Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
شازمہ نے سوچا آج پڑوسن کو مل آئے اور ساتھ کھیر بنائی تھی وہ بھی دے آئے۔
چوکیدار بابا باہر کرسی ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے۔ بچے بھی باہر کرکٹ کھیلنے لگے۔
موسم اچھا لگ رہا تھا کھلی کھلی سی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔
چوکیدار بابا نے کہا، میں زرا عصر کی نماز پڑھ کر آتا ہوں۔
شازمہ نے کہا، اسامہ دیکھو آنٹی گھر پر ہیں ان کے گھر چلتے ہیں کھیر بھی دینی ہے۔ پہلے دیکھو وہ اندر موجود ہیں پھر کچن سے کھیر کا ڈونگا لے آنا۔
اسامہ نے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔
پھر جھری سے جھانک کر دیکھا اور بولا، ماما آنٹی اندر سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی ہیں اور انہوں نے مڑ کر دیکھا ہے۔
شازمہ نے پوچھا؟ ، کیا وہ بولی تھیں۔
اسامہ نے جواب دیا نو ماما صرف دیکھا تھا۔
شازمہ نے کہا، ہٹو میں دروازہ کھٹکھٹاتی ہوں۔
شازمہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ خود ہی کھل گیا۔ اور پڑوسن کرسی پر ادھر منہ کیے بیٹھی ہوئی تھی اس نے مڑ کر دیکھا تو شازمہ کو اس کے سپاٹ سے چہرے اور چمکتی آنکھوں سے خوف سا محسوس ہوا۔ اس نے بچوں سے کہا، چلو بچوں گھر سے کھیر لے کر آتے ہیں۔
اس نے بچوں کا ہاتھ پکڑا اور تقریباً دوڑتی ہوئی گھر کے قریب پہنچی تو سامنے باباجی کو دیکھ کر قدرے حوصلہ ملا۔
بابا جی نے پوچھا بیٹا کہاں گئی تھیں۔
شازمہ نے پھولے سانس پر قابو پاتے ہوئے کہا، وہ میں سامنے پڑوسن کے گھر جانا چاہتی تھی کہ کھیر دے آوں۔
باباجی بولے، وہ تو صبح صبح ساس کی فوتگی پر لاہور چلے گئے ہیں۔ گھر میں کوئی نہیں ہے۔
شازمہ اور بچے حیرت سے بابا جی کا منہ تکنے لگے۔
شازمہ نے بابا جی کو عورت والی ساری بات بتائی تو وہ بولے، چلو میں دیکھتا ہوں۔
وہ لوگ ڈرتے ڈرتے وہاں پہنچے تو دروازہ باہر سے لاک تھا ایک بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔
اسامہ نے اور شازمہ نے جھری سے دیکھا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔
شازمہ بچوں کو لے کر گھر کی طرف آ رہی تھی کہ اس نے دیکھا کہ گھر کے اندر ایک عورت جا رہی ہے۔
شازمہ نے اسامہ سے پوچھا، گھر کا دروازہ لاک نہیں کیا تھا کیا؟
اسامہ نے چابی دیکھاتے ہوئے کہا، ماما کیا تھا۔
شازمہ نے بابا جی سے پوچھا، کھیر اچھی لگی کیا۔؟
وہ بولے، بہت اچھی تھی مزے دار تھی۔
شازمہ نے سوچا، بھائی کو فون کر دے۔ باہر فون کے سگنل صیح آتے تھے۔
شازمہ نے سوچا روز روز ڈرنے سے بہتر ہے کہ بھائی کے گھر پنڈی چلی جائے۔ پھر بھابھی کا خیال آیا کہ بھابھی نے کھبی آنے یا ادھر رکنے کا نہیں بولا۔ بس چلے جاو تو وقتی اخلاق کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
بچے بھی نارمل رہتے ہیں۔
بھائی اصرار کرتے ہیں۔
اس نے بھائی کو فون کیا اور بتایا کہ بچے ادھر آنے کی ضد کر رہے ہیں۔
بھائی نے معزرت کرتے ہوئے کہاکہ وہ لوگ لاہور ایک شادی پر جارہے ہیں ایک ہفتہ رکیں گے اور وہاں گھومیں پھریں گے۔ تم سے آنے کے بعد رابطہ کریں گے پھر تم آ جانا۔
شازمہ نے سانس بھر کر کہا، اچھا اور فون بند کر دیا۔
اس کو اور بچوں کو بھی لاہور دیکھنے کا بہت شوق تھا اس بات کا زکر اس نے بھائی کے سامنے بھی کیا تھا۔ بھابھی کا میکہ لاہور میں ہی تھا مگر نہ ہی بھائی نے کوئی جواب دیا نہ ہی بھابھی کھبی بولیں کہ تم لاہور چلو۔
بھائی، بھابھی کی شادی ان کی پسند کی تھی اور بھائی بھابھی کی بہت مانتے تھے۔ یہ بات پورے خاندان میں مشہور تھی۔
شادی سے پہلے بھائی اس سے بہت پیار کرتے تھے بہت دوستی بھی تھی ان دونوں کے درمیان۔
دوست کی شادی پر شازمہ کے بھائی کو اس کی بھابھی پسند آ گئی اور بغیر کسی رکاوٹ کے شادی ہو گئی۔
