Loading...
Logo
Back to Novel
Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
Uff Woh Laraztay Lamhaat

اف وہ لرزتے لمحات 10

From Uff Woh Laraztay Lamhaat - Episode 10

شازمہ کو خوفزدہ دیکھ کر اسامہ نے پوچھا، ماما کیا بات ہے۔ آنٹی کیا کہہ رہی تھی۔


شازمہ نے بتایا کہ وہ بتا رہی تھی کہ، بابا جی کی خاندان میں کوئی فوتگی ہو چکی ہے اور وہ چند دن بعد آئیں گے۔


یامین جھٹ بولی، مگر بابا جی تو ابھی باہر واک کر رہے تھے۔


اسامہ نے خوفزدہ لہجے میں بتایا کہ وہ بابا جی نہیں تھے۔


یامین ڈر کر دوڑتی ماں سے لپٹ گئی۔


شازمہ نے سمجھایا، دیکھو ڈرتے نہیں ہیں۔ ہم سب کو بہادری سے یہاں رہنا ہے۔ گھر اپنا جب تک مکمل نہیں ہو جاتا۔


شازمہ بچوں کو پڑھا رہی تھی مغرب کا وقت تھا۔


پڑوسن ابھی اٹھ کر گئی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ اسکا دیور کا بیٹا پولیس میں ہے۔ آجکل وہ ادھر تعینات ہوا ہے۔ تمہیں کوئی بھی خطرہ محسوس ہو مجھے کال کر دینا۔ اپنے آپ کو اکیلی مت سمجھنا۔


شازمہ کو لگا جیسے پیچھے کوئی لان میں کودا ہے۔


اسامہ نے ڈر کر کہا۔ ماما لگتا ہے باہر کوئی ہے۔


شازمہ کو بھی خطرہ محسوس ہوا۔


شازمہ نے اسامہ اور یامین کو اشارے سے چپ کرایا اور جلدی سے پڑوسن کو میسج کر دیا۔ اس کا فوراً جواب آ گیا فکر نہ کرو ہم آتے ہیں۔


شازمہ نے زور سے چلا کر کہا، اسامہ جاو اندر پاپا اور ماموں کو جگاو کتنا سوئیں گے رات کو لیٹ آے ہیں۔


شازمہ کی بھابھی جس کو اب شازمہ سے دلی لگاو ہو چکا تھا اس نے شوہر کو سمجھانا شروع کیا کہ شازمہ کا ادھر رہنے کا شوق اب کافی حد تک پورا ہو چکا ہے مگر وہ جگہ ایک جوان اکیلی لڑکی کے رہنے کے لیے ٹھیک نہیں۔ یہ پاکستان ہے۔ یہاں لوگوں پر بھروسہ کرنا درست نہیں۔ ایک بوڑھا چوکیدار ان کی کیا حفاظت کر سکتا ہے بھلا۔


مجھے تو وہاں پر کچھ اثرات بھی محسوس ہوے ہیں۔ وہ اکیلی بازار اس ویرانے علاقے سے آتی جاتی ہے کوئی بھی نقب لگا سکتا ہے۔


وہاں اتنی آبادی بھی نہیں ہے۔ آپ اور دانیال کچھ زیادہ ہی آزاد خیال بن رہے ہیں۔


جب بھائی کا گھر موجود ہے پھر اکیلے اسے وہاں رہنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں۔ خدانخواستہ کچھ اونچ نیچ ہو گئی تو پھر کیا کریں گے۔ مہینے ڈیڑھ تک اسکا گھر بھی مکمل ہونے والا ہے۔ پھر دانیال کا پراجیکٹ بھی مکمل ہو جائے گا۔


اسے دانیال سے بات کر کے آج ہی واپس بلائیں۔ اسے بغیر بتائے لینے جائیں اور اس کی ایک نہ سنیں۔


شازمہ کا بھائی بولا، تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مجھے خود بھی ادھر اس کے اس ویرانے میں رہنے سے فکر ہو رہی تھی۔


شازمہ کی بھابھی تپ کر بولی، بس فکر ہی کرتے رہنا عملی طور پر کچھ نہ کرنا، اب وقت ضائع مت کریں اور جلدی سے اسے لانے کی تیاری کریں۔ دانیال کو فون کریں۔


شازمہ کے بھائی نے دانیال کو فون کیا تو وہ پریشانی سے بولا، میں ابھی آپ کو ہی فون کرنے لگا تھا۔


دراصل ادھر شازمہ کے گھر میں ڈکیت گھس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ سب خیریت ہے۔


شازمہ کا بھائی لڑکھڑاتے ہوے پریشانی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔


شازمہ کی بھابھی چلا کر پریشانی سے بولی، سب خیریت ہے ناں، شازمہ تو ٹھیک ہے ناں۔


شازمہ کے بھائی نے موبائل کا اسپیکر آن کر دیا۔


دانیال بتانے لگا کہ شازمہ کو کسی کے کودنے کی آوازیں آئیں۔ اس نے عقلمندی سے کام لے کر اونچی آواز میں کہا کہ، بچو ماموں اور پاپا کو جا کر جاو کتنا سونا ہے۔


اس سے ان پر یہ تاثر ہوا کہ شاید گھر میں مرد موجود ہیں۔


یہ سنتے ہی وہ بھاگنے لگے۔ اتنے میں پڑوسن کو شازمہ کا میسج ملا تو اس نے گھر کے مردوں کو پسٹل کے ساتھ باہر بھیجا۔


باقی تو بھاگ گئے ایک پکڑا گیا اب پولیس کے حوالے اسے کر دیا گیا ہے۔


شازمہ سخت گھبرائی ہوئی ہے فوراً وہاں سے آنا چاہتی ہے۔


شازمہ کی بھابھی نے دانیال سے کہا، شکر ہے اللہ تعالیٰ نے بچا لیا میں انہیں شازمہ کو لانے بھیجنے کے لیے منا رہی تھی۔ مجھے سخت فکر تھی۔


دانیال نے کہا، بہت شکریہ بھابھی، ویسے وہ پڑوسی بہت اچھے لوگ ہیں وہ اس کا سامان پیک کروا رہے ہیں۔ اور وہی لوگ گھر بھی خریدنا چاہتے ہیں۔


شازمہ کی بھابھی بولی ہم ابھی نکلتے ہیں۔تم پریشان مت ہو۔


شازمہ کی بھابھی نے شوہر کو تسلی دی اور جانے کی تیاری کرنے لگی۔


شازمہ بہت پریشانی میں سامان پیک کر رہی تھی۔ پڑوسن اسے تسلیاں دے رہی تھی۔


ساتھ ہیلپ بھی کر رہی تھی۔ اس کے گھر سے کھانا پینا بھی آ رہا تھا۔


جب شازمہ کا بھائی بھابھی وہاں پہنچے تو شازمہ بھابھی کے گلے لگ کر رو پڑی اور روتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے بولی، آپ نے کتنا مجھے کہا تھا ساتھ چلنے کو۔ مگر میں مغرب کی تقلید میں اپنے آپ کو بہادر سمجھتی تھی۔ دانیال نے کتنا مجھے منع کیا مگر میں ضدی بنی رہی اور یہ بھی نہ سوچا کہ میں ایک نازک سی عورت ہوں۔ میری عزت بھی بہت قیمتی ہے۔ خدانخواستہ وہ ڈکیت مجھے یا میری پھول سی بچی کو۔۔۔


شازمہ کی بھابھی بات کاٹتے ہوے بولی، بس بس اب شکرالحمدوللہ کہ اس نے کرم کیا۔


دانیال نے فون پر شازمہ کے بھائی سے کہاکہ اس گھر کو بھی فوری طور پر ان پڑوسیوں کو اونے پونے داموں سیل کر دو۔


شازمہ کا بھائی بولا، ٹھیک ہے میں ان سے بات کرتا ہوں۔


بھابھی نے منع کیا کہ اونے پونے داموں بیچنے کی اتنی جلدی کیا ہے۔ پڑا رہے۔ دانیال کو آ جانے دو۔ اچھی قیمت پر دے دیں گے۔


شازمہ کا بھائی بولا، مگر وہ لوگ پوچھ رہے ہیں۔ انہوں نے ہماری بہن کا ساتھ دیا ہے ہم انہیں کیسے انکار کریں۔


شازمہ کی بھابھی بولی، انکار نہ کریں بس ان کو تسلی دے دیں کہ ہم ابھی بزی ہیں پہلی فرصت میں آپ کو فون کر کے بلا لیں گے اور سودا ڈن کر دیں گے۔ انہیں کہیں کہ یہ کام اتنی جلدی تو نہیں ہو سکتا۔ ہم جب بھی سیل کیا آپ کو ہی کریں گے اور آپ کی مرضی کا سودا ڈن ہو گا آخر ہمیں آپ کے احسان کا بھی تو سوچنا ہے جو آپ نے ہماری بہن کا ساتھ دے کر کیا ہے۔


ان لوگوں نے دانیال اور شازمہ کے بھائی کا نمبر بھی نوٹ کر لیا۔


دوسرے دن صبح ناشتے کے بعد وہ لوگ نکلے۔


پڑوسن اسے بہت پیار سے ملی اور کہا کہ وہ اسے بہت مس کرے گی۔


راستے میں شازمہ نے کہا، کہ وہ چوکیدار بابا سے مل کر انہیں بھی تنخواہ دے کر فارغ کرنا چاہتی ہے۔


جب وہ لوگ ادھر پہنچے تو چوکیدار کی بیٹی بہت خوش ہوئی اور چاے پینے کے لیے فورس کرنے لگی۔


شازمہ پہلے ہی اداس اور پریشان تھی اس نے انکار کر دیا کہ وہ لوگ جلدی میں ہیں۔


اس کی بھابھی نے اتر کر واش روم جانے کا کہا۔


شازمہ نے بابا جی کو گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا کہ گھر اکیلا نہیں چھوڑنا اور ادھر ہی رہنا۔


بابا جی بولے، میں نے روڈ پر آپ کی گاڑی کو جاتے دیکھا تھا آپ جلدی آ گئ تھیں میں تو ادھر ہی رہا مگر پڑوسی نے بتایا کہ آپ واپس چلی گئ ہیں اور آپ کو گھر جانے کا کہہ دیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ گھر ان کو بیچ دیا ہے۔ پڑوسی نے مجھے روڈ سے ہی واپس بھیج دیا کہ چند دن بعد میں ان سے آپ کی تنخواہ لے کر آپ کو خود دے جاوں گا۔ میرے پاس آپ کا نمبر ہے۔


شازمہ کا بھائی بھی پاس کھڑا سن رہا تھا اس نے شازمہ کو ادھر سے جلدی جانے کا اشارہ کیا۔


شازمہ نے بابا جی کو رقم دی جو تنخواہ سے زیادہ تھی اس کی بیٹی کو بھائی نے شازمہ کو پیسے پکڑاے کہ اسے دے دے۔


شازمہ اور اس کے بھائی سمجھ گئے کہ یہ ان پڑوسیوں کی ہی گیم تھی اس گھر کو اونے پونے داموں ہتھیانے کی۔


دانیال کو بھی جب حقیقت پتا چلی تو وہ بہت حیران ہوا اور پریشان بھی ہوا کہ یہ لوگ تو بہت خطرناک ناک ہیں۔ شکر ہے شازمہ اور بچے سلامت واپس آ گئے ہیں۔


اچانک سے شازمہ کو یاد آیا کہ اسکا لیب ٹاپ پڑوسن لے کر گئی تھی وہ واپس لینا بھول گئی ہے۔


فیصلہ یہ ہوا کہ سامان والی گاڑی گھر روانہ ہو جائے اور شازمہ کے گھر کے ٹھیکیدار کو سامان کہا جائے کہ وہ سامان شازمہ کے گھر کے کمرے میں رکھوا دے۔


اور پڑوسن پر اس کے فریب کو ظاہر نہ کیا جائے۔ اور واپس جا کر اس سے لیب ٹاپ واپس مانگا جائے۔ یہ لوگ مال روڈ پر کافی دیر سیر سپاٹے کرتے رہے۔ اب مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ وہ لوگ واپس چل پڑے۔


انہوں نے سوچا کہ اچانک جائیں گے تاکہ وہ لیب ٹاپ کا بہانہ نہ کر سکے۔


جب یہ لوگ ادھر واپس پہنچے تو راستے بھر خوفناک آوازیں انکا پیچھا کرتی رہیں۔ شازمہ کا بھائی مرد ہو کر بھی پسینے پسینے ہو گیا۔ شازمہ کی بھابھی اور بچے بہت ڈر رہے تھے۔ جبکہ شازمہ کافی مطمئن بیٹھی ہوئی تھی۔ اسامہ بھی کافی ڈر رہا تھا۔مگر شازمہ کو آج اپنوں کی وجہ سے کافی سہارا ملا ہوا تھا۔


بھابھی شازمہ کو باتیں سنانے لگی کہ بھلا لیب ٹاپ کوئی کسی کو دیتا ہے۔ کیا پاس ورڈ بھی اسکو بتا دیا تھا۔ اور دیا کیوں۔ ؟


شازمہ نے سانس بھر کر کہا، اس نے کہا تھا  کہ وہ اپنے بھتیجے کو یہ ماڈل دکھانا چاہتی ہے۔


پھر اسے واپس لینا یاد نہیں رہا۔


جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو بہانہ کیا کہ گاڑی خراب ہو گئی تھی اب رات کو سفر کرنا ٹھیک نہیں ہے اس لیے ہم ادھر آ گئے کہ چلو گھر کی ڈیل بھی پکی کر لیتے ہیں۔


وہ لوگ ایکدم خوش ہو گئے اور ان کی آو بھگت شروع کر دی۔


شازمہ نے اسامہ سے کہا، کہ لیب ٹاپ ڈھونڈ کر چپکے سے قبضے میں کرنا ہے۔


ان لوگوں نے ان کو کہا کہ آپ لوگ اس گھر کو اپنا ہی سمجھیں۔


شازمہ کے بھائی نے پڑوسن کے مردوں سے گھر کی بات چیت شروع کر دی۔


شازمہ کے بھائی نے کہا کہ آپ لوگ یہاں کے رہائشی ہیں آپ کو یہاں کی جائدادوں کے ریٹس معلوم ہوں گے آپ بتائیں۔


انہوں نے جھٹ سے خوش ہو کر ایک رشتے دار کی طرف اشارہ کیا کہ یہ پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اس کو سب ریٹس معلوم ہیں۔


شازمہ کے بھائی نے کہا، یہ تو اچھا ہو گیا آپ بتائیں کیا قیمت ہے اس گھر کی۔


وہ اس کا رقبہ وغیرہ پوچھنے لگا۔ اور گھر کے کاغذات مانگے۔


شازمہ کے بھائی نے کہا، وہ تو شازمہ کے شوہر کے پاس ہیں وہ جب آئے گا تو لے آئے گا۔


پڑوسن کے رشتے دار نے بہت کم قیمت بتائ۔


شازمہ کے بھائی نے انجان بنتے ہوئے کہا کہ میں نے تو اس سے کم سوچی ہوئی تھی کیونکہ یہ کافی پرانا مکان ہے۔


وہ پریشان ہو کر بولے، جو آپ بتا دیں۔


شازمہ کے بھائی نے کہا مجھے دانیال نے اس سے کم پر ڈن کرنے کا بولا تھا۔


پڑوسن کا رشتہ دار بولا جی ٹھیک ہے ہمارا فائدہ ہے۔


شازمہ کے بھائی نے کہا، مجھے جو دانیال نے کہا ہے وہ ڈن ہے۔


وہ لوگ خوش ہو گئے۔


پڑوسن کے گھر میں گڑ والے چاول پک رہے تھے۔ وہ گرم گرم ڈال کر لے آئی کہ یہ لیں اس ڈیل کی خوشی میں منہ میٹھا کریں۔


رات دیر تک وہ لوگ ان سے خوش گپیوں میں مصروف رہے۔


بچوں کو نیند آنے لگی۔


شازمہ نے پڑوسن سے کہا کہ ہم سب کو ایک ہی کمرہ سونے کے لیے دے دیں۔


اسامہ اور شازمہ کی بھتیجی لیب ٹاپ ڈھونڈنے میں لگے رہے مگر انہیں نہ ملا۔


یامین نے بتایا کہ اس نے کھڑکی سے دیکھا تھا آنٹی لیب ٹاپ الماری میں رکھ رہی تھی اور تالا لگا کر چابی الماری کے اوپر رکھ رہی تھی۔


شازمہ نے بہانے سے چابی الماری پر سے اٹھا لی۔


اب اگلا مرحلہ تھا لیب ٹاپ نکالنے کا۔


شازمہ نے اسامہ سے آہستہ سے کہا کہ میں اسے باہر لے کر بہانے سے جاتی ہوں تم جلدی سے لیب ٹاپ نکال کر تالا لگا کر چابی اوپر رکھ دینا تاکہ وہ مطمئن رہے۔


شازمہ اسے بہانے سے لیکر باہر چل پڑی۔


اسے کافی وقت باتوں میں لگائے رکھا۔ جب واپس آ کر اسامہ کو اشارہ کیا تو وہ مایوسی کی شکل بنا کر نفی میں گردن ہلانے لگا۔


شازمہ بہت پریشان سی ہو گئی کہ ادھر رات رہنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔


یہ ہمیں لوٹنے کا ڈرامہ بھی کر سکتے ہیں۔ اب وہ کیا کرے۔


بھائی نے میسج کر کے پوچھا تو شازمہ نے نو کا میسج کر دیا۔


بھابھی بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی وہ بیڈ پر سو گئی۔ جب تھوڑی دیر بعد اٹھی تو شازمہ کو اشارے سے پوچھا تو شازمہ نے نفی میں گردن ہلا دی۔


اب وہ لوگ سونے کی تیاری کرنے لگے۔


انہوں نے انہیں لیب ٹاپ والا روم نہ دیا۔ اب شازمہ نے سب کو الرٹ کر دیا کہ جب بھی موقع ملے لیب ٹاپ لے کر یہاں سے نکل جانا ہے۔


شازمہ نے اسے لیب ٹاپ کا پوچھا تو وہ صاف مکر گئی کہ تم بھول رہی ہو وہ تو میں دیکھا کر اسی وقت واپس کر آئی تھی۔


شازمہ نے بھی سوری بولتے ہوئے کہا، ہاں یاد نہیں رہتا۔


سامان میں پیک کر دیا ہو گا اس وقت میں پریشان بھی تھی۔


پڑوسن مسکرانے لگی کہ اسے الو بنا لیا۔


شازمہ نے سوچا کیا فائدہ واویلا کرنے کا۔ اس سے ایسے ہی نکلوانا پڑے گا۔


اتنے میں اسامہ کا میسج آیا کہ لیب ٹاپ لے لیا ہے اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔


شازمہ کے بھائی نے بہانے سے کہا کہ ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے۔


پڑوسن پریشان ہو گئی اس نے بہت روکنے کی کوشش کی۔


اسامہ نے بتایا کہ وہ کسی کو فون کر رہی تھی کہ یہاں سے تو وہ ابھی نکل رہے ہیں وہاں شہر کے قریب موڑ مڑتے وقت وہاں ان کو لوٹنا ہے۔


یہ لوگ جلدی سے نکلے۔ اب کہاں جائیں۔


راستے میں تو وہ ڈاکہ ڈال لیں گے۔


شازمہ کو ایکدم خیال آیا کہ بابا جی کی بیٹی کا گھر اس موڑ سے پہلے ہے ہمیں وہاں چل کر رکنا چاہیے۔


شازمہ نے ان کی بیٹی کو فون ملایا مگر وہ فون پک نہیں کر رہی تھی۔


باباجی کا نمبر بند مل رہا تھا۔


شازمہ مسلسل ملاتی رہی۔


آخر نیند سے بھری آواز سنائی دی۔


شازمہ نے جلدی سے کہا، میں شازمہ بول رہی ہوں ہماری گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی ہم اب رات آپ کے گھر رکنا چاہتے ہیں۔


وہ یکدم بولی، جی بسم اللہ ضرور رکیں۔


شازمہ نے کہا، اچھا ہم آ رہے ہیں۔


وہ لوگ ڈرتے ڈرتے خوف کھاتے تیزی سے وہاں پہنچے۔ راستہ بہت ڈراونا اور ویران تھا۔ خوفناک آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ بچے ڈر رہے تھے۔


شازمہ اور اس کی بھابھی اونچی آواز میں آیات پڑھ رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ بچوں کو بہت تسلی بھی دے رہی تھیں۔


اچانک سامنے سے بجلی کی سی چمک پڑتی اور غائب ہو جاتی۔


شازمہ نے بھائی کو چلا کر کہا، بھائی کچھ بھی ہو گاڑی نہیں روکنا۔


اتنے میں سامنے ایک برقعے میں ملبوس ایک عورت بیچ سڑک پر چلنے لگی۔


شازمہ چلائی، بھائی گاڑی مت روکنا۔


بھائی جوں جوں گاڑی قریب لاتا جاتا وہ بڑی ہوتی جاتی۔


بچے خوف سے رونے لگے۔


شازمہ کا بھائی پسینے میں شرابور تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا رہا۔ رکا نہیں۔ وہ عورت یکدم غائب ہو گئ۔


بابا جی کا گھر بھی قریب آ گیا۔


بڑی سرعت سے شازمہ کے بھائی نے گاڑی گھر کے قریب روکی اور شازمہ سے کہا، فون کرو۔


شازمہ بابا جی کی بیٹی کو فون کرنے لگی۔ مگر وہ فون پک نہ کرے۔


بھائی نے کہا، گاڑی لاک ہی رکھنا۔


شازمہ فون ٹرائی کرتی رہی تو اس کی بیٹی نے فون اٹھایا اور معزرت کی کہ وہ واش روم میں تھی۔


شازمہ اور اس کے بھائی نے فون کی لائٹ سے سب کو اندر لے گیا اور کہا کہ فون کم استعمال کرنا تاکہ بیٹری بچی رہے۔


اس کی بیٹی اسکا شوہر اور باباجی نیند سے بوجھل آنکھوں سے ملے۔


بابا جی کی بیٹی نے سب کے ایک لمبے سے کمرے میں بستر لگا دیے تھے اور معزرت کی تھی کہ چارپائیوں کی کمی ہے۔ شازمہ نے کہا، بہت ہیں۔ بچے ہمارے ساتھ سو جائیں گے۔


سنگل چارپائیوں پر دو دو بندے لیٹ گئے۔


شازمہ نے ان کو مختصر ساری بات بتائی تو باباجی کا داماد بولا، یہ اچھے لوگ مشہور نہیں ہیں۔ یہ پہلے بندے کا اعتماد حاصل کرتے ہیں پھر لوٹتے ہیں۔ اچھا ہے کہ آپ لوگ بچ کر نکل آئے۔ مگر ابھی بھی خطرہ ہے۔ وہ لوگ آپ کو لوٹنے راستے میں ضرور بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ مجھے وہ لوگ نہیں جانتے۔ میں کل جا کر دیکھوں گا۔ اسامہ نے کہا،انکل میں نے اور آپی (شازمہ کی بھتیجی) کی طرف اشارہ کر کے بولا، ہم نے چھپ چھپ کر ان سب کی وڈیو بنا لی ہیں۔


باباجی کا داماد بولا، چند ایک کو تو میں پہچانتا ہوں جو پولیس میں ہے۔ مگر وہ مجھے نہیں جانتے۔


وڈیو دیکھ کر بولا، میں کل اسی موڑ پر بہانے سے بائیک پر سے گزروں گا۔ خالی جیب جاوں گا۔


اسامہ بولا، انکل بائیک بھی تو چھین سکتے ہیں۔


وہ بولا، نہیں وہ بائیک نہیں چھینتے کیونکہ اسے چھین کر وہ بڑے مسئلے میں پڑ جاتے ہیں۔ ایسی جگہ پر وہ چھوٹی وارداتیں کرتے ہیں۔


شازمہ بولی، میں چند بار ادھر سے مغرب کے وقت گزری ہوں۔


وہ بولا، شکر کریں بچ گئی ہیں۔ دراصل یہ انکا پولیس والا آدمی کچھ عرصے سے یہاں نہیں تھا تو ادھر واردات میں کمی تھی۔


وہ اب دوبارہ ادھر ٹرانسفر ہو کر آ گیا ہے جس کے بل بوتے پر یہ لوگ ادھر وارداتیں کرتے ہیں اور اکثر ہم مقامی لوگوں سے گریز کرتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ ہم اتنے پیسے والے نہیں ہوتے۔


ہاں کھبی روک کر تھوڑے بہت پیسے لے لیتے ہیں۔


اتنے میں ان کی بیٹی الائچی والا دودھ گرم گرم سرو کرنے لگی۔ پتلی نازک سی لڑکی سر پر بڑا سا دوپٹہ لپیٹنے نیند سے بوجھل آنکھوں سے مسکراتی ہوئی سب کو پکڑانے لگی۔


ماں نے اسے سوتے ہوئے مہمانوں کے لیے جگایا تھا۔ اس کے دو بھائی بھی چھوٹے چھوٹے بچے نیند میں بھرے ہوئے سب کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔


شازمہ کے بھائی نے میسج کر کے شازمہ سے پوچھا کہ دودھ میں کچھ ملا نہ ہو۔


شازمہ نے میسج کیا کہ وہ دودھ ڈالتے ہوئے دیکھ رہی تھی اسی دودھ میں اس نے بابا جی کو ڈال کر دیا تھا فکر نہ کریں پی لیں۔ ٹھنڈ کم ہو جائے گی۔


سب کو دودھ پی کر انرجی آ گئی۔ سونے لیٹ گئے۔


صبح زرا دھوپ نکلی ہوئی تھی تو سب لیٹ جاگے۔


بابا جی کی بیٹی نے سب کو گرم گرم پراٹھے دیسی انڈوں کا آملیٹ کھلایا۔ چاے بعد میں دی کہ ٹھنڈی ہو جاتی۔


ان کا داماد ایک چکر لگا کر آیا اور بولا کہ وہ لوگ تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔


شازمہ نے بھائی سے کہا، ابھی جانا خطرے سے خالی نہیں۔


شام تک آپ اپنے انسپکٹر دوست کی مدد لیں تاکہ ہم یہاں سے بحفاظت نکل سکیں۔


شازمہ کی بھابھی بولی، ہاں خوب یاد کرایا۔ ان کے وہ دوست کب کام آئیں گے جن کے ساتھ یہ خوب خوش ہوتے ہیں۔


دانیال مسلسل رابطے میں تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ سب کو سپروائزر دینا چاہتا تھا وہ واپس آ گیا ہے اور کامیاب بھی رہا ہے جس کام سے گیا تھا۔ وہ انسپکٹر دوست کی نفری کے ساتھ خود آ رہا ہے۔ اور ان غنڈوں کو بھی دیکھ لے گا تم لوگ ادھر سے نکلنا ادھر سے ہم پہنچیں گے اور وہ تم پر حملہ آور ہوں گے اور ہم انہیں رنگے ہاتھوں پکڑیں گے۔


شازمہ اور بچے دانیال کی واپسی کا سنکر جوش اور خوشی سے نحال ہو گئے۔


بھابھی نے شازمہ کو پیار کر کے بہت مبارک باد دی۔


دانیال کا پلان کامیاب رہا اور ان لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا کیونکہ ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ لوگ بابا جی کے گھر قیام پذیر ہیں۔ کیونکہ انکا ایک بندہ آ کر تصدیق کر گیا تھا کہ گاڑی کھڑی ہے اور ان کی الماری سے لیب ٹاپ بھی غائب تھا۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ وہ کب وہاں سے نکلے تو وہ ان پر حملہ آور ہوں۔ کیونکہ جانے کا وہی واحد راستہ تھا۔


شازمہ کس گھر مکمل ہو چکا تھا اور وہ اپنے گھر میں دانیال اور بچوں کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی گزار رہی تھی۔


باباجی کا داماد ان کے گھر کا چوکیدار بن گیا تھا اور شازمہ ان لوگوں کی بہت مدد امداد کرتی تھی جو آڑے وقت میں اس کے کام آئے تھے۔


وہ گھر اچھی قیمت پر بک گیا تھا۔ مجرموں کو سزا مل چکی تھی۔


شازمہ اب بھی کھبی وہ وقت سوچتی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔


ختم شد۔


پلیز اسے لائک، کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔ 


حسین خواب آنکھوں میں سجاتے سجاتے


تعبیر کے شوق میں وقت گزرتا چلا گیا۔


#abidazshireen #شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books