Loading...
Logo
Back to Novel
Kamal Ho Tum
Episodes
Kamal Ho Tum

کمال ہو تم 1

From Kamal Ho Tum - Episode 1

ماں عشاء کو سمجھا رہی تھی کہ دیکھ بیٹا تو زاران سے طلاق نہ لے۔ میں نے تیری ساس سے بھی بات کی تھی وہ بھی یہی کہہ رہی تھی اور تیرا سسر بھی زاران سے طلاق لینے سے منع کر رہا ہے۔ اس لئے بےوقوفی مت کر اب تو تو اس کے ایک بچے کی ماں بھی ہے۔

عشاء تپ کر بولی ماما اس نے وعدہ خلافی کی ہے بھائی کے ساتھ۔

اشعب نے صرف حلالہ کے لئے میرا اس سے نکاح پڑھوایا تھا پھر دوسرے دن ہی اشھب کی دوبئی کی فلاہیٹ تھی۔ ماما پلیز اس ٹاپک کو بند کریں۔ زاران کی ماموں زاد سے شادی ہونے والی ہے کتنی دھوم دھام سے منگنی ہوئی تھی ان دونوں کی۔ میں اس کی شادی سے پہلے ہی طلاق لینا چاہتی ہوں تاکہ وردا میرے بارے میں غلط خیال نہ کرے کہ میں اس کے شوہر کی حصے دار ہوں۔ خاموشی سے جیسے اشھب نے مجھے غصے میں طلاق دے کر بہت پچھتا رہے تھے اور معافیاں مانگ رہے تھے پھر زاران کو منت کر کے منا لیا۔خاموشی سے عدت گزرتے ہی مجھے نکاح کروا کر مری تین دن کے لیے بھیج دیا اور سب کو کہا کہ میں میکے گئی ہوئی ہوں۔اسی طرح میں خاموشی سے طلاق لے کر ان دونوں کی زندگی سے نکل جانا چاہتی ہوں۔

جمشید صاحب کے تین بچے تھے۔ بڑا بیٹا اشھب اس سے چھوٹا زاران اور سب سے چھوٹی مونا تھی۔

گھر میں خوشحالی تھی ایک پلازے کے مالک تھے ایک جنرل اسٹور چلاتے تھے باقی رینٹ پر دیئے ہوئے تھے۔

جمشید صاحب کے تین بچے تھے۔ دو بڑے بیٹے اشھب اور زاران ان سے چھوٹی ایک بہن مونا۔

جمشید صاحب کا چھوٹا بھائی تنویر جس نے اپنی اکلوتی بیٹی عشاء کی شادی جمشید صاحب کے بڑے بیٹے اشھب سے کی تھی۔ اشھب بی اے تھا اور باپ کے ساتھ اسٹور پر بیٹھتا تھا۔ زاران اس سے چھوٹا تھا اسے پڑھنے کا شوق تھا اور وہ انجنیئر بن کر ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا تھا۔

زاران، مونا اور عشاء میں خوب بنتی تھی۔ مونا اور عشاء نند بھابھی کے علاوہ ایج فیلو اور دوست بھی تھیں۔ بچپن سے تینوں کی دوستی تھی جبکہ اشھب اپنے الگ تھلگ ہی رہتا ویسے بھی وہ ان سے چار سال بڑا تھا۔

عشاء اور اشھب کی نسبت بچپن سے طے تھی۔ جب دونوں جوان ہوئے تو عشاء اشھب سے شرمانے لگی۔

زاران اکثر عشاء کو شادی سے پہلے چھیڑتا۔

یار میرے ساتھ شادی کر لو بہت سکھی رہو گی چھوڑو اسے۔ دیکھو میں کتنا ہینڈسم جوان ہوں۔ سب گھر والے اس کی باتوں پر ہنستے جب وہ اسے مسکراتے ہوئے ٹھینگا دیکھاتی۔

اشھب بھی سنکر مسکرا کر چل پڑتا۔

مونا بھی اسے چھیڑتی۔مونا نے عشاء سے ازراے مزاق کہا ویسے عشاء تم اتنی پڑھی لکھی انجینئر ہو۔ زاران بھی انجینئر ہے پھر تم نے اشھب کے لیے کیسے ہاں کر دی۔؛

عشاء مسکرا کر چل پڑی۔

اشھب، اور زاران دونوں اپنی جگہ خوبصورت اور جازب نظر تھے۔

عشاء بچپن سے اشھب کا نام اپنے ساتھ منسوب سنتی آئی تھی۔ اس نے صرف اسی کے خواب دیکھے تھے۔ سب اسے اس کے نام سے چھیڑتے تھے اور وہ مسکرا دیتی تھی۔

زاران سے اس کی بچپن کی دوستی تھی۔ زاران کو بھی ماں نے بچپن سے ہی اپنی ماموں زاد سے نسبت طے کرنی چاہی تو اس نے کہا ابھی میں کسی بندھن میں نہیں بندھنا چاہتا ہوں جب شادی کا وقت آے گا تو پھر جس سے مرضی میری شادی کر دینا مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

اب وہ جاب لگ چکا تھا اس کو باپ نے اسٹور پر نہ بٹھایا۔ اشھب کو اس بات کا کلنک تھا کہ اسے اسٹور پر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ اسکا ڈریم کنٹری تھا مگر باپ نے اس کو شرط رکھی کہ پہلے شادی کر لے پھر باہر جا سکتا ہے۔

شادی کے بعد اسکا رویہ عشاء سے اچھا نہ تھا کیونکہ جن دنوں اس کی شادی تھی اسے دوبئی جانے کا چانس ملا تھا پھر وہ امریکہ کی کوشش بھی کرتا مگر شادی کی وجہ سے اسکا چانس مس ہو گیا۔ اسے شادی یا عشاء سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔

شادی کے بعد گھر والوں کی رسمیں شروع۔ اب بیوی کو مکلاوے لے جاو۔ اب واپس لاو فلاں رشتے دار کے دعوت پر جاو۔ وہ ان چیزوں سے بہت تنگ پڑتا۔

عشاء سے لڑتا جھگڑتا۔ اس کو اپنے فیوچر کی ناکامی کا زمہ دار سمجھتا۔ اسے غصہ آتا کہ ماں باپ عشاء کی فیور میں اسے ڈانٹتے رہتے۔ باپ اسے عشاء کو خرچہ دینے کا کہتا۔ اسے زبردستی شاپنگ کروانے ساتھ بھیجتا۔ وہاں جا کر بھی وہ اسے تنگ کرتا اور اسے جو بھی دوکان سامنے ملتی اسی سے ہی خریدنے کا حکم دیتا۔

عید قریب تھی عشاء کو وہ بازار ساتھ لایا اور جب شاپنگ کر چکی تو رش بہت تھا عشاء کا پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا۔ اس نے پانی یا جوس کی فرمائش کر دی تو اشھب اسے ڈانٹتے ہوئے بولا گھر چلو وہاں پی لینا اب میں مزید ایک منٹ بھی تمھارے اوپر وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ وہ منت کرنے لگی تو وہ اسے دھمکی دینے لگا اور ایک تھپڑ بھی جڑ دیا۔

وہ رونے لگی اس پر چلاتے ہوئے بولا ایک تو میرے ابا جی نے میری سخت ڈیوٹی لگا دی ہے کہ عشاء تمھاری زمہ داری ہے تم ہی اسے بازار لے کر جاو جیسے میں فارغ ہوں میرا بیوی کی خدمت کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ زرا سا احتجاج کرو تو عاق کرنے کی دھمکی دیتے ہیں کہ جاہیداد سے عاق کر دوں گا۔

زاران کا کمرہ ساتھ تھا اسے ان کی اکثر آوازیں آتی رہتی تھیں جب اشھب عشاء پر چلاتا۔ زاران نے چند بار جا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اشھب نے اکڑ سے جواب دیا کہ یہ ہم میاں بیوی کا زاتی مسئلہ ہے تم اگر عزت چاہتے ہو تو دوبارہ کھبی دخل مت دینا ورنہ میں بھول جاوں گا کہ تم میرے بھائی ہو۔

زاران نے عشاء کی طرف دیکھا تو عشاء نے بھی رکھائ سے جواب دیا کہ زاران آئندہ تم ہمارے بیچ آنے کی غلطی نہ کرنا۔

عشاء کی نند مونا بیاہی جا چکی تھی عشاء کے ساس سسر اس کا بہت خیال رکھتے۔ مگر بیٹے کو نہ سدھار سکے۔

عشاء کے ساس سسر جب حج پر گئے تو اسی دوران اشھب نے غصے میں آ کر عشاء کو تین بار طلاق بول دی۔ وہ رونے چلانے لگی۔

زاران گھبرا کر آ گیا اور معزرت کرتے ہوئے بولا سوری میں رہ نہ سکا پلیز خیریت ہے ناں۔

اشھب نے گھبرا کر کہا کہ یار غضب ہو گیا ہے نہ جانے مجھے کیا ہوا تھا کہ میں نے عشاء کو تین بار طلاق بول دی۔ اب میں سخت پچھتا رہا ہوں پلیز بتاو میں کیا کروں۔

وہ عشاء کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا عشاء پلیز مجھے معاف کر دو میں اب کیا کروں کہ تم مجھے واپس مل جاو۔ پھر زاران کی منت کرتے ہوئے بولا پلیز تم اس سے نکاح کر کے ہماری مشکل آسان کر سکتے ہو۔

زاران بولا میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں بھلا۔

عشاء روتے ہوئے بولی میرے پاپا دل کے مریض ہیں ڈاکٹر نے انہیں سٹریس لینے سے منع کیا ہے ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ وہ سنیں گے تو۔۔۔

یہ کہہ کر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔

اشھب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چچا جان کو پتا نہیں چلے گا۔

پھر زاران کی منت کرتے ہوئے روتے ہوئے بولا۔ زاران تم ہی اس مشکل سے ہمیں نکال سکتے ہو۔ ہم سب کچھ خفیہ رکھیں گے کسی کو کچھ پتہ نہ چل سکے گا اور گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی۔

زاران نے عشاء کو دیکھ کر کہا عشاء کیا تم بھی اس بات سے متفق ہو۔

عشاء روتے ہوئے بے بسی سے بولی عورت مظلوم کر بھی کیا سکتی ہے۔ مجھے اپنے پاپا کی فکر۔۔۔

اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئ۔

اشھب نے مونا کو فون کر کے بلا لیا جو گھر کے قریب ہی بیاہی ہوئی تھی۔

مونا نے سر پکڑ لیا۔ بھائی کو خوب سنائیں وہ روتے ہوئے معافیاں مانگنے لگا کہ اب ایسا نہیں ہو گا۔

مونا نے زاران کو منا لیا اور عشاء بھی مجبوراً مان گئ۔ مونا نے کہا کہ بھائی تم اب کمرے میں نہیں سو سکتے۔ تم زاران کے روم میں شفٹ ہو جاو۔ ہاں دوسروں کے سامنے پردہ رکھ لینا۔ اور احتیاط کرنا۔

عشاء نے روتے ہوئے ماں کو سب بتا دیا اتفاق سے باپ نے بھی سن لیا اور بیوی سے بولا بیٹی کو نہ پتا چلے کہ مجھے پتا ہے اور عدت ختم ہوتے ہی نکاح کروا دینا اور بیٹی کو تسلیاں دیتی رہنا۔

عشاء نے عدت کے دن مونا کے سہارے روتے دھوتے گزارے۔ مونا اور عشاء کی ماں کی تسلیوں سے کافی بہل گئی۔

ساس سسر کا قیام سعودیہ میں لمبا ہو گیا۔ زاران کے ماموں ادھر جاب کرتے تھے انہوں نے ویزے کی مدت بڑھا دی اور آنے نہ دیا اور اپنی بیٹی کا رشتہ زاران سے طے کر دیا۔

ماں نے زاران کو اکثر گاہے بگاہے کہنا شروع کر دیا تھا کہ تمھارا باپ اپنی بھتیجی بیاہ کر لایا ہے اور میں اپنی بھتیجی لاوں گی۔

زاران نے ماں کو ہاں بول دی تھی۔ اب وہ شش وپنج میں پڑ چکا تھا۔

ماں نے ادھر ہی رشتہ طے کر کے سارے خاندان میں نشر کر دیا تھا۔

زاران کی مامی آ کر زاران کو سلامی دے گئ تھی اور پورے خاندان میں مٹھائی تقسیم کر دی تھی۔

ساس سسر ادھر ہی تھے کہ عدت ختم ہو گئ اور اشھب نے زاران کو زور دے کر مونا اور عشاء کی ماں اور اشھب کے دو دوست گواہ بنے اور کورٹ میرج کر دی گئی۔

اشھب نے دونوں کو مری بھجوا دیا۔

زاران نے عشاء کو بہت پیار سے سمجھایا کہ اس وقت پچھلی تمام باتوں کو بھول جاو اور یہ وقت ہنس بول کر میرے ساتھ گزارو۔ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ نکاح جیسے مقدس رشتے میں بندھے ہیں۔

عشاء اس کی توجہ اور پیار پا کر وقتی طور پر اپنے سارے غم بھول گئ اور مری میں اس کے ساتھ ہاتھ پکڑے گھومتی رہی۔ چیر لفٹ میں بھی بیٹھے۔ شاپنگ بھی کی ایک ہفتہ بیت گیا۔ کیونکہ زاران نے بتایا کہ اشھب نے ون ویک کا ہوٹل بک کروایا تھا۔

عشاء کے لئے یہ ہفتہ بہت یادگار اور خوبصورت لمحات سے بھرپور تھا وہ اپنی بچپن کی یادوں کو بھی یاد کرتے ہوئے ہنستے۔

عشاء واپس آئ تو ساس سسر کو سب معلوم ہو چکا تھا اور وہ اشھب کو ڈانٹ ڈپٹ کر چکے تھے اور وہ ان سے معافی مانگ چکا تھا۔

عشاء ساس کو اپنے کمرے میں سلانے لگی۔ کیونکہ ساس نے آتے ساتھ زاران کی شادی کی رٹ لگا دی تھی۔ اشھب نے اسے بتایا تھا کہ مری سے واپس آ کر زاران تمہیں طلاق دے دے گا اس لئے تم اب ماں کو ساتھ کمرے میں سلا لینا۔

عشاء نے عدت میں گھر سے قدم باہر نہ نکالا تھا اور نہ ہی زاران اور اشھب کے سامنے جاتی تھی کھانا بنا کر کچن میں رکھ دیتی تھی۔ چاے وہ خود بنا لیتے تھے۔

عشاء نے مونا سے پوچھا کیا زاران نے اسے طلاق دے دی ہے کیا۔

مونا نے کہا اشھب نے کہا تھا کہ وہ اس سے طلاق لے کر اپنے پاس رکھ لے گا تم فکر نہ کرو اس نے دے دی ہو گی اور زاران کی شادی کرنی ہے پھر تمھاری عدت کے بعد تمھارا نکاح اشھب سے ہو جائے گا سب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ دو ماہ گزر گئے۔ عشاء گھر سے باہر نہ جاتی کہ وہ عدت گزار رہی ہے۔

گھر میں زاران کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔

عشاء کی طبیعت خراب تھی الٹیاں کرنے لگی تو مونا زبردستی اسے ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئ تو ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ امید سے ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی کہ پہلے بھی اشھب نے اس کی پریگنینسی ختم کروا دی تھی کہ اسے ابھی فلحال بچہ نہیں چاہیے۔ مونا اور ساس نے الٹا اسے ہی سنائیں تھیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔

اب وہ پھر سے ماں بننے جا رہی تھی مگر اب کی بار وہ بچہ کھونا نہیں چاہتی تھی مگر یہ بچہ تو زاران کا تھا۔

عشاء نے نند سے پوچھا کہ کیا زاران نے اسے طلاق دے دی تھی۔

مونا نے کہا نہیں۔

عشاء نے چلا کر کہا مگر کیوں۔

مونا نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ زاران پہلے تو تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا اب تو تم اس کے بچے کی ماں بننے والی ہو۔

عشاء نے حیرت سے کہا مگر اب تو اس کی ماموں کی بیٹی سے شادی ہونے والی ہے پھر وہ کب تک چھپاے گا مانا کہ ابھی طلاق موثر نہیں ہو گی مگر جب ابھی وقت وہ مجھے طلاق دے دے تاکہ میں اس کی منگیتر کے آگے سرخرو ہو سکوں کہ میں ان دونوں کے درمیان نہیں ہوں۔ جب بچہ ہو جائے گا تو طلاق ہو جائے گی۔

مونا نے کہا زاران کہتا ہے کہ اسلام میں چار شادیوں تک کی اجازت ہے تو میں دونوں کو برابر کے حقوق دوں گا اور میں اپنی منگیتر کو سب سچ بتا دوں گا۔ ویسے بھی اب تمھارے اور ہمارے والدین کو سچائی کا پتا چل گیا ہے اور دونوں اس بات سے متفق ہیں۔

مگر میں متفق نہیں ہوں۔عشاء نے کہا کہ کوئی عورت دوسری بیوی سوکن برداشت نہیں کرتی۔ میں زاران کی زندگی کو جہنم نہیں بنانا چاہتی۔ بےشک میں اسے اچھا سمجھتی تھی مگر اب مجھے اس پر شدید غصہ آتا ہے کہ اس نے مری سے آتے ہی طلاق کیوں نہیں دی۔ اس نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس نے بھائی کو بھی دھوکہ دیا ہے میں اسے وعدہ خلاف اور مطلبی نہیں سمجھتی تھی۔ میں اپنے میکے جا رہی ہوں۔ مجھے اس کی شادی کی بڑی خوشی اور خواہش تھی جب میں اس کے بھائی کے نکاح میں تھی۔ مگر اب میں اس کی بیوی کا سامنا نہیں کر سکتی نہ ہی اس کی شادی میں شرکت کر سکتی ہوں۔ جب میرا بچہ ہو جائے گا تو میں خود اس سے خلع لے لوں گی۔

مونا اسے روکتی رہی مگر وہ نہ رکی۔ ساس سسر نے بھی بہت روکا مگر وہ نہ رکی۔ زاران نے روکنا چاہا تو نفرت سے اسے دیکھا اور چل پڑی۔

عشاء کے جانے کے اگلے دن ہی اشھب کی فوتگی کی اطلاع مل گئی۔ وہ اور اس کے والدین بھاگے آ گئے اور وہ اشھب کی ڈیڈ باڈی دیکھ کر بلک بلک کر روئی۔ قل کے بعد سب رشتے داروں کو حقیقت کا علم ہو گیا۔ زاران کے ماموں ممانی آئے ان کی بیٹی نہ آئی۔

چالیسواں ہونے کے بعد پھر عشاء نے والدین کے گھر جانے کی ضد پکڑ لی۔

جب سب نے روکنے کی کوشش کی تو وہ بولی میں اشھب کی وفات کی وجہ سے اب مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں اور واپس جا رہی ہوں۔

عشاء کی فکر مونا کرتی آتی مگر جب وہ آتی تو اس نے مونا کو صاف کہہ دیا کہ وہ اب کسی کے بارے میں مجھ سے زکر نہیں کرے گی تم نند کے ناطے سے نہیں ایک دوست کے ناطے ملنے آ سکتی ہو۔ مونا نے اس کی ناراضگی کے سبب اس سے اب اپنے میکے والوں کا زکر کرنا چھوڑ دیا۔

عشاء نے مونا کے ساتھ اچھے ہاسپٹل میں علاج کروانا شروع کیا۔ اس کی طبیعت خراب ہو جاتی اسے واقعی مونا کی ضرورت تھی۔ اس کے والدین بیماری کے سبب اس کے ساتھ نہ جا سکتے تھے۔

مونا اس کے ساتھ وقت گزارتی اس کو زبردستی کھانا، فروٹ، دیتی۔ فریش جوس پلاتی۔

عشاء نے ایک دن دیکھا دور زاران نظر آیا اس نے کافی غصہ دیکھایا اور اس سے وعدہ لیا کہ اب کھبی ایسا کیا تو میں تم سے ناطہ توڑ لوں گی۔

مونا نے عشاء کو بتایا کہ وہ اپنی ساس سسر کے ساتھ عمرے پر جا رہی ہے۔ ادھر سے دوبئی جانا ہے سسرال کے رشتے دار رہتے ہیں ان کے وہاں شادی میں شرکت کرنی ہے مجھے بہت فکر لگی ہے جانا بھی ضروری ہے رک بھی نہیں سکتی۔ پلیز ضرورت پڑی تو زاران کو فون کر لینا۔

عشاء نے اسے بظاہر تسلی دیتے ہوئے کہا تم بے فکر ہو کر جاو مگر اس کے جانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلی رہ گئی ہے۔ آخری ماہ چل رہا تھا اس حالت میں اسے ڈاکٹر کو چیک اپ کرانے جانا مشکل لگتا تھا۔

زاران بچے کا سن کر بہت خوش ہوا تھا جب مونا نے اسے بتایا۔

عشاء اشھب کے چالیسویں کے بعد واپس چلی گئ تھی۔

عشاء بیٹھی سوچ رہی تھی کہ زاران اپنی نئی زندگی میں خوش ہو گا۔

اور وردا اس سے بہت پیار کرتی تھی اس سے منگنی کر کے بہت خوش تھی۔

عشاء نے اپنا چیک اپ کروانے جانا تھا وہ ہمت کر کے اوبر کے زریعے ہاسپٹل پہنچی ابھی وہ موڑ مڑ ہی رہی تھی کہ اسے وردا کسی لڑکے کے ساتھ مسکراتی باتیں کرتی ہاتھ پکڑے گزر گئ۔

عشاء اوٹ میں ہو کر اس کو فالو کرنے لگی۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے گائنی روم میں اسے اس لڑکے کے ساتھ چیک اپ کے لئے اندر جاتے دیکھا۔

جب وہ باہر نکلی تو عشاء نے نرس سے پوچھا یہ کککیا لگتے ہیں آپس میں۔ اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔

نرس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا وہ عشاء کو جانتی تھی ہنس کر بولی ظاہر ہے میاں بیوی ہیں۔

عشاء نے کہا بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں۔

نرس بڑے وثوق سے بولی نہیں جی میاں بیوی ہیں اکثر ادھر آتے رہتے ہیں۔

عشاء شش وپنج میں مبتلا نرس کو اچھا کہتے کھوئی کھوئی سی ڈاکٹر کے روم کی طرف چل پڑی۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books