قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے 2
Episode 2
عمل گھر آتی تو چوکیدار جو ینگ تھا اس پر طنز کے تیر چلاتا رہتا اور وہ ہمیشہ کی طرح اس کو غصے سے دیکھ کر خاموش ہو جاتی، اس کی ماں اسے کہتی نہ تنگ کیا کر اسے،
عمل کو دادی نے گھر لاک کر کے حکم دے دیا تھا کہ اب وہ سرونٹ کوارٹر میں رہے گی بمشکل اسٹور کی چابی دی جس میں اس کی الماری تھی اور وہیں اس نے ایک کونے میں دری بچھا کر بیڈ لگا لیا تھا اسے چوکیدار سے خوف رہتا تھا جو اسے ہر وقت اپنی منگیتر بتاتا رہتا تھا اور وہ کھبی بے بس ہو کر کھری کھری اسے سنا دیتی مگر وہ ڈھیٹ بن کر کہتا کوئی بات نہیں ایک دن تم نے میرے ہی پنجرے میں قید ہونا ہے،
عمل تقریباً تین سال کی تھی جب وہ گاوں سے اس گھر اپنے انکل آنٹی اور چوکیدار کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی، بہت پیاری سی بچی تھی،
ملک اقبال صاحب کامیاب بزنس مین تھے، اکلوتی اولاد تھے، ماں کے فرمانبردار تھے، دو بیٹے تھے ایک بیٹی پیدا ہوتے ہی فوت ہو چکی تھی، اچھے رحمدل انسان تھے، غریبوں کے ہمدرد تھے، ملازموں سے اچھا برتاو کرتے تھے، تبھی ترس کھا کر عمل کو ایم بی اے کروا دیا تھا ماں کی مخالفت کے باوجود،
مسز اقبال اکڑو ٹائپ تھی ملازموں کو فالتع لفٹ نہیں دیتی تھی اگر مدد بھی کرتی تو فاصلے میں رہتی، کسی کو فری نہ ہونے دیتی، عمل سے بھی کام کی بات کرتی، مگر غریبوں کی مدد کرنے سے نہ روکتی، اس کی خاموشی میں بھی ایک رعب تھا، کسی ملازم کو بلاوجہ نہ ڈانٹتی، نہ ہی زلیل کرتی، اسکا بڑا بیٹا بہت رحمدل تھا، وہ عمل کو کہتا تم بچپن سے ہمارے ساتھ پلی بڑھی ہو اس لیے تم ہمیں اپنی فیملی سمجھو، تمھارے والدین حیات نہیں ہیں تو ان کو ماں باپ پکارو، مجھے بڑے بھیا کہو، چھوٹے کو چھوٹے بھیا، دادی کو دادی پکارو،
بڑا پوتا دادی کا بھی چہیتا تھا اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی دادی اس کی بات ماننے پر مجبور تھی، عمل بلاوجہ دادی نہ پکارتی کیونکہ دادی اسے دادی پکارنے پر کئی مرتبہ طنز کا نشانہ بنا کر مزاق اڑا دیتی جب کوئی نہ ہوتا، یونیورسٹی سے آ کر اسے سارا وقت دادی کی خدمت اور طنزیہ جملوں کی بوچھاڑ میں گزارنا پڑتا، مگر وہ احساس طبیعت کی مالکن تھی بچپن سے سب کے رویے سہتے سہتے خود بھی اکڑو ہو گئی تھی، کالج، یونیورسٹی میں کھبی کوئی دوست نہ بناتی، دادی کی بھی وارننگ تھی کہ تم وہاں دوستیاں نہ لگاتی پھرنا، نہ ہی کسی کو یہ گھر اپنا بتانا، اپنی اوقات نہ بھولنا، تم یہاں کی فیملی فرد نہیں ہو بلکہ ملازمہ ہو، میرے بچوں کی رحمدلی کا ناجائز فائدہ مت اٹھانا،
عمل اپنی حیثیت سے واقف تھی سوچتی دادی ٹھیک ہی تو کہتی ہے سچائی تو یہی ہے کہ وہ اس گھر کی ملازمہ ہے، یونیورسٹی میں وہ مغرور مشہور تھی اب کسی کو کیا پتا کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہے،اسکا دنیا میں کوئی دوست کوئی غمگسار نہ تھا اسے کھبی غصہ بھی آتا کہ کاش وہ بھی اس گھر کی بیٹی ہوتی، اگر قسمت میں ادھر رہنا لکھا تھا تو بیٹی کی حیثیت سے رہتی،
اسے بننے سنورنے کا بہت شوق تھا، مسز ملک بہت فیشن ایبل تھی وہ اسے پارلر ساتھ لے جاتی اور اس کے بھی سارے فیشن کروا دیتی، شروع شروع میں وہ شوق سے اس کے ہیر کٹس کرواتی پھر ضرورت بن گئی اور اس کی دیکھا دیکھی عمل بھی کرنے لگی،
مسز ملک اس کی اسی بات سے خوش ہوتی جب وہ اس کے فیشن ایبل کپڑے لا کر دیتی اور وہ بھی اسے خوش کرنے کے لیے پہن لیتی، مسز ملک بس مسکرا کر ایک نظر دیکھ کر ہلکہ سا کہتی پہن لیا گڈ،
عمل ان کے خوش ہو کر دیکھنے پر خوش ہو جاتی، جتنا وہ فیشن کرتی وہ خوش ہوتیں، انہیں چادر وغیرہ پسند نہ تھی، عمل کو بھی اب اس لباس کی عادت ہو چکی تھی، دادی نے اس کے فیشن پر شروع میں طنز کیا تو بیٹے نے سرزش کی کہ جوان ہے شوق ہے پورا کرنے دیں، ساتھ میں بہو نے بھی دادی کو ٹوکا کہ وہ اپنی بیٹی کے شوق اس پر پورے کرتی ہے، تب دادی کی دوبارہ جرات نہ ہو سکی، جانتی تھی بہو کو بیٹی کا شدت سے شوق تھا وہ دعائیں کرتی تھی کہ بیٹی پیدا ہو مگر وہ مر گئی جس کی وجہ سے وہ اکثر اسے یاد کرتی، مگر چونکہ عمل ایک ملازمہ تھی تو اس کی وجہ سے وہ اسے بیٹی کا درجہ نہ دے پاتی نہ ہی اسے ماما پکارنے پر روکتی نہ ہی بیٹی پکارتی بلکہ رعب سے سنو یا نام لے کر پکارتی،
دادی بھی بھرتی رہتی ایک ملازمہ کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ وہ میری شہزادی پوتی کی جگہ لے سکے،
یہ باتیں سنکر مسز اقبال کے دل میں عمل کی حیثیت آ جاتی اور وہ اسے ملازمہ ہی سمجھتی، مگر اس کے دینے دلانے پر اپنی فیملی کو نہ روکتی ٹوکتی،
عمل بھی انکی مہربانیوں کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاتی کھبی کسی سے کچھ نہ مانگتی، حالانکہ بڑے بھیا اسے سگی بہن کی طرح اہمیت دیتے سب کو اپنی بہن بتاتے، وہ اکثر اسے کہتے رہتے کہ بلاجھجک کسی چیز کی ضرورت ہو تو مانگ لیا کرو، وہ خود ہی اس کی ضروریات کا خیال رکھتے اور اس کی ضرورت کی چیزیں لاتے رہتے،
عمل کسی چیز کی ضرورت ہوتی بھی تو نہ مانگتی، بڑے بھیا نے اسکا بینک اکاؤنٹ کھلوانا چاہا تو دادی نے قیامت مچا دی کھانا پینا چھوڑ دیا اموشنل بلیک میل کیا کہ کل تم لوگ جاہیداد میں سے بھی اسے حصہ دینے بیٹھ جاو گے، تب گھر والے بے بس ہو گئے، بڑے بھیا کو باپ نے کہا بیٹاجتنے ہو سکے اسے نقد دادی سے چوری دے دیا کرو، تب سے وہ اکثر اسے بلا کر دیتے اور وہ بمشکل لیتی کہ ضرورت نہیں ہیں مگر وہ نہ مانتے،
عمل نے نوٹ کیا کہ دادی اٹھتے بیٹھتے استغفار کرتی رہتی، عمل نے دادی کی غیر موجودگی میں نوکری شروع کر دی تھی، احسن اسے باقاعدگی سے پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا اس سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتا مگر وہ فاصلے میں رہتی اس کی ہزاروں کوشش کے باوجود وہ اسے اپنے ساتھ فری نہ کر سکا،
ایک دن غصے میں احسن نے اسے اپنی آپ بیتی سنا ڈالی کہ وہ امیر والدین کا بیٹا ہے، اس کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا تھا جس کی وجہ سے وہ غربت میں درزن کے گھر رہا، مگر ساری باتیں سنکر بھی اس نے فقط اتنا کہا کہ چاہے تم امیر ہو یا غریب میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، امیر لڑکے شغل میں بھی جوان لڑکیوں کی اس طرح کی ڈیوٹیاں دینا پسند کرتے ہیں،
احسن غصے سے خاموش ہو گیا کوئی صفائی پیش نہ کی، تھوڑی دیر کے بعد اتنا بولا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے جب تم راضی ہوئی تو ایک کارڈ زبردستی اسکو پکڑاتے ہوئے بولا بتا دینا اس نمبر پر اس وقت میں تمھارے گھر رشتہ بھیجوں گا، ویسے بھی میں نے گھر والوں سے بات کر لی ہے اور انہیں تمھارے بارے میں سب بتا دیا ہے کہ کہاں رہتی ہو کس کی بیٹی ہو، وہ کافی خوش تھے بس تمھاری ہاں کی دیر ہے،
عمل نے بے اختیار کارڈ پکڑ لیا اور دکھ سے اسے دیکھا اسے یہ سنکر خوشی نہ ملی کہ وہ امیر ہے، کیونکہ وہ بھی اسے پسند کرتی تھی اور اب اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ اسے قبول کر لے گی اور اس کے ساتھ درزن کے گھر گزارا کر لے گی، ایک وہی تو اسے اپنا لگتا تھا اس کے ساتھ اسے تحفظ کا احساس ہوتا تھا، وہ کھبی بھی اس کے ساتھ آتے جاتے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے کی کوشش کرتا تھا صرف اس کی کئیر کرتا تھا گرمی میں اس کے اور اپنے لیے جوس لیتا اور زبردستی پکڑاتا تھا،
احسن کے والدین امریکہ سے پاکستان سیٹل ہونا چاہتے تھے، احسن سے بڑا ایک بھائی اور ایک بہن تھی، دونوں شادی شدہ تھے، بڑے بھائی کی اولاد نہ تھی، اس کی بیوی ڈاکٹر تھی اور بانجھ تھی اس نے شوہر کو اجازت دے دی تھی کہ وہ اولاد کے لیے دوسری شادی کر لے، وہ لوگ پاکستان سیٹل ہو کر دونوں بیٹوں کی شادیاں کرنا چاہتے تھے، احسن کے تایا پاکستان میں رہتے تھے اور انکا ایک ہی بیٹا تھا جو ایک بیٹے کا باپ تھا یہاں پر وہ کامیاب بزنس چلاتے تھے، باپ بیٹا دونوں آفس آتے، اسی نے عمل کو ٹیلنٹ کی بنیاد پر نوکری دی تھی اور بعد میں احسن نے بتایا تھا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے، وہ بھی اس کی پسند کو سراہنے لگا اور احسن کے کہنے پر اسے خود چھوڑنے اور لے جانے لگا تھا،
احسن پڑھائی سے فری ہو چکا تھا اور پاکستان پہلے جا کر پاکستان کے شہر مری کو انجوائے کرنا چاہتا تھا، وہ لوگ پاکستان جب بھی آتے مری کی سیر کو ضرور جاتے، اس نے گھر والوں کو کہا کہ تایا کی فیملی کو نہ بتایا جائے میں جا کر سر پراہز دوں گا، اور اسے کالیں کر کے ڈسٹرب نہ کیا جائے،
احسن ہوٹل پہنچا تو درزن کا بیٹا ملا اس نے اسے کمرہ لینے میں گاہیڈ کیا کیونکہ وہ خود اس ہوٹل میں ملازم تھا، چند دن میں وہ درزن کے بیٹے سے خوش ہو گیا اور اس کو بھاری ٹپ دی جو اس نے بمشکل لی کہ سر آپ ادھر پردیسی ہیں اور پیسے کے بغیر ادھر گزارہ نہیں،
احسن اس درزن کے بیٹے کی غیرت مندی سے بہت متاثر ہوا کہ اس نے اس کی بے تکلفی سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اس کا بھلا سوچتا تھا، فارغ اوقات میں اس کے ساتھ بھی سیر کو جاتا تھا اور کئی بار اس نے بھی کھانے کی اشیاء وغیرہ خریدی، احسن نے پیسے دینے چاہے مگر وہ نہ لیتا تو احسن سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ غریب لوگوں کے دل بھی اپنی جیب سے بڑے ہوتے ہیں،
احسن صبح صبح واک پر نکلا بٹوا اور موبائل جیب میں ڈالا ایک جگہ قدرے ویران تھی ایک شخص چادر لپیٹے تیزی سے آیا اور چاقو دیکھا کر جلدی سے بٹوا اور موبائل چھین کر لے گیا احسن اس اچانک حملے سے بوکھلا گیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا، تھوڑا پیچھے گیا مگر وہ غائب ہو چکا تھا، احسن مایوس ہوٹل چل پڑا، بہت پریشان تھا اس نے درزن کے بیٹے کو سب احوال بتایا،
درزن کا بیٹا بہت پریشان ہوا، اس نے کہا کہ بغیر پیسوں کے ہوٹل والے تو ادھر ایک گھنٹہ بھی نہیں رہنے دیں گے، اس نے تجویز پیش کی کہ آپ کسی کو فون کر لیں میرے موبائل پر سے اور پیسے منگوا لیں، یا پھر راولپنڈی میں میرا گھر ہے، میرے والدین اور ایک چھوٹی بہن ہے، میں فون کر دوں گا ایڈریس سمجھا دوں گا جانے کا خرچہ دے دوں گا آپ ادھر چلے جاہیں،
درزن کو بیٹے نے سب تفصیل بتا دی کہ آس پڑوس سے کہنا ہمارا رشتہ دار ہے، نوکری کے سلسلے میں اس شہر آیا ہے،
احسن جب بس اڈے پر اترا تو ایک رکشے والے کے پاس ایڈریس پوچھنے اور چلنے کو کہا وہ بولا ٹھیک ہے صاحب جی اتنے پیسے لگیں گے کیونکہ جگہ زرا دور ہے،
احسن سن کر حیران ہوا کہ اتنے کم پیسے، مگر اس کی جیب میں اتنے ہی تھے بس بقایا تھوڑے بچتے تھے اس لئے چلنے پر رضامند ہو گیا جوں ہی زرا فاصلے پر بیگ رکھا تھا اٹھانے لگا بیگ غائب، بہت پریشان ہوا، رکشے والا بھی افسوس کرنے لگا اور تسلی دیتے ہوئے بولا صاحب چلو جی میں آپ کو پیسے کم کر دیتا ہوں،
احسن اس کی رحمدلی پر دل میں افسوس کرنے لگا کہ غریبوں کے دل کتنے بڑے ہوتے ہیں، جو خود پرانہ رکشہ گھسے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہے، اور اس کی مدد کرنا چاہ رہا ہے،
احسن سارے رستے اس کی باتوں سے محفوظ ہوتا رہا اسے اچھا لگ رہا تھا، مغرب ہونے والی تھی، اس نے ایک جگہ جھٹکے سے رکشہ روکا اور اتر کر اس سے معزرت کرتے ہوئے رکشہ ٹھیک کرنے لگا تھوڑی دیر بعد رکشہ پھر چلنے کے قابل ہو گیا، اس طرح ایک ایسی جگہ پوچھتے پوچھتے مطلوبہ جگہ آ گئ،
پرانا سا محلہ تھا کچھ کچے کچھ پکے گھر تھے، گلی کے نکڑ پر ایک دوکان کریانے کی تھی،
گھر کے باہر ایک بزرگ دبلے پتلے سے پاوں میں ہوائی چپل پہنے پرانا مگر دھلا سوٹ پہنے اس کے انتظار میں کافی دیر سے کھڑے ہوئے تھے، اس کو پہچان کر بڑے تپاک سے ملے، رکشے والے نے پیسے کم لینے چاہے تو احسن نے منع کر دیا، وہ واپس چل پڑا اور احسن کو بزرگ نے سامان کا پوچھا تو سنکر کافی افسوس کرنے لگے،
احسن نے دیکھا درزن اسکا شوہر اور اس کی بہن جو بہت دبلی پتلی سانولی سی مگر جوشیلی اور شوخ سی معصوم سی ٹین ایج لڑکی تھی، درزن نے کہا بھائی کو سلام کرو، وہ خوشی سے مسکراتی ہوئی جوش سے سلام کرنے کے بعد بولی احسن بھائی ہم بہت شدت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے پاپا تو دو گھنٹے سے باہر تھے کھبی گلی کا چکر لگاتے کھبی روڈ پر جا کر دیکھتے کہ آپ راستہ نہ بھول جاہیں آپ کے پاس فون بھی نہیں تھا بڑا افسوس ہوا آپ کی چوری کا سنکر، سب افسوس کرنے لگے،
درزن نے کہا بھائی کو بھوک لگی ہو گی جلدی سے روٹی پکا لے،
درزن کا شوہر بولا بیٹا تم جا کر نہا کر فریش ہو جاو ہم نے بیٹے کے کپڑے غسلخانے میں لٹکا دیے ہیں،
احسن ان کے خلوص سے بہت متاثر ہو رہا تھا، درزن کا شوہر اس سے بڑی سلجھی گپ شپ لگاتا تو وہ ان کے طو اطوار دیکھ کر حیران رہ جاتا،
اس نے ان کے بیٹے کے کپڑے پہن کر اور گھسے پلاسٹک کے جوتے پہن کر سوچتا غریب لوگوں کے کتنے مسائل ہوتے ہیں، وہ تو دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کر پاتے ہیں، وہ تو پورے ماہ کا سودا سلف بھی اکھٹا نہیں لے سکتے ہیں، روز یا دو تین دن حد ہفتے تک کا سودا ٓتا ہے اور ان کے سادہ کھانوں میں وہ لزت اسے ملتی کہ وہ حیران رہ جاتا کہ مہنگے ترین کھانے اب سوچ کر اسے بد زاہقہ لگنے لگے اسکا دل ادھر خوب لگ گیا پھر عمل کو دیکھا جس کے بارے میں وہ روز درزن کی بیٹی سے سنتا تھا کہ عمل آپی بہت اچھی ہیں انہوں نے اس کا ایف اے کا داخلہ بھیجا تھا اور پیپرز کی تیاری بھی کروائی تھی، اب وہ مجھے کہتی ہیں کہ بی اے کا بھی داخلہ بھجوانے کا بندوبست کروں گی، ماما ان سے لے نہیں رہی تھیں مگر اس شرط پر لیے کہ آپ اپنے کپڑے سلوا کر کٹواتی رہیں، اب وہ صرف اپنے کپڑوں کے کٹواتی ہیں باقی گھر والوں کے زبردستی دیتی ہیں کہ آپ لوگ مشکل میں نہ پڑیں،
