Logo
Dharkanain Raks Karain
7 Episodes
Dharkanain Raks Karain EP 1
Episode 1

دھڑکنیں رقص کریں 1

Dharkanain Raks Karain


دھڑکنیں رقص کریں

مومنہ عجلہ عروسی میں بیٹھی بازل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جس کی وہ آج دولہن بنی ہوئی بیٹھی تھی۔ اسکا دل ماں کی طرف سے پریشان ہو رہا تھا۔ جو اس کی بازل سے شادی پر سخت ناخوش تھی۔

بازل جو ایک نامی گرامی غنڈہ تھا۔ جو قتل کے الزام میں جیل بھی جا چکا تھا۔ اونچا لمبا تگڑا جوان تھا۔ اس کی بڑی بڑی مونچھیں، لمبے بال، ہاتھوں میں مختلف بڑی بڑی انگوٹھیاں، بازو کڑا نما بریسلٹ اور کندھے پر ہر وقت بندوق ڈالے، اکثر کالے کپڑے پہنے جب زور دار آواز سے دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوتا تو سوتیلی ماں ڈر کر آہستہ آواز میں کوسنے دینے شروع کر دیتی۔ باپ دل میں اس کا بیٹا ہونے پر شرم محسوس کرتا۔ بیوی الگ ہر وقت طعنے دیتی۔ سوتیلی ماں اس کے گھر میں داخل ہونے پر جلدی سے ملازموں کو اسے جلدی سے کھانا دینے کا بولتی، ورنہ وہ توڑ پھوڑ شروع کر دیتا۔ وہ ملازم سے ماں باپ کا پوچھتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

مومنہ کی بیسٹ فرینڈ اور کالج کی کلاس فیلوز اس کی ماں کو تسلی دے رہی تھیں کہ صبر کریں اور اس کی اچھی قسمت کی دعا کریں۔ وہ دکھ سے بھرے لہجے میں چڑ کر بولی، 

"اچھی قسمت ایک غنڈے کے ساتھ۔"

وہ نڈھال سی ہو گئی۔ رشتے دار عورتیں اسے پانی پلا کر سمجھانے لگیں کہ اب کیا ہو سکتا ہے۔ بس اب اس کے حق میں دعا ہی کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے راہ ہدایت دے۔

مومنہ کی فرینڈ روتے ہوئے بولی، 

"آنٹی جی اب کو اس حالت میں دیکھ کر مومنہ کتنی دکھی تھی۔ اس کا بھی تو سوچیں، جس نے اس شادی کو ساری زندگی نبھانا ہے۔ کیونکہ یہ غنڈے لوگ بیوی تو کیا اپنی معشوقہ کو بھی کسی اور کا نہیں ہونے دیتے۔ اب اس کے لئے راہ ہدایت کی دعا کرتی رہیں۔ اب جو ہونا تھا ہو چکا۔"

مومنہ کی ماں بولی، 

"میں کس کس کے پاس فریاد لے کر نہیں گئی کہ میری بیٹی کو اس غنڈے سے بچا لو، مگر کسی نے ساتھ نہ دیا۔ بلکہ ڈرنے لگے۔"

ایک رشتہ دار خاتون اس کے گلہ کرنے پر برا مناتے ہوئے بولی، 

"تم ہی بہن کی محبت میں اس کے گھر آئے دن دوڑے جاتی تھی جانتی نہیں تھی کہ وہاں ایک غنڈہ بھی رہتا ہے۔ تمہاری بیٹی جوان اور خوبصورت تھی، تمہیں احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ تمہیں تو آس تھی کہ بہن شاید اپنے بیٹے کے لیے تمہاری بیٹی کا رشتہ لے گی جو پڑھا لکھا تھا۔"

دوسری عورت بولی، 

"ہمیں تو ہمیشہ وہ یہی بتاتی رہی کہ میں اپنے بیٹے کے لیے بھانجی کا رشتہ لوں گی۔"

دوسری عورت نے تمسخر بھرے لہجے میں کہا، 

'سچ ہی کہتی تھی ناں، یہ بھی تو اسکا بیٹا ہی ہے ناں سوتیلا ہی سہی۔"

دونوں عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگیں کہ ویسے یار دولہن پر تو بہت روپ آیا ہے۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ پہلی عورت پچھتاتے ہوئے افسوس سے سرد آہ بھر کر بولی، 

"کاش میں ہی اپنے بیٹے کے لیے اس کو کر لیتی۔ کتنی خوبصورت، آرکیٹیکٹ، سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ صرف ایک ماں تھی۔ لڑکے کو سسرال کا جھجھٹ بھی نہ پالنا پڑتا۔ بیوی روز میکے نہ لے جانی پڑتی۔"

پہلی عورت دولہن کی ساس کو کوستے ہوئے بولی، 

"بھلا اگر نہیں کرنا تھا تو بتا ہی دیتی بندہ ٹائم پر رشتہ کر لیتا ہے۔ اس وقت تو اس غنڈے نے بھی اس طرف رحجان نہیں دکھایا تھا۔ ویسے اس کی ساس پیچھے کیوں ہٹ گئی۔ اپنے سگے بیٹے کے ساتھ کیوں نہیں کیا رشتہ۔"

دوسری عورت سرگوشی میں بولی، 

"ارے بیٹا کہیں اور پھنسا ہوا تھا بہت امیر لوگ ہیں۔ لڑکی اس لڑکے کو کہیں فیس بک پر ملی اور دوستی ہو گئی۔ مومنہ کی ساس بہت لالچی اور چالاک عورت ہے جھٹ سے ادھر رشتہ کر دیا۔ ادھر اس کا کرنے میں کچھ نہ بولی، نہ ہی بہن کا ساتھ دیا، بلکہ اس کے آگے بےبسی ظاہر کر کے بولی، میں مجبور ہوں۔" 

اس عورت نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔

پاس ان کے ایک تیسری عورت بھی بیٹھ کر ان کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی۔ تیسری عورت افسوس کرتے ہوئے بولی، 

"اللہ تعالیٰ کسی لڑکی کا نصیب ایسا نہ کرے۔" 

وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگی۔ دونوں عورتوں نے اس کے جواب میں آمین کہا۔ ایک آنکھوں میں شوخی بھر کر بولی، 

"ویسے شادی تو اس کے باپ نے بہت دھوم دھام سے کی ہے۔ بہت خوش تھا۔ ورنہ ساری زندگی اس نے اس سے سیدھے منہ بات نہ کی۔"

پہلی عورت چڑ کر برا منہ بناتے ہوئے بولی، 

"کمبخت کی حرکتیں جو ایسی تھیں باپ بے چارہ کیا کرتا۔ سارے خاندان بھر میں اس کی شرافت مشہور تھی مگر بیٹا اتنا ہی برا نکلا۔"

سامنے بیٹھی عورت بولی، 

'کیا کرے آخر بیٹا تھا ناں۔ اس لیے شادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔"

ایک عورت جل کر بولی، 

"خوش کیسے نہ ہو، ہیرے جیسی بہو مل جو رہی ہے۔ اس کے تو نصیب جاگ گئے۔ میں بیٹے کے لیے کب سے رشتہ ڈھونڈ رہی ہوں مگر ایسی لڑکی نہ ملی۔ اس کی سوتیلی ماں بھی تو دیکھو، بہن کے غم کی پرواہ ہی نہیں۔ خوشی خوشی شوہر کے ساتھ ملکر بری بنا رہی تھی، دھوم دھام سے تیاریاں کر رہی تھی۔ مہندی پر کیسے لڈی ڈال رہی تھی۔"

ویسے سب اس شاندار شادی کو انجوائے کرنے میں لگے ہوئے تھے کوئی بھی دولہن اور اس کی ماں کے درد کو محسوس نہیں کر رہا تھا۔ سارے خاندان کو اس کے باپ نے بلایا۔ باپ بھی ڈھولک کی تھاپ پر ناچ رہا تھا۔ ویسے اس کی پہلی بیوی بہت نیک اور اچھی تھی۔ اچانک بیمار ہو کر جلد مر بھی گئی۔ بےچارہ اپنے سات سالہ بچے کو سنبھال رہا تھا۔ دوستوں نے زبردستی دوسری شادی کا مشورہ دے کر کروا دی۔ یہ بیوہ تھی پانچ سال کا بچہ تھا جس کو بازل کے باپ نے سگے بیٹے کی طرح پالا۔

دوسری عورت بولی، 

"مگر اس عورت نے تو اسے کوئی خاص پیار سے لگتا نہیں کہ پالا ہو گا۔"

پہلی عورت سرگوشی میں بولی، 

"وہ شوہر کے سامنے دکھاوے کی محبت کرتی تھی۔ بڑی چالاک عورت ہے ویسے۔"

مومنہ کی بیسٹ فرینڈ شمرین نے مومنہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ رات اس کی ماں کے پاس رکے گی اور انکا خیال رکھے گی۔ شمرین نے زبردستی اس کی ماں کو یہ کہہ کر کھانا کھلایا کہ بعد میں آپ نے دوائی بھی کھانی ہے۔ آج اس نے نیند کی گولی بھی اس کی ماں کو کھلا کر سلا دیا۔ خود اس کی ماں کے پاس لیٹ گئی۔ نیند اسے نہیں آ رہی تھی اپنی دوست کی قسمت پر رو رہی تھی اور اس کی خوشیوں کے لیے دعائیں کر رہی تھی۔

مومنہ نے دیکھا بازل کمرے میں داخل ہوا اور کنڈی لگائی اور چلتا ہوا مومنہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

مومنہ کے کان میں اس کی آواز پڑی 

"میں آج اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب انسان سمجھ رہا ہوں۔"

مومنہ کا گھونٹ اٹھا کر بولا، 

"تمہارا پتا نہیں۔"

مومنہ نے جھٹ غصے سے گھونگٹ دوبارہ ڈال دیا۔ بازل نے حیرت سے اسے دیکھا۔

 


دوسرا حصہ - 2nd Part



Continue Reading
Episode 2
دھڑکنیں رقص کریں 2

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry