Uff Woh Laraztay Lamhaat
Episodes
شازمہ تیزی سے نیند سے بھری آنکھوں سے لڑکھڑاتی بچوں کو آوازیں دیتی چھت کی طرف بھاگی تو دونوں چیخیں مارتے سیڑھیاں اترتے اس سے روتے ہوئے لپٹ گے۔
شازمہ انہیں اندر لے گئی اور پانی پلایا۔
دونوں بہت خوفزدہ تھے بات منہ سے نکل نہیں رہی تھی۔
شازمہ انہیں کمبل میں ساتھ لپٹا کر بیٹھ گئی اور تحمل سے حوصلہ دیتے ہوئے بولی، میرے بچے تو بہت brave ہیں پھر کیسے ڈر گئے۔
اسامہ نے بتایا کہ ہم دونوں جب چھت کی آخری سیڑھی پر پہنچے تو ہمیں چھت پر صرف سر اڑتے ہوئے نظر آے۔ یامین ڈر کر پھر ماں کے ساتھ لپٹنے لگی۔
اسامہ بولا، ماما واپس چلیں ہم اب ادھر نہیں رہیں گے۔
شازمہ نے کہا اچھا چلو رات ہونے سے پہلے پہلے پنڈی ماموں کے گھر چلے جاتے ہیں۔ بچے خوش ہو گئے۔
شازمہ نے دانیال کو جانے کا میسج کر دیا۔ وہ زیادہ تر میسج کرتی تھی کیونکہ دانیال بزی ہوتا تھا۔
شازمہ نے بھائی کو آنے کا فون کیا تو وہ خوشی سے بولا، اچھا ہے آج ہی آ جاو، بچوں کی خالائیں رات کی فلاہیٹ سے واپس لاہور جا رہی ہیں اور بچے اداس ہو رہے ہیں۔ تمہارے آنے سے خوش ہو جائیں گے۔
شازمہ نے حیرت سے پوچھا، لاہور کی فلاہیٹ۔؟
شازمہ کا بھائی زرا دھیمی آواز میں بولا، وہ میری سالیوں کو جہاز میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا تو تمہاری بھابھی کے کہنے پر انہیں جہاز میں بھیج رہا ہوں۔
شازمہ نے دل میں پریشان ہو کر سوچا، بھابھی اپنے میکے والوں کی محبت میں اندھی ہو کر دونوں ہاتھوں سے شوہر کی کمائی لٹا رہی ہے اور بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ ان لوگوں کو بھی خیال نہیں آتا دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ لالچی لوگ ہیں۔بھائ کو بھی عقل نہیں آتی۔
اسامہ نے کہا، ماما میں نے جو آپ نے لسٹ دی تھی وہ سب چیزوں ڈال کر بیگ ریڈی کر لیا ہے۔
شازمہ نے کہا، گڈ اب جاو بہن کی بھی ہیلپ کرو تاکہ جلدی سے نکلیں۔
شازمہ کو بھابھی کا خیال آ گیا کہ ان کا تو ہمیں دیکھتے ہی موڈ آف ہو جاے گا جبکہ بھائی سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہوں گی۔ بھابی نے بچوں کے مائنڈ بھی ہمارے خلاف بھر دیے ہیں۔ وہ نھنیال کے ہی گن گاتے ہیں۔
میں جب دوبئی سے آتی تھی تو بہت خوشی کا اظہار کرتی تھیں بھتیجی اور بھتیجے فرمائشیں کرتے اور وہ پوری کرتی۔
اب جبکہ وہ یہاں شفٹ ہو گئ ہے تو گفٹس بھی آنے بند ہو گئے ہیں تو ان کے رویے بھی بدل چکے ہیں۔
بھائی کے سامنے بھابھی پیار جتاتی ہیں ان کے سامنے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں مگر پیچھے سے پوچھتی تک نہیں ہیں۔ ہر وقت نگرانی کرتی ہیں۔ بھائی سے اکیلے پاس بیٹھنے نہیں دیتی ہیں۔
کچن میں بچوں کے لیے کچھ بنانے جائے تو پوری انکوائری کرتی ہیں اور خوفناک نظروں سے دیکھتی ہیں۔
شازمہ سارے راستے یہ سب باتیں سوچتی رہی۔
جب وہ وہاں پہنچی تو مغرب ہو چکی تھی۔
رات آٹھ بجے بھابھی کی بہنوں کی فلاہیٹ تھی۔
بھائی بہت خوش ہوا۔ بھابھی اور بچوں کی شکلیں بن گئ تھی۔
بھابھی نے بھائی کے سامنے بہت خلوص دیکھایا۔
شازمہ نے سنا، بھابھی اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھیں شاید وہ جانتی تھی کہ وہ سن رہی ہے وہ کہہ رہی تھی کہ میری نند نے تمہاری خالاوں کے سامنے میری ناک کٹوا دی، یہ نہ ہوا کہ ان کو کچھ گفٹ دے دیتی، پہلی بار گئی تھیں۔
شازمہ نے دیکھا بھائی باہر سے آ رہا تھا۔
شازمہ نے کمرے میں آ کر اپنے سامان سے کچھ باہر کے گفٹ دوبئی سے جو لاتی تھی وہ نکالے اور بھابھی کی بہنوں کو دیے کہ جلدی میں اسے یاد نہ رہی اور آپ لوگ نکل گئے۔
بھابھی کی بہنیں تو خوشی سے پاگل ہو گئیں۔ بھابھی نے دھیمی مکارانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر کہا، اس کی کیا ضرورت تھی۔
بہنوں نے بہت شکریے ادا کیے۔ اسے دیکھ کر جو انکا منہ بن گیا تھا فوراً بہتر ہو گیا۔
شازمہ سے شادی سے پہلے بھائی کے بچے بہت پیار کرتے تھے کیونکہ وہ ان پر جان چھڑکتی تھی۔اس کی شادی کے بعد جب دانیال کے والد نے جب آبائ گھر کا بٹوارہ کیا تو بھابھی نے باتیں بنائی کہ ان کی دوبئی کی کمائی ہے تو وہ اپنا حصہ کیوں چھوڑ رہے ہیں۔
دانیال کے والد نے شازمہ کے باپ کو اس کی قیمت لگوا کر ان سے خرید لیا۔
شازمہ کی شادی ہو چکی تھی بھابھی کو غصہ تھا کہ شازمہ بھی میکے والوں کی فیور میں ان سے سارا حصہ دلوا سکتی تھی۔
بھابھی نے اس سلسلے میں شازمہ سے بات بھی کی تھی اور اسے سسرال کو اس بارے میں بات کرنے کا بھی کہا تھا۔
شازمہ نے بھابھی کو آرام سے بول دیا تھا کہ وہ کچھ غلط نہیں کر رہے ہیں۔ اپنا حق لے رہے اور بھائی کا حصہ اسے دے رہے ہیں۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا اور نہ ہی مناسب لگتا ہے کہ میں انہیں اس بارے میں کچھ کہوں اور وہ سمجھیں کہ میں میکے والوں کا لالچ کر رہی ہوں۔ وہ سب میرے ساتھ اتنے اچھے ہیں کہ میں یہ بات کہہ کر اپنا امپریشن خراب نہیں کر سکتی۔
بھابھی غصے سے کھولتے ہوئے بولی، تمہیں اپنے امپریشن کی پڑی ہے میکے والوں کے نقصان کی زرا بھی پروا نہیں،ویسے تو تم ان سے بڑا پیار جتاتی ہو۔ بچوں کا بھی کوئی خیال نہیں۔ خود تو عیش کر رہی ہو۔ ہمارے بچوں کا کوئی خیال نہیں ہے۔
شازمہ کچھ بولنے لگی تو وہ منہ بنا کر پیر پٹختی ہوئی باہر چلی گئی۔
کافی دن اس سے منہ بنائے رکھا۔ شوہر کے سامنے ٹھیک رہتی۔
بچوں کو بھی شازمہ کے خلاف بھر دیا۔ وہ بھی اس سے نفرت کرنے لگے۔
جب رفتہ رفتہ شازمہ نے انہیں تحفے دینے اور ان کی فرمائشیں پوری کرنی شروع کی تو وہ بظاہر کچھ بہتر ہو گئے۔
ببھائی نے جب شازمہ کو اس کی سالیوں کو تحفے دیتے دیکھا تو اکیلے جا کر ہلکی آواز میں کہا کہ تمہیں اتنا کچھ دینے کی کیا ضرورت تھی۔ کھانے کا بھی اتنا اہتمام کیا تھا پھر میں جو اتنا کچھ کر رہا ہوں۔
شازمہ نے سانس بھر کر کہا، کوئی بات نہیں بھائی۔
دانیال کا فون آیا اور بولا، کب تک رکنا ہے۔
شازمہ نے کہا، جب تک بچوں کا موڈ ہوا۔
وہ تو پکی رہنے آئی تھی مگر بھابھی نے اس کا ڈھیروں سامان دیکھ کر جتایا کہ ایک ہفتے کے لیے اتنا سامان۔
شازمہ سمجھ گئی کہ بھابھی اسے ہفتے سے زیادہ برداشت نہیں کریں گی۔
شازمہ بھائی کے ساتھ اپنے تعمیر ہوتے گھر کو دیکھنے گئی۔
ان کی مدد امداد کی۔ ان کے کھانے کا ڈیلی ہوٹل سے بندوبست کر دیا۔ وہ لوگ بہت خوش ہوے۔ اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کام کی رفتار تیز کر دیں گے اور اچھا کام کریں گے۔
اس بات سے شازمہ بہت خوش ہوئی اور وہاں کے دو تین لوگوں کا نمبر بھی لے لیا۔
بھابھی کی بہنیں بہت خوش تھیں کہ وہ جہاز میں پہلی بار سفر کریں گی۔
جب وہ لوگ ائیر پورٹ پہنچے تو ابھی فلائٹ کے جانے میں تھوڑا وقت تھا وہ شوق میں جلدی آ گئ تھیں۔
شازمہ کی بھتیجی کا سیڑھیوں سے پاوں پھسلا، وہ ہیل والی جوتی شوق سے پہنے وہ بری طرح گر کر زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئی۔
بھابھی تڑپ کر رونے لگی کیونکہ اسکا خون بہت بہہ رہا تھا۔
شازمہ جلدی سے اسامہ کو سمجھا کر گھر چھوڑا اور اسے اور بھابھی کو لیکر گاڑی میں ڈال کر لے کر تیزی سے ڈرائیو کرتی ہاسپٹل پہنچی۔
وہاں پہنچ کر ڈاکٹر نے بتایا کہ خون کافی بہہ گیا ہے اور حالت کافی سیریس ہے۔ فوراً آپریشن کرنا پڑے گا۔
شازمہ نے فوراً بل کی ادائیگی کی۔
ڈاکٹر نے کہا، o نیگیٹو خون کی اشد ضرورت ہے جلدی سے ارینج کریں ورنہ جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
بھابھی پر تو رو رو کر غشی طاری تھی۔
شازمہ ساتھ ساتھ اسے بھی سنبھال رہی تھی۔ دونوں کو شازمہ کے بھائی کو فون کرنے کی ہوش نہ رہی۔
شازمہ نے ڈاکٹر سے کہاکہ اسکا خون لے لیں۔
بھابھی شازمہ کے خلوص کو دیکھ کر دل میں شرمندہ اور حیران ہو رہی تھی اس نے تو بچوں کے دل میں ڈالا تھا کہ پھوپھو ان سے زرا بھی پیار نہیں کرتی۔
کرتی ہیں تو اس کی دونوں خالائیں اور ماموں وغیرہ۔
شازمہ کا خون میچ نہ ہوا۔
اتنے میں شازمہ کے بھائی کا فون آ گیا کہ اسے اسامہ نے فون کر دیا تھا اسی وقت اور اب وہ پہنچنے والا ہے۔
بھابھی کو یاد آیا کہ اس کی ایک کیا دونوں بہنوں کا خون میچ کرتا ہے۔
اس نے پر امید ہو کر شوہر سے کہا کہ وہ میری بہنوں کو جلدی لائیں ان کا خون میچ کر رہا ہے اور ہاسپٹل میں بھی نہیں ہے۔
شازمہ کے بھائی نے کہا وہ تو جا چکی ہیں۔
شازمہ کی بھابھی نے کہا، کیا آپ نے ان کو بتایا نہیں تھا
اس نے جو جواب دیا اسے سنکر بھابھی دنگ رہ گئی
جاری ہے۔
پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔
شعر۔
اپنوں کی زہریلی محبت کے عوض دل دکھ کا خزانہ پاتا ہے
دشمن کی دشمنی ہی بھلی جو للکار کر سامنے آتا ہے۔
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen
#اف_وہ_لرزتے_لمحات
#رائٹر_عابدہ_زی_شیریں
#abidazshireen

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.