Logo
Bichray Pyar Ki Aamad
16 Episodes
Bichray Pyar Ki Aamad EP 4
Episode 4

بچھڑے پیار کی آمد 4

Bichray Pyar Ki Aamad



چوتھا حصہ - 4th Part

 

جب کلرک نے بتایا کہ وہ اس کا باپ ہے۔ ارشاد نے معزرت کرتے ہوئے سر کھجاتے ہوئے کہا

"سر مجھے معلوم نہ تھا۔ چلیں اچھا ہے پھر اس نے ساری تفصیل اس کے گوش گزار کر دی۔"

 کلرک کے زہن میں اس ماں بیٹی کی بات یاد آ گئی جب وہ ماں کو بتا رہی تھی کہ ایک لڑکی نے بوتل پکڑا دی تھی پھر ایک دن وہ اس بوتل کو بڑے پیار سے دیکھ رہی تھی باپ سمجھ گیا کہ بیٹی کے دل میں بھی اس کے لیے جگہ ہے۔ باپ نے ایک سرد آہ بھر کر اسے دیکھتے ہوئے کہا

"دیکھو برخوردار وہ ایک کلرک کی بیٹی ہے۔ اس سے تم ہماری حیثیت کا اندازہ لگا سکتے ہو۔"

 ارشاد نے جھٹ کہا

"نو سر، میرے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔"

 کلرک نے تیزی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

"تمھیں نہ سہی تمھارے گھر والوں کو۔۔۔"

 ارشاد نے جلدی سے کہا

"نو سر میرے گھر والے ایسے نہیں نہ ہی ہماری کوئی ڈیمانڈ ہے۔"

 کلرک نے کہا

"اس بات کا ثبوت تو تب ملے گا ناں جب وہ لوگ بھی آ کر اس قسم کے خیالات کا اظہار کریں گے۔"

 ارشاد نے کہا

"وہ جلد ہی اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیجے گا آپ لوگ میرا انتظار کرنا بس امتحانات سے فارغ ہو جاوں تو۔ آپ پلیز مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دے دیں۔"

 کلرک نے کہا کہ وہ بیوی سے مشورہ کر کے چند دن تک بتا دیں گے۔

 ارشاد نے کہا

"سر کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ میرے گھر کا ایڈریس نوٹ کر لیں میرا فون نمبر لے لیں میرے بارے میں کالج میں جہاں سے مرضی انکوائری کروا لیں یہ آپ کا حق ہے۔"

پھر اس نے فون نمبر اور گھر کا ایڈریس نوٹ کروایا اور خوشی خوشی خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔

 کلرک دل میں خوش ہونے لگے کہ اتنا ہینڈسم سا لڑکا ان کی بیٹی کے لئے رشتہ مانگ رہا ہے۔

 کالج کے گیٹ پر چھپ کر انتظار کرتے ہوئے ارشاد نے دیکھا کہ بہار کلرک کے ساتھ ان کی بائیک پر بیٹھ رہی ہے۔

 ارشاد کو یقین ہو گیا کہ وہ اس کی ہی بیٹی ہے وہ اپنی جلدبازی پر پچھتا رہا تھا کہ کالج میں کوئی ایک بہار نام کی لڑکی نہ ہو گی کیا۔ کلرک گھر پہنچے تو کھانا کھانے کے دوران ان کی بیوی نے بتایا کہ بہار کے لئے ایک اچھا رشتہ آیا ہے۔ ان کی جہیز کی بھی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ کلرک نے سوچا ابھی ارشاد کے رشتے کا زکر نہ کریں پہلے آنے دیں پھر دیکھتے ہیں۔ کون سا ہم نے اس رشتے کے لئے بھی ہاں کر دی ہے۔ بیوی نے خود ہی تفصیل بتانی شروع کر دی کہ وہ آپ کے کالج میں پڑھاتا ہے۔ اس نے کالج میں بہار کو دیکھا اور پسند کر لیا۔

 بہار اندر کسی کام سے آنے لگی تھی تو اس نے سن کہ بہار کو اس نے دیکھا اور پسند کر لیا وہ حیران ہونے لگی کہ ارشاد نے اتنی جلدی رشتہ بھیج بھی دیا۔

 بہار کو اندر آتے دیکھ کر باپ نے آواز دی کہ پہلے بیٹی کی مرضی تو پوچھ لو۔

 ماں نے غصے سے کہا

"ہماری کس نے مرضی پوچھی تھی۔"

 باپ نے کہا

"بیگم وہ زمانہ اور تھا۔"

 ماں نے حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا

"اس کو کیا پتا کہ اچھا برا کیا ہے اسی لے میں اسے کالج نہیں پڑھانا چاہتی تھی کہ لڑکی پھر کسی رشتے کو خاطر میں نہیں لائے گی۔ ارے غریبوں کے گھر آتا کون ہے۔ شکر کریں جو اتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔ اگر اس نے ہمارے پسند کیے رشتے سے انکار کیا تو اس کی پڑھائی آج سے ختم۔ ارے وہ تو اتنے اچھے لوگ ہیں وہ کہتے ہیں بےشک نوکری بھی کرے۔"

 بہار نے کہا

"امی جان مجھے آپ کی پسند پر کھبی کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ آپ سے زیادہ میرا بھلا کون سوچ سکتا ہے۔"

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر ہے نکل گئی۔

 ماں نے خوش ہوتے ہوئے کہا

"اب اگلی بار میں ان لوگوں کو ہاں بول دوں گی۔"

 شوہر نے کہا

"بغیر دیکھے کوئی ہاں بولتا ہے کیا۔"

 بیوی صفائی دیتے ہوئے بولی

"میرا مطلب ہے کہ دیکھنے جائیں گے، اچھا لگا تو ہاں بول دیں گے ارے وہ اسی کالج میں پڑھاتا ہے ناں کیا نام بتایا تھا اس کی ماں نے" وہ سوچنے لگی پھر سوچ کر بولی

"مجھے اب یاد نہیں آ رہا۔"

 شوہر بولا

"پڑھتا ہے یا پڑھاتا ہے۔"

بیوی لاپروائی سے بولی

"مجھے نہیں پتا پرسوں اتوار ہے ان لوگوں نے گھر بلایا ہے۔"

 شوہر نے کہا

"تم نے پوچھے بغیر ہاں بول دی۔"

 "ارے ابھی کہاں ہاں بولی ہے۔ میں نے کہا کہ اتنا اچھا رشتہ ہے جا کر اچھا لگا تو ہاں کر دوں گی ان لوگوں کو جلدی ہے۔ اس کے اور بھی رشتے آ رہے ہیں مجھے ڈر ہے کہ اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ دیکھیں ناں کتنا کچھ لائے ہیں، پھل فروٹ کیک وغیرہ۔ ان کے قیمتی لباس ہی دیکھ کر میں متاثر ہو گئی ہماری بیٹی ہماری طرح معاشی مسئلے کا شکار نہیں ہو گی خوب عیش کرے گی جن چیزوں کے لئے ترستی ہے وہ بھی لے سکے گی"

ماں نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا۔ شوہر نے سمجھاتے ہوئے کہا

"دنیا مطلب کی ہے اگر ان کو اچھے رشتے مل رہے ہیں تو ادھر کیوں آئے تم ظاہری چیزوں کو نہ دیکھا کرو اندر سے کچھ باہر سے کچھ ہوتے ہیں۔ مجھے پہلے ان کے بارے میں چھان بین کرنے دو اگر پسند بھی آ جاہیں تو اسی وقت ہاں نہیں بولنا اپنی کچھ عزت بھی رکھنی ہے۔ پھر انہیں ہماری بیٹی میں ایسا کیا نظر آیا ہے۔"

 بیوی نے خوش ہوتے ہوئے بتایا

"ان کے بیٹے کو پسند ہے۔"

 بہار نے جاتے جاتے سنا تو وہ ارشاد کے خیالوں میں کھو گئ۔ پرسوں کی تیاریاں شروع تھیں ماں نے اپنی طرف سے سب سے اچھا سوٹ نکالا مگر پھر بھی اسے وہ مناسب نہ لگا شوہر کے سوٹ کا بھی یہی حال تھا ان لوگوں کا فون دو بار آ چکا تھا ان کی ماں بہار کی ماں سے بات کر رہی تھی۔ بہار کو کچھ علم نہ تھا کہ وہ ارشاد کے گھر جارہے ہیں وہ ابھی تک غلط فہمی کا شکار تھی اور خوش دکھائی دے رہی تھی۔ ماں اسے خوش دیکھ کر سرگوشی کر رہی تھی کہ دیکھا بیٹی کتنی خوش ہے۔

 کلرک بھی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ وہ ارشاد کے گھر والے ہیں یا کوئی اور ہیں۔ انہوں نے بیوی کو سختی سے ہدایت کی کہ تم نے وہاں کوئی اس سلسلے میں بات نہیں کرنی میں خود جو مناسب لگے گا کروں گا آخر میری بیٹی کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں نہ دیکھوں تم کچھ بولی ہو جلدبازی نہیں کرنی بالکل۔ سوالی وہ لوگ ہیں ہم نہیں ہم نے عزت سے رشتہ دینا ہے سمجھی۔

 دونوں مقررہ وقت پر بتائے ہوئے پتے پر بائیک پر پہنچے تو گیٹ کھلا ہوا تھا پرانا علاقہ تھا مگر گھر اچھے بنے ہوئے تھے۔ پرانے اور بڑے گھر تھے۔

 ایک ملازم نکلا تو کلرک صاحب نے اپنے آنے کا بتایا وہ اچھا کہہ کر تیزی سے اندر چلا گیا تھوڑی دیر بعد ان کے کالج کے ٹیچر سر ہدایت صاحب سامنے دوڑتے ہوئے آئے اور بڑے ادب سے کلرک کو سر کہہ کر اندر لے گئے۔

