Back to Novel
Qabza-e-Dil Tum Sy Churana Hai
Episodes

قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے 3

Episode 3

عمل نے سوچا آخر ایسی کیا بات ہو گئی ہے کہ سب نے منہ موڑ لیا ہے، خاص طور پر بڑے بھیا نے، وہ تو خوش ہو رہی تھی کہ ان سے اب بہنوں کی طرح فرمائشیں کیا کرے گی کیونکہ وہ ہر وقت گلہ کرتے رہتے ہیں کہ تم ہمیں بھائی نہیں سمجھتی تبھی کچھ بھی بہنوں کی طرح فرماہش نہیں کرتی ہو، لیکن وہ تو اب بچوں کو بھی جب وہ لاڈ کرنے لگتی ہے تو بیوی کو بلا کر کہتے ہیں کہ ان کو سلا دو، اس نے بھی صبر کر لیا اور بس اپنی نوکری پر فوکس رکھتی، وہ تو خوش فہمی میں پڑ گئی تھی کہ بڑے بھیا اس سے لڑیں گے کہ تم نے نوکری کیوں کی، مگر وہ تو اس سے لاتعلق سے تھے اس کے لئے کوئی گفٹس بھی نہیں لائے تھے، باقی سب کے لئے لاے، ملازموں کو بھی دیے، سواے اس کے، چوکیدار اپنے گفٹس دیکھا کر اسے جتلاتا تھا، کہ تم ان کی لاڈلی بہن مگر شاید انہیں عقل آ گئ ہے کہ ملازموں اور مالکوں میں بہت فرق ہوتا ہے،

عمل خاموشی سے سب دیکھ کر سہہ رہی تھی وجہ بھی نہ پوچھ سکتی تھی کیونکہ اب سب فاصلے میں ہو گئے تھے اس کی جرات ہی نہ تھی، وہ حیران تھی کہ احسن کو بتایا بھی تھا پھر بھی اس نے رشتہ بھیج دیا اور اب خود ہی میسج بند کر کے بیٹھ گیا ہے، حقیقت جان کر اب اسے بھی عقل آ چکی ہے،وہ شکر کرتی تھی کہ اس نے جاب کر لی تھی اس کے باس کا رویہ بھی اب اس کے ساتھ فاصلے والا ہو چکا تھا پہلے وہ اس سے خوش دلی سے بات کرتے تھے مگر اب وہ اس سے سپاٹ لہجے میں بات کرتے،

احسن کے والد آفس آئے اور لیب ٹاپ پر کچھ کرنے لگے، بولے بیٹا اپنے آفس کے کسی ایکسپرٹ کو بلاو یہ سمجھ نہیں آ رہا، آفس میں بھی کوئی اسے کر نہیں پایا نہ سمجھ پایا، یہ میری لاہف کا بہت بڑا اور اہم پروجیکٹ ہے، جو اسے سمجھ لے گا وہی اسے میرے ساتھ مکمل کروائے گا اور میں اسے آفس کا بگ باس بنا دوں گا، اتفاق سے عمل کسی کام سے اندر آئی تو اس کے باس نے کہا عمل کیا آپ اس کام کو کر سکتی ہیں کافی اہم ہے،

عمل نے جواب دیا سر میں کوشش کرتی ہوں شاید ہو جائے وعدہ نہیں کرتی کہ کر سکوں گی،

انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ اسے سارے کام چھوڑ کر پہلے دیکھیں،

اوکے سر، کہہ کر دیکھنے لگی پھر اسے کرتے وقت سوالات بھی کرنے لگی تو احسن کا باپ اسے ڈیٹیل بتانے اور سمجھانے لگا وہ اپنے کام انہماک ہو کر کرنے لگی اسے اندازہ بھی نہ ہوا کب احسن آیا اور سامنے بیٹھ گیا، کافی دیر گزر گئی، سر نے اسے جوس پکڑایا اس نے چند گھونٹ پی کر رکھ کر پھر کام میں مگن ہو گئی، جب کافی دیر کے بعد اسے مکمل کیا تو سانس لینے کو رکی، تو احسن پر نظر پڑی تو چونک گئی پھر لاپروائی سے اٹھ کر بولی سر ہو گیا ہے دیکھ لیں، اور اٹھنے لگی تو وہ بے انتہا خوش ہوتے ہوئے بولے ویری گڈ بیٹا آپ نے تو کمال کر دیا، سچ میں آپ میں ٹیلنٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، آپ ہیرا ہو، اب آپ میرے آفس میں میرے ساتھ کام کرو گی اور میں آپ کو ایم ڈی بناوں گا،

عمل شکریہ ادا کرتے ہوئے بولی سوری سر میں ادھر اسی جگہ ٹھیک اور خوش ہوں اگر آپ کو میری ہیلپ کی ضرورت ہو گی تو وہ میں کر دوں گی،

اسکا باس بولا مس عمل یہ میرے چچا محترم ہیں آپ کو میں حکم دیتا ہوں ان کی بات ماننے کو، آپ کی جگہ ادھر کوئی بھی کام کرلے گا مگر اس وقت ان کو آپ کی ضرورت ہے کل سے آپ ان کا آفس جواہن کریں گی،

عمل جی سر کہہ کر خاموشی سے باہر نکل گئی،

احسن کے باپ نے خوشی سے احسن کے کندھے پر ایک تھپڑ مارتے ہوئے کہا پہلی مرتبہ اس بھلکڑ نے کوئی کام اچھا کیا ہے اس ہیرے سے متعارف کروا کر، اب سچ میں یہ ہمارے گھر کی بہو بننے کے لاہق ہے، میں اسے اب بہو بنا کر لاوں گا تاکہ اس بھلکڑ کی عقل بھی شاید بڑھ جائے،

عمل کو ایک خوبصورت آفس دے دیا گیا اور بڑی گاڑی استعمال کے لیے جو ہر وقت اس کے پاس رہتی تھی، بہت عزت مل رہی تھی وہ کام بھی جانفشانی سے کرتی تھی،

گھر مٹھائی لا کر ملازموں سے کہا سب میں بانٹ دو اگر گھر کے مالک بھی کھانا چاہتے ہیں تو ان کو بھی دے دو، بتا دینا میں ایم ڈی بن گئی ہوں،

عمل اسٹور میں آ کر رونے لگی کوئی بھی تو اسکا اپنا نہ تھا اس دنیا میں،

اس نے چوکیدار کے والدین سے پوچھا میرے والدین کون تھے مجھے ان کا سارا احوال بتاو، بچپن سے ان لوگوں سے سنتی آئی تھی کہ وہ وفات پا چکے ہیں اب وہ انکا نام ونشان پانا چاہتی تھی پہلے تو وہ دادی کے انڈر تھی، وہ سواے پڑھائی کے کہیں آنے جانے نہ دیتی تھی، اب وہ ہے تو آزاد تھی، احسن کے والد نے اسے فلیٹ میں رہنے کی آفر کی تھی، کرایہ کمپنی ادا کرے گی مگر عمل کو اس گھر سے دلی لگاو تھا وہ اس گھر کے اسٹور میں بھی مطمئن تھی،

چوکیدار کی والدہ نے رکھائ سے کہا کہ تم ہمیں کوڑے کے ڈھیر پر سے ملی تھی ہم نے سوچا تمھیں رشتے دار بتا کر پالتے ہیں بعد میں جوان کر کے اپنے ساتھ کام پر لگا کر فاہدہ ملے گا مگر تم تو پڑھ لکھ گئی ہو ہمیں کیا فائدہ دو گی، تین سال تمھیں گاوں میں پالا خرچہ کیا وہ ہمیں دو اور جدھر مرضی ہے جاو،

عمل نے غصے سے کہا کتنا خرچہ ہوا تھا اگر فالتو ایک پیسہ بھی بتایا تو اچھا نہ ہو گا اس سے اچھا تھا پولیس میں دے دیتے شاید وہ میرے والدین کو ڈھونڈ لیتی، ضروری نہیں کہ حرام کی ہوں دشمنی بھی ہو سکتی ہے،

چوکیدار کی ماں بولی ایک لاکھ دے اور جان چھوڑ،

عمل نے کہا اسٹام پر لکھ کر دو کہ وصول پاے تب دوں گی اس گھر کے دو گواہ بھی لاو، میں دو لاکھ دے دوں گی،

اتفاق سے بڑے بھیا کی بیوی سن رہی تھی اس نے جا کر بڑے بھیا کو ساری بات بتائی تو انہوں نے کہا ہمیں عمل کی مدد کرنی چاہیے، اسٹام پیپر پر خود ان کے ساہن کروا کر ان کی جان چھڑوا دیتے ہیں تاکہ وہ بعد میں اسے تنگ نہ کر سکیں،

اسی وقت انہوں نے ان لوگوں سے اسٹام پیپر پر انگوٹھے لگوا کر ساہن کرواے اور عمل خاموشی سے سب دیکھتی رہی جب بڑے بھیا نے اپنے پاس سے دو لاکھ دینا چاہے تو عمل نے سختی سے انکار کر دیا اور انہیں دو لاکھ دے دیے، اتنے میں ملازمہ نے چوکیدار اور اس کی بیوی کو کمرے میں بلایا،

عمل خاموشی سے بڑے بھیا کو اگنور کرتی آنکھوں میں آنسو بھر کر چل پڑی،

دادی نے چوکیدار کی بیوی سے پوچھا میری کزن کی بیٹی جو سانپ کے ڈسنے سے فوت ہوئی ہے، کیا یہ سچ ہے اور تم لوگ بھی اسی گاؤں کے ہو تم لوگوں نے اس کا منہ دیکھا تھا کیا،

چوکیدار کی بیوی رونے لگی میاں نے گھورا تو بولی، اس کا بہت افسوس ہوا اس کی رہائش اگر شہر میں ہوتی تو شاید بروقت امداد سے وہ بچ جاتی،

دادی نے پہلو بدلا اور بولی اچھا جاو تم لوگ،

دادی فون پر اپنی کزن کی بیٹی کو بلانے لگی کہ کل آ کر مجھ سے ملو،

اگلے دن عمل آفس سے واپس آئی تو اسے خبر ملی کہ دادی کو اولڈ ہاوس چھوڑ آئے ہیں،

عمل بہت پریشان ہو گئی، دادی کا فون ملایا تو دادی بولی عمل تم کل مجھ سے ملنے آنا ضرور میں یہاں پر نہیں رہ سکتی مجھے ادھر سے لے جانا،

عمل نے کہا وجہ کیا تھی تو وہ بولی کل بتاوں گی،

عمل کو ملازموں سے جو وجہ پتا چلی سب آپس میں چہ مہگوہیاں کر رہے تھے،

عمل ساری رات سو نہ سکی سب گھر واے دادی سے سخت خفا تھے،

عمل آفس سے چھٹی کر کے سیدھی اولڈ ہوم گئی تو دادی نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ دو بہنیں تھیں، بڑی بہن کے شوہر نے میری شادی کے کچھ عرصے کے بعد ہی ہمارے والدین کے گھر سے حصہ مانگ لیا اور والدین کو بھی سرسری سا ساتھ رکھنے کا کہا، میں نے شوہر سے کہا کہ میرے والدین اب کدھر جائیں گے تو وہ بولا ایک ماں کو رکھ لو ایک باپ کو، مگر وہ اکھٹے رہنا چاہتے تھے میں نے لڑ جھگڑ کر والدین کو ساتھ رکھ لیا اور جب وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو تب میرے شوہر کا رویہ اچھا ہوا جب ان کی جاہیداد جو گاوں میں بھی کافی تھی ملی تو وہ خوشحال ہو گئے، تب سے جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے رب سے دعا کی کہ بیٹی نہ ہو، جب بیٹے کی شادی کی تو تب تو اور زیادہ دعائیں کرنے لگی کہ پوتے ہوں پوتی نہ ہو، کیونکہ میرے لاڈلے پوتوں کی جاہیداد پوتی کے شوہر کو چلی جائے گی،

میرے شوہر کا رنگ سانولا تھا اور میں دعائیں کرتی تھی کہ میری نسل گوری چٹی پیدا ہو، میرا بیٹا گورا پیدا ہوا میں بہت خوش تھی بہو بھی گوری چن کر لائی، پھر دعائیں کرتی تھی کہ پوتی پیدا نہ ہو، جب دونوں پوتے پیدا ہوئے میں بہت خوش تھی جب بہو کا تیسرا بچہ ہونے والا تھا تو میں کچھ ڈری ہوئی تھی کہ پوتی نہ ہو جائے اس کی وجہ یہ تھی کہ بہو کو پوتی پسند تھی کہ بیٹی پیدا ہو، میں نے اس کی ڈاکٹر کو لالچ دے کر کہا کہ اگر پوتی متوقع ہے تو مجھے بتانا مگر وہ لالچ میں نہ آئی، میرے ارادے اسے ٹھیک نہ لگے،

جب پوتی پیدا ہوئی تو ڈاکٹر کو جلدی سے دوسرے کیس کی طرف جانا پڑا کچھ یہ اپنے گھر کا ملازم چوکیدار کا باپ ادھر اس کا کزن ملازم تھا، یہ لوگ ادھر ساتھ تھے میں نے دیکھا ملازم ایک سانولی سی بچی لے کر آیا کہ یہ آپ کی پوتی ہے، میں نے اپنی گاوں والی کزن کو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو گاوں لے جا کر پالے اور بہو کو بتانا کہ بچی مر گئ ہے یا مردہ پیدا ہوئی ہے،

بہو کو ہوش آیا تو اس کو ایک مردہ خانے سے مری ہوئی بچی دکھا کر تسلی کروا دی، وہ بہت روئی مگر جلد اسے گھر لے آئے، اور آخر بہو نے وقت کے ساتھ صبر کر لیا، تمام گھر والے بچی کی پیدائش کا شدت سے انتظار کر رہے تھے وہ بہن کو یاد کرتے، اس کے لئے ان لوگوں نے بہت سی شاپنگ بھی کی تھی،

کزن کی بیٹی میرے میکے گاوں میں رہتی تھی جس کی وجہ سے میں اسے لفٹ کراتی تھی امداد بھی کرتی تھی، پوتی کو پالنے کے لئے اسے بڑی رقم بھی دی تھی مگر اس نے بتایا کہ

وہ سانپ کے ڈسنے سے مر گئی ہے تو میں اسے گھر بلا کر ڈانٹ رہی تھی مجھے جوش میں یاد نہ رہا کہ گھر کا کوئی فرد سن نہ لے، اتفاق سے میرے بیٹے اور بہو نے یہ باتیں سن لیں میرے لاکھ واویلا مچانے پر بھی کہ یہ سب میں نے تم لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا ہے، تاکہ جاہیداد لوگوں کی طرف نہ جاسکے مگر سب بہت دکھی اور غصے میں تھے انہوں نے کہا کہ ہم ملازموں کو گھر سے نہیں نکالیں گے صرف انہیں جرمانہ ڈالیں گے ان کی تنخواہ آدھی دس سال تک کاٹیں گے تاکہ دوبارہ یہ ایسی غلطی نہ کریں،

اور مجھے اولڈ ہوم سزا کے طور پر بھیج دیا،

عمل نے دادی کو تسلی دی کہ وہ جلد ادھر سے آپ کو لے جائے گی کوئی گھر دیکھ لے مگر داری نے کہا کہ وہ صرف اپنے گھر ہی واپس جانا چاہتی ہے اور کہیں نہیں،

عمل یہ شرط سنکر پریشان ہو گئی کہ کیسے سب کے دل دادی کی طرف سے صاف کرے، حالانکہ اسے بھی لگتا تھا کہ دادی نے غلط کیا ہے، وہ اس سزا کی مستحق ہیں، ان کی بیٹی مرتی نہ تو شاید وہ ایسا انتہائی قدم نہ اٹھاتے،

عمل گھر واپس آئی تو اسے گھر دادی کے بغیر خالی خالی سا لگا، اس کا دل نہ لگ رہا تھا وہ جیسی بھی تھی ان کے ساتھ اسکا ایک کمرے میں بچپن سے جوانی تک کا سفر گزرا تھا، وہ ان کے کمرے میں سوتی تھی مگر ان کے پیار سے محروم رہی، کھبی بھی انہوں نے اسے پیار سے مخاطب نہ کیا، سواے بڑے بھیا کے،

باقی گھر والے اسے پیار سے نہ بلاتے تھے مگر زلیل بھی نہ کرتے تھے،

چوکیدار کے والدین جنھیں وہ اپنا سرپرست سمجھتی تھی وہ بھی ہر لمحہ اسے کوستے ہی رہتے، اگر بڑے بھیا کا پیار نہ ملتا تو وہ پیار کے لفظ سے ناآشنا ہوتی، چوکیدار اسے اپنی منگیتر کہہ کر چھیڑتا رہتا،

احسن کا باپ عمل کو بہو بنانا چاہتا تھا مگر احسن کی ماں کہتی ابھی ہمارے اتنے برے دن نہیں آئے کہ بیٹوں کو ملازمہ اور غریب لوگوں میں بیاہ کر انہیں اپنے سمدھی بنا لیں، اس کا بیک گراؤنڈ بھی دیکھا جاتا ہے صرف خوبصورتی نہیں،

احسن نے عمل کو زور دیا کہ وہ اس کے ساتھ کورٹ میرج کر لے، اس کام میں اس کے پاپا بھی راضی ہیں، بعد میں ماما خود ہی مان جائیں گی مگر عمل نہ مانی، اس نے کہا کہ وہ اس گھر کے اسٹور روم میں ہی زندگی بتا دے گی وہی اس کے اپنے ہیں،

احسن کی ماں اپنے بڑے بیٹے کے لئے رشتہ تلاش کر رہی تھی جس کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے اور اس کی بیوی بانجھ تھی جو ڈاکٹر تھی اور طلاق نہ لینا چاہتی تھی مگر اسے دوسری شادی کی بھی اجازت دے دی تھی، خود وہ امریکہ والدین کے ساتھ رہنا چاہتی تھی،

احسن نے درزن کی فیملی کو بمشکل ماں کو منا کر گھر کھانے پر بلایا کہ انہوں نے مشکل وقت میں اسکا ساتھ دیا،

احسن نے انہیں گھر سے پک کرنا تھا مگر عین وقت پر اس کی سخت طبیعت خراب ہو گئی اور اس نے بڑے بھائی کو ریکویسٹ کی کہ وہ ان لوگوں کو جا کر لے آہیں، وہ خود آ جانا چاہتے تھے مگر احسن نہ مانا،

احسن کے باپ نے بڑے بیٹے کو لانے کا بولا تو وہ منہ بناتا چابی اٹھا کر چل پڑا،

احسن نے اسے لوکیشن سنڈ کر دی،

احسن کے بھائی کے بیوی کے ساتھ جھگڑے چل رہے تھے وہ اپنی ڈاکٹری کی اعلیٰ ڈگریوں پر بہت غرور کرتی تھی، ہر وقت اسے کمتر جانتی جو بی اے تک پڑھا ہوا تھا، پھر دو سال بچہ نہ ہونے پر اسے تعنے طشنے دیتی رہتی، شوہر نے کہا کہ ہو سکتا ہے نقص تم میں ہی ہو اور مجھے کہتی ہو اس نے تکبر سے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پھر اس نے چیلنج کے طور پر اپنا اور شوہر کا ٹیسٹ کروایا تو نقص اس میں نکلا، وہ شرمندگی مٹانے کے لیے اس سے الگ ہو کر رہنے لگی اور بولی میں اپنے آپ کو خود پال سکتی ہوں امیر باپ کی بیٹی ہوں، شوہر کے بغیر بھی گزارہ کر سکتی ہوں جلد ہی تم سے خلع لے لوں گی اور میں تمہیں چیلنج کرتی ہوں کہ تم دوسری شادی کرو اگر کوئی دیتا ہے تو اور مجھ جیسی کھبی نہیں ملے گی، یہ تو میرے فادر نے دوستی کی مروت میں تم سے شادی کروا دی ورنہ تم میرے لائق نہ تھے،

گھر والے بہو کے رویے سے عاجز تھے جو ان سے بھی اکھڑی اکھڑی رہتی تھی،

احسن کے والدین نے پاکستان آ کر دوسری شادی پر منا لیا اور اس کے لیے لڑکیاں دیکھنے لگے، مگر ان کے حلقہ احباب میں سب اس کی احسن سے کم تعلیم اور شادی شدہ ہونے پر اس کے اوپر احسن کو ترجیح دیتے تھے، اور اگر کچھ راضی بھی ہوتے تو پہلی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرتے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ لوگ خود بھی اس سے عاجز تھے، اگر وہ خود اسے طلاق دیتے تو انہیں کافی بڑا حق مہر ادا کرنا پڑتا جو خود طلاق دینے کی صورت میں ادا کرنا ہوتا، اگر وہ خود طلاق لیتی تو وہ ادا کرنے سے بچ جاتے، اس نے جوش میں آ کر دوسری شادی کی اجازت بھی تحریری طور پر دے دی تھی، اب دوسری شادی کرنا کوئی مسئلہ نہ تھا،

احسن کے بھائی نے تنگ آ کر ماں کو اصرار کیا تھا کہ اب وہ اونچے گھرانے کی لڑکی سے شادی نہیں کرے گا کوئی کم پڑھی غریب اور کم خوبصورت لڑکی سے شادی کرے گا،

خود وہ گورا چٹا اور خوبصورت تھا، تب ہی اس کی پہلی بیوی دیکھتے ہی فدا ہو کر ہاں کر بیٹھی تھی مگر بعد میں دوستوں کے احساس دلانے پر پچھتا رہی تھی کہ اسے بھی اپنی طرح کسی قابل ڈاکٹر سے شادی کرنی چاہیے تھی جس کو سوسائٹی میں اپنے حلقہ احباب میں ملاتے ہوئے سبکی محسوس نہ ہوتی،

دوستوں نے کہا تم میں کیا کمی تھی تم امیر، خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی تم اس کی خوبصورتی پر مر مٹی، تمھیں تو کوئی بھی امیر، خوبصورت اور اعلی تعلیم یافتہ اپنا کر فخر محسوس کرتا، وہ دنیا کی باتوں میں آ کر اچھے شوہر کی ناقدر بن بیٹھی،

جب درزن کی فیملی ان کے گھر سے دعوت کھا کر رخصت ہوئے تو احسن کے بھائی نے درزن کی بیٹی سے شادی پر اصرار کرنے لگا، احسن نے سنا تو بہت خوش ہوا جو اب اس فیملی سے انسیت رکھتا تھا،

ماں کو ماننا پڑا، جب رشتہ لے کر گئے تو درزن کے شوہر نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا کوئی میل نہیں، ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے جیسا خاندان آپ لوگوں کے گھر رشتہ کرنا خوش نصیبی سمجھے گا مگر آپ کا آنا سر آنکھوں پر مگر ہم اپنی بیٹی کو ساری زندگی کے لئے احساس کمتری میں نہیں ڈالنا چاہتے، وہ اپنے جیسے لوگوں میں شادی کر کے زہنی طور پر پرسکون رہے گی کیونکہ ہم نے اپنے بچوں کی تربیت قناعت پسندی پر قائم رہنے کی کی ہے، اس لئے معزرت چاہتے ہیں،

احسن کے والد نے ان کے خیالات کو بہت سراہا اور کہا احسن نے ہیرے جیسے لوگوں سے روابط رکھے ہیں، اب ہم دوبارہ سوالی بن کر جاہیں گے اور منا کر دم لیں گے، انہیں مطمئن کر دیں گے،

احسن کے منانے سے وہ لوگ مان گئے اور سادگی سے شادی پر راضی ہو گئے،

عمل نے اس شادی میں درزن کی فیملی کا بہت ساتھ دیا اور اسے شاپنگ، پارلر تک سب عمل نے کیا، اس کی چوائس بھی اچھی تھی،

احسن کی ماں کی بے اختیار تعریف نکل جاتی، عمل کے ڈریس بھی اچھے تھے بہت پیاری لگ رہی تھی وہ لڑکی والوں کی طرف سے شامل ہو رہی تھی، اب وہ بڑے بھیا اور ان کی فیملی سے سلام کے علاوہ فالتو بات نہ کرتی،

شادی پر ان کا خاص خیال رکھ رہی تھی،

احسن کا بھائی شادی کر کے بہت خوش تھا وہ اسے شمالی علاقہ جات کی سیر کو بھی لے کر گیا تھا،

احسن کے گھر والے اس بہو کی خدمتوں سے بہت خوش تھے جو صبح اٹھ کر سب کے لئے ناشتہ بناتی، ملازموں کے ساتھ ملکر سب کاموں کی نگرانی کرتی، اچھے مزیدار کھانے بناتی، اور اچھے لباس زیب تن کرنے سے اسکا سانولا روپ پرکشش لگتا تھا،

ایک دن احسن کی ماں کی فرینڈز اس کے گھر مدو تھیں، وہ سب کے لیے چاے کا انتظام کر رہی تھی، سب چیزیں گھر میں بنا کر داد پا رہی تھی،

احسن کی ماں دل میں خوش ہو رہی تھی، مگر اسے اس کی تعلیم کی وجہ سے دل میں شرمندگی سی محسوس ہوتی تھی کیونکہ نہ وہ لیب ٹاپ یوز کرتی نہ اسے موبائل یوز کرتے دیکھا تھا، احسن کے بھائی نے اسے مہنگا موبائل بھی گفٹ کیا تھا،

اتفاق سے عمل کسی دفتری فاہل کو لینے احسن کے باپ کے کہنے پر ادھر آئی تھی، درزن کی بیٹی ارم اسے دیکھ کر کھل گئی اور زبردستی چاے کے لئے بٹھا لیا، احسن کا بھائی واش روم میں تھا فاہل اس کے پاس تھی، مجبوراً عمل کو ارم کی بات ماننی پڑی، اور احسن کے بھائی کا انتظار کرنے کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گئ،

اتنے میں ارم چاے پکڑا رہی تھی کہ اس کی ساس کی سہیلی لیب ٹاپ کھولے بیٹھی تھی کوئی مسئلہ لگا تو اس نے ارم کو مخاطب کرکے ہیلپ مانگی،

احسن کی ماں شرم سے پہلو بدلنے لگی،

جب ارم نے لیب ٹاپ کو گود میں رکھ کر اس کو کچھ بتانے لگی تو وہ امپریس ہونے لگی، ارم کا شوہر بھی تولیے سے سر صاف کرتا باہر آ چکا تھا جب ارم لیب ٹاپ کھولے اس ماڈرن لیڈی کو بڑے اعتماد سے سمجھا رہی تھی، جب ماڈرن لیڈی نے اس کی تعلیم پوچھی تو اس نے ایم بی اے اور بی ایڈ بھی بتا کر سب کو حیران کر دیا، اس کا شوہر اور ساس بھی دنگ رہ گئے کیونکہ وہ سمجھے تھے کہ یہ چند کلاسیں پڑھی ہو گی مگر وہ اس کی انگلش بولنے پر انگلش میں جواب دے رہی تھی،

ارم سے ایک فرینڈ نے پوچھا تمھارا انگلش بولنے کا سٹائل بہت زبردست ہے، کہاں سے سیکھا،

ارم نے عمل کو دیکھ کر بتایا کہ وہ سامنے میری محسن میری ٹیچر بیٹھی ہوئی ہیں، میں ایک غریب گھر سے تعلق رکھتی ہوں مجھے پڑھنے کا شوق تھا، میں 8 کلاس میں تھی اور عمل آپی سیکنڈ ایر میں، یہ میری والدہ کے پاس کپڑے سلوانے دادی کے آتی تھیں، میرا شوق دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے دادی سے سو سو بہانے کر کے مجھے وقت دے کر نہ صرف پڑھایا بلکہ خرچہ بھی برداشت کیا، ایک بار انہوں نے اپنا گولڈ کا لاکٹ بھی سیل کر کے میری فیس ادا کی، تعلیم دینے کے علاوہ انہوں نے کھبی ہم سب سے نہ کھبی فالتو بات کی نہ کھبی احسان جتایا، یہ میری محسن ہیں، ارم کی ساس کی سب فرینڈز عمل سے متاثر نظر آنے لگیں، مگر عمل جلدی سے احسن کے بھائی سے بولی مجھے فاہل دیں دیر ہو رہی ہے چاے بھی نہیں پی اور فاہل لے کر تیزی سے چل پڑی،

گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ احسن اسے پسند آیا تھا مگر وہ اسے پا نہیں سکتی، کاش وہ غریب ہوتا،

چوکیدار کی بیوی رو رہی تھی اور اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے لالچ کر کے اپنی بیٹی کے ساتھ دادی کی پوتی کو بدل دیا، کہ چلو ہم ان کے ملازم ہیں اور ہمارے آنکھوں کے سامنے وہ شہزادی بن کر پلے گی اور ان کی بیٹی کو گاوں بھجوا دیں گے، ان کی بیٹی سانولی تھی جبکہ عمل گوری چٹی تھی، عمل کو گاوں بھجوا دیا گیا اور اپنی کمزور سی عمل سے بیس دن بڑی لڑکی کو سامنے پیش کر دیا، عمل کی دادی نے جب مریل سی سانولی سی بچی دیکھی تو سمجھی کہ شاید اپنے باپ پر اسکا رنگ چلا گیا ہے، کیونکہ اسکا رنگ سانولا تھا،

گاوں سے دادی نے اپنی رشتہ دار کو بہو کی ہیلپ کے لیے بلایا تھا اس کے حوالے بچی کر کے پالنے کے لیے گاوں بھیج دیا، اور موٹی رقم بھی ساتھ دی، وہ گاوں لے کر چل پڑی اور چوکیدار بھی اسی گاؤں کا تھا، یہ لوگ بہانے سے اسے دیکھ آتے، اور مل لیتے،

عمل کو رشتے دار کھبی خود پالتے رہے اور جب تین سال کی ہوئی تو دادی کے پوتوں کو بہت اچھی لگی، پھر بڑے بھیا نے اسے ضد کر کے پاس رکھوا لیا،

ادھر چوکیدار کے والدین بیٹے کو کہتے تیری اس سے شادی کریں گے وہ بڑا ہو کر ادھر چوکیدار بھرتی ہو گیا اسکا باپ ڈرائیور تھا،

عمل کو دادی اپنی خدمتوں میں لگائی رکھتی، وہ نہ جانتی تھی کہ وہ اس کی پوتی ہے، عمل کو بتایا گیا کہ وہ کوڑے کے ڈھیر پر سے ملی تھی، ان کو لالچ کی بری سزا ملی، ایک تو بیٹی بھی سدا دور رہی، پھر اسے اپنی بیٹی کہہ کر پیار بھی نہ کر سکے، اور اب وہ مر گئی،

عمل کو بھی بہو نہ بنا سکے نہ اس پر حکمرانی کر سکے، سارا پلان فیل ہو گیا اور سزا کے طور پر تنخواہ بھی آدھی ملنے لگی، اگر چھوڑ کر جاتے تو جیل کاٹنی پڑتی، اگر عمل کا سچ بتاتے تو جیل لازمی جاتے، بری طرح پھنس چکے تھے،

عمل نے سوچا دادی کو کیسے گھر واپس بلاے، اس نے سوچا کہ وہ واسطے دے کر معافی دلا کر گھر لانے کی کوشش کرے، عمل جب بھی ملنے اولڈ ہاوس جاتی وہ اسے گھر واپس لے جانے پر اصرار کرتیں،

بڑے بھیا اس کے سٹور روم میں آے اور خاموشی سے پاس پڑے اسٹول پر بیٹھ گئے،

عمل نے کہا جی کچھ کام تھا تو بلا لیتے آپ نے کیوں تکلیف کی،

بڑے بھیا دبڈبائئ آنکھوں سے دیکھ کر بولے مجھے معاف کر دو ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولے اپنے بھیا کو معاف کر دو،

عمل غصے سے بولی آخر میرا قصور کیا تھا مجھے اپنے جرم کا بھی تو پتا چلے شور سا سنکر ماں بھی آ گئی، آہستہ آہستہ سب آنے لگے، بھیا نے کہا کہ دادی نے تمھارے فون کال کا بتایا جو واقعی تم نے ہمارے خاندانی وکیل کو اپنے موبائل سے کال کی تھی کہ تم لیگلی طور پر جاہیداد کی وارث ہو کیونکہ تمھارے تمام ڈاکومنٹس پر ہمارے باپ کی وادیت درج ہے،

مگر اب دادی پر شبہ ہو رہا ہے، انہوں نے تمھارا فون بھی چیک کروایا تھا کہ انہوں نے اتفاقاً سن لیا تھا، ہم سب کو بہت دکھ ہوا اور غصہ بھی آیا، جب وکیل انکل نے بھی اس بات کی تصدیق کی،

عمل نے حیرت سے پوچھا میرے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہے، آپ وکیل انکل کو میرے سامنے لاہیں،

بڑے بھیا بولے وہ تو میں اس سے سچ اگلوا ہی لوں گا ابھی وہ ملک سے باہر بیٹے کے علاج کے لیے گئے ہیں، عمل نے بڑے بھیا کو روتے دیکھا تو قریب آ کر چپ کروا کر بولی، میں تو لاوارث ہوں حرام کی ہوں، میں نے آپ کو معاف کیا، مگر میں سچ کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا،

بڑے بھیا نے روتے ہوئے کہا کہ آج سے تم ہماری سگی بہن جیسی ہو، میں اب خود منت بھی کرنی پڑی تو کروں گا اور احسن سے تمھاری شادی کروا کر دم لوں گا چاہے کچھ بھی ہو اب مجھے سکون تب ہی ملے گا، بس تم مجھ سے راضی ہو جاو،

عمل نے کہا میں آپ سے کیسے ناراض رہ سکتی ہوں، وہ باہر پڑا بڑا سا سوٹ کیس اٹھا لائے اور بولے میں نے تمھارے لیے سب سے زیادہ شاپنگ کی تھی مگر دادی کی باتوں میں آ کر دے نہ سکا اب اسے قبول کرو گی تو مجھے لگے گا کہ تم نے مجھے معاف کر دیا ہے،

ان کی بیوی نے مسکرا کر سوٹ کیس اس کے آگے کیا اور اسے گلے لگا کر بولی گڑیا لے لو،

عمل نے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر پکڑ کر کہا شکریہ بڑے بھیا،

اتنے میں ملازمہ ہانپتی کانپتی اندر آئی اور بولی پلیز مجھے ان لوگوں سے بچا لیں،

بڑے بھیا نے کہا کہ کون ہے،

چوکیدار سامنے آیا تو وہ ڈر کر تیز تیز بولنے لگی کہ یہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ عمل بی بی کو بدل دیا تھا جو گاوں میں دادی صاحبہ کے رشتے داروں میں لڑکی پل رہی تھی وہ ان کی بیٹی تھی، اور میں نے جب ان کی باتیں سنی تو میں بھاگی اور یہ لوگ میرے پیچھے بھاگے تاکہ میں سچ نہ بتا سکوں،

عمل دادی کے بیڈ روم میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کیسے پہلے وہ اس گھر میں ملازمہ کی حیثیت سے تھی اب بیٹی بن چکی ہے وہ بھی اصل والی، اب وہ سب کی لاڈلی ہے، ماں باپ لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتے،

دادی نے سارے جرم قبول کر لیے تھے کہ اس نے ہی وکیل کے ساتھ ملکر چکر چلایا تھا، اور پوتی بھی دادی نے گاوں بھجوا دی تھی،

جب دادی کو پتا چلا کہ عمل ان کی سگی پوتی ہے تو وہ بہت خوش ہوئی اور اپنے کیے پر بہت پچھتائیں کہ انہوں نے قانون قدرت کی خلاف ورزی کی تھی کہ بیٹی کو حصہ نہ دینا پڑے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اسے پورا کرنا فرض ہے، ورنہ وہ سخت گناہگار ہوں گے، دادی کو فالج کا اٹیک ہو گیا، تو عمل نے جی جان سے خدمت کی،

احسن کے گھر والے اسے بہو بنانے کے لیے رشتہ مانگ رہے تھے احسن کی ماں نے عمل سے معافی مانگ لی تھی کہ اسے جتنا ایک غریب بہو نے سکھ دیا ہے اتنا اس امیر لڑکی سے نہ ملا، ادم ایک بچے کی ماں بن چکی تھی اور اپنی سوکن کو بچہ دینے کا ارادہ کیا تھا تو وہ بھی اپنے کیے پر شرمندہ تھی اس نے خوشی کا اظہار کیا اور بولی اگر تم اجازت دو اور میرا شوہر مجھے معاف کر دے تو میں تم لوگوں کے ساتھ رہ کر اس بچے کو پالنا چاہتی ہوں کوئی شوہر پر حق نہیں جتاوں گی تمھارا شکریہ کہ تم نے مجھے ماں بنا دیا چاہے سوتیلی ہی سہی، تم نے مجھے سمجھایا کہ میں خلع نہ لوں بلکہ ہم ملکر رہیں گی، اور بچے کو پالیں گی،

ارم کے کہنے پر سب نے ڈاکٹر بہو کو معاف کر دیا اور ملکر رہنے لگی، بچے پر جان دیتی،

احسن بہت خوش تھا مگر عمل نے نکاح کے بعد سال بھر کی رخصتی کی مہلت چاہی تھی کہ وہ اپنے گھر والدین اور بھائیوں اور بھابیوں اور ان کے بچوں کے ساتھ رہ کر یہ لطف لینا چاہ رہی تھی کہ وہ سب اس کے حقیقی رشتے ہیں،

دادی معافیاں مانگتی دعائیں دیتی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی، عمل دادی کو اولڈ ہوم سے گھر لے آئ تھی،

عمل سال بعد اس گھر سے بیٹی کی طرح رخصت ہوئی تو بہت مسرور تھی، سب بہت خوش تھے اور احسن کے پاوں زمین پر نہ ٹکتے تھے،

عمل احسن کے سنگ اپنے پچھلے تمام غم بھول چکی تھی، ملازموں کو ان کے جرم کی پاداش میں جیل ہو چکی تھی، سچ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی،

پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں کے ساتھ شیئر لازمی کریں شکریہ،

ختم شد،

شعر،

قبضہ دل تم سے چھڑانا ہے

دل کا مالک خود کو بنانا ہے

بن مول اس میں رہتے ہو

اب مول اس کا لگانا ہے،

#abidazshireen #شاعرہ_عابدہ_زی_شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.