Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
شازمہ تھک کر چور ہو چکی تھی۔ آج ہی اس گھر میں شفٹ ہوئی تھی۔ اس کا دس سالہ بیٹا اسامہ اور آٹھ سالہ بیٹی یامین پاس سو رہے تھے۔
شازمہ کی شادی اپنے کزن چچازاد دانیال سے ہوئی تھی۔ اس کا سسرال دوبئی میں سکونت پزیر تھا۔
شازمہ کو پاکستان رہنا پسند تھا اس نے ساس سسر کی وفات کے بعد پاکستان شفٹ ہونے کی خواہش ظاہر کی۔
اسکا شوہر دانیال بھی پاکستان میں بہت خوش رہتا تھا۔ بچپن کی یادیں اور دادا دادی کا پرسکون پہاڑی علاقے میں گھر۔
دانیال کے والد دوبئی شفٹ ہو گئے اور شازمہ کے والد جو ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھے۔ مختلف علاقوں میں ان کی پوسٹنگ ہوتی رہتی تھی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لاہور میں شفٹ ہو گئے۔
شازمہ نے جب پاکستان رہنے کا ارادہ کیا تو مری میں اپنے دادا کے گھر رہنے پر ترجیح دی۔ جو کافی عرصے سے بند پڑا تھا۔ بزرگ وفات پا چکے تھے۔
دانیال نے کہا، وہاں اکیلی کیسے رہو گی مجھے بزنس کے سلسلے میں مختلف شہروں میں جانا پڑے گا مگر شازمہ نہ مانی۔
اس نے وہاں جا کر دیکھا، آس پاس قدرے فاصلے پر کافی گھر موجود تھے۔
شہر دور تھا مگر وہ گاڑی خود ڈرائیو کر لیتی تھی۔
آس پڑوس کی چند عورتوں، مردوں سے ملکر دانیال کو قدرے تسلی ملی۔
گھر کی صفائی دونوں نے ملکر کی۔ راشن ڈالا اور اچانک دانیال کو ضروری جانا پڑ گیا۔ یہاں سگنل پرابلم بھی تھا۔
شازمہ نے دانیال کو تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں دو تین دن کی بات ہے پھر آپ آ جائیں گے۔
دانیال جانتا تھا وہ بہت ضدی ہے۔ ورنہ وہ ادھر رہنے پر ترجیح نہ دیتے۔ اس گھر سے اس کی بھی بچپن کی یادوں وابسطہ تھیں۔
شازمہ سب کاموں سے فارغ ہو کر بچوں کو کھانا کھلا کر لیٹی۔
ابھی قدرے نیند کی آغوش میں گئ تھی کہ اسے چھن چھن چھن کی آوازیں آنے لگیں۔ بچے بےخبر سو رہے تھے۔
شازمہ کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
پھر کسی کے بین کرنے کی آوازیں آنے لگیں۔
شازمہ پر خوف طاری ہو گیا۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔ اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔
شازمہ نے آیات کا ورد تیز تیز کرنا شروع کر دیا۔ آوازیں مدھم ہونی شروع ہو گئیں۔
پھر آہستہ آہستہ بند ہو گئیں۔
شازمہ کا حلق خشک ہو گیا۔ پاس پانی رکھنا بھی بھول گئی تھی۔
خوف سے دل گھبرا رہا تھا۔ اسے اٹھنے کی جرات نہ تھی کہ کچن سے جا کر پانی پی سکے۔
اس نے بچوں کے ساتھ لپٹ کر منہ کمبل میں کر لیا۔
نیند ساری غائب ہو چکی تھی۔ دل میں خوف بھرا ہوا تھا۔
نہ جانے کس پہر اس کی ڈرتے ڈرتے آنکھ لگ گئی۔
فجر کی ازان اس کے کانوں میں پڑی، اس نے ڈرتے ڈرتے کمبل سے باہر منہ نکالا تو اسامہ نے کروٹ لے کر نیند میں پانی مانگا۔
شازمہ نے مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہمت کر کے کچن کا رخ کیا تو بوتل اور گلاس ڈھونڈنے کے لیے موبائل کی ٹارچ استعمال کی، لائٹ جلانے کی بھی ہمت نہ تھی۔
گلاس اور بوتل لے کر تیزی سے بھاگی۔
اسامہ کو پانی دیا۔ اس نے اٹھ کر پانی پیا اور بولا، ماما واش روم جا رہا ہوں۔ وہ تیزی سے الاونج کی لائٹ جلا کر واش روم گیا تو شازمہ کو اس کے جاگنے سے حوصلہ ہوا اور وہ ہمت کر کے دوسرے واش روم گئ مگر دروازہ لاک نہ کیا نہ ہی پورا بند کیا۔ پھرتی سے وضو وغیرہ کیا اور کمرے کی طرف بھاگی۔ اور جاے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگی۔
نماز کے بعد قدرے سکوں ملا۔
وہ لیٹی رہی، ڈر کر ہمت نہ تھی کہ کچن میں جا کر چائے بنا لے۔ رات کو بھی تھکن سے کھانا کھانے کی بھی ہمت نہ تھی۔ اب بھوک شدید ستا رہی تھی۔
وہ روشنی ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
وہ سوچوں میں گم تھی۔ دانیال نے اسے کتنا سمجھایا تھا کہ ایسے پہاڑی علاقے میں ہم صرف چند دن پکنک منانے کے لیے رہ سکتے ہیں۔ پرمننٹ نہیں۔ ابھی تو گرمیوں کی چھٹیاں ہیں تم ساری چھٹیاں ادھر گزار لو مگر واپس شہر میں ہی بچوں کو ایڈمشن دلانا ہے اور وہیں رہنا ہے۔ ہم گاہے بگاہے ادھر آتے رہیں گے۔ ہمارا پرانا وفادار چوکیدار اب فوت ہو گیا ہے اور اس کے بیٹے ادھر چوکیداری کرنے پر تیار نہیں۔ اب کوئی فوری طور پر بھروسے والا شخص مل نہیں رہا۔
روشنی کافی ہو چکی تھی مگر ابھی بھی وہ اٹھنے کی ہمت نہ کر رہی تھی۔
وہ شرمندہ تھی کہ دانیال نے اسے بتایا بھی تھا کہ لوگ اس گھر کو آسیب زدہ کہتے ہیں کیونکہ چوکیدار ادھر چلے کاٹتا تھا۔ مگر شازمہ نے دانیال کا خوب مشاق اڑایا تھا۔
شازمہ اپنے آپ کو بہت بہادر مانتی تھی۔ جب بچپن میں وہ یہاں آیا کرتی تھی تو اس کے دادا دادی حیات تھے دانیال اسکا تایا زاد تھا دونوں کی عمر میں ایک سال کا فرق تھا۔
دانیال والدین کا اکلوتا تھا جبکہ شازمہ کا ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹی بہن تھے۔
دادا دادی اپنے دونوں بچوں کی اولادوں سے بہت پیار کرتے تھے۔
دانیال کے والد دوبئی اپنی فیملی کے ساتھ دوبئی شفٹ ہو گئے۔
شازمہ کے والد سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے تھے۔ فیملی ان کے ساتھ تھی۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ والدین ساتھ رہیں مگر وہ اپنے ٹھکانے پر ہی خوش رہتے۔ اگر بیٹے کے پاس جاتے تو چند دن میں ہی بور ہو جاتے۔
شازمہ کو بھوک ستانے لگی اس نے ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے ناشتہ بنایا اور بچوں کے کمرے میں آ گئی۔
جلدی جلدی سے ناشتہ ختم کیا۔ اور برتن تیزی سے کچن میں رکھ کر کمرے میں آ گئ۔
وہ سوچنے لگی جب وہ بچپن میں ادھر آتی تھی تو سب ہوتے تھے اسے کھبی خوف محسوس نہیں ہوا۔
مگر دس سال کی تھی کہ دادا دادی کی وفات کے بعد ادھر دوبارہ نہ آ سکی۔
اب اسے اس جگہ سے شدید لگاو کے باعث دل نے آنے پر مجبور کیا۔
شازمہ شوہر کے ساتھ دوبئی سے پاکستان شفٹ ہوئی۔ چند دن رشتے داروں سے ملنے ملانے میں گزر گئے۔
اتنی جلدی گھر لینا مشکل تھا بچوں کو ایڈمشن بھی کروانا تھا۔
دانیال کو شازمہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ اپنے پرانے آبائی گھر میں رہے گی۔ وہاں بھی اچھے اسکول موجود ہیں۔ بچوں کی ہیلتھ بھی اچھی رہے گی اور تازہ فروٹ سبزی کھانے کو ملے گی۔
وہ شہر کی رونق اور شور شرابے سے تنگ آ چکی ہے پرسکون جگہ رہنا چاہتی ہے۔ جہاں خاموشی اور سکون ہو۔ بس پرندوں کی خوبصورت سریلی آوازیں صبح کا پیغام دیں۔
بس بس شاعرہ صاحبہ۔ بس تمہیں وہ اپنا گھر جو نظر آ رہا ہے۔ وہ نہ ہوتا تو۔۔۔۔
شازمہ جھٹ بات کاٹتے ہوے بولی، تو ادھر آپ کھبی گھر خریدنے کی زحمت گوارا نہ کرتے۔
شازمہ بچوں کے ساتھ کمبل میں آ کر لیٹ گئی۔
ابھی تھوڑی تھوڑی صبح نمودار ہو رہی تھی۔ ہلکی پھلکی پرندوں کی آوازیں آ رہی تھیں کہ باہر سے زور زور سے دروازہ بجنے کی آوازیں آنے لگیں۔
شازمہ کا خوف سے برا حال ہونے لگا۔ وہ سوچنے لگی یا اللہ خیر اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ ابھی تو بہت صبح ہے کوئی پڑوسی بھی نہیں ہو سکتا۔
دروازہ مسلسل زور زور سے بج رہا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور آیات پڑھنے لگی۔
خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔
مگر دروازہ بجنا بند نہ ہوا۔
وہ پسینے پسینے ہو گئ۔
اس نے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے دیں۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر
پھر یوں ہوا کہ ہم نے دل کو بہلا لیا
وہ سمجھے کہ ہم نے انہیں بھلا دیا۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen
#اف_وہ_لرزتے_لمحات
#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.