔ مولوی بھی نقلی، نکاح نامہ اور نکاح بھی۔ پھر ان لڑکیوں کو ملک سے باہر لے جا کر بیچ دیتے اور ان کے والدین کو ان کے مرنے کی جھوٹی خبر بھیج دیتے، کبھی کار ایکسیڈنٹ کبھی جہاز کریش وغیرہ۔ لڑکیوں کے والدین کو تسلی کے لیے کچھ رقم بھی دے دیتے تاکہ وہ سکون میں آ جائیں۔ پھر ٹرانسفر کا بہانہ کر کے وہاں سے رفوچکر ہو جاتے۔ لڑکیوں کو اتنا ڈرا دیتے کہ وہ ڈر کے مارے اور شرم سے واپس اپنے گھر رابطہ ہی نہ کرتیں اور وہیں کی ہو کر رہ جاتیں۔

شمیم بڑے ہال میں کھڑی ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی کہ اسے باہر سے بولنے کی آوازیں آئیں۔ وہ ایک دم سمجھ گئی کہ گھر کے مالک آ گئے ہیں، سخت گھبرا گئی کہ اب کیا کرے۔ سامنے ایک پردہ نظر آیا تو بھاگ کر اس کے پیچھے چھپ گئی۔ اسی وقت اس کا نام نہاد سسر ہال میں داخل ہوا اور فون کے میسج چیک کرنے لگا۔ شمیم سانس روکے پردے کے پیچھے کھڑی رہی۔ پردہ فل تھا اور شمیم وہاں آسانی سے چھپ سکتی تھی۔ تھوری دیر بعد وہ وہاں سے چلا گیا تو شمیم نے سکھ کا سانس لیا۔ اب اسے فوری باہر نکلنا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر انہوں نے آپس میں بات چیت کا فیصلہ کیا تو وہ پھر ہال میں آ جائیں گے۔ وہ احتیاط سے آگے پیچھے دیکھتی باہر کو چل دی۔ اتنے میں پھر اسے اس کی آواز آئی وہ جھٹ سامنے والے کمرے میں گھس گئی مگر پھر پھنس گئی کیونکہ یہاں چھپنے کو کوئی جگہ ہی نہ تھی۔ شمیم کو سامنے جو بیڈ نظر آیا وہ جلدی سے اسی کے نیچے گھس گئی اور کونے میں لیٹ گئی اور سب سے پہلے ہاتھ میں پکڑے اپنے موبائیل کی گھنٹی کو بند کر دیا۔ اسی وقت اس کا سسر کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ پھر اس نے کمرے میں رکھی گھنٹی بجائی تو چوکیدار کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ بولا

"میرے لیے گرم دودھ کا ایک گلاس لے آؤ اور میں سونے لگا ہوں، مجھے صبح فجر کے وقت اٹھا دینا"

چوکیدار کی بیوی 'اچھا' کہہ کر واپس چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ دردھ کا گلاس لے کر بیڈ کے قریب آئی تو شمیم نے ہلکا سا اس کا پاؤں چھو لیا تاکہ وہ سمجھ جاۓ کہ وہ وہاں پھنسی ہوئی ھے۔ اس نے بھی جوابی پاؤں ہلا دیا اور واپس چلی گئی۔

شمیم کے نام نہاد سسر نے کسی کو فون ملایا اور باتیں کرنے لگا۔ وہ کسی کو ہدایات دے رہا تھا کہ


"وہ جو معزور لوگ ہیں انہیں آج ہی سرحد پار کروانی ھے دیکھنا کوئی رکاوٹ نہ آۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کےکھانے پینے کا پورا خیال رکھنا اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے پاۓ جتنا بھی خرچہ آ جاۓ"

پھر تمسخر سے ہنس کر بولا

"بعد میں انہیں سے سارا خرچہ نکال لیں گے"

پھر وہ لائٹ بند کر کے سو گیا۔ جب خراٹوں کی آواز ایک تسلسل سے ابھرنے لگی تو شمیم چپکے سے اٹھی اور بے آواز چلتے ہوۓ دروازے تک پہنچی مگر یہ کیا اس کا دل رک سا گیا۔

دروازے کو اندر سے کنڈی لگی تھی۔ اب وہ کنڈی کھولتی تو پکڑی جاتی ، کیا کرے۔ پھر اس نے ادھر ہی رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ دوبارہ سے بغیر کوئی آواز نکالے بیڈ کے نیچے پہنچ گئی۔ سب سے پہلے اس نے ماں کو میسج کر دیا کہ ایک ضروری کام سے وہ آج اپنی سہیلی کے گھر رکے گی اور صبح سکول سے آ کر تفصیل بتا دے گی۔ پھر اسی حالت میں  لیٹے،سوتے جاگتے، اس نے تمام رات گزار دی۔

فجر کی اذان کے وقت دروازے پر کھٹکا ہوا۔ شمیم نے خوش ہو کر سوچا کہ یہ چوکیدار کی بیوی ہو گی، اب دروازہ کھلے گا تو نکلنے کی کوئی ترکیب بن جاۓ گی۔ اس کے سسر نے دروازہ کھولا تو کوئی آدمی تھا۔ وہ اندر آتے ہی بول پڑا

"سر ایک مسلۂ ہو گیا ھے، پولیس کا چھاپہ پڑ گیا ھے"

‎‎سسر کی غصے بھری آواز آئی

"ہمارے اپنے پولیس کے آدمی کہاں ہیں۔ انہیں فون کرو"

وہ آدمی بولا

"سر ان کو فون کر دیا گیا ھے اور وہ پہنچ رہے ہیں۔ امید ھے وہ معاملہ سنبھال لیں گے۔ ان کا بھی منہ بند کرنا پڑے گا۔ تھوڑی اور رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ میں آپ کو اطلاع دینے آیا تھا کہ آپ احتیاط کریں اور آج وہاں نہ جائیں۔ ہمیں آج کا شیڈول بھی بدلنا ہو گا۔ ہمیں جو مال آج سپلائی کرنا تھا وہ آج ممکن نہیں، خطرہ ھے"

سسر بولا

"نہیں سیکیورٹی میں ہمارے اپنے بندے لگے ہیں۔ ادھر کوئی خطرہ نہیں ھے۔ تم فکر نہ کرو۔ مال آج ہی دینا ھے۔ یہ کروڑوں کی ڈیل ھے۔ یہ اس شہر کا سب سے بڑا ہوٹل ھے کسی کو شبہ تک نہ ہو گا۔ تم بھولنا مت کمرہ نمبر 3535"

شمیم ٹائم دیکھ کر پریشان ہوئی جا رہی تھی۔ اس نے تو فجر کے وقت نکلنا تھا مگر ان دونوں کے کمرے سے نکلنے کے کوئی آثار نہیں لگ رہے تھے۔ چوکیدار کی بیوی نے ناشتہ کا پوچھا تو انہوں نے کمرے میں ہی منگوا لیا۔ اب وہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے جن میں کوئی کام کی بات نہ تھی جس سے کوئی معلومات مل سکے۔ چوکیدار کی بیوی دو بار آ کر پوچھ چکی تھی کہ کچھ اور چاہیے مگر وہ جانے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ شمیم بیڈ کے نیچے لیٹی پریشان ہوتی رہی۔ 9 بجے کے بعد فون بجا اور وہ اسے سنتے ہی گھر سے باہر نکل گئے۔

شمیم نے سکون کا سانس لیا اور باہر نکل آئی۔ سیدھی باتھ روم میں گئی۔ ہاتھ منہ دھو رہی تھی کہ اسے باتوں کی آواز آئی۔ وہ جلدی سے نکلی اور دوبارہ پردے کے پیچھے چھپ گئی اور ان کی باتیں سننے لگی۔ معلوم ہوا کہ عامر آیا ھے اور وہ چوکیدار کی بیوی سے صاحب اور ان کے رکھواۓ ہوۓ ڈبہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ چوکیدار کی بیوی نے اسے ڈبہ لا دیا تو وہ ڈبہ اٹھا کر چل پڑا۔

عامر کے باہر نکلتے ہی شمیم کو موبائیل پر اس کی کال آ گئی۔ فون آن کرتے وہ بولا

"کدھر ھو؟"

شمیم نے آہستہ سے کہا

"اسکول میں ہوں اور بہت مصروف ہوں"

وہ جلدی سے بولا

"ٹھیک ھے۔ آج شام کو تیار رہنا ہمیں ایک فنکشن میں جانا ھے۔ موم ڈیڈ نے کہا ھے تم نے لازمی شرکت کرنی ھے۔ میں شام کو گاڑی لے کر آ جاؤں گا"

شمیم نے اوکے کہہ فون بند کر دیا۔ آج اسے تمام ثبوت عقیل کے حوالے کرنے تھے۔ اسے وہاں درازوں وغیرہ سے جو کچھ ملا وہ سب اٹھا کر چل پڑی۔ باہر نکل کر اس نے آٹو کیا اور عقیل کے دفتر پہنچ گئی۔ وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے تمام ماجرہ اسے کہہ سنایا۔ عقیل تمام کہانی سن کر دنگ رہ گیا۔ پھر سوچنے کے بعد اسے لے کر ثبوتوں سمیت اپنے ایس پی کے سامنے پیش ھو گیا۔ ایس پی نے تمام کہانی سن کر فوری ایک ٹیم بنائی، عقیل کو انچارج بنایا اور ایکشن کا حکم دے دیا۔

عقیل شمیم کو عامر کے ساتھ ہوٹل میں جانے کے حق میں نہ تھا کیونکہ اسے خطرہ محسوس ہو رہا تھا مگر شمیم نہ مانی۔ وہ اگر آج عامر کو گرفتار کروا دیتی تو کل اس کی شادی روک سکتی تھی اور ایک معصوم لڑکی کی زندگی بچا سکتی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ وہ اگر نہ گئی تو ہو سکتا ھے عامر بھی نہ جاۓ اور موقع پر گرفتاری سے بچ جاۓ۔

عقیل نے خاص طور پر ٹیم میں ایک خاتون شامل کی جو ایک ٹرینڈ پولیس آفیسر تھی۔ اسے ہر وقت شمیم کے آس پاس رہ کر اس کی حفاظت کرنی تھی۔ ہوٹل میں اور خاص طور پر کمرہ نمبر 3535 میں چھاپے کا پورا پلان بنا لیا گیا اس کے ساتھ ہی شمیم جو رسیدیں لائی تھی اور ان پر جو ایڈریس تھے، وہاں پر بھی ایک ساتھ ہی چھاپے مارے جانے تھے۔ پولیس کا سب کو ایک ساتھ پکڑنے کا پروگرام تھا۔ عقیل ذہین آدمی تھا اس نے اپنے لوگوں کو پانچ ٹیموں میں بانٹ دیا تھا۔ سب نے اپنے حصے کا کام کرنا تھا۔ اس نے سیکریسی بھی رکھی تھی۔ سواۓ چند لوگوں کے کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ھے اور کیا کرنا ھے تاکہ اگر مجرموں کے کسی پولیس والے سے رابطے ہوں تو اسے خبر نہ ہو سکے۔

شمیم نے خاص طور پر چوکیدار اور اس کو بیوی کو بچانے کے لیۓ عقیل سے بات کی تو اس نے کہا

"اگر انہوں نے تمہاری طرح پولیس سے بھی پورا تعاون کیا تو میں انہیں بچانے کی پوری کوشش کروں گا اور انہیں وعدہ معاف گواہ بنا لیا جاۓ گا۔ تم فکر نہ کرو"

تمام پروگرام فائینل کرنے کے بعد شمیم اس پولیس والی کے ساتھ گھر کو چل پڑی۔ طے یہ ہوا تھا کہ ابھی اس کے گھر والوں کو بھی نہیں بتایا جاۓ گا کہ کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو جاۓ۔ گھر میں اس نے پولیس والی کو اپنی سہیلی کہہ کر تعارف کرایا۔ وہاں کسی کو شک تک نہ ہوا۔ شام کو حسب وعدہ عامر آ پہنچا۔ اس کو بھی شمیم کی سہیلی پر شک نہ ہوا۔ وہ اسے بھی ساتھ لے جانے پر آرام سے راضی ہو گیا۔ پھر وہ دونوں تیار ہو کر اس کے ساتھ چل پڑیں۔ عقیل نے شمیم کی حفاظت کے لیے 6 پولیس والے الگ سے ساتھ بھیجے ہوۓ تھے جو سادہ کپڑوں اور پرائیویٹ کار و موٹر سائیکل میں ان کے ساتھ ساتھ تھے مگر عامر کو بالکل پتہ نہ چل سکا۔

ہوٹل میں پہنچ کر عامر انہیں لے کر ہوٹل کی پچھلی طرف بنے بڑے ہال میں لے گیا۔ وہاں بہت رش تھا۔ عامر انہیں وہاں ایک کونے میں بٹھا کر کہیں چلا گیا۔ کافی دیر کے بعد آیا اور انہیں اپنے ساتھ آنے کا کہا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ ڈبہ اوپر ایک کمرے میں پہنچانا ھے۔ شمیم سمجھ گئی کہ وہ کمرہ نمبر 3535 میں جا رہے ہیں۔ وہ سیدھے اوپر پہلے مین ہال میں آۓ تو عامر نے شمیم کی سہیلی کو وہاں رک کر انتظار کرنے کا کہا۔ اس نے مڑ کر شمیم کو دیکھا پھر اپنی دائیں جانب دیکھا اور اپنا سر اثبات میں ہلا کر رضامندی ظاہر کر دی۔ اسے وہیں چھوڑ کر عامر اور شمیم لفٹ میں بیٹھ گۓ۔ شمیم کو اس موقع پر اکیلے پن کی پریشانی شروع ہو گئی لیکن اس نے کمال ہوشیاری سے ظاہر نہ ہونے دی۔ اوپر ایک فلور پر عامر نے شمیم کو اترنے کا اشارہ کیا۔ کمرہ نمبر 3535 بالکل سامنے تھا۔ اس فلور پر کافی گہماگہمی تھی۔ بہت سے مرد و خواتین آ جا رہے تھے۔ شمیم کو اتنے لوگ دیکھ کر کافی حوصلہ ہو گیا۔ عامر نے آگے بڑھ کر کمرے کی بیل بجائی۔ ایک سیاہ رنگ کے حبشی نے دروازہ کھولا۔ وہ ایک مہنگے لباس میں ملبوس تھا۔ عامر نے اسے ایک پھٹا ہوا نوٹ دیا۔ اس نے نوٹ لے کر دیکھا پھر اپنی جیب سے ایک ویسا ہی پھٹا ہوا نوٹ نکالا اور دونوں ساتھ رکھ کر، جوڑ کر دیکھنے لگا۔ پھر وہ عامر اور شمیم کو دیکھ کر مسکرایا اور اندر آنے کا اشارہ کیا۔ کافی بڑا کمرہ تھا۔ حبشی نے انہیں وہاں بچھے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ حبشی دروازہ بند کرنے لگا تو اسی وقت عقیل کچھ لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ حبشی نے ہاتھ سے روکنا چاہا مگر عقیل اسے دھکا دے کر اندر آ گیا۔ عامر کھڑا تو ہو گیا مگر اس کے بھاگنے کو کوئی جگہ نہ تھی۔ عقیل کے ساتھ 4 پولیس والے اندر آ چکے تھے اور ایک دروازہ روکے کھڑا تھا۔ کچھ باہر بھی نظر آ رہے تھے۔ شمیم کی سہیلی بھی اندر آ چکی تھی۔ ان دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

عقیل نے سب سے پہلے شمیم کو پولیس کی حفاظت میں گھر بھجوا دیا اور کچھ دن گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا۔ شمیم نے تمام گھر والوں کو اپنی روئیداد سنائی۔ اس کی ماں اور باپ دنگ رہ گئے۔ وہ بہت گھبراۓ مگر اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا تھا۔ شمیم کی ماں نے اس پر بہت غصہ کیا کہ پولیس کو کیوں شامل کیا۔ ایسے لوگ کینہ اور دشمنی نہیں چھوڑتے وہ اب نقصان پہچانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑیں گے۔ آگے پتہ نہیں کب تک محتاط رہنا پڑے گا۔

ایک دن گزر گیا پھر دوسرا دن بھی گزر گیا اور عقیل کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ تیسرے دن شمیم صبح ہی عقیل کے دفتر جانے سے پہلے اس کے گھر پہنچ گئی۔ عقیل کی بیوی نے مسکراتے ہوۓ اس کا استقبال کیا اور بتایا کہ عقیل آج دو دن بعد صبح سویرے گھر آیا ھے اور ابھی سو رہا ھے۔ وہ کسی کیس میں کچھ مجرم پکڑنے میں مصروف تھا۔ اس نے دوپہر کو اٹھنے کا کہا ہے۔ شمیم اٹھ کر باہر کو چل دی اور دوپہر کو آنے کا بولا۔ عقیل کی بیوی اسے باہر تک چھوڑنے آ گئی۔ شمیم جیسے ہی باہر نکلی اسے دروازے کی چوکھٹ سے ٹھوکر لگی۔ وہ جھک سی گئی۔ جیسے ہی وہ جھکی کوئی چیز اس کے سر سے چھو کر گزر گئی۔ اسے ایک چیخ سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو عقیل کی بیوی نیچے گر رہی تھی اور اس کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔ اس نے گھوم کر دیکھا تو اس کا نام نہاد سسر اس کے سامنے کھڑا تھا اور حیرانگی سے عقیل کی بیوی کو گرتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پستول صاف نظر آ رہا تھا۔ شمیم کا تو جیسے دم ہی نکل گیا، ایک لمحے کو تو وہ گنگ ہو کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ پھر اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ اس کا سسر آرام سے چلتا ہوا آیا اور نزدیک آ کر عقیل کی بیوی کو غور سے دیکھنے لگا۔ عقیل کی بیوی کو گولی سر میں لگی تو وہ نیچے گرنے سے پہلے ہی مر چکی تھی۔ سامنے بازار تھا، شمیم کی چیخوں نے ہر شخص کو متوجہ کر لیا تھا مگر کوئی نزدیک نہ آیا۔ اس کا سسر اب اس کی طرف مڑا اور اپنے پستول کا رخ اس کی طرف کر لیا۔ شمیم ڈٹ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، نہ جانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آ گئی۔ اس نے ایک نظر عقیل کی بیوی پر ڈالی اور چلا کر کہا

"قاتل انسان مجھے مارتے، اس بے قصور کو کیوں مار دیا۔ چلاؤ گولی میں تم سے نہیں ڈرتی"

گولیاں چلنے کی آواز آئی تو شمیم نے آنکھیں بند کر لیں۔ پھر وہ نیچے گرتی چلی گئی۔

شمیم کو ہوش آیا تو سر کے پچھلے حصے میں درد کا احساس ہوا۔ آنکھیں کھولی تو وہ ہسپتال میں تھی۔ اس کی ماں اور باپ دونوں اس کے سرہانے بیٹھے تھے۔ ماں کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ ماں اسے دلاسے دیتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد جب صبر آیا تو ایک دم پیچھے ہٹی اور اپنے جسم کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھنے لگی۔ صرف سر کے پچھلے حصے میں درد تھا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ کوئی اور زخم نہیں ھے تو اسے حیرانگی ہوئی وہ حیرت زدہ نظروں سے اپنے ماں باپ کو دیکھنے لگی۔ ماں مسکراتے ہوۓ بولی

"تمہیں کوئی زخم نہیں ھے، کوئی گولی نہیں لگی، اطمینان رکھو۔ صرف گرنے سے سر کے پیچھے چوٹ لگی ھے"

پھر غمزدہ آواز میں بولی

"عقیل کو تمہارے ہوش میں آنے کا پیغام بھیج دیا ھے، وہ آ کر تمہیں تفصیل بتائے گا"

شمیم نے سر کے پچھلے حصے کو سہلاتے ہوۓ پوچھا

"میں کتنی دیر بے ہوش رہی"

ماں باپ نے گھوم کر ایک دوسرے کو دیکھا پھر والد گویا ہوۓ

"پانچ دن"

شمیم کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔ اس نے پھیلی ہوئی آنکھوں سے دھرایا

"پانچ دن"

پھر اپنا نیچے والا ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ ماں نزدیک آ گئی اور اس کی کمر سہلاتے ہوۓ بولی

"ذرا دھیرج رکھو۔ عقیل آتا ہی ہو گا، سب پتہ چل جاۓ گا۔ تم ابھی واپس لیٹ جاؤ دیکھو کہیں ڈرپ نہ اتر جاۓ"

شمیم خاموشی سے بات مان کر لیٹ گئی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بے ہوش کیسے ہوئی مگر یاد نہ آ رہا تھا۔ ماں نے اسے ذرا سا اٹھا کر دلیہ سا کھلایا وہ چپ کر کے کھاتی رہی۔ پھر لیٹ گئی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز سن کر اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو عقیل سامنے کھڑا تھا۔ سرخ آنکھیں، شیو بڑھی ہوئی، بال بے ترتیب اور میلے کچیلے کپڑے پہنے یہ عقیل ہی تھا۔ عقیل کو دیکھتے ہی شمیم کو یک دم سب یاد آ گیا۔ سارے مناظر سکرین کی طرح اس کے دماغ میں چلنے لگے۔ سب سے پہلا احساس اسے یہ ہوا کہ عقیل کی اس حالت کی وہ ذمہ دار ھے۔ اس نے عقیل کا نام لے کر ایک چیخ ماری اور غم کی شدت سے ایک بار پھر سے بے ہوش ہو گئی۔ ڈاکٹر آ گئے اور سب کو باہر نکال دیا گیا لیکن اس حالت میں بھی عقیل کے نام کی پکار کی آوازیں باہر آتی رہیں۔ عقیل غم اور غصے کی حالت میں دیواروں کو مکے مارنے لگا۔ اسے بڑی مشکل سے روکا گیا۔ شمیم کئی دفعہ ہوش میں آئی مگر وہ عقیل کو ہی آوازیں دیتی رہی اور غم کی شدت سے بار بار ہوش کھو دیتی۔ آخر ڈاکٹر عقیل کو اندر لاۓ اور پھر جب شمیم ہوش میں آئی تو عقیل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا

"شہزادی بس کرو اب تمہیں ہمت سے کام لینا ہو گا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور مجھے تمہاری ضرورت ھے"

شمیم کو ایک سکون کا احساس ہوا۔ اس نے عقیل سے پوچھا

"اب کیا ہو گا"

عقیل بولا

"اب کیا ہونا ھے۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔ اس ہسپتال سے نکلیں پھر سوچیں گے کہ کیا کرنا ھے"

عقیل نے اسے باتوں میں لگا کر اس کا غم کافی کم کر دیا۔ ڈاکٹروں نے شمیم کی حالت بہتر دیکھ کر انہیں اکیلا چھوڑ دیا اور باقی سب لوگوں کو فی الحال ملاقات سے روک دیا۔

‎‎عقیل نے اس کے بار بار پوچھنے پر اسے بتایا کہ اس کی چیخوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ اپنی پسٹل اٹھا کر بھاگا آیا اور دیکھا کہ اس کی بیوی نیچے گری ہوئی ھے اور وہ ظالم تمہیں اب گولی مارنے ہی والا ھے۔ اس نے پیچھے سے اسے چھ گولیاں ماریں۔ وہ تمہیں گولی نہ مار سکا مگر اپنی بیوی کو نہ بچا سکا۔ اس نے آرام سے باتوں باتوں میں اسے سمجھا دیا کہ اس کی بیوی کی موت ایسے ہی لکھی تھی اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ھے۔ وہ ظالم اتنی گولیاں کھا کر بھی ابھی زندہ ھے۔ اسے اہل محلہ نے پکڑا تھا۔ اس نے سب کچھ اگل دیا ھے۔

عقیل نے اسے مزید بتایا کہ یہ ایک بین الاقوامی گینگ تھا اور ان کے 21 کارندے مال سمیت پکڑے گئے ہیں۔ کئی ملکوں کی پولیس ان کی تلاش میں تھی۔ یہ شراب، نشہ آور ادویات اور انسانوں کو سمگل کرنے کے دھندے میں ملوث تھے۔ سب سے مزے کی بات یہ ھے کہ ان کی گرفتاری پر ایک بڑا انعام مقرر تھا اور شمیم اس کی حقدار تھی۔

شمیم عقیل سے باتوں میں مصروف تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ اب وہ عقیل کو سنبھالے گی۔ اس کے بچے پالے گی اور اس سلسلے میں کسی کی نہیں سنے گی۔ اپنی زندگی اس بے لوث آدمی کی مسکراہٹ واپس لانے کے لیے قربان کر دے گی۔ اسے عقیل سے باتیں کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا، اسے اب افسوس ہو رہا تھا کہ وہ اتنے دن بے ہوش رہی جبکہ عقیل کو سب سے ذیادہ اس وقت اس کی ضرورت تھی۔ اسی لیے اس نے اپنی زندگی کے آنے والے ہر پل عقیل کے نام کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس عظیم آدمی نے اسے گلہ تک نہیں کیا تھا کہ اس کی بیوی اس کی وجہ سے جان سے گئی ھے، بلکہ وہ تو اس کی ہمت بندھا رہا تھا۔

 اب ایک نئی زندگی شمیم کی منتظر تھی اور وہ سوچ سوچ کر ہی خوش ہوئی جا رہی تھی۔

ختم شد


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books