Chiragh Tale Andhera
Episodes
چراغ تلے اندھیرا
زویا نے آج پھر ماں سے ضد کی
"موم کل اسکول کی پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں ڈیڈ کی شرکت لازمی ہے"
زویا کی موم نے ایک سرد آہ بھر کر کہا
"جان آپ جانتی تو ہو کہ آپ کے ڈیڈ ہمیشہ کی طرح یہی جواب دیں گے کہ میں بہت بزی ہوں, اس لیے نہیں جا سکتا۔"
زویا نے روتی صورت بنا کر اپنی ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
"موم سب کے ڈیڈ آتے ہیں میری کلاس فیلوز میرا مزاق اڑاتی ہیں کہ دیکھنا ہمیشہ کی طرح اس کے ڈیڈ بھی نہیں آٸیں گے۔ یا تو وہ بہت پینڈو سے ہوں گے یا اچھی پرسنیلٹی کے مالک نہ ہوں گے، اسی لیے زویا کی موم ان کو اسکول کے کسی بھی ایونٹ میں ساتھ نہیں لاتی ہیں۔"
زویا نے قدرے نم آنکھوں سے موم کو دیکھتے ہوئے کہا
"موم، میں نے اپنے موبائل سے اپنے ڈیڈ کی فوٹو دیکھانی چاہی تو وہ بولیں ہم نہیں مانتیں جب تک ہم انہیں لاٸیو نہ دیکھ لیں"
زویا نے قدرے دھمکی بھرے انداز میں موم کو کہا
"اس بار میری عزت بےعزتی کا سوال ہے اس لیے آپ کو ڈیڈ کو مجبور کرنا ہو گا کہ وہ میرے ساتھ منڈے کو اسکول ضرور چلیں۔ پہلے چودہ اگست کا فنکشن ہو گا پھرپیرنٹس کےساتھ چائے پیتے ہوئے ٹیچرز نے مختصر سی ملاقات کرنی ہو گی۔ میری سب فرینڈز کے فادرز نے آفس سے اسپیشل چھٹی لی ہے اور ایک میرے ڈیڈ ہیں جن کا اپنا کلینک ہے، جب چاہیں چھٹی کر سکتے ہیں مگر مجال ہے جو وہ کھبی ہمارے لیے چھٹی کریں۔"
زویا کی موم نے ایک سرد آہ بھر کر کہا،
"بیٹی میں تو اب ان کی اس مصروفيات کی عادی ہو چکی ہوں۔ میں بھی اپنے خاندان کے بہت اہم فنکشنزمیں بھی ان کو زبردستی کھبی نہیں لیکر جا سکی ہوں۔ ہمیشہ مجھے سب کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ سو سو بہانے بنانے پڑتے تھے۔ اب اس بات سے سمجھوتہ کرلیا ہے۔"
زویا کی والدہ مومنہ زویا کے والد ملک اختر کی چچازاد تھی۔ وہ والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ ملک اختر دو بہن بھاٸی تھے۔ ان سے بڑی ایک بہن تھی۔
زویا کے دادا نے گاؤں کی ساری زمینیں بیچ کر شہر میں گھر بنوا لیا تھا اور باقی پیسوں سے ایک پلازہ تعمير کروا لیا اور اس کے کرایوں سے اپنی گزر بسر کرنے لگے اور عزت سے آسانی سے گزارہ چل رہا تھا۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے سبب بقول ان کے دادا کے کہ اکھٹے اتفاق سے رہنے میں بچت اور برکت بھی ہوتی ہے۔ اور ایک سے بھلے دو گیارہ بن جاتے ہیں اور دشمن بھی وار کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔
زویا کی والدہ مومنہ کا رشتہ بچپن میں ہی ملک اختر کے ساتھ دادا دادی نے طے کر دیا تھا اور گھر میں کسی نے اس رشتے پر اعتراض نہ کیا تھا۔
ملک اختر چونکہ اپنے باپ اور چچا کے گھر میں اکلوتا بیٹا تھا اس لیے وہ گھر بھر کا لاڈلا تھا۔ ملک اختر کو اس کے والد خوب پڑھا لکھا کر نفسياتی ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ ملک اختر کے والد ایک سرکاری ادارے میں کلرک تھے۔ اور مومنہ کے والد پڑھے لکھے اور اچھے عہدے پر فاٸز تھے۔ ملک اختر کو بھی شوق تھا کہ کاش اس کے والد بھی پڑھے لکھے اور اچھی پوسٹ پر ہوتے تو اسے بہت فخر محسوس ہوتا جیسے اس کے چچا تھے۔ وہ اپنی بیٹی مومنہ کو بھی اعلی تعلیم دلوا رہے تھے جبکہ ملک اخترکی بہن کی شادی میٹرک کے بعد جلدی کر دی گٸ تھی۔ ملک اختر کے والد لڑکیوں کی زیادہ تعلیم کے حق میں نہ تھے۔ وہ دبے لفظوں میں مومنہ کی تعلیم پر بھی اعتراض کرتے رہتے تھے مگر مومنہ کے والد ان کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیتے تھے۔ کیونکہ ان کی بیوی بھی پڑھی لکھی تھی اور سرکاری ادارے میں پڑھاتی تھی۔ اس کی نوکری کے بھی سب بہت خلاف تھے مگر چونکہ وہ اپنے شوہر کی اجازت سے کر رہی تھی اس لیے کھل کر کوٸی مخالفت نہیں کر سکتا تھا۔
ملک اختر کی شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کے دادا چل بسے تو دادی نے ان کے وکیل کو بلا کر ساری جاٸیداد کے شرعی حصے کیے اور بیٹی کو بھی اس کا حق دیا۔ مومنہ کے والد اور ملک اختر کے والد کو یہ آفر دی گٸ کہ پلازہ اور گھر دونوں کی مالیت برابر ہے تو کون گھر لینا چاہے گا اور کون پلازہ ۔ ملک اختر کے والد نے کہا
"مجھے اپنے گھر سے بہت انسیت اور لگاؤ ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔"
تو مومنہ کے والد نے کہا
"جیسے میرے بڑے بھاٸی صاحب چاہتے ہیں مجھے اس پر کوٸی اعتراض نہیں ہے۔"
ملک اختر کی ماں شوہر سے غصے سے بولی،
"ہم لوگ گھر لیکر کیا کریں گے اگر پلازہ لیں تو کم سے کم پلازے کے کرائے سے گھر کا خرچہ تو چلتا رہے گا۔"
مگر ملک اختر کے والد بولے،
"میری پنشن اور اماں کی پنشن ملا کر گھر کا گزارہ چل جاۓ گا۔"
وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور مومنہ کے والد نے کہا
"ہم گھر میں رہیں گے اور پلازے کے کراۓ میں سے بھی حصہ دیا کریں گے۔ جب ہم اس گھر سے کھبی شفٹ ہوئے تو پھر آپ اس کا ایک پورشن کراۓ پر لگا دینا اور۔۔۔۔"
جھٹ دادی نے بات کاٹی
"بالکل ٹھیک ہے پھر تم اپنے پلازے کی ساری آمدنی اپنے پاس رکھنا، کوٸی اس کی آمدنی کا دعویدار نہیں ہو گا۔"
دادی کی بات سنکر سب چپ کر گۓ۔ مومنہ کی ملک اختر سے شادی اس شرط پر کی گٸی کہ ابھی اس کی پڑھاٸی مکمل ہونے میں ایک سال باقی ہے اور وہ شادی کے بعد بھی اپنی تعلیم جاری رکھے گی اور مکمل کر کے نوکری بھی کرے گی۔ ملک اختر کے والد نے حامی بھرلی اوران کی شادی کر دی گٸی۔ شادی کے بعد مومنہ ملک اختر کے ساتھ ہی کالج جاتی اور وہ اپنی یونیورسٹی چلا جاتا اور پھر واپسی پر اسے ساتھ لے لیتا۔ شادی کے بعد دبے لفظوں میں ملک اختر کی ماں اعتراض کرنے لگی مگر ساس کی موجودگی میں کچھ کر نہ سکی کیونکہ دادی اپنی پوتی کے خلاف بولنے نہیں دیتی تھی۔ تب ملک اختر کی والدہ بول نہ سکی تو اس نے بیٹے کے کان بھرنے شروع کیے
"اب جیسے تیسے یہ تعلیم مکمل کر لے مگر اسے نوکری کی اجازت بلکل مت دینا۔ بہت من مانی کر لی انہوں نے۔ میں بوڑھی ہوں اب کام نہیں ہوتا بیمار رہنے لگی ہوں۔ گھنٹوں میں درد سے چلا پھرا نہیں جاتا۔ بہو گھر رہ کر گھر کے کام دیکھے اور گھر کی زمہ داریاں سنبھالے۔"
ملک اختر کے والد کی اتنی آمدن نہ تھی کہ وہ بیٹے کو اعلی تعلیم دلا سکیں مگر داماد کی خواہش کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس کے تعلیمی اخراجات اٹھانے شروع کر دیے۔ جب مومنہ نے بہت مشکل حالات میں اپنی تعلیم کو مکمل کیا مگر جاب کرنے کی اسے اجازت نہ مل سکی۔ مومنہ کے والدین اب بیٹی کی شادی کر کے پچھتا رہے تھے۔ کیونکہ ملک اختر کا اور اس کی ماں کا رویہ ان کی بیٹی کے ساتھ بلکل اچھا نہ تھا مگر ان کی لاڈلی اور صابر اورشاکربیٹی نے ان سے کھبی اپنی قسمت کا شکوہ نہ کیا اور نہ ہی ساس اور شوہر کی کھبی براٸی کی۔
ملک اختر کو اپنی خوبصورتی پر بہت گھمنڈ تھا ۔ یہ گھمنڈ بھی ان کی ماں نے ان کے ذہن میں بچپن سے ڈال رکھا تھا کہ میرا بیٹا اختر تو بہت پیارا ہے اور اس خاندان کا اکلوتا وارث بھی ہے۔ ملک اختر کو دل میں احساس محرومی ہوتا جب وہ اپنے پڑھےلکھے چچا کی فیملی کو دیکھتے اورپھر اپنے انپڑھ والدین کو دیکھتے تو دل میں ایک حسرت سی ہوتی کہ کاش ان کے والدین بھی پڑھے لکھے ہوتے تو وہ اپنے دوستوں سے بڑے فخر سے سب سے ملواتے مگر اپنے جب بھی ان کے دوست یار گھر آتے تو ملک اختر کے چچا کی پرسنیلٹی کی بہت تعریف کرتے ۔ پورے خاندان میں ان کے چچا چچی کی عزت تھی۔ جب وہ مومنہ اور اپنی بہن کا موازنہ کرتے تو تب بھی دل میں حسرت ہوتی کہ کاش ان کی بہن بھی اعلی تعلم یافتہ ہوتی تو اس کی شادی بھی کسی اعلی تعلیم یافتہ شخص کے ساتھ ہوتی تو اپنے بہنوئی سے اپنے دوستوں کو ملوانے میں سبکی محسوس نہ کرتے۔ جو بلکل ہی گنوار لگتا تھا۔ کیونکہ ان کی بہن اپنے خاندان میں گاؤں میں بیائی گٸی تھی۔ بےشک وہ لوگ اب شہر میں شفٹ ہو چکے تھے مگر ان کی سوچ ویسی ہی تھی۔ بہن کے بچے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ملک اختر ان بچوں کو بھی دوستوں سے ملواتے ہوے شرماتے تھے جو ان کی نظر میں گنوار اور پینڈو بچے تھے۔ وہ انہیں ایک ماموں کی طرح پیار نہ کرتے بلکہ ان کے آنے سے اکتا جاتے ۔
بہن ماں سے گلہ کرتی رہتی کہ بھاٸی اس کے بچوں کو کھبی پیارسے پیش نہیں آتے اور اس کے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں ۔ حتکہ اپنے بہنوٸی کو بھی لفٹ نہیں کراتے۔ وہ تو شکر ہے کہ میرے شوہر اچھے ہیں جو بھاٸی کے رویے کا کھبی گلہ نہیں کرتے۔ ورنہ لوگ اپنے بہنوٸی کے آگے پیچھے پھرتے ہیں خوب عزت کرتے ہیں کہ کہیں انکا بہنوٸی ناراض نہ ہو جائے مگر ادھر تو معاملہ ہی الٹا ہے بلکہ میرے شوہر جا جا کر بڑی عزت سے ان سے ملتےہیں۔ اس کی ماں اس بات کا الزام بھی بہو پر لگا دیتی
"یہ سب اس منحوس ماری بہو کا کیا دھرا ہے۔ ایک تو شادی کے بعد بھی اس کو پڑھانا پڑا پھر اس کو نوکری کی اجازت بھی مل گٸی ۔ ارے کوٸ تیرے جیسی گھریلو بہو ملتی تو میری بھی زندگی سکھ چین سے گزرتی مگر کیا کروں میں تو بےبس اور لاچار ہوں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی۔"
بہو کو دادی نے خوشی سے جاب کی اجازت دے دی تھی۔ اب ملک اختر اور ان کی ماں مومنہ کی جاب نہیں چھڑوا سکتے تھے۔ کیونکہ اس کو یونیورسٹی میں جاب مل چکی تھی ۔ مومنہ کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی کہ وہ گھر کی ساری زمہ داری پوری کر سکے۔ وہ بہت صبح سویرے اٹھ جاتی اور رات دیر تک سارے کام نمٹا لیتی۔ حتکہ ساس اور شوہر کو بھی ناشتہ کروا کر بھیجتی۔ مگر پھر بھی اس کی ساس اسے کوسنے سے باز نہ آتی۔ بیٹی کی پیدائش کے طعنے دیتی رہتی۔ ملک اختر کو بھی اس بات کا احساس دلاتی رہتی
"ایک تو اس نے بیٹی کو جنم دیا اوپر سے اپنی شکل وصورت اور کالی رنگت والی پیدا کی" حالنکہ مومنہ کی رنگت سانولی تھی اور بیٹی بھی اسی رنگت کی تھی۔ ملک اختر کو بیٹی سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔ کیونکہ ان کی ماں ہر وقت اس کی برائیاں کرتی رہتی
'جب زویا جوان ہو جائے گی تو پھر اس کی شادی کا مسئلہ پڑ جائے گا۔"
مومنہ شام کی چائے ساس اور شوہر کو پکڑانے آئی تو ملک اختر اپنی ماں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ماں بیٹے سے ایک لمبا دکھ بھرا سانس بھرتے ہوئے کہہ رہی تھی
'ہم نے تو ترس کھا کر اور اپنا سمجھ کر اپنے چاند سے بیٹے کی شادی کر دی مگر زویا کو کون پوچھے گا۔"
مومنہ نے شکوہ بھری نگاہوں سے شوہر کو دیکھا تو وہ قدرے شرمندہ سے ہو کر بیوی سے نظریں چراتے ہوئے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے
"اماں جب زویا جوان ہو گی تو تب کی تب دیکھی جائے گی آپ پہلے ہی کیوں پریشان ہو رہی ہیں۔"
تو زویا نے اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے دکھی دل سے دعا کرتے ہوئے کہا٫
"اے میرے پروردگار مجھے تجھ پر بھروسہ ہے اور تجھ سے ہی اپنی پیاری بیٹی کی اچھی قسمت کی دعا کرتی ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ میری دعا رد نہیں ہو گی اور میری دعا کی لاج رکھنا کیونکہ میں بہت بھروسے سے تم سے دعا مانگ رہی ہوں۔"
پھر مومنہ اپنی نم آنکھوں کو صاف کر کے کچن کے اندر چلی گئی ۔جب بیٹا پیدا ہوا تو تب ساس کے رویے میں یکدم بہت فرق آ گیا۔ وہ پوتے پر واری صدقے جاتی۔ پورے خاندان میں مٹھائی بانٹی اور دھوم دھام سے پوتے کا حقیقہ کیا۔ پورے خاندان کی دعوت کی اور بہت خوشی منائی مگر پوتی کے ساتھ رویہ بہتر نہ ہوا۔ اسے دیکھ کر نفرت سے منہ بنا لیتی۔ پوتا گورا چٹا اور خوبصورت تھا۔
مومنہ نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ساس نے زویا کو اچھے اور مہنگے اسکول میں پڑھانے پر کافی اعتراض کیا مگر جب مومنہ کے والد نے نواسی زویا کی تعلیم کا خرچہ اٹھانے کی زمہ داری قبول کی تو تب دادی کے اعتراض کی گنجائش نہ رہی۔
ملک اختر ماں کے پاس آ کر بیٹھے تو زویا نے حسب معمول ان کے گھر آتے ہی ان کو پانی کا گلاس پیش کیا۔ وہ پانی پی کر گلاس واپس کرتے ہوئے ماں کو منانے والے انداز میں بولے،
"اماں میں بیٹے کو بھی زویا کی طرح اچھے اسکول میں پڑھاؤں گا۔" تو دادی نے بڑی خوشی سے اجازت دیتے ہوئے کہا
"کیوں نہیں ،میرا بیٹا ۔ میرا پوتا کیوں اچھے اسکول میں نہ پڑھے، جب لڑکیوں کی تعلیم پر اتنا روپیہ برباد ہو رہا ہے جس کا کوئی فاہدہ نہیں۔ اس نے پرائے گھر جانا ہے تو لوگوں کے فائیدے کے لیے اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے تو اپنی بیٹی کو گھر بھر کر جہیز دیا مگر اس کی تعلیم پر اتنا روپیہ برباد نہیں کیا۔ اس کی سسرال میں اس کے جہیز کی خوب واہ واہ ہوئی۔"
ملک اختر نے اماں کو سمجھانے والے انداز میں کہا
"اماں جو ٹرک بھر کر آپ نے بیٹی کو جہیز دیا تھا وہ ایک سو ایک جوڑا وغیرہ وہ سب اب کسی کے کام کے نہیں رہے کیونکہ اب ان ریشمی جوڑوں کا فیشن ختم ہو چکا ہے۔ آپ نہ جانے کب سے اس کے جہیز کی چیزیں اکٹھی کر کے رکھ رہی تھیں اور سارے برتن بھی کچھ شفٹ کرتے وقت کافی سارے ٹوٹ گئے۔ فرنیچر بھی ناقص نکلا۔ آپ کے جاننے والے نے آپ کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اگر ان ساری چیزوں کو جمع کرکے پیسہ برباد کرنے کی بجائے ان کی پڑھائی پر خرچ کرتیں تو بہت فائدے ملتے۔"
زویا کی ماں نے ملک اختر کو بہت منت سماجت سے منا ہی لیا کہ ہماری بیٹی کی عزت کا سوال ہے۔ آپ دوسروں کا نفسیاتی علاج کرتے ہیں کہیں اپنی بیٹی بھی اس مرض میں مبتلا نہ ہو جائے اور چراغ تلے اندھیرا والا محاورہ سچ نہ ہو جائے۔ یہ کہہ کر وہ کچن میں اماں کیلئے دودھ گرم کرنے لگی۔
اماں اپنی خوراک سے کھبی کمی بیشی یا ناغہ برداشت نہ کرتی تھیں ۔اس لیے مومنہ کھبی ان کی کھانے پینے کی روٹیاں میں کمی نہ آنے دیتی تھی ۔ کیونکہ جب سے ملک اختر کی دادی کی وفات ہوئی تھی۔ مومنہ کی ساس کو اب کسی کا ڈر اور لحاظ نہ رہا تھا۔ ایک بار مومنہ کسی کام کی تھکن کی وجہ سے اچانک صوفے پر بیٹھتے ہی سو گئی تھی اور اماں دودھ پینے کے انتظار میں بیٹھی اندر ہی اندر غصے سے کھول رہی تھی۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد وہ ملک اختر کو زور زور سے آوازیں دینے لگیں۔ ملک اختر اپنے گھر کے مخصوص کمرے میں حسب معمول بیٹھے لیب ٹاپ پر دیر تک مگن رہتے تھے اور کافی لیٹ کمرے میں سونے آتے تھے۔
مومنہ اکثر سارا دن کی تھکن سے نڈھال سو جاتی تھی۔ آج وہ ایک منٹ کیلئے صوفے پر ٹیک لگا کر اپنی دکھتی کمر کو سہلانے کے نظریے سے بیٹھی اور وہیں بیٹھی بیٹھی سو گئی۔ اماں کی چیخنے چلانے کی آواز سے مومنہ کی آنکھ کھلی اور وہ ان کے کمرے میں بھاگی گئی تو وہ اسے دیکھ کر غصے سے چلاتے ہوئے اسے دودھ کا گلاس نہ لانے پر لعن طعن کرنے لگی
"کب سے وہ دودھ کا انتظار کر رہی ہے پھر اس نے سونا بھی ہے۔"
مومنہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور بہت معزرت کرتی وہ تیزی سے دودھ لینے کچن میں چل پڑی۔ شور سنکر ملک اختر بھی بھاگے آئے اور اماں کی ساری باتیں ان کے کانوں میں پڑیں۔ بچے بھی ڈرے سہمے روتے ہوئے نیند سے جاگتے ہوئے حیرت سے دیکھ کر بےبسی کی شکل بنا کر دبے انداز میں رو رہے تھے۔ مومنہ بہت معزرت کرتے ہوئے بتانے لگی
"وہ نہ جانے کیسے صوفے پر بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔"
مگر ساس نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتھ سے لیکر زور سے زمین پر پٹخ دیا اور بیٹے سے روٹھے انداز میں دیکھ کر لیٹتے ہوئے بولی
"اس منحوس کو میرے سامنے سے دور لے جاؤ۔ میں اس کے ہاتھ سے اب کھبی کچھ نہیں کھاؤں پیوں گی"
اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی۔ مومنہ ان کو منانے کیلئے آگے جانے لگی تو ملک اختر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ مومنہ قدرے حیرت سے دیکھتے ہوئے کمرے میں آ کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔ ملک اختر نے جوں ہی کمرے میں قدم رکھا تو مومنہ نے روتے ہوئے صفائی دینے کی کوشش کی تو ملک اختر نے اسے وارننگ دینے والے انداز میں کہا
"آج کے بعد تم اماں کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی اور نہ ان کے سامنے جاؤ گی۔ میں کل ہی رجو خالہ کو دن رات کیلئے ان کی خدمت پر مامور کر دوں گا۔"
رجو جو ان کی پرانی ملازمہ تھی۔ وہ سارے کام کرنے کے بعد شام کو گھر چلی جاتی تھی۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کے پاس مجبوری رہتی تھی کیونکہ داماد اسے گھر رکھنے پر خوش نہ تھا اور اکثر طعنے دیتا رہتا تھا اور رجو کوئی اور ٹھکانہ نہ ہونے کے باعث ان کے پاس رہنے پر مجبور تھی۔
مومنہ ملک اختر کی بات سنکر کافی حیران نظروں سے ان کو دیکھنے لگی تو وہ کمرے سے باہر نکل گئے ۔
مومنہ یہ دیکھ کر کافی حیران ہوئی جب وہ بچوں کے کمرے میں جانے لگی تو اسی وقت ملک اختر بچوں کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ باہر رک گئی ۔
ملک اختر نے بچوں کو بہت پیار سے لٹایا۔ بچے حیرت سے باپ کی شکل دیکھنے لگے جس نے کھبی ان سے فالتو بات کھبی نہ کی تھی۔ پہلے وہ تھوڑا جھجکے پھر خوش ہونے لگے۔ باپ کے پیار اور توجہ کیلئے ترسے ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ خوش ہونے لگے۔ جب باپ نے پاس لیٹ کر ان سے بات چیت کی پھر سٹوری سنائی تو وہ خوشی سے مسکراتے ہوئے سٹوری سنتے سنتے نیند کی آغوش میں چلے گئے ۔
پہلی بار ملک اختر کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگا۔ آج ان کو پہلی بار اپنی ماں کا رویہ غلط لگا اور مومنہ سچی لگی۔ وہ دیکھتے رہتے تھے کہ وہ کیسے ان کی ماں کی خدمتوں میں ہر وقت لگی رہتی تھی مگر ماں پھر بھی مومنہ سے خوش نہ ہوتی تھی۔ ہر وقت اس کے ہر کام میں سو کیڑے نکالتی اور بیٹے کے دل کو بیوی کی طرف سے متنفر کرنے کی کوشش کرتی رہتی اور بیٹا بھی ماں کی ہر بات کو سچ مانتے ہوئے بیوی سے رویہ اکڑ والا اور غصے والا رکھتا۔ دادی بچوں کی تربیت پر بھی کان بھرتی اور ملک اختر کو یہ کہتی
"اس کے بچے دنیا کے سب سے بدتمیز بچے ہیں جو دادی سے فالتو بات نہیں کرتے اور نفرت کرتے ہیں۔"
جبکہ دادی بچوں سے نفرت کرتی کھبی پوتے کو بیٹے کے سامنے پیار جتانے کی کوشش کرتی مگر بچہ دادی سے ڈرتا تھا اور قریب نہ آتا اور بیٹی فالتو بات نہ کرتی کہ اس کی سیدھی بات کا بھی دادی الٹا مطلب نکال کراس طعنے دیتی اور زویا اسی ڈر سے ان سے فالتو بات نہ کرتی۔ جبکہ دادی ملک اختر کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی کہ سارا دن اس کے بیوی بچے اس کی زندگی جہنم بنائے رکھتے ہیں ۔ دادی اکثر بیٹے سے کہتی کہ تمہیں کیا پتا کہ میرا سارا دن کس مشکل سے گزرتا ہے ۔
رات کو بیٹی کی عزت کا واسطہ دے کر مومنہ کتنی دیر اس کی منتیں کرتی رہی کہ وہ منڈے کو ضرور اس کے ساتھ اسکول جائیں ۔
اسی وقت ملک اختر کو دل میں بہت شرمندگی محسوس ہوئی جب آج ہی وہ اپنے کلینک میں ایک فیملی کو وہ لیکچر دے رہے تھے کہ بچوں کو وقت دو۔ ان کے اسکول کے ہر ایونٹ میں ان کے ساتھ جاؤ جبکہ وہ خود کیا کر رہے تھے۔ اسی فیملی کے باپ نے ملک اختر سے سوال کیا تھا
"آپ تو بچوں کا کوئی ایونٹ بھی مس نہ کرتے ہوں گے۔"
اسی وقت انہوں نے دل میں شرمندگی محسوس کرتے ہوئے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ اب وہ خود بھی ایسے ہی بنیں گے جیسے وہ لوگوں کو سمجھاتے ہیں۔ پھر جب ماں کی باتیں سنی تو دل میں کافی حیرانگی ہوئی کہ اتنی معمولی بات پر ماں نے کتنا واویلہ مچایا۔ جبکہ مومنہ کا کوئی قصور بھی نہ تھا۔
مومنہ کو ملک اختر کے رویے پر حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہو رہی تھی کہ اس کی کتنی شدت سے خواہش رہی تھی کہ اس کا شوہر اس کے بچوں کا دوست بنے ان کو وقت دے ان کے اسکول کے ہر ایونٹ میں شامل ہو۔
ملک اختر ان کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے پر بیوی کو پیسے دیتے کہ انکو ان کی پسند کے گفٹس لے دینا۔ بچے مایوس سے ہو جاتے۔ ان کو کچھ بھی لینے کا دل نہ کرتا۔ کیونکہ ان کے نانا نانی ان کی ہر خوشی پر ان کو ڈھیریوں گفٹس دیتے ۔ان کی ہر خوشی کو حتمی سالگرہ تک کو بھی اپنے گھر بہت دھوم دھام سے مناتے۔ ملک اختر اور ان کی ماں ان کے گھر ایک مہمان کی حیثیت سے جاتے۔ ملک اختر اکثر لیٹ آتے، جب مہمان چلے جاتے اور گھر کے افراد رہ جاتے۔ وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے۔ انہیں مہمانوں سے کوفت محسوس ہوتی۔ ان کے اندر احساس کمتری جاگ جاتا کہ کاش یہ سب ان کے والدین کرتے۔ مگر یہاں تو دادی نے بھی کھبی کوئی تحفہ بچوں کو نہیں دیا تھا۔ بس دھڑلے سے جاتیں اور خوب خاطر مدارات کراتی۔ مومنہ اور اس کے والدین ایک تو بیٹی کی ساس اور دوسرے بڑی بھابھی اوپر سے بیوہ بھی۔ تو بھائی کی انسیت سے بھی دل وجان سے احترام کرتے۔ زیادہ تر منہ بنا کر بیٹھی رہتی اور نوک ٹوک لگی رہتی۔ بیٹے کے آتے ہی نرم خو بن جاتی۔
ملک اختر نے دوسرے دن ہی صبح صبح فون کر کے رجو کو بلوا لیا اور اسے اس کی من مانگی تنخواہ پر دن رات کے لیے ماں کی خدمت کیلیئے رکھ لیا۔ رجو کے تو وارے نیارے ہو گئے ۔اس نے درخواست کی
'اماں جی کو اور میری بیٹی اور داماد کو میری پرانی تنخواہ ہی بتائی جائے۔"
ساتھ اس نے اماں جی کے حوالے سے معزرت بھی کرلی۔
ملک اختر جو اپنی اماں کی عادات کو جانتے تھے ۔سوائے رجو کے وہ کسی اور ملازمہ کو ٹکنے نہیں دیتی تھیں ۔ رجو اب بوڑھی ہو رہی تھی ۔ مگر مومنہ کسی اور ملازمہ کو نہ رکھ سکتی تھی۔ حالانکہ اسے ملازمہ کی سخت ضرورت تھی۔ اماں بھی شام کو جلدی ہی جان بوجھ کر اسے گھر بھیج دیتی تھیں اور باقی کام تاکہ مومنہ کو ہی کرنے پڑیں۔ رجو کو مومنہ کے کام کروانے کے دوران اونچی اونچی آواز میں آواز دے کر بلاتی رہتی۔ کام کچھ بھی نہ ہوتا مگر پانی لا دو۔ یہ چیز پکڑا دو۔
چائے بھی مومنہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی پیتی اور روٹی بھی اسی کے ہاتھ کی پکی کھاتیں۔ وہ کالج سے واپسی پر کھبی مجبوری لیٹ بھی ہو جائے تو رجو سے روٹی نہ پکواتیں اور مومنہ کی آتے ہی شامت آ جاتی
"میں کب سے بھوکی بیٹھی ہوئی ہوں۔ اسی لیے میں عورتوں کی نوکری کے خلاف ہوں۔"
کئی بار تنگ آ کر مومنہ نے نوکری چھوڑنی چاہی مگر ملک اختر نے اسے چھوڑنے نہ دی ۔شاید اس خوف سے کہ اگر وہ سارا دن گھر رہے گی تو اماں کی شکایتوں میں اور اضافہ ہو جائے گا۔ پہلے ہی وہ اماں کی شکایتوں سے عاجز رہتے تھے۔ دوسرے وہ سسرال کے احسان تلے دبے بھی ہوئے تھے۔ حالانکہ ان کے سسرال والے انہیں بہت عزت واحترام سے پیش آتے تھے۔ کھبی بھی انہوں نے اپنے احسانات گنوانے یا جتانے کی کوشش نہیں کی اور مومنہ تو ہر وقت ایسے ساس اور شوہر کے آگے بچھی رہتی جیسے وہ اس پر احسان کر رہے ہیں ۔
اسی احساس محرومی کے پیش نظر ملک اختر مومنہ پر ہر وقت رعب جھاڑتے رہتے۔ ساس سسر سے بھی اکڑے رہتے اور فالتو بات نہ کرتے ۔ اس طرح وہ اپنی اناء کو تسکین پہنچاتے رہتے۔
صبح اٹھتے ہی انہوں نے کلینک فون کر دیا تھا کہ وہ چند دن کلینک نہیں آئیں گے۔ مومنہ کافی حیران ہوئی کیونکہ وہ کھبی چھٹی نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے مومنہ کو سختی کے ساتھ اماں کے کمرے میں جانے سے منع کر دیا اور ناشتہ بھی باہر سے منگوایا اور بچوں کو اسکول بھی خود چھوڑنے گئے وین والے کو کہا کہ واپسی پر تم لے آنا۔ مومنہ کو بھی کالج سے تین دن کی چھٹی لینے کا کہا۔ اسے بھی آسانی سے چھٹی مل گئی ۔
انہوں نے کلینک سے لڑکے بلا کر اوپر پورشن کو خالی کروا کر صفائی کروائی اور فالتو سامان انہیں لے جانے کا کہا۔ اماں کمرے سے باہر آتیں دیکھتیں اور بیٹے کو مخاطب کرنے کی کوشش کرتی مگر بیٹا انجان بن کر اگنور کر دیتا۔ وہ غصے سے بہو کو دیکھتی اور بڑبڑاتی ہوئی کمرے میں چلی جاتیں۔ ملک اختر نے بیوی کو کمرے میں ہی رہنے کا آرڈر دے دیا۔
رجو نے ہی اماں کو ناشتہ بنا کر دیا۔ جو تھوڑا بہت انہوں نے کھایا۔ بیٹی کو اماں نے تمام صورتحال بتا دی۔ اسے چند دنوں کیلئے گاؤں میں کسی شادی پر جانا تھا وہ اماں سے معزرت کرتی گاؤں روانہ ہو گئی۔
دن کو رجو نے اماں کا اور اپنا کھانا بنایا مگر اماں نے کھانے سے انکار کر دیا۔ رجو جو کئی سالوں سے ان کے گھر میں کام کرتی آ رہی تھی۔ اسے سب حالات سے واقفیت تھی۔ اماں کا بہو کے ساتھ ناروا سلوک، بہو کا چھپ چھپ کے رونا اور پھر بھی کوئی گلہ نہ کرنا۔ رجو کو مومنہ پر بہت ترس آتا تھا۔
دن کو بچے اسکول سے واپس آئے تو باپ نے ان کے لیے کافی کھانے کی چیزیں آرڑر کی ہوئی تھیں۔ ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ ان چیزوں کیلئے ترستے رہتے تھے مگر اماں نے بہو کو کھبی ایسی چیزیں منگوانے کی اجازت نہ دی تھی۔ بہت لڑتی تھی اگر کھبی منگوا بھی لے تو۔ مومنہ ساس کے ڈر سے منگواتی ہی نہ تھی۔ کہ گھر کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے اور منگوانے اور کھانے کی خوشی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر ملک اختر سے الگ ڈانٹ پڑتی ہے کہ بہو بچوں کی صحت خراب کرنا چاہتی ہے۔
بچے ننھیال جا کر اپنی خواہشات پوری کر لیتے تھے مگر وہاں پر بھی اماں سے رہنے کی اجازت نہ ملتی تھی کہ میں بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ حتکہ ان کی سالگرہ پر بھی مومنہ صبح جاتی اور رات کو واپس آنا پڑتا۔
ملک اختر نے مومنہ اور بچوں کو ننھیال چھوڑنے گئے اور بولے
"یہ چند دن ادھر سے ہی اسکول جائیں گے۔"
پھر سسر سے کچھ خفیہ باتیں کیں۔ وہ کچھ پریشان اور کچھ خوش ہوئے۔ مومنہ خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ وہ ویسے بھی کسی معاملے میں مداخلت نہیں کرتی تھی اور نہ ہی کریدنے کی کوشش کرتی تھی۔ ملک اختر سے ڈرتی بھی بہت تھی۔
ملک اختر اسے ساتھ مارکیٹ لیکر گئے اور اسے اوپر پورشن کا سامان فرنیچر اور پردے قالین وغیرہ پسند کرنے کا حکم دیا۔ پہلے وہ جھجکی تو جب انہوں نے اسے کہا
"ہم اوپر والے پورشن میں شفٹ ہو رہے ہیں اور اماں نیچے رہیں گی رجو ان کی دن رات کی دیکھ بھال کرنے کیلئے رکھ لی ہے۔"
تو مومنہ نے اداسی سے کہا
"ہم اماں سے الگ کیسے رہ سکتے ہیں"
تو ملک اختر نے کہا
"وہ الگ نہیں ہیں۔ نیچے ہی ہوں گی اور رجو دن رات پاس ہو گی۔ ایک نرس دن کو ان کی خدمت میں رہے گی اور رات کو ہم موجود ہیں۔ میں نے ان کے کمرے میں اور پورے گھر میں کیمرے لگوا دیے ہیں۔ ہم چوبیس گھنٹے ان کو دیکھ سکیں گے۔ اگر کوئی مسلئہ ہوا تو ہم فوراً پہنچ سکتے ہیں۔"
ملک اختر مومنہ کو سمجھاتے ہوئے بولے
"میں نے اندازہ لگا لیا ہے کہ تم بےلوث ہو کر ان کی خدمت میں لگی رہتی ہو مگر وہ اتنا ہی تمہاری بےقدری کرتی ہیں ۔ بچوں کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ بچے ہر وقت ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ تم بھی پُرسکون ہو کر بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی۔ تم میرا اور میرے بچوں کا سہارا ہو۔ تم ہم سب کیلئے بہت قیمتی ہو۔"
مومنہ یہ سب سنکر حیرت سے ان کو دیکھنے لگی۔
ملک اختر نے اس کے تاثرات کو نوٹ کرتے ہوئے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا
"تم کچھ عرصہ جب تک اماں کو تمہاری قدر نہیں آتی ان کے پاس کیا سامنے تک نہیں جاؤ گی۔ میں آنے جانے کا راستہ بھی باہر سے رکھوں گا۔"
مومنہ نے ایک گہری سانس لی اور پوچھا
"یہ سب ہمیشہ کیلئے تو نہیں ہو گا نا۔"
ملک اختر محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسکا ہاتھ پیار سے پکڑ کر بولے
"میری بےلوث اور مخلص شریک حیات، میں جانتا ہوں تم اماں سے دل سے پیار کرتی ہو۔ تم میرے اس اقدام سے خوش نہیں ہو۔ تمہیں بھی سہنے کی عادت پڑ چکی ہے مگر اب ایک لمحے کیلئے بھی میں کسی کو دکھ دینے کی اجازت نہیں دوں گا۔ چاہے وہ میری اپنی ماں ہی کیوں نہ ہوں۔ میں نے تم پر بہت زیادتیاں کیں۔ بچوں کو وقت نہ دیا۔ مجھے معاف کر دو۔ کل اگر اماں تمہیں دودھ دیر سے لانے پر اتنا عتاب کا نشانہ نہ بناتیں تو مجھے ان کے رویے کی بدصورتی اور زیادتیوں کا شاید ابھی بھی احساس نہ ہوتا۔"
مومنہ جو ان کی پیار بھری باتوں سے اور پیار بھری نظروں سے شرما رہی تھی، اسے لگ رہا تھا کہ اس کے والدین اسے ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے اور اسکا حوصلہ بڑھاتے کہ بیٹی وہ تماری ساس ہی نہیں تائی بھی ہیں۔ وہ بوڑھی ہیں ان جیسی نیچر کے لوگوں کو خوش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر انکا رتبے اور مقام کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا ہے۔ تم ان کی دل سے خدمت کرنا نہ کہ شوہر کے ڈر سے یا اسے خوش کرنے کیلئے۔ اب وہی تمہاری لیگل ماں بھی ہیں ۔ ہم نے تو رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت پوری کرتے ہوئے تمہیں ان کے سپرد کر دیا ہے۔ تم اب ہماری نہیں، ان کی ہو۔ اگر ان کی خدمت دل سے کرو گی تو اللہ پاک کی رضا بھی حاصل ہو گی اور صبر کا اجر عظیم بھی ملے گا۔ بس اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو ایک دن وہ ضرور تماری قدر کریں گی انشاللہ۔
مومنہ کو لگا جیسے اس کی دنیا ہی بدل چکی ہے۔ شوہر کا پیار عورت کو جواں اور تندرست رکھتا ہے۔ پھر وہ سب کچھ آسانی سے سہہ لیتی ہے کہ چلو شوہر تو میرے ساتھ ہے۔ ادھر مومنہ کے والدین خود بھی اماں کی بہت عزت کرتے تھے اور بیٹی کو بھی باور کرواتے رہتے تھے کہ اماں کے ساتھ کھبی بدتمیزی نہ کرنا۔ پلٹ کر کھبی جواب نہ دینا۔ جو وہ اگر تم میں نقص نکالتی ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ساری خامیاں تم میں موجود ہیں ۔ اگر تم نے ان سے بدتمیزی کی تو ہم تم کو کھبی معاف نہیں کریں گے اور تم سے ہمیشہ کا ناطہ توڑ لیں گے۔ بڑوں کی عزت نہ کرنے والی ہمیں بیٹی نہیں چاہیے۔
تب سے مومنہ کھبی ساس کے روئیے سے بہت تنگ بھی پڑتی اور کھبی اسکا حوصلہ بھی ٹوٹنے لگتا۔ دوسرے بھی اسے کھبی ورغلانے کی کوشش کرتے کہ تم بزدل بن کر رہتی ہو اسی لیے یہ شیرنی بن کر تم پر گرجتی ہیں۔ مومنہ ان کی باتوں کا برا مناتی اور انہیں ٹوک دیتی کہ وہ میری ماں ہیں اور ماں کے خلاف کوئی نہیں سن سکتا۔ کچھ لوگ اسے بےوقوف کہتے۔ کچھ لوگ عزیز رشتے دار یہاں تک بھی کہتے کہ یہ کالی ہے اور شوہر اسکا خوبصورت ہے تو یہ اسی ڈر سے ان ماں بیٹے کے آگے بچھی رہتی ہے کہ وہ اسے قبول کیے رکھیں ۔
مومنہ نے کھبی کسی کے سامنے ان کی برائی نہ کی۔ مگر اماں ہر جگہ اسکا تماشا بنا دیتی تھیں۔ سارے خاندان بھر میں اس کی برائیاں کرتی پھرتی تھیں۔ سب جانتے تھے کہ وہ خود کیسی تھیں، ہٹ دھرم اور ضدی اور خندق رکھنے والی کھبی کسی کو معاف نہیں کرتی تھیں۔ صاف کہتی تھیں کہ انہوں نے کھبی کسی کو معاف نہیں کیا۔ حالانکہ کسی کو معاف کرنے سے اپنے گناہ جھڑتے ہیں۔ سب رشتے دار اسے مظلوم سمجھتے تھے ۔
مومنہ نے اوپر پورشن تو اپنی پسند سے سیٹ کروا لیا۔ مگر وہ باہر سے راستہ اوپر جانے پر نہیں مانی۔ اس نے شوہر سے وعدہ کیا
"وہ کچھ عرصہ اماں کے سامنے نہیں آئے گی اور بچوں کو بھی دور رکھے گی۔ مگر آتے جاتے ہم انکو نظر تو آنے چاہئیں۔"
ملک اختر نے مومنہ سے کہا
"میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہوں اور یہ سب کچھ انہیں احساس دلانے کیلئے ضروری ہے۔ میری بہن سے بھی بات چیت نہیں کرو گی اور لاتعلق رہو گی۔ کیونکہ وہ ماں بیٹی پارٹی بن جاتی تھیں اور مجھے تمہارے خلاف اتنا کر دیتی تھیں کہ میں غصے سے بھر جاتا تھا اور تمہاری شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتا تھا۔ اسے بھی اپنے کیے کی سزا ملی چاہیے۔ میری ماں بہن نے مجھے بہت زہنی ازیت میں مبتلا رکھا۔ ہم مرد اپنے پیاروں کی محبت میں ان پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے بیوی کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کو نہ خود انجوائے کرتے ہیں نہ ان کو کرنے دیتے ہیں۔ گھر کا سکون برباد کر کے باہر سکون ڈھونڈتے ہیں۔ مانا کہ کچھ بیویاں بھی سیاسی ہوتی ہیں اور ماں مظلوم مگر بیٹے اور شوہر کو دوسرے کی باتوں میں آ کر ایکشن نہیں لینا چاہیے۔ عقلمندی سے سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے جو غلطی پر ہو اس کو اکیلے میں سمجھانا چاہیے اور سختی لاسٹ آپشن رکھنا چاہیے۔
اماں پہلے تو بھڑکتی رہی۔ بیٹی بھی ہاں میں ہاں ملاتی رہی مگر جب دونوں نے دیکھا کہ بھائی مکمل طور پر بیوی بچوں کا ہو کر رہ گیا ہے اور ان سے بھی ملنا جلنا اور بات چیت کرنا چھوڑ دیا ہے تو وہ اب پچھتانے لگیں۔ بیٹی کا شوہر بھی باہر ملک چلا گیا تھا تو اسے واپس ساس سسر کے پاس گاؤں جانا پڑا۔ اب وہ کم ہی آتی۔ بچوں میں مصروف ہو گئی۔ بچے اسکول جانے لگے۔
اماں اب بہو کی شکل کو ترسنے لگی۔ بیٹا ماں کے پاس بلانے پر ہی آتا اور آکھڑا سا رہتا اور مختصر بات چیت کر کے سنجیدہ شکل بنا کر چل پڑتا۔ اگر اماں مومنہ کے خلاف کچھ بولنے لگتی تو وہ غصے سے اٹھ کر یہ کہہ کر جاتا کہ جب آپ کا بہو کی طرف سے دل صاف نہ ہو تو میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔
اماں اب بیٹے بہو اور پوتے پوتی کیلیئے ترسنے لگی۔ مومنہ کے والدین نے بھی ایک بار بھی آ کر اسکا حال نہ پوچھا کیونکہ ملک اختر نے ان کو بھی سختی سے اماں کے پاس جانے سے منع کیا تھا۔ ان کو تسلی دی تھی
"وہ اپنی ماں کو ہر وقت کیمرے میں دیکھتے رہتے ہیں اور ان کو راہ راست پر لانا چاہتے ہیں کیونکہ کسی پر بھی زیادتی کرنا، بہت بڑا گناہ ہے اور وہ انہیں اس گناہ سے بچانا چاہتے ہیں"
ملک اختر سوچ رہے تھے میں نے اتنا وقت بغیر بیوی بچوں کی کمپنی کے برباد کیا۔ باہر سکون ڈھونڈتا رہا مگر سکون تو ان کے اپنے گھر میں موجود تھا۔
اگر کوئی عقل شعور سے سوچے تو گھر جیسا سکون کہیں اور نہیں مل سکتا۔ یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس گھر کو جنت کا گہوارہ بنائیں یا دوزخ کا۔ ویسے تو میاں بیوی ملکر ہی اسے جنت بناتے ہیں انسان فرشتہ تو نہیں ہے کہ اس سے غلطیاں نہ ہوں۔ اگر غلطی ہو جائے تو معاف کر دینا اور درگزر سے کام لینا ہی عظمت ہے۔ اپنے لائف پارٹنر کو خوبیوں اور خامیوں سمیت دل سے قبول کرلیں تو تب ہی ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا کر گھر کو جنت بنا سکتے ہیں۔
ملک اختر سوچ رہے تھے اب میری زندگی کتنی سکھی ہے۔ اپنی بیٹی کے اسکول جانے کیلئے مومنہ نے کتنی منت سماجت کی تھی۔ وہ کلینک سے آتے سمے پہلے ہی کچھ پگھل چکے تھے اور بیٹی کے اسکول جانے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔ انکا دل اپنے بیوی بچوں کی طرف سے نرم پڑ چکا تھا اور اپنی زیادتیوں پر پچھتاوا بھی ہو رہا تھا۔ وہ دوسروں کے مسئلے سلجھاتے تھے اور اپنے گھر کے مسئلوں کی طرف دھیان ہی نہ تھا۔ وہ بیٹی کے اسکول پہلی بار گئے تھے اور انہوں نے دیکھا بیٹی بار بار ان کی طرف دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی اور سب کو خوشی سے دمکتے چہرے سے سب کو اشارے کر کے بتا رہی تھی کہ وہ اس کے پاپا ہیں۔
وہ دل میں شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔ کاش وہ یہ سب پہلے ہی کرتے ۔ مومنہ کے آگے دل کھول کر رکھ دیا تھا اور روتے اور معافیاں مانگتے تھے۔ مومنہ ان کو تسلی دیتی کہ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ ہم اب بھی آئیڈیل لائف گزار سکتے ہیں ۔
ملک اختر کی بہن بھی اب کافی سدھر چکی تھی۔ کیونکہ جب سے اس کے شوہر کی اچانک وفات ہوئی تھی تب سے وہ بہت روتی اور معافیاں مانگتی تھی اور مومنہ اسے تسلی دیتی اور اس کے دونوں بچوں کو اپنے پاس لے آئی تھی تاکہ ان کو پڑھا لکھا سکے۔ وہ ان پر بہت محنت کر رہی تھی۔ اماں اب ہار چکی تھیں۔ مومنہ نے شوہر کو منا کر نیچے شفٹ ہو چکی تھی اور اماں اب بیٹی کے بیوہ ہونے سے کافی نرم خو ہو چکی تھیں ۔ مومنہ سے بہت معافی مانگتی اس کی ہر آنے جانے والے سے تعریف کرتیں اور اب بیٹے کو بھی کہتی کہ اس ہیرے کی قدر کرنا۔ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمیں یہ ہیرا ملا ہے پھر اپنے دیور اور دیورانی کو بھی کہتی کہ یہ ہیرا تم لوگوں کی بہترین تربیت کا نتیجہ ہے۔
ملک اختر اب سب کو فخریہ بتاتے کہ ان کی بیوی دنیا کی واحد عورت ہے جو دل سے سسرال والوں کی قدر کرتی ہے اور انکا بھلا چاہتی ہے ۔
اماں اب زیادہ وقت عبادت میں گزارتیں۔ ان کے نواسے شہر کے بہترین اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ کافی سلجھے ہوئے بچے بن گئے تھے۔
ملک اختر بہن کی خیریت دریافت کرنے اکثر ویک اینڈ پر سب کو گاؤں لے کر جاتے۔ بچے بھی ماں سے مل لیتے اور ملک اختر کے بچے بھی گاؤں کو انجوائے کرتے ۔ان کی پھوپھو اب ان پر جان چھڑکتی تھی۔
اماں کو فالج کا اٹیک ہوا مومنہ نے بہت خدمت کی۔ بہن بھی گاہے بگاہے چکر لگاتی رہتی زیادہ رک نہیں سکتی تھی کہ اس کے ساس سسر دونوں ہی ایک ساتھ بیمار ہوئے تھے اور ان کی دیکھ بھال والا اور کوئی نہ تھا سوائے ملک اختر کی بہن کے۔
ملک اختر کی بہن کے ساس سسر ایک ہفتے کے وقفے سے وفات پا چکے تھے۔ مومنہ نے گاؤں جا کر زبردستی نند کو اپنے پاس شفٹ کروا لیا کہ اب اکیلے انہیں گاؤں میں نہیں رہنے دیں گے۔
ملک اختر کی بہن ماں کے کمرے میں ہی سوتی اور حیران ہوتی کہ کیسے اس کی بھابھی مومنہ کو اماں کو دوا دینے کا وقت یاد ہوتا ہے ۔اس نے نند کے آنے کا فائیدہ نہیں اٹھایا اور خود ہی ساس کی دیکھ بھال میں لگی رہتی ۔
اماں کی حالت نازک ہو گئی انہیں ہسپتال لے جایا گیا دو دن کے بعد وہ فوت ہو گئی۔ مومنہ ٹیرس پر بیٹھی لیب ٹاپ پر کام کر رہی تھی کہ اس کی نند چائے کا کپ اور ساتھ گرم گرم پکوڑے لے آئی کہ بھابھی آپ تھک گئی ہوں گی تو وہ چائے اور پکوڑے دیکر چلی گئی ۔
مومنہ چاے پیتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اسے صبر کا کتنا اچھا پھل ملا ہے۔ نند نے گھر کی تمام ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ اور وہ اب زیادہ وقت فارغ رہتی۔ نند اس کو کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی۔ نند اس کی احسان مند تھی کہ اس کے بچے بہت اچھی تعلیم پا رہے ہیں اور اسے بچوں سمیت بھابھی نے اپنے گھر میں جگہ دی۔
مومنہ پچھلا وقت سوچ کر ہی کانپ گئی اور اس اچھے وقت کا اللہ تعالیٰ سے شکر ادا کرنے لگی۔
ختم شد
.
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.