بارات لاہور گئی۔ مگر شازمہ لاہور کے تاریخی مقامات نہ دیکھ سکی۔ اس نے دانیال کو بھی اپنی خواہش بتائ تھی مگر وہ مصروف بہت تھا اور اس نے بھی کہہ دیا تھا کہ ارے لاہور دیکھنا کیا مسئلہ ہے تمہاری بھابھی کا میکہ ادھر ہے۔ آرام سے جانا بھابھی کے ساتھ اور ساری جگہیں دیکھ لینا۔
اب وہ شوہر کو کیا بتاتی کہ بھابھی تو اس ٹاپک پر ہی نہیں آتی ہیں۔ نہ ہی بھائی نے لفٹ کرائی ہے۔
شازمہ دکھی دل کے ساتھ چائے بنا کر ٹی وی آن کر کے دیکھنے لگی۔ اس نے سوچا، چلو دانیال آئیں گے تو ان کے ساتھ عزت سے چلی جاوں گی اور ہوٹل میں رہ لیں گے کسی کا احسان بھی نہیں لیں گے۔
دانیال کی عادت تھی کہ وہ بہت مخلص انسان تھے ہر کسی کو عزت، مان دیتے تھے اور دوسروں سے بھی توقع بھی رکھتے تھے۔
اس نے سوچا اگر دانیال لاہور جانے کا زکر کریں گے تو وہ ٹال جائے گی اور زیادہ excitement نہیں دیکھاے گی۔
اس نے کپڑے باہر دھو کر سوکھنے ڈالے تھے سوچا مغرب سے پہلے کپڑے اتار لاے۔ وہ کپڑے اتار رہی تھی بچے بھی کھیلتے ہوئے پیچھے آ گئے۔ دیوار پر سامنے بلی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اس کے ساتھ لگ گئے۔
شازمہ نے کپڑے اتار کر کہا، میں کپڑے چھوڑ آوں۔
شازمہ جب کپڑے چھوڑ کر آئی تو بچے بولے، ماما یہ بلی تو اسٹیچو بنی بیٹھی ہوئی ہے۔ ہم اسے بھگا رہے ہیں مگر یہ تو ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
شازمہ نے بلی کی طرف دیکھا تو اسے اسکا چہرہ بہت خوفناک دکھائی دیا۔
ان کے سامنے بلی بڑی ہونا شروع ہو گئی۔
شازمہ نے بچوں کو دیکھا وہ ڈر کر رونے لگے۔
شازمہ نے گھبرا کر خوفزدہ لہجے میں کہا، رونا نہیں کلمہ طیبہ پڑھو اور بھاگو۔
تینوں بڑی مشکل سے گھر کے اندر داخل ہوئے۔
اور بچے ڈر کر بولے، ماما ہم نے ادھر نہیں رہنا۔
ماموں کے گھر چلتے ہیں۔
شازمہ بےبسی سے بولی، بیٹا ماموں لاہور جو چلے گئے ہیں ون ویک کے بعد آئیں گے۔
اسامہ نے کہا، کوئی بات نہیں ہم ان کے خالی گھر میں رہ لیں گے مگر ادھر نہیں رہیں گے۔
شازمہ نے کہا، بیٹا وہ گھر لاک کر کے گے ہیں۔
جانتے نہیں مامی گھر سے تھوڑی دیر کے لیے بھی باہر جاے تو اپنا روم لاک کر کے جاتی ہیں۔ میں رسک نہیں لے سکتی۔
اسامہ نے چڑتے ہوئے کہا، ماما چوکیدار تو گھر میں موجود ہے ناں، ہم چلتے ہیں ادھر۔
شازمہ نے سمجھایا، بیٹا وہ سارا گھر لاک کر کے گے ہیں۔ ایک ہفتہ صبر کرنا پڑے گا۔ پھر ہم دانیال کے آنے تک وہیں رہیں گے۔ بس ایک ویک گزار لو۔
رات کو سونے لیٹے تو دروازہ بجنا شروع ہوا۔
تینوں ڈر گئے۔
اندر سے شازمہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا کون ہے مگر کوئی جواب نہ ملا۔
شازمہ نے سوچا، باباجی ہوں گے، بہرے بھی ہیں۔ کیا پتا کیا چاہیے انہیں۔
دانیال نے بھی کیا بندہ لا کر دیا ہے جو مغرب کے وقت ہی سو جاتا ہے کہتا ہے بوڑھا ہوں رات کو نہیں جاگ سکتا۔
دانیال نے کہا تھا، جلدی میں اسی کا بندوبست ہو سکا ہے۔ تم اکیلی ہو، کسی جوان کو بھی نہیں رکھ سکتا ہوں۔
شازمہ نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا، مگر وہاں پر کوئی موجود نہ تھا۔
اس نے دروازہ بند کیا تو پھر بجنا شروع ہو گیا۔ شازمہ نے کہا، بچو چلو سو جاو۔ اس کی اب مزید ہمت نہ تھی دروازہ کھولنے کی۔
دروازہ مسلسل بجتا رہا۔
تنگ آ کر ہمت کر کے شازمہ نے دروازہ کھولا مگر سامنے کوئی موجود نہ تھا۔
وہ جلدی سے لاک لگا کر بچوں کو لے کر کمرے میں آ گی۔
اچانک کنڈی خود ہی کھل گئی مگر دروازہ بند رہا۔
تینوں کا خوف سے برا حال تھا۔ شازمہ مسلسل ورد کرتی رہی۔
سامنے دروازے کی طرف دیکھا تو ایک کالے لباس میں ملبوس ایک لمبا سا مرد کھڑا تھا۔
تینوں نے اپنے آپ کو کمبل میں چھپا لیا اور کانپتے ڈرتے لیٹ گئے۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر
زندگی جینے کو ملی تھی مگر
دنیا کے رویے نے شوق زندگی بھلا دیا۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen
#اف_وہ_لرزتے_لمحات
#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں
#abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.