 ڈرائنگ روم میں سجاوٹ قیمتی سامان کی تھی مگر پرانے ماڈل کا تھا بڑا سا ڈراہنگ روم تھا۔ ہدایت صاحب کے ماموں اندر آئے اور بڑے تپاک سے ملے۔ تھوڑی دیر بعد موٹی سی مامی اور ہدایت صاحب کی کمزور سی بیمار سی نظر آتی ماں اندر آئی۔ مامی تو زرا نخرے سے ملی اور ہدایت کی ماں اچھی طرح ملی اور بہار کی ماں کے قریب بیٹھ گئی اور مسکرا کر خوشی سے حال احوال پوچھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ہدایت صاحب بھی آ کر سامنے خاموش سے بیٹھ گئے۔

 ملازم جوس لے کر آیا اور سب کو پیش کیے۔ بہار کی ماں نے قدرے شرماتے ہوئے گلاس اٹھایا جبکہ کلرک سنجیدہ شکل بنا کر بیٹھے رہے وہ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ ارشاد کے باپ ہیں یا نہیں۔

 جوس پینے کے دوران ہدایت صاحب کے ماموں نے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے ہدایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

"وہ ان کا بھانجہ ہے باپ کے مرنے کے بعد وہ بہن کو گھر لے آئے تھے"

بیوی نے لقمہ لگایا۔

"ہم نے ہی اس کو پڑھایا لکھایا برسرروزگار کیا پھر اس کی شادی کی چودہ سال کی بیٹی ہے اس کی ایک سال ہو چکا ہے بیوی کو فوت ہوئے اس نے آپ کی بیٹی کو پسند کیا ہے اور اب اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔"

اس نے ایک سانس میں جلدی جلدی ساری تفصیل بتا دی۔

 کلرک کے ہاتھ میں آدھا جوس کا گلاس پکڑا تھا لگتا تھا گلاس بہت بھاری ہو گیا ہے اور اس کا وزن ان کے بازو برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔ ہدایت صاحب نے کہا

"سر آپ نے جوس ختم نہیں کیا"

تو کلرک صاحب بولے

"میرا ذرا گلا خراب ہے معزرت چاہتا ہوں۔۔۔"

 اتنے میں ایک پیاری سی معصوم سی چودہ سال کی بچی اندر آئی اور سلام کیا اور پوچھنے لگی

"کام والی ماسی پوچھ رہی ہے کہ اب چائے بناوں۔"

 کلرک نے فوراً کہا

"نہیں نہیں میں نے ایک فوتگی پر جانا ہے لیٹ ہو جاوں گا ادھر وعدہ کیا تھا اس لئے آنا پڑا ذرا جلدی میں ہوں۔"

 ہدایت صاحب کا ماموں بولا

"پھر ہم کب آئیں رسم کرنے۔"

 کلرک نے کہا

"جی میں فون پر سب بتا دوں گا ابھی اجازت دیں۔"

بیوی سے مخاطب ہوئے

"بیگم جلدی اٹھیں دیر ہو جائے گی۔"

 بیوی مزے دار جوس کو مزے لے کر آرام سے پی رہی تھی ایک ہی سانس میں سارا پی گئی۔ دور بیٹھی مامی دھیرے سے مسکرانے لگی۔ ہدایت کی ماں شرمندہ سی ہونے لگی۔

کلرک کی بیوی نے دیکھا وہ گھر کی طرف تیزی سے جا رہے ہیں اس کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے رہے۔ گھر آ کر بیوی لڑنے لگے "یہ کیا تماشہ تھا چائے بھی نہیں پینے دی میں نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا کہ وہاں چائے کے ساتھ مزے کی چیزیں کھاؤں گی آپ نے وہ بھی نہیں کھانے دی۔"

 کلرک صاحب غصے سے بولے

"تمھاری نظر میں یہ اچھا رشتہ تھا جو شادی شدہ ہے اور اس کی چودہ سال کی بیٹی ہے اور ہماری بیٹی سے کتنا بڑا ہے۔ ویسے بھی ہماری بیٹی کے لیے ایک سلجھا ہوا نوجوان ارشاد ہمارے کالج کا وہ رشتہ مانگ رہا ہے پیپروں کے بعد گھر والوں کو بھیجے گا زرا صبر کرو جب جوان اور امیر لڑکا مل رہا ہے تو اس رشتے میں دلچسپی دیکھانے کا فائدہ۔ انہیں جواب دے دو۔"

 بیوی بولی

"پہلے آپ کے اس ارشاد کا رشتہ آ جائے پھر دوں گی ایسا نہ ہو وہ بھی نہ آئے اور ہم اس رشتے کو بھی گنوا دیں۔ اور مرد کی عمر کس نے دیکھی ہے۔ ماشاءاللہ سے کالج میں پڑھاتا ہے سرکاری ملازم ہے۔ بن ماں کی بچی کو پالے گی تو ثوابِ کمائے گی۔ میں تو انہیں جواب ابھی نہیں دوں گی بس۔"


 پانچواں حصہ - 5th Part


Continue Reading
Episode 5
بچھڑے پیار کی آمد 5

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry