Dil Ki ManManian
1 Episodesدل کی من مانیاں
دانی بیٹا وہ میڈم بلقیس کے کپڑے پریس کر دیے تھے۔ پانچ بجے شام اسکا ملازم کپڑے لینے آ جائے گا۔
جی ابا جی، بس ایک سوٹ پریس کرنا باقی ہے باقی سب ریڈی ہیں۔ شاباش بیٹا خوش رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے جیسا بیٹا سب کو دے۔
دانیال نے جھٹ کہا،
اللہ تعالیٰ آپ جیسے ابا جی سب کو دیں۔ یہ سب آپ کی تربیت ہے۔ ورنہ میرا کیا کمال ہے۔
دانیال کے ابا جی نے ہلکہ سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
واہ بیٹا سارا کریڈٹ مجھ پر ہی ڈال دیا ہے۔
وہ سلائی مشین چلاتے ہوئے بولے۔
دانیال کے ابا جی درزی تھے۔ ان کے والد کا بھی یہی پیشہ تھا۔ وہ جس محلے میں رہتے تھے وہاں پر سب متوسط طبقے کے لوگ آباد تھے۔ کافی پرانے لوگ وہاں کافی عرصے سے آباد تھے۔ دانیال کے دادا ایک ماہر درزی مانے جاتے تھے۔ لوگ ان کے سلے کپڑوں کی بہت تعریف کرتے تھے۔ انہوں نے دانیال کے ابا جی کو بھی یہی کام سکھایا تھا۔
دانیال کے ابا جی کو اپنے باپ کے پیشے سے لگاؤ تھا۔ شاید انکی اپنے باپ سے شدید محبت کا نتیجہ تھا۔
دانیال کے باپ نے اپنے بچوں کو ہمیشہ یہی نصیحت کی تھی کہ ایک رزق حلال کمانا دوسرے غیرت مند بننا۔ کسی کی بخشش قبول نہ کرنا۔ جو کچھ بھی ملے اپنی محنت سے ملے۔
ان کی دوکان کے باہر درزی صاحب کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ محلے کے لوگ ان کو درزی صاحب کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ ان کی محلے والے بہت عزت کرتے تھے اور انہیں درزی صاحب ہی کہہ کر پکارتے تھے ۔
جو کوئی انہیں صرف درزی کہتا یا عزت نہ کرتا تو دانیال ان کے کپڑے سینے سے انکار کر دیتا۔ ان کی بیٹے کو نصیحت تھی کہ کھبی کسی کو جھوٹا لارا نہ لگانا۔ جتنے وقت میں کپڑے سی سکو اتنا ہی بتانا اور وقت پر کپڑے دینا۔ کسی گاہک کو دوکان کے پھیرے نہ لگوانا۔ اپنی ساکھ قائم رکھنا۔ ایمانداری سے کام کرنا۔ باپ دادا کی نیک نامی کو مت ڈبونا۔
شبانہ تنویر ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیوی تھی۔ اس ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔ بیٹے بڑے اور شادی شدہ تھے ملک سے باہر رہتے تھے۔ بیٹی سب سے چھوٹی اور گھربھر کی لاڈلی تھی۔ بھائیوں کی بھی لاڈلی تھی۔ بھابیاں بھی سمجھتی تھیں کہ اس کو ناراض کرنا مطلب ساس سسر اور ان کے شوہروں کو ناراض کرنا ہے۔ دونوں بہنیں تھیں اور اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ ان کی لاڈلی نند کے ناز نخرے اٹھانے میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے۔
شبانہ نے اپنی بیٹی کو پکارا،
عریبہ جان کہاں ہو۔
عریبہ نے تیزی سے آتے ہی ماں پر چلانا شروع کر دیا
موم کیا کروں آپ کے اس مہنگے ٹیلرکا، اس نے میری پسند کا گلا نہیں بنایا جو اسے میں بتا کر آئی تھی۔ میں نے اسے نیٹ پر سے دیکھایا تو بڑے اعتماد سے کہا تھا،جی مس بن جائے گا، اور جب بنایا تو دیکھیں کچھ اور ہی بنا ہوا ہے۔ اس کا مجھے بتائیں کہ میں اس کو کیا سزا دوں۔
شبانہ نے اسے پیار بھرے لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا
بیٹا میں بھی مسز شہاب کے کہنے پر اس درزی کے پاس گئی تھی۔ ہمارا پرانا ٹیلر سعودیہ چلا گیا ہے۔ اب مصیبت پڑ گئی ہے۔ وہ ہماری مرضی کے کپڑے سیتا تھا۔ مسز شہاب نے اپنے ٹیلر کی بہت تعریفیں کی تھیں۔ وہ کہتی ہے میرا تو کھبی کوئی سوٹ خراب نہیں ہوا۔ میرے ایک سوٹ کی فٹنگ بھی اس نے بہت کھلی سی دی ہے۔ میرا اتنا قیمتی سوٹ برباد کر دیا۔ اب مسز شہاب کے منہ کے پیچھے اسے کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔
مگر اب کیا ہو گا کہاں سے ہم اپنے ڈریسز سلائی کرائیں گے ۔
شبانہ نے اسے بتایا
کل روٹ لگا ہوا تھا مین سڑک بند تھی۔ جب وہ مسز شہاب کے گھر سے نکلی، ایک متبادل راستہ اپنایا۔ سب لوگ بھی اسی طرف جا رہے تھے۔ میں بھی چل پڑی۔ راستے میں ایک ٹیلر کی شاپ تھی۔ جس کی شاپ پر لکھا ہوا تھا درزی صاحب۔
عروبہ ہنستے ہوئے مزاق اڑاتے ہوئے بڑے فنی انداز میں بات کو لمبا کر کے بولی
درزی صاحب، واہ کیا بات ہے۔ درزی بھی اب صاحب بن گئے۔
پاس کھڑی بھابیاں بھی مسکراتے ہوئے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولیں
واقعی کافی فنی بات ہے۔
عروبہ نے آنکھیں چمکا کر کہا
ویسے میرا دل 💓 چاہتا ہے کہ میں ان درزی صاحب سے ملوں کہ دیکھو وہ درزی صاحب کیسے ہیں۔
سب نے مشترکہ قہقہ لگایا۔ اتنے میں عروبہ کے ڈیڈ تیار ہو کر آ گئے اور ہنسنے کی وجہِ پوچھی
عروبہ نے ڈیڈ کو جلدی سے مزاق اڑانے والے انداز میں ساری بات بتائی اور بولی
ڈیڈ میں ان درزی صاحب سے ملنا چاہتی ہوں۔ یقین مانیں میں نے کھبی کوئی درزی صاحب نہیں دیکھے مگر موم آپ کو وہ شاپ والی جگہ یاد ہے۔
ہاں یاد ہے۔
اس کی موم نے جواب دیا۔
عروبہ نے پوچھا
موم آپ نے یہ درزی صاحب دریافت کہاں سے کیے۔
عروبہ کےڈیڈ نے بھی ہلکہ سا قہقہہ لگایا اور بولتے ہوئے تیزی سے چل پڑے
میں نے بھی کھبی نہیں دیکھا ۔
ماں نے کہا
ادھرٹریفک پھنس گئی اور کافی دیر لگ گئی۔ میں نے قریب سے جاتی ایک بڑا سا شاپر اٹھائے ایک عورت گزری۔ اسے میں نے اس درزی صاحب کا پوچھا تو وہ اس کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی۔ پھر اس نے خود ہی مجھے وہ سلے ہوئے کپڑے دیکھانے شروع کر دیے۔ مجھے وہ کافی پسند آئے۔ میں نے سب کپڑوں کی موبائل میں پیکچرز لے لی ہیں۔ تم لوگوں کو ابھی سینڈ کر دیتی ہوں۔ مجھے تو سب سلے ہوئے کپڑے بہت پسند آئے۔
عروبہ نے جب موبائل پر دیکھا تو خوشی سے چلا کر بولی
موم یہ جو ایک گلے کا ڈیزائن ہے میں یہی تو بنوانا چاہتی تھی اور اس نے تو بلکل نیٹ پر بنے ہوئے ڈیزائن جیسا بنایا ہے۔ بہت زبردست ہے موم۔
وہ جوش سے چلا کر بولی
موم مجھے پلیز لیکر چلیں۔ میں آج ہی جانا چاہتی ہوں۔ میری بھتیجی کی سالگرہ تو سر پر آ گئی ہے۔ بھابھی آپ لوگوں کے ڈریسز کی کیا سچویشن ہے۔
اس کی بھابیاں بولیں
ہم سب کی تیاریاں تو مکمل ہیں۔ بےبی کے تو ریڈی میٹ فراق لیے تھے۔ ہم نے تو درزی کے عمرے جانے سے پہلے سب کپڑے اس سے سلوا لیے تھے۔ تم لوگ لیٹ ہو گئے ہو۔ اب ریڈی میٹ ہی لے لینا۔
عروبہ بےزاری سے منہ بنا کر بولی
بھابھی آپ لوگ جانتی تو ہیں۔ مجھے خود سے ڈیزائن بنوا کر ڈریس بنوانے کا کتنا شوق ہے۔
بھابھی نے پھر مزاحیہ انداز میں کہا
پھر جاؤ ان درزی صاحب کے پاس ان کے سلے ہوئے کپڑے تم کو ویسے بھی پسند آئے ہیں۔
عروبہ اپنی موم سے ضد کرنے لگی
اسے ابھی وہاں جانا ہے، میرے ساتھ چلیں۔
عروبہ کی موم نے کہا
سوری ہنی مجھے پارلر جانا آج کل شادیوں کا سیزن ہے تو بڑی مشکل سے اپوائنٹمنٹ ملی ہے۔ میں تو نہیں جا سکتی۔ تم اپنی فرینڈ حنا کو لے جاؤ۔
عروبہ منہ بنا کر بولی،
اچھا مجھے اس شاپ کی لوکیشن اچھی طرح سے سمجھا دیں۔ میں ساتھ چلنے کیلئے حنا کو فون کرتی ہوں۔
عروبہ کی موم نے تاکید کی کہ اکیلی مت جانا وہ ایریا بہت رش والا ہے۔
عروبہ نے لوکیشن سمجھی اور حنا کو فون کرنے لگی مگر حنا نے کہا
وہ اپنی موم کے ساتھ پارلر آئی ہوئی ہے۔ وہ ابھی نہیں آ سکتی۔ کل آ جائے گی ۔
عروبہ کو دل میں غصہ آیا کہ جس کو دیکھو پارلر جانے کی پڑی ہے۔ جیسے پارلر بند ہونے لگے ہیں۔ وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی گاڑی کی چابی لینے چل پڑی۔
بڑی بھابھی نے اسے اکیلے جاتے ہوئے پوچھا
ہنی کس کے ساتھ جا رہی ہو اکیلی مت جانا۔ وہ ایریا بھی ایسا ہے۔
وہ جلدی سے بولی
بھابھی حنا کے ساتھ جا رہی ہوں۔ راستے میں اسے پک کروں گی۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے نکل گئی۔ اس نے جھوٹ تو بول دیا تھا اور اسے اس درزی صاحب کی شاپ پر جانے کی جلدی تھی۔
اس نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ بھابھی نے پھر اسے آواز لگائی
ہنی ناشتہ تو کرکے جاؤ۔
وہ جلدی سے اونچی آواز میں بولی،
حنا کے ساتھ اس کے گھر پر کر لوں گی۔
وہ تیزی سے روڈ پر گاڑی چلانے لگی۔ گاڑی بھی بڑی اور مہنگی والی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے پوچھتی ہوئی شاپ کے قریب پہنچ گئی۔ مگر شاپ تو اندر گلی میں تھی۔
قریب سے گزرتے ایک ینگ لڑکے سے اس نے پوچھا
سنو یہ درزی صاحب کی شاپ کدھر ہے۔ اس نے حیرت سے اسے دیکھا اور پوچھا
کیوں میم آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ۔
عروبہ ناگواری سے بولی
بدھو ہو تم، شکل سے تو سمجھدار سے لگتے ہو اور بےوقوفانہ سوال پوچھ رہے ہو۔ درزی کا کیوں کوئی پوچھتا ہے۔ ظاہر ہے کپڑے سلوانے کیلئے۔
وہ گاڑی اور اس پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر بولا
میم آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ آپ اس ایریے میں کپڑے سلوانے آئیں گی۔
عروبہ نے منہ بناتے ہوئے اسے اپنے کپڑے خراب ہونے کی ساری وجہ بتا دی۔
وہ لڑکا بولا
اچھا تو آپ کو سلائی پسند آئی۔ آپ فکر نہ کرنا، جیسے آپ چائیں گی ویسے ہی کپڑے سلیں گے۔
عروبہ جلدی سے پوچھنے لگی۔
کیا تم اس درزی کو جانتے ہو۔
اس لڑکے نے ایکدم شکل بنا کر کہا
سوری میم آپ کسی اور سے کپڑے سلوا لیں۔
عروبہ نے حیرت سے پوچھا
کیوں۔
اس لڑکے نے کہا
میرا نام طیب ہے اور وہ میرے ابا جی ہیں اور کوئی ان کی بےعزتی کرئے تو میں اس کے کپڑے نہیں سیتا نہ ابا جی کو سینے دیتا ہوں۔ ہم غریبوں کی بھی عزت ہے۔ آپ امیروں سے ہم بھیک مان کر نہیں کھاتے۔ پھر ہم آپ لوگوں کو بےعزتی کرنے کا حق کیوں دیں۔ اگر آپ ان کی عزت نہیں کریں گی انہیں درزی صاحب نہیں کہیں گی تو آپ سے معزرت ہے آپ جا سکتی ہیں۔
عروبہ پریشان ہو گئی، کھبی اتنی بے بس نہ ہوئی تھی۔ اب کپڑوں کی مجبوری تھی۔ اس لیے اس نے ایک نظر اس پر ڈالی،جو سر پر تازہ تازہ تیل لگائے۔ براؤن کلر کے رنگ آڑے شلوار قمیض پہنے پاؤں میں پلاسٹک کی پرانی سی چپل پہنے اسے دھمکی دے رہا تھا۔
عروبہ نے جلدی سے سوری بولا اور کہا
اچھا چلو میں ان کو انکل کہہ دوں گی۔ کیا تم بھی کپڑے سیتے ہو۔
اس نے جواب دیا
جی ابا جی نے سکھایا ہے۔ اس نے عروبہ سے کہا کہ آپ گاڑی اس 🌲 درخت کے نیچے پارک کر دیں۔
عروبہ نے الجھن 😕 سے کہا
اف
وہ بولا
دیں میں کر دیتا ہوں ۔
وہ اسے دیکھ کر طنزیہ پوچھنے لگی
کیا تم گاڑی چلا لیتے ہو ۔
وہ آہستہ سے بولا
جی۔
عروبہ نے پھرطنزیہ انداز میں کہا
میرا مطلب ہے یہ گاڑی آٹومیٹک ہے اور اس گاڑی میں کافی سسٹم لگے ہوئے ہیں ۔
وہ پھر بولا
میم آپ چابی دیں میں کوشش کرتا ہوں۔ جب اس نے واقعی گاڑی درست پارک کر لی تو عروبہ نے کہا
گڈ۔
وہ اسے ساتھ چلنے کا کہہ کر آگے آگے تیز رفتاری سے چل پڑا ۔
عروبہ نے اسے چلا کر کہا
اتنا تیز کیوں چل رہے ہو۔
وہ بولا
آپ کے چکر میں لیٹ ہو چکا ہوں۔ ابا جی انتظار کر رہے ہوں گے۔
جب وہ شاپ پر پہنچا تو اس کے ابا جی نے پوچھا
طیب بیٹا کہاں رہ گئے تھے۔
طیب نے ساری بات بتائی اور عروبہ سے کہا
میم آجائیں شاپ میں۔
عروبہ نے جھجکتے ہوئے دوکان کے اندر قدم رکھا۔ چھوٹی سی دوکان تھی مگر صاف ستھری تھی۔ تین پلاسٹک کی سامنے کرسیاں پڑی ہوئی تھیں مگر صاف ستھری تھیں۔ کوئی داغ دھبہ ان پر نہیں تھا بےشک وہ کافی پرانی تھیں۔ عموماً ایسی شاپس پر کرسیوں کی شکل بدلی ہوتی ہے۔ ان پر داغ دھبے پڑے ہوتے ہیں۔ سامنے دو مشینیں موجود تھیں۔
طیب کے ابا جی نے پوچھا
بیٹی کیا سلوانا ہے۔
عروبہ ان کے پیار بھرے رویے سے کافی متاثر ہوئی۔ ان کا سر اور داڑھی سفید تھی۔ کافی پرسنیلٹی والے لگ رہے تھے اگرچہ ان کے کپڑے بھی صاف ستھرے تو تھے مگر کافی پرانے لگ رہے تھے۔
عروبہ نے اپنے کپڑے نکال کر دیکھائے اور موبائل سے انکو ڈیزائن دکھا کر پوچھنے لگی
انکل جی کیا یہ آپ بنا سکتے ہیں۔
پاس کھڑے طیب کو اسکا انکل جی کہنا بہت بھایا اور وہ اسے دیکھنے لگا تو وہ اسے بہت معصوم سی لگی۔ اس کے دل ❤️ کو بھانے لگی۔ طیب کے ابا جی نے ہنس کر کہا
گڑیا آج بھی ایسا ایک قمیض کا گلا بنایا ہے۔
وہ طیب سے پوچھنے لگے
بیٹا طیب وہ قمیض کدھر ہے ایسی جو آج سی ہے۔
مگر طیب کو عروبہ کو بڑے انہماک سے دیکھتے ہوئے پایا تو وہ چونکے۔ دوبارہ طیب کو پکارا تو جیسے وہ ہوش میں آ گیا
جلدی سے بولا
جی ابا جی۔
مگر ابا جی اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہے تھے وہ شرمندہ سا ہو گیا۔
ابا جی نے دوبارہ اپنی بات دہرائی تو وہ بولا
ابا جی وہ اندر آپا جی پریس کر رہی ہیں۔
اتنے میں ایک کیوٹ سا آٹھ نو سال کا بچہ آیا اور بولا
نانا جی نانو جی کہہ رہی ہیں کہ ناشتہ تیار ہے جلدی سے آ جائیں ٹھنڈا ہو جائے گا۔
طیب کو ابا جی نے کہا
وقفے کا بورڈ دوکان کے باہر لگا دو۔
پھر عروبہ سے بولے
گڑیا جی چلیں آپ بھی ہمارے ساتھ ناشتہ کریں۔
عروبہ کو بڑی زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے وقت دیکھا سوا ایک بجا تھا۔
عروبہ نے پوچھا
انکل جی کیا آپ لوگ اتنی لیٹ ناشتہ کرتے ہیں۔
طیب کے ابا جی نے جواب دیا
نہیں بیٹا اس وقت تو ہم لوگ دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں۔ ناشتہ تو ہم سات سوا سات بجے تک کر دیتے ہیں۔ آج ہم نے بہت ضروری شادی کے کپڑے دینے تھے۔ سارا دن لائیٹ بند رہی تو ہمارا کام لیٹ ہو گیا تو ہم لوگ نماز کے بعد سے ہی سب کام پر لگ گئے تو اب ناشتہ ہی کریں گے۔ ویسے ایک پراٹھا کھاتے ہیں ابھی دو کھائیں گے دن کا کھانا بھی ہو جائے گا۔
وہ کچھ جھجکتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی۔ دوکان کے پیچھے ہی گھر کا دروازے تھا۔ جب وہ اندر گئی تو ناشتے کی بہت عمدہ سی خوشبو آنے لگی۔ اس نے دیکھا نیچے دسترخوان بچھا ہے اور بڑے مزے کے کڑک پراٹھے اور انڈے پڑے ہیں۔ سب نے اسے مسکرا کر خوش آمدید کہا۔ اسے نیچے بیٹھنے کیلئے ایک چھوٹا سا کشن دیا۔ ایک پیاری سی بچی نے بھی آ کر اسے سلام کیا۔ ایکدم اسے اپنی موم کی نصیحت یاد آ گئی کہ کسی اجنبی پر بھروسہ نہیں کرنا اور ان سے لیکر کچھ نہیں کھانا۔
مگر ناشتہ دیکھ کر اس سے رہا نہیں گیا اور وہ پوچھے بغیر ہی جلدی سے پراٹھا توڑ کر ایک پاس پڑے آملیٹ سے کھانے لگی۔
طیب کی آپا نے مسکرا کر اسے چائے کا کپ پیش کیا۔ سب آ کر بیٹھ گئے اور سب نے زرا دھیمی آواز سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر شروع کیا عروبہ زرا شرمندہ سی ہو گئی ۔ سب سے پہلے جلدی جلدی عروبہ نے ختم کیا اسے نیچے بیٹھنا دشوار لگ رہا تھا۔ چائے لیکر وہ پاس پڑی ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسے وہ سخت لگی تو طیب کی آپا نے اسے کشن پکڑا دیا اسے کرسی پر رکھ کر قدرے آرام ملا۔ اسے اپنے گھر کے آرام دہ صوفے یاد آ گئے۔ اس نے سوچا کہ یہ لوگ کتنے مسائل میں رہ رہے ہیں مگر پھر بھی ان کے چہرے مطمئن ہیں اوران کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ وہ ناشتے کے بعد سب ہاتھ ✋ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے۔ جبکہ عروبہ نے سوچا وہ لوگ سارا دن کتنی نعمتیں کھاتے ہیں، آدھی ضائع کرتے ہیں مگر پھر بھی کھبی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
وہ چائے پی چکی تو طیب کے والد نے اسے کہا
گڑیا اب چلیں آپ کے کپڑے دیکھ لیں۔
عروبہ کو وہ سب لوگ بہت اچھے لگے تھے۔ طیب کی ماں اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر کر بولی
ماشاءاللہ بیٹی تم بہت معصوم سی لڑکی ہو، اکیلی نہ آیا کرو۔ یہ ایریا بھی کچھ ایسا ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔ اپنا موبائل زیادہ باہر استعمال نہ کرنا۔ گاڑی بھی سارے دروازے لاک رکھنا۔ پچھلا دروازہ کھول کر بھی ڈکیت بیٹھ جاتے ہیں اور راہ چلتے پرس اور موبائل چھین لیتے ہیں۔
اس کے دل 💓 میں قدرے خوف سا بیٹھ گیا۔
جب وہ جانے لگی تو وہ چھوٹی بچی بولی
باجی جی آپ پھر کب آئیں گی۔
اسے وہ بچی بہت اچھی لگی ۔ بچہ بھی اسے بہت پیارا اور تمیز دار لگا۔ اس نے قریب جا کر بچی کے گال پر پیار کیا اور پرس سے 🍫 چاکلیٹ نکال کر بچی کو دی۔ مگر اس نے انکار کر دیا تو عروبہ نے حیرت سے دیکھا اس مہنگی چاکلیٹ 🍫 پر تو بچے مرتے ہیں۔ ایک اور نکالی اور بچے کی طرف بڑھائی مگر اس نے بھی لینے سے انکار کر دیا۔
عروبہ نے مصنوعی ناراضگی دیکھاتے ہوئے کہا
اگر آپ نہیں لیں گے تو میں دوبارہ نہیں آؤں گی۔
طیب کی آپا نے بچوں کو کہا اچھا لے لو باجی بہت پیار سے دے رہی ہیں۔
بچوں کی نانی نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا
ہم نے بچوں کو منع کیا ہوا ہے کسی سے بھی کوئی چیز لینے سے۔
عروبہ متاثر ہوتے ہوئے بولی
اور یہ بچے فالو بھی کرتے ہیں ۔
طیب جو اسے بلانے آیا تھا پھر کھڑا ہو کر پرشوق نگاہوں سے عروبہ کو دیکھنے لگا۔ اس کی آپا نے طیب کو حیرت سے دیکھا وہ تو کھبی کسی لڑکی کی طرف دیکھتا تک نہ تھا۔ آپا اس کو شادی کیلئے لڑکیاں پسند کروانا چاہتی تھی مگر وہ ابھی شادی شادی کیلئے مانتا نہ تھا۔ اس سے کہتی کہ کم سے کم ایک بار ان کو دیکھ تو لو، ہو سکتا ہے کوئی پسند آ جائے تو ہم وقت مانگ لیں گے۔ جواب میں وہ کہتا ،میں دیکھوں ہی کیوں جب ابھی شادی کرنی ہی نہیں ۔ جب کرنی ہو گی اس وقت دیکھا جائے گا ۔
آپا نے طیب کو پکارا تو وہ ایکدم سے جیسے خیالوں سے نکل آیا اور بولا
جی آپا جی۔
وہ بولی،
انہیں دیکھو بچوں کو 🍫 چاکلیٹ دے رہی ہیں
وہ مسکرا دیا۔
عروبہ نے پرس میں کافی چاکلیٹس رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے سب کو دینی چاہی تو اتنے میں طیب کے ابا جی بھی آ گئے کہ طیب بھی ابھی تک عروبہ کو بلا کر نہیں لایا تھا۔ طیب کی ماں نے شوہر سے کہا
بچی سب کو چاکلیٹس دے رہی ہے ۔
عروبہ نے بچوں والے انداز میں گلہ کرتے ہوئے کہا
دیکھیں نا انکل جی، میں نے ناشتہ کھانے سے ایک بار بھی انکار کیا تھا حالانکہ میری موم ڈیڈ نے مجھے سختی سے کسی اجنبی سے کچھ کھانے پینے سے منع کیا تھا پر نہ جانے آپ لوگ مجھے کیوں اتنے اچھے اور بھروسے مند لگے ہیں کہ میں نے ناشتہ بھی کر لیا اور میرا یہاں سے جانے کا دل 💓 بھی نہیں کر رہا۔
طیب کے ابا جی بولے
گڑیا آپ کا اپنا گھر 🏡 ہے جب چاہو آ جایا کرو۔
عروبہ بڑی معصومیت سے پوچھنے لگی،
کپڑے نہ بھی سلوانے ہوں تب بھی۔
طیب کی ماں نے اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا
جب چاہو آ سکتی ہو تمہارا اپنا گھر ہے۔
پھروہ اسے گلے لگاتی ہوئی بولی
ماشاءاللہ بہت پیاری اور پرخلوص بچی ہے۔
عروبہ نے بھی انہیں گلے لگاتے ہوئے کہا
آنٹی جی آپ سب لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔ میں اب یہاں آیا کروں گی۔ ان پیارے پیارے بچوں سے بھی ملنے۔ مجھے یہ بہت اچھے لگے ہیں۔
پھر اس نے سب کو چاکلیٹس دیں تو ابا جی نے اشارے سے مسکرا کر اجازت دے دی اور خود بھی پکڑ لی۔ اتنے میں عروبہ کی موم کا فون آ گیا اور وہ پریشانی سے بولی
ہنی کدھر ہو۔ حنا اور اس کی موم تو پارلر بیٹھی ہوئی ہیں۔ حنا نے بتایا کہ تم نے اسے فون کر کے درزی صاحب کی دوکان پر جانے کا کہا تھا مگر اس نے انکار کر دیا تھا کہ وہ کل جائے گی۔ گھرفون کیا تو تمہاری بھابھی نے بتایا کہ تم تو ناشتہ کیے بغیر ہی اکیلی گاڑی لیکر نکل گئی ہو اور کہہ رہی تھی کہ حنا کے ساتھ جاؤگی۔ سب پریشان ہو رہے ہیں اور فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔ جلدی بتاؤ کدھر ہو۔
عروبہ نے جواب دیا
سوری موم فون سائلنٹ پر لگایا تھا یاد نہیں رہی۔ میں جلدی میں تھی پھر حنا کی بچی نے بھی ساتھ جانے سے انکار کردیا تو اکیلی ہی ادھر آ گئی۔
کیا
اس کی موم کی چلانے کی آواز موبائل سے باہر تک آ رہی تھی ۔
عروبہ نے موم سے کہا
موم پلیز کول ڈاون۔ میں بلکل خیریت سے ہوں اور جلدی سے ساری بات بتا دی۔
اس کی موم نے فوراً کہا
تمہیں منع کیا تھا اکیلے مت جایا کرو۔ ڈراہیور کو ساتھ لے جاتی۔ مجھے جلدی سے سب کی لائیو وڈیو کال کراؤ۔ میں ان کو دیکھنا اور بات کرنا چاہتی ہوں۔
عروبہ نے سب کی طرف موبائل گھما کر دیکھایا اور اس کی موم نے سب سے بات چیت کی وہ شکل سے کافی پریشان لگ رہی تھی۔ قدرے تسلی ہو گئی۔ ماں نے اسے کہا
اکیلی مت آنا، وہ بہت رش والی خطرناک جگہ ہے۔ ان کے بیٹے سے کہو اگر وہ گاڑی چلا سکتا ہے تو تمہیں چھوڑ جائے۔ میں اسے آنے جانے کا کرایہ دے دوں گی۔ تمہارے ڈیڈ اور بھائی بھی سب جلدی گھر 🏡 آ گئے تھے سب پریشان ہیں۔
طیب کے ابا جی نے عروبہ کی ماں سے کہا
بہن جی گڑیا کو میرا بیٹا چھوڑ آئے گا آپ فکر نہ کریں۔ آج کوئی جلوس وغیرہ بھی ہے۔ سڑکوں پر بہت رش ہے۔
عروبہ کی ماں جلدی سے بولی
ٹھیک ہے جلدی سے اسے بھیج دو۔
طیب کے ابا جی نے طیب سے کہا
بیٹا تم گڑیا کو چھوڑ آنا۔ میں اس کے کپڑوں کا حساب کتاب دیکھ لوں۔ عروبہ انہیں کپڑے سمجھانے لگی۔ انہوں نے دو دن میں دینے کا وعدہ کر لیا۔ عروبہ حیرت سے بولی
اتنی جلدی انکل جی کیسے سیں گے۔ ابھی سالگرہ میں کچھ دن باقی ہیں، آپ اپنی جان نہ کھپانا۔ ایک ہفتے بعد آرام سے سی سی کر دے دینا کوئی جلدی نہیں ہے۔
عروبہ نے طیب سے کہا
چلو جلدی کرو۔
اس نے کہا
اچھا چلیں۔
آپا نے کہا
تم نے تیل لگایا ہوا ہے، نہانے لگے تھے کپڑے تو چینج کر لو، جلدی سے نہا دھو لو۔
مگر وہ لاپروائی سے بولا،
دیر ہو جائے گی۔
عروبہ نے بھی کہا
میں انتظار کر لوں گی تم تیار ہو جاؤ مگر وہ نہ مانا۔
جب وہ گاڑی میں بیٹھا تو وہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
طیب نے جھجکتے ہوئے کہا
میم آپ بےشک پیچھے بیٹھ جائیں تو وہ بولی
تمہیں اس گاڑی کا اگر سمجھنا ہوا تو میں بتاتی رہوں گی۔
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا
میم میں چلا لوں گا۔
طیبہ حیرانگی سے دیکھتی رہی کہ کیسے اسے اتنی لیٹسٹ گاڑی کے بارے میں سب پتا ہے۔ ایک دو چیزیں اس نے پوچھیں اور پھر آرام سے چلانے لگا۔ راستے میں کافی رش تھا مگر وہ بہت احتیاط سے بچتا بچاتا نکل گیا ۔
عروبہ کو بہت پیاس لگی۔ اس نے کہا
سنو مجھے پانی پینا ہے کسی شاپ پر روک کر پانی کی بوتل لا دو۔
طیب نے ایک شاپ کے قریب گاڑی روکی اور اس سے پوچھنے لگا
بڑی بوتل چاہیے کہ چھوٹی۔
عروبہ نے کہا
چھوٹی۔
وہ پیسے نکالنے لگی مگر وہ جلدی سے چلا گیا۔
ہاتھ میں بوتل پکڑے آیا اور اسے پکڑا کر جلدی سے گاڑی چلانے بیٹھ گیا ۔
عروبہ نے اسے پیسے پکڑانے چاہے تو وہ بولا
رہنے دیں اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔
عروبہ نے ہزار کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
اچھا اسے ویسے رکھ لو۔
طیب نے سنجیدہ اورتھوڑا تلخ لہجے میں کہا
پلیز۔
عروبہ اس کے اس انداز سے حیران رہ گئی۔ وہ سارے راستے سنجیدہ شکل بنائے رہا۔
عروبہ نے اس سے پوچھا
تم کیا کرتے ہو۔
طیب نے زرا غصے سے جواب دیا آپ نے دیکھا تو ہے کپڑے سیتا ہوں۔
عروبہ کو اس کے جواب میں خاموش ہونا پڑا۔ عروبہ کو لگا جیسے پیسے دینے پر اس نے مائنڈ کیا ہے۔
عروبہ کو اس کے رویے سے کوفت ہونے لگی جو بڑی اکڑ سے شکل بنا کر بیٹھا ہوا تھا۔
مگر عروبہ کی غیرت گوارا نہ کر رہی تھی کہ وہ اسے سوری بولے۔ وہ ایک امیرزادی تھی اور وہ ایک معمولی درزی کا بیٹا۔
جب وہ عروبہ کے گھر پہنچا تو اس کے ڈیڈ موم اور بھائی بھابیاں سب باہر لان میں اسکا انتظار کررہے تھے۔
عروبہ کے ڈیڈ نے چوکیدار کو اسے اندر لانے کا کہا، طیب بڑے اعتماد سے چلتا ہوا آیا۔ عروبہ کے گھر والے اس کی چال ڈھال دیکھ کر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے۔ اس نے بڑے اعتماد سے ان سب کو سلام کیا۔ عروبہ کے ڈیڈ کی جہاندہ نظروں نے اسے پرکھ لیا۔
وہ بڑے پرجوش انداز میں اسے بیٹھنے کا بولے، مگر اس نے انکار کرتے ہوئے کہا
میرے ابا جی اکیلے کپڑے سی رہے ہوں گے، مجھے ان کے پاس جلدی پہنچنا ہے۔
عروبہ کے ڈیڈ نے طیب سے کہا
دیکھو بچے ہماری جو یہ گاڑیاں ہیں انہیں ہر کوئی ڈرائیور نہیں چلا سکتا۔ تم اسے چلا کر لائے۔ اگر ہم تمہیں اپنے ہاں ڈرائیور کی نوکری کی آفر کریں تو کیا کہتے ہو۔ تم کپڑے سی کر کتنا کما لیتے ہو۔ ہم اس سے زیادہ ہی تمہیں دیں گے ۔
طیب نے کہا
میں کپڑے پیسے کمانے کیلئے نہیں سیتا بلکہ اپنے باپ دادا کی محبت میں اس پیشے سے منسلک ہوں اور مجھے اپنے باپ دادا کے پیشے پر فخر ہے کہ میں ایک قابل درزی صاحب کا بیٹا ہوں۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ پیسے بھی کمائے جاتے ہیں اور اپنے ابا جی کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع بھی مل جاتا ہے۔ کیونکہ بزرگوں کو اس عمر میں اولاد کی کمپنی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ میں باہر جا کراس سے بھی زیادہ پیسے کما سکتا ہوں۔ مگر باپ کی صحبت سے محروم رہوں گا وقت گزرتا جاتا ہے اور والدین اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
پاس کھڑے عروبہ کے دونوں بھائی اس کی باتوں پر حیران اور شرمندہ ہونے لگے۔ کیونکہ ان کے ڈیڈ نے ان کو اپنا بزنس سنبھالنے کا کہا تھا مگر باہر ملک میں ان کو اس سے بہت بہتر بزنس کا چانس ملا تھا۔ جسے وہ کھونا نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے باپ کو صاف منع کر دیا تھا۔ اب وہ باپ سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے اور باپ انہیں دیکھ کر سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
عروبہ کے باپ نے اس کے کندھے کی تھپکی لگاتے ہوئے اسے کہا
شاباش بیٹا بہت اچھی تربیت کی ہے تمہارے والدین نے۔
پھروہ بیٹے سے بولے
ایسا کرو ایک کارڈ لا کر اسے دو۔ بیٹا تم اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ میری پوتی کی سالگرہ پر ضرورآنا اور کھبی ہمیں ضرورت پڑے تو کیا تم گاڑی چلانے آ جاؤ گے۔
طیب بولا
جی میں اپنے ابا جی کی اجازت سے پوری کوشش کروں گا۔ آپ کے خلوص کا بہت شکریہ۔ اگر ابا جی مانے تو ہم ضرور آئیں گے۔
عروبہ کے باپ نے کہا
اپنے ابا جی کا نمبر دے دو
طیب نے جھٹ سے اپنا نوکیا موبائل نکالا اور اپنے باپ کا نمبر ملا کر ان سے بات کروا دی۔ طیب کے ابا جی نے شکریہ ادا کیا اور کہا
میں اور میری بیوی آ جائیں گے طیب کے ساتھ۔
عروبہ پاس کھڑی تھی فوراً بولی
آپا جی اور ان کے بچے بھی ضرور آئیں۔ وہ مجھے بڑی اچھی لگی ہیں۔ عروبہ کے باپ نے جلدی سے کہا،ہاں ہاں وہ بھی آئیں گے۔
عروبہ اپنی ملازمہ کے ساتھ جوس لیے آ گئی۔ اس کے باپ نے اسے جوس پینے کا اشارہ کیا۔ طیب نے جوس پکڑ کر شکریہ ادا کیا اور جلدی سے بسمل اللہ پڑھ کر پینے لگا اور آخر میں شکر الحمد للّہ پڑھ کر گلاس واپس کر کے جانے لگا تو عروبہ کے والد نے اس کو پیسے پکڑانے کی کوشش کی تو اس نے شکریہ کہہ کر انکار کر کے تیزی سے باہر نکل گیا۔
عروبہ کی ماں نے عروبہ کو ڈانٹا کہ اکیلی کیوں گئی تھی اور وہاں ناشتہ کیوں کیا۔ پتا ہے ان لوگوں کا کھانا کتنا ان ہائی جینک ہوتا ہے۔
پھر وہ عروبہ کے والد سے غصے سے مخاطب ہوئی
آپ کو انہیں کارڈ دیکر گھر میں انوائیٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمارا ٹوٹل فیملی فنکشن ہوتا ہے۔ ہم گھر کے افراد کے علاؤہ چند سلیکٹیڈ لوگ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو اتنی اہمیت دینے کی کیا ضرورت تھی۔
عروبہ کے باپ نے کہا
بیگم یہ بڑے کام آنے والا لڑکا ہے۔ اس لیے میں اس کو اتنی اہمیت دے رہا ہوں۔
عروبہ کی ماں نے نفرت بھرے لہجے میں کہا
خاک کام آئے گا اکڑ تو اس میں اتنی زیادہ ہے ۔
عروبہ کے باپ نے کہا
بیگم اسی لیے تو ان لوگوں کو پیار سے رام کر کے کام لوں گا۔
پیار سے یہ لوگ بھاگے دوڑتے پھرتے ہیں۔ جان تک وارنے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کو بس زرا اہمیت دینی ہے۔ تم سب اس میں میرا ساتھ دو۔
سب نے کہا
اوکے
عروبہ جو اپنے روم میں بیٹھی انہیں لوگوں کے بارے میں سوچ رہی تھی دل ❤️ میں پیچ وتاب کھا رہی تھی۔ پہلی بار اسے اپنے گھر 🏡 والے غلط لگے اور طیب لوگ بہت مخلص لگے۔ وہ انہیں اپنی فیملی کا کھلونا نہیں بننے دے گی۔ اس نے دل 💓 میں تہیہ کر لیا۔
عروبہ نے والد سے کہہ کر اپنے لیے سکوٹی خرید لی اور وہ اب تقریباً روز طیب کے گھر جانے لگی۔ وہ لوگ اس کی آمد پر بہت خوش ہوتے۔ وہ بچوں کیلئے مہنگے کھلونے لیکر جاتی آگے طیب کے والد اعتراض کرتے تو رونے لگ جاتی۔ انہیں مجبوراً ماننا پڑتا۔ پھر انہوں نے شرط رکھی کہ وہ اس کے کپڑوں کی سلائی نہیں لیں گے کیونکہ انہوں نے اسے بیٹی مانا ہے۔ وہ کھانے پینے کی ہوٹل 🏨 کی بہت سی چیزیں لے جاتی۔ ان لوگوں نے ایسی چیزیں کھبی نہیں کھائی تھیں۔ وہ انہیں ہر چیز ٹیسٹ کروانا چاہتی تھی۔
عروبہ نے نوٹ کیا جب بھی وہ کوئی چیز لیکر جاتی ہے تو وہ سب پہلے پریشان ہو جاتے ہیں اسے سرزش کرتے ہیں کہ اتنا کچھ کیوں لاتی ہو۔ وہ کہتی
اس کے بدلے مجھے آپ لوگوں کے گھر کا مزے دار کھانا مل جاتا ہے۔
اسے ان کے کھانے بہت پسند آتے جو اکثر دال سبزی ہر ہی مشتمل ہوتے۔
ایک دن اس کو طیب کے ابا جی نے کہا
بیٹی تم اپنے 🏠 والوں کی کمائی ہم پر لٹا رہی ہو۔ ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ ہم کسی کی بے خبری میں ان کی کمائی کھاتے پھریں اور ان کو علم بھی نہ ہو۔
اس نے کہا
واقعی ان لوگوں کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ میں گھر سے نکلنے کے بعد چیزیں لیتی ہوں اور یہ سب میری اپنی محنت کی کمائی ہے۔ میں نے ادھر سے جانے کے بعد سوچا کہ میں ویسے ہی فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کرتی رہتی ہوں۔ میں نے اون لائین کمانا شروع کر دیا ہے۔ گھر 🏠 والوں کو اس بات کا بھی علم نہیں ہے۔ میں جب کوئی سیریز دیکھتی تھی تو اپنا روم بند کر کے گھر والوں کو وارننگ دے دیتی تھی کہ کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔ اس بہانے میں اچھا خاصا کمانے لگی ہوں اور گھر والوں سے الگ پاکٹ منی لیتی ہوں اور مجھے ہوش آ گئی ہے کہ ضرورت سے زیادہ اگر ہم مال جمع کریں گے تو اسکا حساب کتاب دینا پڑے گا اور سارا فالتو مال قیامت کے دن سر پر اٹھا کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ میں راستے بھر میں ان لوگوں کی مدد کرتی جاتی ہوں جو محنت کرتے ہیں، بھیک نہیں مانگتے، ریڑھیوں والے اور اس طرح کے دوسرے لوگ۔ اب میں نے فالتو شاپنگ بھی بند کر دی ہے اور برانڈ کی چیزیں لینا بھی بند کر دی ہیں۔ انسان جس میں اچھا لگے وہی ڈریس اچھا ہوتا ہے چاہے سستا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ لوگ جو مجھے سستے کپڑے اتنے خوبصورت بنا کر دیتے رہتے ہیں وہ جب میں کسی فنکشن میں پہنتی ہوں تو سب تعریف کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں۔ وہی ڈریس ایسا ہی سلوا کر ان کو مہنگے داموں دے دیتی ہوں۔ اس طرح سے میرا ایک الگ سے بزنس بھی چل پڑا ہے اور میں نے اپنے برانڈ کا نام درزی صاحب رکھا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ ترقی کر رہا ہے۔ اور میں نے اس کام کیلئے ورکرز بھی رکھ لیے ہیں۔ فیکٹری لگانے میں ڈیڈ نے میری مدد کی۔ آپ لوگوں سے سیمپل بنواتی ہوں اور پھر وہ سب کو بہت پسند آتے ہیں۔ اب کپڑے کی کوالٹی بھی بڑھا دی ہے کیونکہ میرا بزنس اب امپورٹ ایکسپورٹ ہونے لگا ہے۔ ڈیڈ میرے خودکفیل ہونے پر بہت خوش ہیں۔ بیٹوں نے اپنا اپنا الگ بزنس شروع کیا۔ میرے ڈیڈ نے میرا شرعی حصہ سارا میرے بزنس کی ترقی میں صرف کیا۔ اس وجہ سے کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوا۔ سب کو ان کے حصے مل گئے۔ میں نے اپنے ڈیڈ کا آبائی گھر 🏡 بھی شامل کیا۔ کیونکہ مجھے اس گھر سے انسیت تھی۔ وہ خوش ہیں کہ میری بیٹی بہت سمجھدار ہو گئی ہے۔ طیب نے میرا بہت ساتھ دیا اور میری ہر کام میں مدد کی۔ اس کیلئے میں آپ کی بہت مشکور ہوں کہ آپ نے اپنا کام حرج کروا کر اسے میرے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی۔ شروع میں تو وہ اس کام کے پیسے بھی نہیں لیتا تھا مگر میرے اور ڈیڈ کے سمجھانے پر اس نے کہا کہ اس کام کیلئے آپ جو دوسروں کو دیں گی اس سے آدھی مجھے دیں گی۔ تب جا کر وہ مانا اور کہا کہ میری تنخواہ ساری میرے ابا جی کو ملے۔ میں ان سے اپنی ضرورت کے مطابق لے لوں گا۔
اس کے ابا جی نے کہا
پھر بھی وہ وقت نکال کر سلائی میں میری مدد کرتا ہے۔ بہت کہتا ہے کہ اب آپ آرام کریں مگر میں اسے کہتا ہوں کہ یہ میرا شوق بھی ہے۔ میرا دل بھی لگا رہتا ہے۔
عروبہ کی طیب کے لیے محبت اب چھپی نہ رہی تھی۔ گھر والے صاف محسوس کرتے تھے کہ وہ اس کی دیوانی بن چکی ہے۔ اسے اپنے گھر والوں کے آگے کام کروانے نہیں دیتی۔ صاف کہہ دیتی ہے وہ کسی کا ملازم نہیں ہے۔
عروبہ کے گھر والے اس کی شادی کسی اونچے گھرانے میں کرنا چاہتے تھے مگر وہ مسلسل انکار کرتی رہتی ہے ۔
اس کے ڈیڈ طیب کی خفیہ بےعزتی بھی کر چکے ہیں اور اسے عروبہ سے دور رہنے کی بھی وارننگ بھی دی ہے۔
طیب نے اس سے دور رہنے کی کوشش بھی کی اور کام ساتھ نہ کرنے کا بہانہ بھی کیا کہ میرے ابا جی اکیلے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے کسی اور کام کے کرنے کی اجازت نہ دی سوائے تمہارے ساتھ کام کرنے کے۔
طیب کے گھر والے طیب کی عروبہ سے محبت کو بھی پہچان چکے تھے۔ دبے لفظوں میں اسے سمجھاتے رہتے تھے
اپنی حیثیت سے بڑھ کر مت سوچنا، سوائے ذلت کے کچھ نہیں ملے گا۔
اس نے انکا اشارہ سمجھتے ہوئے تسلی دی تھی کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے آپ لوگوں کو شرمندگی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
طیب کے گھر والوں کو طیب پر بھی پورا بھروسہ تھا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا۔ گھر والے طیب کی شادی پر بھی اصرار کر رہے تھے مگر وہ مسلسل انکار کر رہا تھا کہ ابھی وہ اپنے گھر کے حالات بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس نے بھی رات 🌃 کو آن لائن کام شروع کر دیا اور عروبہ کا اب کام سیٹ ہو چکا تھا۔ اس نے اس کے ساتھ کام کرنے سے معزرت کر لی۔ تاکہ وہ اس سے دور رہ سکے اور گھر والے بھی خوش ہو جائیں حالانکہ یہ کام اس کیلئے بہت مشکل تھا۔ مگر وہ ثابت قدم رہا۔ جب سے عروبہ کے گھر والوں نے اس کی موم ڈیڈ نے بھائیوں نے اس کی بہت بےعزتی کی اور کہا
وہ عروبہ کی پرچھائی کو بھی نہیں پا سکتا۔
عروبہ اس کے کترانے سے پریشان تھی۔ طیب کے ابا جی نے روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر منت بھرے انداز میں کہا
ہمارا اور اسکا کوئی میل نہیں ہے۔ تم آسمان کے چاند 🌙 جیسی ہو اور ہم ایک مٹی کی دھول کے برابر۔ ہمیں مشکلات میں مت ڈالو۔ تم اپنی دنیا میں خوش رہو ہم اپنی دنیا میں خوش ہیں۔ اب دوبارہ کوئی چیز ہمارے گھر مت لانا۔ تم ادھر مت آو۔ ہم پر احسان کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ہم تم سے بدلحاظ ہو جائیں اور گھر کے دروازے تم پر بند کرنا پڑیں۔ اس حد تک بھی ہم جا سکتے ہیں۔ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے بیٹی بھی اپنی حیثیت کے مطابق نہیں بنائی تھی۔ ہماری عادتیں نہ خراب کرو۔ ہم سادہ غذا سادا لباس اور سادا رہن سہن میں رہتے ہوئے بہت سکون میں تھے اور سکون سے سوتے تھے، ہمارا بیٹا بھی اب بہت ڈسٹرب ہو گیا ہے۔ بہت بے چین اور الجھا ہوا رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہم سب بھی بے سکون رہتے ہیں۔ ہم اسکا گھر بسانا چاہتے ہیں۔ مگر وہ کسی سے بھی شادی پر مان نہیں رہا۔ کیا ہم اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کا ارمان لیے ہی اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ تم طیب کو بھول جاؤ۔ تم ہمارے رہن سہن کو نہیں اپنا سکتی نہ ہی ہم تمہیں وہ ساری آسائشیں دے سکتے ہیں، جن کی تم عادی ہو۔ ہماری جو بھی بہو ہو گی اسے ہمارے اسی گھر میں ہمارے طور طریقوں کے مطابق رہنا پڑے گا۔ ہم اپنے بیٹے کو خود سے جدا نہیں کریں گے۔ تمہارے باپ کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں دشمنی میں مت ڈالو۔ ہمیں اور ہمارے بیٹے کو ذلیل مت کراؤ۔ پلیز گڑیا اپنی دنیا میں لوٹ جاؤ۔ تم ہمیں بہت عزیز ہو۔ تم ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہو گی۔ ہم تمہارے اچھے مستقبل کی دعائیں بھی کرتے رہیں گے۔ اسی لیے ہم تماری بھتیجی کی سالگرہ پر بھی نہیں آئے۔ تاکہ راہ ورسم اپنے جیسوں سے بڑھائے جاتے ہیں۔ ہم تم لوگوں کے ساتھ نبھا نہیں سکتے تھے ۔ اس لیے رشتے دار کی شادی کا بہانہ کر دیا۔
عروبہ نے جب ان کی باتیں سنی اور بغیر کچھ کہے تیزی سے نکل گئی۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ وہ ایک پارک میں چلی گئی اسے تنہائی چاہیے تھی۔ وہ سوچنا چاہتی تھی اور اپنے بارے میں کچھ فیصلہ کرنا چاہتی تھی۔ اسے طیب کے ابا جی کی ایک ایک بات سچ لگ رہی تھی۔ وہ سچائی سے منہ نہیں موڑ سکتی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ پارک تقریباً خالی تھا۔
اسے بھتیجی کی سالگرہ یاد آ گئی۔ طیب اس کی بھتیجی کا ہاتھ سے سلا بہت خوبصورت شرارہ بنا ہوا لایا۔ اس کے ساتھ چھوٹا سا ہاتھ سے سلا پرس، میچنگ چوڑیاں اور گلے کا نیکلس لایا۔
سب مہمان آ چکے تھے اور کیک کٹنے والا تھا۔ عروبہ کی بھتیجی نے بہت مہنگا برانڈ کا ڈریس پہنا ہوا تھا۔ عروبہ کو طیب کا بےصبری سے انتظار تھا۔ سب کو اس کی بے چینی پر حیرت ہو رہی تھی جو ان لوگوں کو کیک کاٹنے نہیں دے رہی تھی کہہ رہی تھی کہ درزی صاحب کی فیملی کو آنے دیں پھر کیک کاٹنا۔
طیب جلدی سے اپنی ایک پرانی سی بائیک پر آیا تھا۔ راستے میں اس کی بائیک بھی خراب ہو گئی تھی۔ وہ بائیک اپنے جاننے والے کو دے کر رکشے میں بیٹھ کر آیا تھا۔
جب طیب آیا تو اس کو دیکھتے ہی عروبہ کھل گئی۔ اس سے جلدی سے پوچھنے لگی
ابا جی، آپا جی، اماں جی، بچے سب کدھر ہیں کیوں نہیں آئے۔ سب مہمان اسے حیرت سے دیکھنے لگے کہ عروبہ کتنے احترام سے سب کا نام لے رہی ہے۔
آج طیب پینٹ کوٹ پہنے بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ جوان لڑکیاں اسے بہت شوق سے دیکھ کر عروبہ سے پوچھنے لگیں
ارے یہ ہیرو کون ہے۔ کافی ہینڈسم ہے۔
سب جوان لڑکوں سے زیادہ وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ آج بال بھی تیل والے نہ تھے۔ بلکہ بڑے انداز میں سیٹ کیے ہوئے تھے۔ طیب اپنے محلے کے دوست نائی سے اسپیشل تیار ہو کر آیا تھا۔ سوٹ بھی اس نے حالانکہ اپنی آپا کی شادی والا نکال کر اپنے محلے سے ڈرائی کلین کروا کر پہنا تھا۔ بوٹ عید والے تھے ۔ وہ جلدی میں آیا اپنے ابا جی کی بات عروبہ کے باپ سے کروائی۔ جنہوں نے خاندان کی شادی کا بہانہ بنایا اور بہت معزرت کی اور طیب کو جلدی سے بھیجنے کی درخواست کی۔
عروبہ کے باپ نے خاموشی سے فون سنا اور مختصر جواب دیا جی کوئی بات نہیں اور طیب سے کہا کہ اس کے فادر اسکا ویٹ کر رہے ہیں انہوں نے شادی پر جانا ہے اور طیب بغیر کچھ کھائے جانے لگا تو عروبہ نے جلدی سے اسے جوس کا گلاس پیش کیا اور پیزا 🍕 بھی۔ وہ بہت محنت سے اور لگن سے تیار ہوئی تھی۔ طیب نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور ہلکہ سا مسکرا کر موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اپنے جزبات کو کنٹرول کر کے پیزے کا پیس منہ میں ڈالا اور جلدی سے جوس پیا۔ کیونکہ وہ صبح کا بھوکا تھا ادھر آنے کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا۔ سب گھر والے اس کے جوش کو دیکھتے ہوئے پریشان اور حیران تھے۔
طیب کو جب باقی چیزیں عروبہ نے پیش کیں تو وہ تھینکس کہتا ہوا سوری کہہ کر جانے لگا تو عروبہ کی فرینڈ حنا نے عروبہ سے کہا
ارے اسکا گفٹ تو کھول کے دیکھو کیا لایا ہے۔
عروبہ نے جلدی سے اسے کھولا تو اس کی بھتیجی کو وہ کپڑے بہت اچھے لگے وہ دیکھ کر ضد کرنے لگی
اس نے یہ والا ڈریس پہننا ہے۔
اس کی ضد کو دیکھتے ہوئے عروبہ اسے کمرے میں تیار کرنے چل پڑی۔ اس نے پرس بھی گلے میں لٹکایا اور چوڑیاں بھی پہنیں اور گلے میں نیکلس بھی پہنا۔ طیب اس کی بھتیجی کے آنے کا انتظار کرنے لگا کہ اس کے باپ کی کال آ گئی۔ وہ اسے وہاں زیادہ دیر روکنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ بیٹے کا رحجان دیکھ چکے تھے۔ وہ اس چنگاری کو بھڑکنے سے پہلے ہی بجھانا چاہتے تھے۔ طیب نے کہا
ابا جی عروبہ صاحبہ اپنی بھتیجی کو وہ ڈریس پہنانے گئی ہیں جو اس بچی کو پسند آیا ہے اس نے ابھی اسے پہننے کی ضد کی ہے۔ میں اس کو ایک بار دیکھ لوں پھر جلدی سے آتا ہوں۔
ابا جی نے پھر تاکید کی
بیٹا جلدی آنا۔
جی ابا جی۔
کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ طیب نے عروبہ کے ساتھ اس کی بھتیجی کو دیکھا جو اس ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اس کے آتے ہی سب نے اس نے اس کی تعریفیں شروع کر دیں۔ عروبہ کے گھر والے حیرت سے سب کی تعریفیں سن کر حیران ہونے لگے۔
طیب بہت خوش ہوا۔ اور معزرت کرتا ہوا ایک اچٹتی نظر عروبہ پر ڈال کر تیزی سے باہر نکل گیا۔ جاتے جاتے اسے کسی نے پکارا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کا پرانا دوست باہر لان میں کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ طیب کو دیکھتے ہی پہچان کر چلایا
اوئے طیب کے بچے کدھر جا رہا ہے۔
طیب نے بھی اسے پہچان لیا ۔عروبہ پیچھے ہی اداس سی باہر آئی۔ تو طیب کو اس کے کزن کے ساتھ باتیں کرتے حیرت سے دیکھنے لگی۔ اسکا کزن عروبہ کو دیکھ کر بولا،
ارے عروبہ تم نے بتایا نہیں کہ یہ طیب کا لنک تم لوگوں کے ساتھ کیسے جڑا۔ میں باہر ایک ضروری کال پے تھا اسے جاتے دیکھا تو روک لیا۔ ورنہ یہ تو بھاگ رہا تھا۔ یہ میرا کالج کا دوست ہے ہم ہم دونوں نے ایک ساتھ ایم فل کیا تھا۔
عروبہ نے حیرت سے پوچھا
طیب نے ایم فل کیا ہوا ہے اور یہ درزی بن کے کپڑے سیتا ہے۔
اتنے میں عروبہ کے ڈیڈ بھی اور بھائی بھی آ گئے عروبہ کو بلانے کے جلدی آؤ کیک کاٹنا ہے گیسٹ ویٹ کر رہے ہیں۔
مگر جب انہوں نے بھی سنا کہ طیب نے ایم فل کیا ہوا ہے تو وہ بھی حیرت سے دیکھنے لگے۔ عروبہ کے بڑے بھیا نے پوچھا
ارے تم کوئی جاب کیوں نہیں کرتے، اس کپڑے سینے سے زیادہ ہی پیسے کما لو گے۔ تم اگر چاہو تو میں تمہیں جاب دے سکتا ہوں۔
طیب کے دوست نے جھٹ طیب کی صفائی دیتے ہوئے کہا
یہ ایک پاگل لڑکا ہے۔ کالج میں سب کو فخر سے بتایا کرتا تھا کہ میں ایک ہنر مند درزی کا بیٹا ہوں۔ جب یہ ایم فل کر چکا تو اس نے جاب کرنا چاہی تو اس کے ابا جی نے اسے جزباتی انداز میں کہا کہ تم پڑھ لکھ کر اپنے باپ دادا کا پیشہ چھوڑ دو گے کیا۔ ہماری آگے کی نسل اپنے باپ دادا کے پیشے سے محروم ہو جائے گی۔ جو ان کا نام تھا ایک ہنرتھا کہ وہ بہت قابل درزی ہیں، وہ سب مٹی میں مل جائے گا ۔ کیا تم بھی پڑھ لکھ کر اپنے باپ دادا کے کام کو حقیر جانو گے۔ تمہارے بچے دوسروں کو بتاتے ہوئے شرمائیں گے۔ کیونکہ تم خود پڑھے لکھے ہو تو بچوں کو بھی اچھی اور اعلیٰ تعلیم دو گے۔ یہ ان کے سامنے رونے لگا اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ نوکری نہیں کرئے گا بلکہ آپ کے ساتھ ملکر درزی کا کام کرئے گا۔ یہ تو اپنی ڈگریاں بھی پھاڑنے اور آگ لگانے لگا تھا، وہ تو اس کی آپا نے بچا لیا۔ اس کے بعد میں نے اسے بہت اچھی نوکریوں کے بارے میں بتایا تو چڑ کر اس نے مجھے بلاک کر دیا۔ میں تو اس کے گھر کا ایڈریس بھی نہیں جانتا تھا کیونکہ اسکا ماننا تھا کہ دوستیاں گھر 🏠 سے باہر ہی اچھی لگتی ہیں۔ گھر کے اندر لانے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اب شکر ہے اس نمونے کی شکل دیکھنے کو ملی۔ ویسے یہ ادھر کس طرح پہنچا۔
طیب نے سنجیدگی سے کہا،
میں ان لوگوں کا درزی ہوں۔ ان لوگوں کی مہربانی ہے کہ ان لوگوں نے عزت بخشی اور سالگرہ پر انوائیٹ کیا۔
دوست نے ماتھے پر ✋ مار کر کہا،
بےوقوف اپنے ابا جی کو سمجھاؤ کہ کوئی پیشہ بھی چھوٹا یا بڑا یا خاندان کی نسلوں تک نہیں چلتا۔ ہر کسی انسان کے اندر مختلف خوبیاں ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر کوئی انسان ایک چیز میں ماہر ہو تو دوسرا بھی اسی کام میں ماہر ہو۔ ترقی کرنے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے۔ جب ہم ہجرت کرکے ثواب کما سکتے ہیں تو پیشہ بدلنا کیسے برا ہوا۔ جو لوگ درزی، موچی ،نائی، ریڑھی والے وغیرہ کا مزاق اڑاتے ہیں، وہ لوگ بہت گھٹیا سوچ کے مالک ہوتے ہیں ۔ کیا معلوم مرنے کے بعد قیامت کے روز جو ہمیشہ کی زندگی ہے وہاں پر وہ بلند درجات کا مالک ہو۔ جس انسان کو اگر اللہ تعالیٰ نے غریب پیدا کیا ہے تو اگر وہ اسمیں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس پرصبر کرتا ہے اور خوش ہے اور اللہ اسے آخرت میں اتنا اجر عطا فرمائیں گے کہ انسان سوچتا کاش میں ساری زندگی صبر ہی کرتا رہتا۔
اللہ پاک کسی سے بےانصافی نہیں کرتے ۔ اگر اسے غریب رکھا ہے تو اسمیں بھی اسکا بھلا ہے۔ اگر کوئی بےاولاد ہے تو اس میں بھی اسکا بھلا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن والدین سے ان کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ کہ انکو دین کا راستہ دیکھایا ان کو دین کی تعلیم دی۔ اور جو بےاولاد ہوں گے وہ اس حساب کتاب سے بچے رہیں گے۔ مانا کہ اولاد بھی ایک نعمت ہے مگر یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اسے اپنے لیے نعمت بناتے ہیں یا زحمت۔
طیب کے ابا نے جب فون کیا تو طیب نے فون اٹھایا وہ آواز سنکر بولے
چپ رہو۔
طیب خاموش رہا ۔اس کے دوست کی ساری باتیں اس کے ابا جی نے سنیں اور غصے سے طیب سے کہا
تم فوراً گھر پہنچو۔
طیب پھر نہ رکا اور اسکا دوست روکتا رہ گیا فون نمبر مانگا گھر کا ایڈریس پوچھا مگر وہ بائے کہہ کر تیزی سے نکل گیا۔
اسکا دوست بولا
یہ دنیا کا مشکل ترین انسان ہے۔ میں اس کی سوچ اور اس کی اپنے باپ کی فرمانبرداری سے بہت متاثر ہوں۔
عروبہ سوچوں میں گم پارک کے ایک ویران گوشے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے والدین اس پر شادی کا زور ڈال رہے تھے۔ انہوں نے اس کے اپنے جیسے امیر کبیر لوگوں میں رشتہ تلاش کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ مگر عروبہ نے گھر میں صاف کہہ دیا تھا کہ وہ طیب سے شادی کرئے گی اس کے علاوه کسی سے بھی نہیں۔ وہ پڑھا لکھا شخص ہے۔ پھر آپ لوگوں کو کیا اعتراض ہے۔
اس کے گھر والے کہتے کہ ایک درزی سے ہم اپنی رشتے داری کیسے قائم کرلیں۔ لوگ کیا کہیں گے ہماری بھی کچھ عزت ہے ایک مقام ہے۔ لوگ سمجھیں گے کہ شاید بیٹی میں کوئی نقص تھا اس لیے ایک درزی کو پکڑا دی۔ ہم دنیا کے طعنے برداشت نہیں کرسکتے۔
جب کچھ لڑکے پارک کی آتے دیکھائی دیے تو عروبہ ڈر گئی اور جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کر کے گھر آ گئی۔ اب وہ گھر میں کسی سے بات نہ کرتی تھی۔ اس کے دونوں بھائی اپنی فیملی کے ساتھ واپس امریکہ جانے والے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عروبہ کی شادی کر کے ہی واپس جائیں۔
طیب جب گھر آیا تو اس کے بابا نے اس کو ڈانٹا کہ ایک تو تم بہت لیٹ آئے ہو دوسرا تمہارا دوست تمہیں کیا پٹیاں پڑھا رہا تھا۔
طیب جو پہلے ہی دوست کی باتوں سے اپ سیٹ تھا اس نے زرا غصے بھرے لہجے میں ساری بات بتا دی کہ پہلے بائیک پنچر ہوا وغیرہ ۔
وہ خاموشی سے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ اس کو اپنے دوست کی باتیں ٹھیک لگ رہی تھیں۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر میں کوئی اور پیشہ اپناتا ہوں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اس نے لیب ٹاپ کھولا اور اس میں نوکری تلاش کرنے لگا۔ اس نے پہلے ہی کافی وقت برباد کر دیا تھا۔ اس کا باپ بوڑھا ہو چکا تھا اب اس سے سلائی کا کام بھی زیادہ نہیں ہو سکتا تھا۔
طیب بھی اس کام کو مجبوری میں کرتا تھا شوق سے نہیں اور ابھی تک وہ قمیض سینی نہیں سیکھ سکا تھا۔
گھر کے اخراجات بڑھ رہے تھے۔ اس نے دل 💓 میں پچھتاتے ہوئے سوچا کہ وہ ابا جی کو اس طرح بھی سمجھا سکتا تھا کہ پڑھائی کرنے کا مقصد اپنی فیملی اپنے والدین کو آرام دہ زندگی دینے کا مقصد ہے۔ جو درزی کے کام سے نہیں مل سکتی ۔
اس کام سے دنیا بہت کما بھی رہی ہے۔ مگر جن کے پاس سرمایہ اور وسائل میسر ہیں۔
ہمارے پاس نہ سرمایہ ہے اور نہ وسائل۔ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں کے لوگ بہت کم کپڑے سلواتے ہیں کیونکہ وہ غریب لوگ ہیں اور امیر لوگ ہمارے جیسے علاقے کے درزیوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اس لیے ترقی ممکن نہیں اور اس کے اباجی کو اپنے پیشے سے عشق تھا۔ تعلیم حاصل کرنا فرض ہے۔ اس کے لیے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تعلیم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے۔
اس نے ساری بات اپنی آپا کو بتائی۔ اور اصرارکیا کہ وہ ابا جی کو سمجھائے کہ وہ اسے نوکری کی اجازت دے دیں۔ کیونکہ وہ اس کی آپا کی بات اکثر مان جاتے تھے۔
آپا نے جب ان کو ساری بات سمجھائی اور ان کی سمجھ میں آ گئی۔ انہوں نے طیب کو بلا کر معافی مانگی کہ تمہاری فرمانبرداری کا میں غلط استعمال کرتا رہا۔ مجھے معاف کر دو۔ درزی کا پیشہ برا نہیں، نہ ہی کوئی پیشہ چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ لوگوں کی سوچ وقیانوسی اور گھٹیا ہے۔ جو بجائے ان لوگوں کے شکر گزار ہونے کے ان کے ناشکرے ہیں۔ اگر درزی کپڑے نہ سی کر دے تو یہ امیر لوگ دھوتیاں پہنے پھریں۔
مستری مکان نہ بنائے تو یہ لوگ کہاں رہیں۔ غرض جو یہ اناج کھاتے ہیں وہ کسان کتنی محنت ومشقت سے بیچ بوتا ہے، گرمی کی شدت میں فصلیں کاٹتا ہے۔ تب ہم سب اس سے اپنے پیٹ کی بھوک مٹاتے ہیں۔ مگر ہمیں ان سب لوگوں کی شدید محنت کا احساس کرنا چاہیے اور ان کو دوسروں کی بانسبت زیادہ عزت دینی چاہیے۔ انہیں معاشرے میں ایک مقام ملنا چاہیے۔
عروبہ نے گھر والوں کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ خودکشی کر لے گی۔ گھر والے اسے دھمکی ہی سمجھے۔
طیب کی اتفاق سے بہت اچھی تنخواہ والی نوکری لگ گئی۔ کمپنی والوں نے گاڑی بھی دے دی۔ طیب نے ابا جی کو درزی کا کام چھوڑنے کا کہا کہ بہت محنت طلب کام ہے اب آپ آرام کریں مگر انہوں نے اس کی بات کا الٹا مطلب نکالا اور بولے
میں جانتا تھا کہ تمہیں اب میرا کام برا لگنے لگا ہے۔ تمہیں اب شرم آتی ہے میرے کام سے۔
طیب نے سر پکڑ لیا۔ بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے۔ آخر آپا نے کہا
ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔
آپا کا شوہر باہر ملک سے آ چکا تھا اور آتے ہی اس نے سوسائٹی میں گھر خرید لیا تھا اور بچوں کو اچھے 🏫 میں ڈال دیا تھا۔ خود وہ کپڑے کا بزنس کرنے لگا جو اسکا اچھا چلنے لگا۔
طیب کے گھر والے بچوں کو مس کرتے تھے۔ ہر ویک اینڈ پر بچے آ جاتے تھے یا کھبی نانا نانی ان سے ملنے چلے جاتے تھے۔
طیب نے باپ کو نیا بائیک لیکر دینا چاہا مگر انہوں نے وہی پرانا بائیک چلانے کو ترجیح دی۔ طیب کو اپنے علاقے سے آفس بہت دور پڑتا تھا اور گاڑی بھی کسی ڈیرے پر کھڑی کرنی پڑتی تھی اس نے گھر شفٹ کرنا چاہا تو ابا جی نے پھر وہی باتیں دہرا کر طیب کو چپ کرا دیا۔ طیب بےبس ہو گیا۔
اسے آفس پہنچنے کیلئے بہت جلدی گھر سے نکلنا پڑتا اور لیٹ آنا پڑتا۔ آتے ہی وہ بہت تھکا ہوا ہوتا اور ابا جی سے زیادہ بات چیت نہ کر پاتا۔ اس بات پر بھی وہ طعنے دیتے رہتے کہ اب اس کے پاس باپ کے لیے وقت نہیں ۔ سیدھی طرح بول دے کہ اب افسر بن گیا ہے باپ نہیں بلکہ درزی کے پاس بیٹھنا شایان شان نہیں ہے۔
طیب آپا کی بات کو مانتے ہوئے کوئی صفائی دینے سے گریز کرنے لگا کہ آپا نے کہا تھا کہ اس عمر میں ان کو سمجھانا مشکل ہے۔ بہترہے کہ ان کو جواب ہی نہ دیا جائے ۔
طیب کی ماں بیٹے کی تکلیف پر کڑھتی اور شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرتی تو وہ اسے بھی یہی کہتے
تجھے بھی اب یہ محلہ اور میرا کام حقیر لگنے لگا ہے۔
وہ ضد میں کپڑے سیتے تو کمر میں درد ہو جاتا۔ طیب کی ماں چپکے چپکے محلے والوں کو منع کر دیتی کہ اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں سلائی نہیں کر سکتے۔ اب ادھر کپڑے سلوانے مت آنا، میرا بیٹا ناراض ہوتا ہے کہ وہ بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ رفتہ رفتہ لوگ کم آنے لگے۔ اندر سے طیب کے والد بھی شکر کرنے لگے، بس ضد میں سیتے تھے ہمت نہ تھی۔ بیٹے کو تکلیف میں دیکھتے اندر سے پریشان بھی ہوتے مگر اناء آڑے آ جاتی۔
شادی کا ابھی بھی طیب انکاری تھا ۔
آپا نے والدین کو سمجھایا
عروبہ کے گھر والے رشتہ کھبی دیں گے نہیں اور جب اس کی شادی زبردستی کہیں اپنے جیسے لوگوں میں کریں گے تو تب عروبہ بھی سیٹ ہو جائے گی ۔ عشق کا بھوت اتر چکا ہو گا تب طیب شادی پر مان بھی جائے گا کہ اب اس کے پاس نہ ماننے کی وجہ نہیں رہے گی۔
عروبہ آپا کو اکثر فون کرتی رہتی۔ ملنے آنا چاہتی مگر آپا اسے ابا جی کا بتا کر کہ وہ ناراض ہوں گے، بہت ضدی ہیں پھر کھبی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ تب وہ اس کی مجبوری سمجھتے ہوئے نہ آتی۔
عروبہ کے کام کو اب اس کے باپ نے سنبھال لیا تھا۔
عروبہ کا رشتہ انہوں نے پسند کر لیا اور گھر والے جب اسے بتانے لگے تو اس نے کہا
میں خودکشی کر لوں گی مگر کسی اور سے شادی نہ کروں گی۔
یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف گئی۔ کچن میں ملازمہ سبزی کاٹ رہی تھی۔ عروبہ نے چھری مانگی۔ ملازمہ جو روز اس کی خودکشی کی دھمکیاں سنتی رہتی تھی اس نے ایک دم چھری چولہے کے پیچھے پھینک دی۔
عروبہ کی ماں اس کی دھمکی سن کر اسے کچن میں جاتا دیکھ کر اس کے پیچھے کچن میں آئی ۔ جب عروبہ کو چھری نہ ملی تو اس نے شیشے کا گلاس اٹھا کر کاونٹر پر مارنا چاہا تو ملازمہ نے اس سے چھینا تو عروبہ نے دھکا دیکر اس سے گلاس لے لیا اور کاونٹر پر زور سے مارا اور بازو پر مارنے لگی تو اس کی ماں اور ملازمہ اس سے چھیننے کی کوشش بھی کرتی رہیں اور اونچا اونچا شور بھی مچاتی رہیں۔ شور سنکر اس کے ڈیڈ اور دونوں بھائی بھابیاں سب بھاگے دوڑتے ہوئے آئے اور دیکھا عروبہ ہاتھ ✋ زخمی کر چکی تھی۔
بھاہیوں نے اسے فوراً ہاسپٹل پہنچایا اور اس کی مرہم پٹی کروائی۔
ڈاکٹر نے کہا کہ بچت ہو گئی ہے گہرا زخم نہیں آیا۔ گھر والوں نے اس کے زندہ بچ جانے پر شکر ادا کیا۔ چند دن اس کی مرہم پٹی ہوتی رہی۔ پھر وہ ٹھیک ہو گئی۔
گھر والوں کو اس کی بات ماننی ہی پڑی۔ وہ طیب سے شادی کرنے پر راضی ہو گئے۔
عروبہ طیب کو پا کر بہت خوش تھی۔ اس نے طیب کے ساتھ اسی گھر میں رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔ چھ ماہ رہی تو وہ امید سے ہوئی تو آپا نے شور کر کے زبردستی ان لوگوں کو اپنی سوسائٹی میں گھر لینے پر مجبور کیا کہ یہاں سے ڈاکٹر نزدیک ہے۔ اگرخدانخواستہ اسے وہاں کچھ ہو گیا تو پھر کیا ہو گا۔
طیب کے ابا سوسائٹی میں آ کر بہت خوش ہوئے۔ قریبی پارک آپا کے بچوں کو روز لے جاتے۔ کچھ بزرگ ان کے دوست بن گئے۔ ان سے گپ شپ کرتے اور خوش رہتے۔ انہیں اب اس آرام دہ زندگی کا لطف آنے لگا۔ وہ یہاں دیر سے آنے پر پچھتانے لگے۔
عروبہ نے پیارے سے بیٹے کو جنم دیا۔ طیب اب عروبہ کا اور خیال رکھنے لگا۔ عروبہ اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی سمجھتی۔ اس کے والدین بیٹی کو خوش دیکھ کر خوش اور مطمئن ہو گئے۔
رائٹر عابدہ ذی شیریں ۔
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.