احسن تعریفیں سن سن کر دل میں اس کی اس خوبی کا مداح ہو گیا تھا جب ملا تو اسکا مغرورانہ انداز دیکھ کر چونک گیا مگر اب جاب کرنے کے دوران بھی اسکا کزن اس کے کردار کی تعریف کرتا ہے اور اسکے محنت سے کام کرنے سے کافی متاثر تھا کہتا تھا تمھارا انتخاب بہترین ہے، اس نے گھر والوں کو بھی عمل کے رشتے کے لیے کنوینس کر دیا تھا کہ اسکا باپ ایک بڑا بزنس مین ہے، ہمارے ہم پلہ ہیں وغیرہ وغیرہ،
احسن اس کی راہ ہموار کرنے سے کافی خوش تھا بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی تھی،
احسن کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت بھلکڑ سا تھا نہ اسے راستے یاد رہتے نہ ہی فون نمبرز، اسے تو اپنا نمبر بھی یاد نہ تھا اب انجان شہر میں انجان لوگوں میں اسے درزن کی فیملی کا بہت آسرا تھا اسکا ان لوگوں میں بہت دل لگ گیا تھا وہ چاہ کر بھی ان کی ہیلپ نہیں کر سکتا تھا، اب وہ زہن پر روز زور دیکر کسی فیملی ممبرز کا نمبر یاد کرنے کی کوشش کرتا تاکہ وہ اس دلدل سے نکل سکے، وہ ڈر کر کہیں جاتا بھی نہ تھا کہ راستہ نہ بھول جاے اس کی جیب بھی خالی تھی،
آخر کار اسے کزن کا نمبر یاد آ گیا، درزن کے شوہر سے فون لے کر فون کیا تو وہ پک نہیں کرتا تھا کافی کالز اور میسج کے بعد اس نے کال پک کی تو حیران رہ گیا کہ وہ کتنی مشکل میں پڑا ہوا ہے وہ ایک ضروری کام میں مصروف تھا اس دن اس نے جاب کے لئے انٹرویو لینے تھے اسی دن عمل بھی اسے بس اسٹاپ پر مل گئی،
احسن نے درزن کو نقد پانچ لاکھ زبردستی دیا کہ آپ اپنے گھر کو درست کروا لیں، انکا بیٹا گھر واپس آ گیا اور ٹیکسی خرید لی اور ٹیکسی چلانے لگا، باپ کو رکشہ لے دیا، اور وہ بھی چند گھنٹے نزدیک ہی سواریاں لے جاتا اور لے آتا،
اب ان کے گھر کے حالات میں بہتری آنے لگی تھی کیونکہ درزن نے گھر میں گراسری اور جیولری اور پرس بچوں کے کھلونے بچوں کے کپڑے وغیرہ رکھ لیے تھے، اچھی آمدنی ہونے لگی تھی تو درزن نے سلائی چھوڑ دی تھی اب وہ بوڑھی ہو رہی تھی، جلد ہی انہوں نے مارکیٹ میں دوکان لے لی اور باپ، ماں اور بیٹی اسے چلانے لگے جبکہ رکشہ صرف اسکول کے چند بچوں کو لے جانے کے لیے باپ چلاتا، باقی وقت وہ دوکان کو دیتا،
احسن کے والدین احسن کے تایا کے سامنے گھر خرید کر شفٹ ہو گئے تھے اور احسن کو اپنے باپ کے بزنس کو سنبھالنے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہونا پڑا، احسن، اسکا بڑا بھائی اور احسن تینوں نیے بزنس کو چلانے میں مصروف ہو گئے،
احسن کے کزن نے عمل سے کہا کہ احسن مصروف ہو گیا ہے اور تم چاہو تو اس کے آفس کو جواہن کر سکتی ہو جو نزدیک ہی تھا مگر عمل نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر آپ مجھے سکوٹی لے دیں اور قسطیں تنخواہ سے کاٹتے رہیں تو بہتر ہوگا،
احسن کے کزن نے کہا گڈ میں آپ کو سکوٹی لے دوں گا،
عمل کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور وہ خوش ہو گئی،
احسن کے گھر والے اچانک آفس آ کر عمل کو پسند کر گئے، عمل نے ان کی طرف دھیان نہ دیا بلکہ اپنے کام میں مگن رہی، وہ لوگ بھی جلدی میں تھے،
احسن اسے روز میسج کرتا حال احوال پوچھتا، اس کو بتاتا کہ گھر والوں کو تم بہت پسند آئی ہو، زرا بزنس سیٹ ہو جائے تو وہ اس سلسلے کو آگے بڑھائے گا اور رشتہ بھیجے گا، میں جانتا ہوں تم مجھے میسج کا جواب نہیں دو گی مگر کھبی کوئی مشکل پیش آئی تو مجھے ضرور یاد کر لینا،
دادی نے پوتے کو اموشنل کر کے پاکستان سیٹل ہونے پر منا لیا،
سب پاکستان آ چکے تھے، عمل بڑے بھیا کے آنے سے بہت خوش تھی، مگر وہ اب اس پر کم توجہ دیتے تھے،
عمل ان کے بدلتے رویے پر پریشان رہنے لگی، وہ اسٹور میں سوتی دادی اسے اپنے کمرے میں نہ سونے دیتی، گھر والے بھی کھنچے کھنچے سے تھے، کوئی فالتو بات نہ کرتا تھا دادی نے اپنے کاموں کے لئے ملازمہ رکھ لی تھی چوکیدار کی ماں، جو اب ان کے پاس سوتی تھی آجکل وہ کسی فوتگی پر چند دن کے لئے شوہر کے ساتھ گاوں گئ ہوئی تھی اور اسکا بیٹا ادھر ہی تھا جو طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا،
عمل خاموشی سے سب کے بدلتے رویے دیکھ رہی تھی مگر کسی سے پوچھ نہ سکتی تھی، دادی بس اسے فاتحانہ نظروں سے دیکھتی تھی اور مسکراتی تھی بولتی کچھ نہ تھی،
احسن نے عمل سے کہا کہ وہ اس کے گھر چند دن تک رشتہ بھیجے گا،
عمل میسج پڑھ کر بہت پریشان ہوئی، اس نے صرف اتنا لکھا میں ان کی ملازمہ ہوں،
احسن کے گھر سے رشتہ آ گیا گھر والوں نے ان کی آو بھگت کی آپس میں ان کی دوستی بڑھ گئی اور بزنس ڈیل بھی ہو گئی، جب گھر والوں نے بتایا کہ عمل ہماری ملازمہ ہے تو وہ بہت پریشان ہوے کہ اس لڑکی نے احسن کو بھنک نہ پڑنے دی کہ وہ اس گھر کی ملازمہ ہے مکار لڑکی توبہ ہے، آپ لوگوں اسے فوراً گھر سے نکالیں یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے،
گھر والوں نے کہا اس کے سرپرست گاوں سے واپس آ جاہیں تو پھر ان سے کہتے ہیں کہ یا تو اسے گاوں بھجوا دو یا اس کی شادی کروا دو،
جاری ہے،
پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں کو بھی شئیر کریں شکریہ،
شعر،
تم تو سانسوں میں بھی بسے بیٹھے ہو
اس جگہ سے بھی تمھیں ہٹانا ہے
اس خوش فہمی میں ہم جو بیٹھے ہیں
تمھارے جانے سے زندہ رہنا ہے،
#abidazshireen
#شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں
Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.