Logo
Uff Woh Laraztay Lamhaat
10 Episodes
Uff Woh Laraztay Lamhaat EP 7
Episode 7

اف وہ لرزتے لمحات 7

Uff Woh Laraztay Lamhaat


ساتواں حصہ - Part 7

 

شازمہ تیزی سے نیند سے بھری آنکھوں سے لڑکھڑاتی بچوں کو آوازیں دیتی چھت کی طرف بھاگی تو دونوں چیخیں مارتے سیڑھیاں اترتے اس سے روتے ہوئے لپٹ گئے۔

شازمہ انہیں اندر لے گئی اور پانی پلایا۔ دونوں بہت خوفزدہ تھے بات منہ سے نکل نہیں رہی تھی۔ شازمہ انہیں کمبل میں ساتھ لپٹا کر بیٹھ گئی اور تحمل سے حوصلہ دیتے ہوئے بولی، 

"میرے بچے تو بہت brave ہیں پھر کیسے ڈر گئے۔"

اسامہ نے بتایا 

"ہم دونوں جب چھت کی آخری سیڑھی پر پہنچے تو ہمیں چھت پر صرف سر اڑتے ہوئے نظر آئے۔" 

یامین ڈر کر پھر ماں کے ساتھ لپٹنے لگی۔ اسامہ بولا، 

"ماما واپس چلیں ہم اب ادھر نہیں رہیں گے۔"

شازمہ نے کہا 

"اچھا چلو رات ہونے سے پہلے پہلے پنڈی ماموں کے گھر چلے جاتے ہیں۔ بچے خوش ہو گئے۔"

شازمہ نے دانیال کو جانے کا میسج کر دیا۔ وہ زیادہ تر میسج کرتی تھی کیونکہ دانیال بزی ہوتا تھا۔

شازمہ نے بھائی کو آنے کا فون کیا تو وہ خوشی سے بولا، 

"اچھا ہے آج ہی آ جاؤ، بچوں کی خالائیں رات کی فلائیٹ سے واپس لاہور جا رہی ہیں اور بچے اداس ہو رہے ہیں۔ تمہارے آنے سے خوش ہو جائیں گے۔"

شازمہ نے حیرت سے پوچھا، 

"لاہور کی فلائیٹ؟"

شازمہ کا بھائی زرا دھیمی آواز میں بولا، 

"وہ میری سالیوں کو جہاز میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا تو تمہاری بھابھی کے کہنے پر انہیں جہاز میں بھیج رہا ہوں۔"

شازمہ نے دل میں پریشان ہو کر سوچا، بھابھی اپنے میکے والوں کی محبت میں اندھی ہو کر دونوں ہاتھوں سے شوہر کی کمائی لٹا رہی ہے اور بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ ان لوگوں کو بھی خیال نہیں آتا، دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ لالچی لوگ ہیں۔ بھائی کو بھی عقل نہیں آتی۔

اسامہ نے کہا، 

"ماما میں نے جو آپ نے لسٹ دی تھی وہ سب چیزوں ڈال کر بیگ ریڈی کر لیا ہے۔"

شازمہ نے کہا، 

"گڈ اب جاؤ بہن کی بھی ہیلپ کرو تاکہ جلدی سے نکلیں۔"

شازمہ کو بھابھی کا خیال آ گیا کہ ان کا تو ہمیں دیکھتے ہی موڈ آف ہو جائے گا جبکہ بھائی سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہوں گی۔ بھابی نے بچوں کے مائنڈ بھی ہمارے خلاف بھر دیے ہیں۔ وہ نھنیال کے ہی گن گاتے ہیں۔

میں جب دوبئی سے آتی تھی تو بہت خوشی کا اظہار کرتی تھیں، بھتیجی اور بھتیجے فرمائشیں کرتے اور وہ پوری کرتی۔

اب جبکہ وہ یہاں شفٹ ہو گئی ہے تو گفٹس بھی آنے بند ہو گئے ہیں تو ان کے رویے بھی بدل چکے ہیں۔

بھائی کے سامنے بھابھی پیار جتاتی ہیں ان کے سامنے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں مگر پیچھے سے پوچھتی تک نہیں ہیں۔ ہر وقت نگرانی کرتی ہیں۔ بھائی سے اکیلے پاس بیٹھنے نہیں دیتی ہیں۔

کچن میں بچوں کے لیے کچھ بنانے جائے تو پوری انکوائری کرتی ہیں اور خوفناک نظروں سے دیکھتی ہیں۔

شازمہ سارے راستے یہ سب باتیں سوچتی رہی۔

جب وہ وہاں پہنچی تو مغرب ہو چکی تھی۔ رات آٹھ بجے بھابھی کی بہنوں کی فلائیٹ تھی۔

بھائی بہت خوش ہوا۔ بھابھی اور بچوں کی شکلیں بن گئی تھی۔ بھابھی نے بھائی کے سامنے بہت خلوص دیکھایا۔ شازمہ نے سنا، بھابھی اپنی بیٹی کو کہہ رہی تھیں شاید وہ جانتی تھی کہ وہ سن رہی ہے وہ کہہ رہی تھی کہ میری نند نے تمہاری خالاؤں کے سامنے میری ناک کٹوا دی، یہ نہ ہوا کہ ان کو کچھ گفٹ دے دیتی، پہلی بار گئی تھیں۔

شازمہ نے دیکھا بھائی باہر سے آ رہا تھا۔

شازمہ نے کمرے میں آ کر اپنے سامان سے کچھ باہر کے گفٹ دوبئی سے جو لاتی تھی وہ نکالے اور بھابھی کی بہنوں کو دیے کہ جلدی میں اسے یاد نہ رہی اور آپ لوگ نکل گئے۔

بھابھی کی بہنیں تو خوشی سے پاگل ہو گئیں۔ بھابھی نے دھیمی  مکارانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر کہا، اس کی کیا ضرورت تھی۔

بہنوں نے بہت شکریے ادا کیے۔ اسے دیکھ کر جو انکا منہ بن گیا تھا فوراً بہتر ہو گیا۔

شازمہ سے شادی سے پہلے بھائی کے بچے بہت پیار کرتے تھے کیونکہ وہ ان پر جان چھڑکتی تھی۔ اس کی شادی کے بعد جب دانیال کے والد نے جب آبائی گھر کا بٹوارہ کیا تو بھابھی نے باتیں بنائی کہ ان کی دوبئی کی کمائی ہے تو وہ اپنا حصہ کیوں چھوڑ رہے ہیں۔

دانیال کے والد نے شازمہ کے باپ کو اس کی قیمت لگوا کر ان سے خرید لیا۔ شازمہ کی شادی ہو چکی تھی بھابھی کو غصہ تھا کہ شازمہ بھی میکے والوں کی فیور میں ان سے سارا حصہ دلوا سکتی تھی۔

بھابھی نے اس سلسلے میں شازمہ سے بات بھی کی تھی اور اسے سسرال کو اس بارے میں بات کرنے کا بھی کہا تھا۔

شازمہ نے بھابھی کو آرام سے بول دیا تھا کہ وہ کچھ غلط نہیں کر رہے ہیں۔ اپنا حق لے رہے اور بھائی کا حصہ اسے دے رہے ہیں۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا اور نہ ہی مناسب لگتا ہے کہ میں انہیں اس بارے میں کچھ کہوں اور وہ سمجھیں کہ میں میکے والوں کا لالچ کر رہی ہوں۔ وہ سب میرے ساتھ اتنے اچھے ہیں کہ میں یہ بات کہہ کر اپنا امپریشن خراب نہیں کر سکتی۔

بھابھی غصے سے کھولتے ہوئے بولی، 

"تمہیں اپنے امپریشن کی پڑی ہے میکے والوں کے نقصان کی زرا بھی پروا نہیں، ویسے تو تم ان سے بڑا پیار جتاتی ہو۔ بچوں کا بھی کوئی خیال نہیں۔ خود تو عیش کر رہی ہو۔ ہمارے بچوں کا کوئی خیال نہیں ہے۔"

شازمہ کچھ بولنے لگی تو وہ منہ بنا کر پیر پٹختی ہوئی باہر چلی گئی۔ کافی دن اس سے منہ بنائے رکھا۔ شوہر کے سامنے ٹھیک رہتی۔ بچوں کو بھی شازمہ کے خلاف بھر دیا۔ وہ بھی اس سے نفرت کرنے لگے۔

جب رفتہ رفتہ شازمہ نے انہیں تحفے دینے اور ان کی فرمائشیں پوری کرنی شروع کی تو وہ بظاہر کچھ بہتر ہو گئے۔

بھائی نے جب شازمہ کو اس کی سالیوں کو تحفے دیتے دیکھا تو اکیلے جا کر ہلکی آواز میں کہا 

"تمہیں اتنا کچھ دینے کی کیا ضرورت تھی۔ کھانے کا بھی اتنا اہتمام کیا تھا پھر میں جو اتنا کچھ کر رہا ہوں۔"

شازمہ نے سانس بھر کر کہا، 

"کوئی بات نہیں بھائی۔"

دانیال کا فون آیا اور بولا، 

"کب تک رکنا ہے۔"

شازمہ نے کہا، 

"جب تک بچوں کا موڈ ہوا۔"

وہ تو پکی رہنے آئی تھی مگر بھابھی نے اس کا ڈھیروں سامان دیکھ کر جتایا کہ ایک ہفتے کے لیے اتنا سامان۔ شازمہ سمجھ گئی کہ بھابھی اسے ہفتے سے زیادہ برداشت نہیں کریں گی۔

شازمہ بھائی کے ساتھ اپنے تعمیر ہوتے گھر کو دیکھنے گئی۔ ان کی مدد امداد کی۔ ان کے کھانے کا ڈیلی ہوٹل سے بندوبست کر دیا۔ وہ مزدور لوگ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کام کی رفتار تیز کر دیں گے اور اچھا کام کریں گے۔ اس بات سے شازمہ بہت خوش ہوئی اور وہاں کے دو تین لوگوں کا نمبر بھی لے لیا۔ 

بھابھی کی بہنیں بہت خوش تھیں کہ وہ جہاز میں پہلی بار سفر کریں گی۔ جب وہ لوگ ائیر پورٹ پہنچے تو ابھی فلائیٹ کے جانے میں کافی وقت تھا، وہ شوق میں جلدی آ گئی تھیں۔

شازمہ کی بھتیجی کا سیڑھیوں سے پاوں پھسلا، وہ ہیل والی جوتی شوق سے پہنے وہ بری طرح گر کر زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئی۔ بھابھی تڑپ کر رونے لگی کیونکہ اسکا خون بہت بہہ رہا تھا۔ شازمہ جلدی سے اسامہ کو سمجھا کر گھر چھوڑا اور اسے اور بھابھی کو لیکر گاڑی میں ڈال کر لے کر تیزی سے ڈرائیو کرتی ہاسپٹل پہنچی۔

وہاں پہنچ کر ڈاکٹر نے بتایا 

"خون کافی بہہ گیا ہے اور حالت کافی سیریس ہے۔ فوراً آپریشن کرنا پڑے گا۔"

شازمہ نے فوراً بل کی ادائیگی کی۔

ڈاکٹر نے کہا، 

"o نیگیٹو خون کی اشد ضرورت ہے جلدی سے ارینج کریں ورنہ جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔"

بھابھی پر تو رو رو کر غشی طاری تھی۔ شازمہ ساتھ ساتھ اسے بھی سنبھال رہی تھی۔ دونوں کو شازمہ کے بھائی کو فون کرنے کی ہوش نہ رہی۔ شازمہ نے ڈاکٹر سے کہا 

"میرا خون لے لیں۔"

بھابھی شازمہ کے خلوص کو دیکھ کر دل میں شرمندہ اور حیران ہو رہی تھی اس نے تو بچوں کے دل میں ڈالا تھا کہ پھوپھو ان سے زرا بھی پیار نہیں کرتی ہیں تو اس کی دونوں خالائیں اور ماموں وغیرہ۔

شازمہ کا خون میچ نہ ہوا۔ اتنے میں شازمہ کے بھائی کا فون آ گیا کہ اسے اسامہ نے فون کر دیا تھا اسی وقت اور اب وہ پہنچنے والا ہے۔

بھابھی کو یاد آیا کہ اس کی ایک کیا دونوں بہنوں کا خون میچ کرتا ہے۔ اس نے پر امید ہو کر شوہر سے کہا کہ وہ میری بہنوں کو جلدی لائیں ان کا خون میچ کر رہا ہے اور ہاسپٹل میں بھی نہیں ہے۔

شازمہ کے بھائی نے کہا 

"وہ تو جا چکی ہیں۔"

شازمہ کی بھابھی نے کہا، 

"کیا آپ نے ان کو بتایا نہیں تھا"

اس نے جو جواب دیا اسے سنکر بھابھی دنگ رہ گئی


جاری ہے۔

پلیز اسے لائک ،کمنٹ اور فرینڈز کو بھی شئیر کریں شکریہ۔

شعر۔

اپنوں کی زہریلی محبت کے عوض دل دکھ کا خزانہ پاتا ہے

دشمن کی دشمنی ہی بھلی جو للکار کر سامنے آتا ہے۔

#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں #abidazshireen


Continue Reading
Episode 8
اف وہ لرزتے لمحات 8

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry