Bay Zabaan Phool
Episodes
وہ لوگ مارکیٹ اترے تو، رملہ بچوں کی شاپ کی طرف چل پڑی۔
اس کی بھابھی نند سے آہستہ سے بولی، لگتا ہے بےچاری گفٹ لینے جا رہی تھی۔ بھابھی نے کہا، رملہ وہ نہ رکی،
سعد کی بھابھی نے کہا، اف یہ تو گونگی ہے۔
سعد کی بہن بولی، یہ سن تو سکتی ہے۔
ٹہرو میں آواز دیتی ہوں۔ اس نے سنا نہ ہو گا۔
اس نے زور سے پکارا، رملہ۔
رملہ فوراً رکی پیچھے مڑ کر دیکھا۔
سعد کی بہن نے کہا، اپنا فون نمبر دے دو، کہیں ادھر ادھر ہو گئی تو فون کر کے جواب میں میسج لکھ دینا۔
اس نے رک کر تھوڑی دیر سوچا، پھر موبائل مانگا ہاتھ کے اشارے سے۔
سعد کی بہن کے ہاتھ میں سعد کا فون تھا بچہ سعد کو پکڑاتے ہوئے اس نے پکڑ لیا تھا۔ جلدی سے وہی پکڑا دیا۔
سعد دل میں خوش ہونے لگا۔
رملہ نے دیکھا لاک کھلا ہوا تھا اس نے جلدی سے فون نمبر لکھا اور اشارہ کیا کہ سیو کر لیں۔ بہن نے سعد کو فون پکڑا کر کہا، اسے سیو کر کے ہم لوگوں کو بھی سینڈ کر دو۔
وہ بولیں، جب ہم شاپنگ ختم کر چکیں گی تو فون کر لیں گی۔
سعد بولا، اچھا میں کاکے کو ساتھ رکھتا ہوں۔
وہ رملہ کو بھی سمجھانے لگیں کہ آپ اپنی شاپنگ کر کے فون کر دینا یا گاڑی کے پاس چلی جانا۔
رملہ کھلونوں کی شاپ میں چل پڑی۔
سعد بھی اسے قدرے فاصلے پر فالو کرنے لگا۔ سعد نے بچے کو بھی اٹھایا ہوا تھا۔
اس نے جلدی سے چند کھلونے اور ایک بے بی سوٹ لیا اور شاپر اٹھا کر باہر آ گئی۔
پیچھے سے سعد نے قریب آ کر آواز دی۔
رملہ رک گئی چہرہ ہنوز سپاٹ تھا۔
سعد نے کہا، لاو میں اسے گاڑی میں رکھ آتا ہوں۔ آپ بچے کو پکڑیں گی۔
رملہ نے بچے کو پکڑا۔ اور سعد سامان لے کر چل پڑا۔
اتنے میں سعد کی بھابھی اور بہن ادھر سے گزریں، ہاتھ میں شاپرز تھے۔
انہوں نے رملہ سے پوچھا، سعد کدھر ہے۔ اس نے اشارے سے سمجھایا۔
پاس سے دو عورتیں گزریں اور تھوڑی دیر کے لیے رک کر اسے دیکھنے لگیں اور افسوس کرتے ہوئے بولیں، ہاے بےچاری کتنی پیاری ہے پر گونگی ہے۔
سعد قریب آ چکا تھا۔ رملہ نے اشارے سے سعد کی بہن کو کہا کہ بچے کو پانی پلاو۔
وہ یکدم بولی، اوہو میں بھول گئی تھی اچھا کیا جو یاد کروا دیا۔
سعد قریب آ چکا تھا اسے بہن بولی، سعد یہ سامان گاڑی میں رکھ آو۔ اور گاڑی سے بے بی بیگ نکال لانا، اس کو فیڈر پلانی ہے۔
رملہ نے اشارے سے کہاکہ میں فیڈر پلا دوں گی۔
سعد کی بہن تشکر بھرے انداز میں بولی، بہت شکریہ۔ ویسے تمہارے پاس چپ بھی ہے رو بھی نہیں رہا۔ تم اگر شاپنگ کر چکی ہو تو گاڑی میں جا کر بیٹھ جاو۔
ہم بھی بس آتے ہیں جلدی ہے۔ گھر جا کر تیاری بھی کرنی ہے۔
سعد تم اسے گاڑی میں چھوڑ دو، اور ساتھ جوس بھی لا دینا۔
سعد نے کہا اچھا آپ لوگ جلدی کرو۔
وہ تیزی سے چل پڑیں۔
سعد نے اسے گاڑی کا پچھلا ڈور کھول کر بٹھایا۔
اور اسے بولا، میں زرا جوس لے آوں۔
رملہ نے کوئی جواب نہ دیا اسے پیاس لگ رہی تھی۔
سعد جلدی سے تیز تیز چلتا آئسکریم اور جوس لے آیا۔
رملہ کاکے کو فیڈر پلا رہی تھی۔
سعد نے اسے کہا، بچہ مجھے دے دو اور کھا لو۔ مگر اس نے انکار میں گردن ہلا کر اشارہ کیا کہ وہ سونے والا ہے۔
اس نے اشارے سے اسے جوس کھول کر دینے کا کہا،
سعد نے پھرتی سے جوس کھول کر اسے دیا اور خود بھی پینے لگا۔
اپنی ہمت مجمع کر کے اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا کہ جلدی سے دل کی بات کہہ دے۔
اس نے گلہ کھنکار کر اگلی سیٹ پر بیٹھ کر منہ بھی ادھر کر کے اسے کہنا شروع کیا،
رملہ دیکھیں مجھے باتیں کر کے سمجھانا نہیں آتا کیونکہ پہلی بار مجھے اس طرح کی بات کرنی پڑ رہی ہے میں سیدھا اصل بات کی طرف آتا ہوں۔
میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ مجھے پہلی نظر میں ہی پسند آئی تھیں۔ آپ کا بول نہ سکنا میرے نزدیک کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ میں گھر والوں کو بھی بتا کر اگر خدانخواستہ انہیں کوئی اعتراض ہوا بھی تو منا لوں گا مگر شادی صرف آپ سے ہی کروں گا ورنہ کسی سے نہیں۔
بولیں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی بھابھی اور بہن بھی پاس کھڑی سن رہی تھیں اور اسے جوش میں کوئی ہوش نہ تھا۔
وہ یکدم شرمندہ سا ہو گیا۔
بھابھی نے چھیڑا، اور کان پکڑ کر بولی، اچھا جی تو یہ ارادے ہیں۔
رملہ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔
سعد کی بہن رملہ سے بولی، پگلی روتی کیوں ہو۔ ہمارے بھائی میں کوئی کمی ہے کیا۔
اس نے نفی میں گردن ہلا دی۔
بھابھی بولیں ہم سب تو تم لوگوں کو پسند کرتے ہیں ہم تو خوش ہوں گے۔
بہن بولی، اور مجھے بھی سہولت ہو جائے گی شاپنگ کرنے کی۔ پھر دونوں نے قہقہہ لگایا۔ اور اسے گلے لگا کر پیار کیا اور مبارک باد دی۔
آئسکریم پگھلنے لگی تھی۔
بھابھی نے کہا، لو منہ میٹھا کرو۔ ہم تمہیں اتنا پیارا سا دیور دے رہے ہیں رونے کی بھلا کیا بات ہے۔ اچھا ہے ہم میں لڑائی نہیں ہو گی۔
بہن نے اس سے بچہ گود میں لے کر بولی، تم کھاو پگھل رہی ہے۔ اس نے کھانے سے انکار کر دیا اور آنسو صاف کرنے لگی۔
سعد کنفیوز تھا کہ ان دونوں نے سن لیا اور خوش بھی تھا کہ اچھا رسپانس ملا ہے۔ اور اس کے رونے سے دل دکھی بھی ہو رہا تھا
سعد نے اپنی آئسکریم بہن کو دے دی۔ بہن اسے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اور وہ شرما کر دھیرے دھیرے مسکرا رہا تھا۔ بھابھی نے اسے زرا سا منہ سے لگا کر کہا، شگن کی ہے منہ تو میٹھا کر لو، پھر خود کھانے لگی۔
سارے راستے وہ دونوں ان دونوں کو چھڑتی رہیں۔ اور وعدہ کرنے لگیں کہ جلد ہی تم لوگوں کو ایک کرنے کا بندوبست کریں گی۔
سعد اللہ تعالیٰ کا دل میں شکر ادا کرنے لگا کہ اس کی دعائیں قبول ہو رہی ہیں گھر والے بھی مانتے جا رہے ہیں۔
رملہ بھی اب چپ ہو کر بہل چکی تھی اور شرمیلی مسکراہٹ سے مسکرا رہی تھی۔
سعد کی بھابھی نے یاد دلایا کہ راستے میں بیکری پر بھی رکنا ہے یہ نہ ہو کہ خوشی میں بھول ہی جاو۔
سالگرہ پر رملہ کے والدین بھی آئے، رملہ کے والد اور سعد کے والد دونوں چیس گیم لے کر بیٹھ گئے۔
سعد کی بہن اپنی ساس جو کہ اس کی خالہ بھی تھیں انہیں سرگوشی میں رملہ کے بارے میں بتا رہی تھی پھر وہ پاس بیٹھے شوہر کو بھی سرگوشی میں بتانے لگی۔
رملہ لائٹ پنک کلر کے ریشمی سمپل سے سوٹ میں کوئی پری لگ رہی تھی۔
شیما نے لیٹ آنا تھا اس کا ہاوس جاب چل رہا تھا۔
سعد خوشی سے نہال پھر رہا تھا۔ ایک اچٹتی نظر رملہ پر ڈال لیتا تو وہ شرما جاتی۔
سعد کی بھابھی اور نند رملہ اور اس کی ماں کو بہت پروٹوکول دے رہی تھیں۔
بھابھی اسے ہلکی آواز میں دیوارانی کہہ کر چھیڑ جاتی اور کھبی سعد کی بہن اسے بھابھی کہہ جاتی۔
ایک بار رملہ کی ماں نے بھی سن لیا۔ وہ سعد کو بھی نوٹ کر رہی تھی جو اسے بڑی عزت دے رہا تھا اور رملہ کو بھی بہانے سے دیکھ رہا تھا۔
رملہ کی ماں دل میں بہت خوش ہونے لگی کہ وہ اس کے رشتے کے لیے بہت پریشان تھی کہ اس کی بیٹی کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور اب گونگی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔
شیما جب کیک وغیرہ کٹ چکا تو سب تقریباً کھا پی کر فارغ ہو کر جانے والے تھے اس وقت پہنچی۔ وہ سادہ کپڑوں میں ہی آ گئ۔
اس نے آ کر خوب چہکنا شروع کر دیا۔ زور زور سے ہنسنا۔
سعد کی بہن کا دیور دوبئی سے وڈیو کال پر سارا فنکشن دیکھ رہا تھا اسے شیما بہت پسند آئی اس نے سعد کی بہن سے ساری معلومات لے کر اس سے شادی کا ارادہ ظاہر کر دیا۔
اس کی ماں اور بھائی کو بھی اس بات سے خوشی ملی کہ اچھے لوگ ہیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.